ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

آزادی کے سوداگر، انصاف کے قاتل

 آزادی کے سوداگر، انصاف کے قاتل


بھارت کی آزادی کوئی تحفہ نہیں تھی، یہ دو صدیوں سے زائد قربانیوں کا نتیجہ تھی۔ سید احمد شہیدؒ، شاہ ولی اللہؒ کے خانوادے، مولانا فضلِ حق خیرآبادیؒ، مفتی محمود گنگوہیؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ، اور ہزاروں علما و مجاہدین نے سولی، قید اور شہادت کے راستے آزادی کی بنیاد رکھی۔ کچھ کو توپ کے دہانے پر باندھ کر اڑا دیا گیا، کچھ کو سور کی کھال میں بھر کر جلایا گیا، اور لاکھوں موحدین کا خون اس مٹی میں جذب ہوا۔


مگر 1947 کے بعد کی تاریخ بھی خون سے رنگین ہے۔ ہاشم پورہ، بھاگلپور، میرٹھ، مظفرنگر، دہلی، گجرات 2002 — ہر جگہ مسلم نوجوان قتل ہوئے، عورتوں کی عصمت دری ہوئی، حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کر معصوم بچوں کو تلوار کی نوک پر لہرایا گیا۔ بازاروں میں بھیڑ نے انصاف کا گلا گھونٹا، اور جیلوں نے بے قصور جوانیوں کو نگل لیا۔


آج عدلیہ، جو مظلوم کی آخری امید تھی، ریاستی بیانیے کا سایہ بن چکی ہے۔ ممبئی لوکل ٹرین دھماکوں میں پھانسی پانے والے 12 مسلم بے قصور 19 برس بعد بری ہوئے، اور مالیگاوں بم دھماکے کے تمام ملزمان بھی باعزت رہا کر دیے گئے — فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے کیس میں مسلم نوجوانوں کی جوانی سلاخوں میں سڑ گئی، اور دوسرے میں ہندوتوا دہشت گرد کھلے آسمان تلے جشن مناتے رہے۔ شاہد اعظمی جیسے وکیل، جو اس ناانصافی کے خلاف ڈٹ گئے، اسی نظام نے خاموش کرا دیے — قاتل کبھی نہ ملے، کیونکہ شاید وہ نظام کے اندر ہی تھے۔


یہ وہی ملک ہے جہاں کروڑوں روپیہ دے کر مجرموں کی جان بچائی جاتی ہے، مگر بے قصور قیدیوں کے لیے زرِ ضمانت تک میسر نہیں۔ میڈیا نفرت بیچتا ہے، ایجنسیاں ظلم ڈھاتی ہیں، اور اکثریتی خاموشی شریکِ جرم بن جاتی ہے۔


اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جس قوم کے نظریاتی رہنما مہاتما گاندھی جیسے ہندوتوا پرست قاتل ہوں، جو اپنے مفاد کے لیے اپنی ہی برادری کو نہ چھوڑیں، وہ مخالف موحدین کو کب برداشت کریں گے؟ بول البقر (گائے کا پیشاب) پینے والے نظریے کے ہاتھوں اس وقت اس ملک کا مقدر لکھا جا رہا ہے، اور یہ موحدین کے لیے ایک المیہ ہے۔


آزادی کے دن مبارک ہوں — مگر یہ یاد رہے کہ جس آزادی کے لیے موحدین نے جان دی، آج اس پر ہندوتوا کی زنجیریں ہیں۔ اور تاریخ جب سچ لکھے گی، تو اس جمہوریت کے ہر قاتل کو نام لے کر لعنت بھیجے گی، اور اصل ذمہ داران کو آنے والی نسلوں کے سامنے بے نقاب کرے گی۔


قاری ممتاز احمد جامعی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔