دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کے دل سے حیاء، غیرت اور دینی شعور رخصت ہو جائے تو اس کی علمی و تہذیبی ترقی بھی اس کے زوال کو نہیں روک سکتی۔ یہی حال آج کے مسلم معاشرے کا ہے — علم و تعلیم کے نعروں کے باوجود ہم کردار اور عقیدے کے میدان میں شکست خوردہ دکھائی دیتے ہیں۔
تعلیم، جو کبھی تزکیۂ نفس اور تعمیرِ کردار کا ذریعہ تھی، آج فحاشی، عریانیت اور بے راہ روی کے فروغ کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ جدید معاشرہ تعلیم کو محض ظاہری آزادی اور معاشی ترقی کا ذریعہ سمجھ بیٹھا ہے، جب کہ اسلام تعلیم کو اخلاق، حیا اور ایمان کی حفاظت کے ساتھ جوڑتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جسے نظرانداز کر کے ہم اپنے وجود کو خود کھو بیٹھے ہیں۔
آج ہماری بچیاں اور نوجوان لڑکے “آزادی” کے جھوٹے نعروں میں الجھ کر اپنے ایمان، نسب اور عزت کی بنیادوں کو کھو رہے ہیں۔
چند دنوں کی چمک دمک، چند لمحوں کی آزادی اور چند ٹکوں کی چاندی کے بدلے میں عزت، حیا اور ایمان کا سودا ہو رہا ہے۔
یہ محض چند افراد کا نقصان نہیں بلکہ امت کے فکری وجود پر ایک کاری ضرب ہے۔
دنیا اس وقت ایک ایسے تعلیمی ماڈل کو فروغ دے رہی ہے جو آزادی کے نام پر بے راہ روی، فیشن، اور جنسی اباحیت کو ترقی سمجھتا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ مسلم معاشرے کے اندر بھی وہی نظریات در آ رہے ہیں جو خاندان کو برباد اور عورت کی عفت کو پامال کرتے ہیں۔
ہم نے تعلیم کو مقصدِ حیات تو بنا لیا، مگر اس کی روح — تربیتِ نفس اور اطاعتِ خداوندی — کھو دی۔
اسی پس منظر میں طالبان کا حالیہ تاریخی دورۂ ہند قابلِ غور ہے۔
میڈیا نے شور مچایا کہ طالبان “لڑکیوں کی تعلیم کے دشمن” ہیں، مگر جب ان کے وزیر نے اطمینان سے جواب دیا کہ:
> “الحمدللہ، ہمارے ملک میں اس وقت ایک کروڑ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں بچیوں کی تعداد اٹھائیس لاکھ ہے — اسلام تعلیم کے خلاف نہیں، بلکہ بے حیائی کے خلاف ہے۔”
یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسلام تعلیم سے نہیں بلکہ فحاشی سے براءت کرتا ہے۔
اسلام عورت کو تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے، مگر عفت و حیا کے دائرے میں، نہ کہ مخلوط ماحول اور بے پردگی کے ساتھ۔
افسوس کہ بھارت جیسے ملک میں، جہاں اکثریتی طبقہ خود مغربی خاندانی نظام کے انہدام کا شکار ہے، یہی تباہ کن نظریات مسلمانوں میں بھی سرایت کر گئے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں بے غیرتی، تاخیرِ نکاح، بھاری جہیز اور تعلیمی آزادی کے غلط مفہوم نے ایسی فضا بنا دی ہے جہاں لڑکیاں خاندانی تحفظ سے محروم، اور والدین خود بے بس ہیں۔
تعلیم کے نام پر “ترقی” کے جو خواب دکھائے جا رہے ہیں، وہ دراصل تباہی کے دروازے ہیں جن سے ہماری نسلیں کھو رہی ہیں۔
اسلامی معاشرے کی بنیاد ہمیشہ حیا، عفت، عدل اور نکاح کی آسانی پر قائم رہی ہے۔
جب یہ بنیادیں ہل جائیں تو باقی ساری عمارت خود بخود گر جاتی ہے۔
ہم نے اپنی بیٹیوں کو تعلیم تو دی، مگر تربیت نہیں دی؛
ہم نے انہیں آزادی دی، مگر ذمہ داری نہیں سکھائی؛
ہم نے ان کے ہاتھوں میں قلم تو دیا، مگر قرآن کی روشنی چھین لی۔
قرآن کہتا ہے:
> “قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا، وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا”
“کامیاب ہوا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک رکھا، اور ناکام ہوا جس نے اسے آلودہ کیا۔” (الشمس: 9–10)
آج ہماری اصل ضرورت یہی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام، اپنے خاندانی ڈھانچے اور اپنے سماجی رویوں کو تزکیۂ نفس کے اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔
اگر تعلیم سے حیا رخصت ہو جائے، اگر علم سے عمل کا تعلق ٹوٹ جائے، اور اگر ترقی ایمان سے جدا ہو جائے — تو وہ تعلیم نہیں، تباہی ہے۔
اصلاح کا راستہ
1. تعلیم کو تزکیہ کے ساتھ جوڑیں:
مدارس اور اسکولوں میں تربیتِ کردار، اخلاقی نصاب اور اسلامی ماحول کو لازم قرار دیا جائے۔
2. خاندانی نظام کی حفاظت کریں:
والدین اپنی اولاد کی تربیت میں ذاتی دلچسپی لیں، وقت پر نکاح کو آسان بنائیں، جہیز اور نمود و نمائش کے فتنے سے بچیں۔
3. میڈیا کے فتنوں کا شعور دیں:
نوجوانوں کو بتائیں کہ آزادی کے نام پر جو ثقافت پیش کی جا رہی ہے، وہ دراصل ایمان کے زوال کی سیڑھی ہے۔
4. علماء و دانشوروں کا فریضہ:
منبر و محراب سے صرف فتوے نہیں، بلکہ فکری رہنمائی اور سماجی بیداری کے پیغام عام کیے جائیں۔
5. نوجوانوں کا کردار:
وہ اپنی توانائیاں حیا، علم اور کردار کی حفاظت میں صرف کریں — کیونکہ مستقبل انہی کے ہاتھ میں ہے۔
یاد رکھیے! امت کا کھویا ہوا وقار نہ کسی کانفرنس سے لوٹے گا، نہ کسی قرارداد سے —
یہ تب لوٹے گا جب ہم اپنے گھروں میں قرآن کی روشنی، اپنی درسگاہوں میں حیا کی خوشبو،
اور اپنی زندگیوں میں محمد ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو زندہ کریں گے۔
اگر آج ہم نے اپنے معاشرے کو ایمان، حیا اور تربیت کے سانچے میں نہ ڈھالا،
تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
وقت کم ہے، مگر امید باقی ہے —
کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے:
> “اِن تَنصُرُوا اللّٰہَ یَنصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ”
“اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہیں مضبوطی عطا فرمائے گا۔” (محمد: 7)
تحریر قاری ممتاز احمد جامعی
majaamai@gmail.com
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔