افغانستان اور طالبان کی مثال کے ذریعے عالمی طاقتوں کی ناکامی، نظریاتی استقلال اور فکری خودمختاری پر ایک سنجیدہ تاریخی و تجزیاتی مطالعہ۔
برصغیر کی موجودہ فکری و سیاسی کشمکش بھی دراصل اسی تاریخی سوال کا نیا نام ہے کہ طاقت اور شناخت کی بنیاد کہاں رکھی جائے۔ یہ سرزمین نہ کبھی یک رنگ رہی ہے، نہ کسی ایک متن یا نظریے میں قید کی جا سکتی ہے۔ اس کی اصل پہچان اس تہذیبی امتزاج میں رہی ہے جسے صدیوں تک گنگا جمنی تہذیب کہا گیا — جہاں اسلامی عدل، علم، رواداری اور اخلاق نے مقامی روایتوں کے ساتھ مل کر ایک زندہ سماج تشکیل دیا۔ جب بھی اس خطے نے اس ورثے کو قبول کیا، اسے وسعت، وقار اور عالمی احترام ملا؛ اور جب شناخت کو تنگ نظری، مذہبی سیاست یا قدیم سماجی جکڑ بندیوں میں محدود کرنے کی کوشش کی گئی، تو نتیجہ داخلی انتشار اور اخلاقی انحطاط کی صورت میں سامنے آیا۔ تاریخ بارہا یہ بتاتی رہی ہے کہ تہذیبیں نعروں سے نہیں، اپنے اخلاقی وزن سے پہچانی جاتی ہیں — اور عالمی قیادت کا خواب وہی دیکھ سکتا ہے جو اپنے ماضی کی وسعت کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کا پیمانہ ہمیشہ توپ و تفنگ، معیشت یا عسکری اتحاد نہیں رہے۔ کئی مواقع پر وہ قوت جو دلوں میں راسخ ہو جائے، جو فکر اور یقین کی صورت اختیار کر لے، دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں کو بھی بے بس کر دیتی ہے۔ افغانستان کی حالیہ تاریخ اسی حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہے، جہاں نہ جدید عسکری سازوسامان تھا، نہ عالمی پشت پناہی، مگر ایمان، عزم اور فکری استقامت نے بالآخر وہ مقام دلایا جس کا تصور بھی بڑی طاقتیں نہیں کر پا رہی تھیں۔ یہ وہی سرزمین ہے جس نے انگریز کو آزمایا، سوویت یونین کو توڑا، اور پھر امریکہ و نیٹو جیسی عسکری و اقتصادی قوتوں کو یہ سبق دیا کہ ہر جنگ میدان میں نہیں جیتی جاتی۔
آج جب طالبان کا ذکر عالمی سفارتی حلقوں، میڈیا اور تجزیاتی نشستوں میں ہوتا ہے تو بات محض ایک عسکری تنظیم کی نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسے نظریے کی ہوتی ہے جو مزاحمت، خودمختاری اور نظریاتی استقلال کی علامت بن چکا ہے۔ امریکہ اور نیٹو نے افغانستان میں دنیا کی سب سے مہنگی جنگ لڑی، دو دہائیاں، اربوں ڈالر، جدید ترین اسلحہ اور ہزاروں جانوں کی قربانی دی، مگر انجام کار کابل سے وہ ہنگامی انخلا ہوا جسے ویتنام کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی عالمی سبکی کہا جاتا ہے۔ یہ محض عسکری شکست نہیں تھی بلکہ اس زعم کا انہدام تھا کہ طاقت کے بل پر ہر قوم کو جھکایا جا سکتا ہے۔
مغرب برسوں تک یہ بیانیہ قائم کرتا رہا کہ اسلامی نظامِ حکومت ایک خواب ہے، ایک ناقابلِ عمل تصور۔ طالبان کی واپسی نے اس فکری غرور کو توڑ دیا۔ مدرسوں میں تعلیم پانے والے نوجوان، جنہیں پسماندہ اور غیر متعلق قرار دیا جاتا تھا، دنیا کی بڑی طاقتوں کو شکست دے کر ریاستی نظم قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کے پاس نہ فضائیہ تھی، نہ جدید ٹیکنالوجی، مگر ان کے پاس ایمان، صبر، غیرتِ ایمانی اور داخلی وحدت تھی — وہ غیر مرئی قوت جو مادّی طاقتوں کے تمام حساب کتاب پر بھاری پڑ گئی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان نے اپنے دورِ اوّل کی خامیوں سے سیکھا۔ سیاسی تجربے کی کمی، سفارتی تنہائی اور میڈیا سے دوری جیسی کمزوریاں اب تجربے اور حکمت میں بدل چکی ہیں۔ آج کے طالبان محض بندوق کے حوالے سے پہچانے جانے والی قوت نہیں رہے، بلکہ وہ سفارت، مکالمہ اور بیانیہ سازی کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں۔ عالمی میڈیا سے بات ہو یا علاقائی طاقتوں سے مذاکرات، اب ایک سنجیدہ، منظم اور مدلل موقف سامنے آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے تو وہ خاموشی کے بجائے دلیل، وضاحت اور حکمت کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔
اسی بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کے وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی حفظہ اللہ کا بھارت کا دورہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ وہی طالبان جن کے نام پر چند برس قبل بھارت میں بات کرنا بھی جرم سمجھا جاتا تھا، آج انہی کے لیے سرکاری سطح پر پرتکریم میزبانی ہو رہی ہے، اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ معاہدات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں حالات خود گواہی دے رہے ہیں کہ دنیا جذبات سے نہیں، حقائق سے فیصلہ کرتی ہے۔
اسی دورے کے دوران دارالعلوم دیوبند میں افغان وفد کا استقبال محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھا، بلکہ اس فکری اور روحانی رشتے کی تجدید تھی جس نے برصغیر کی تاریخ کو بھی سمت دی اور افغانستان کی نظریاتی تشکیل میں بھی کردار ادا کیا۔ جب فرقہ پرست ذہنیت کے حامل ایک نمائندے نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ تاج محل، لال قلعہ اور قطب مینار چھوڑ کر دارالعلوم دیوبند کیوں جا رہے ہیں، تو مولوی امیر خان متقی نے جس وقار، سادگی اور علمی اعتماد کے ساتھ جواب دیا، وہ محض ایک سوال کا جواب نہیں تھا بلکہ ایک تہذیبی اعلان تھا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ دیوبند اس لیے جاتے ہیں کہ وہاں نماز ہے، تعلیم ہے، اساتذہ و طلبہ ہیں، اور ایک روحانی و تعلیمی مرکز ہے جس سے ان کا اور ان کے بڑوں کا گہرا تعلق رہا ہے۔
یہ جواب دراصل اس حقیقت کا اظہار تھا کہ علم و ایمان کی بنیاد پر قائم مراکز وقتی طاقتوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ دارالعلوم دیوبند محض ایک مدرسہ نہیں بلکہ وہ فکری و روحانی قلعہ ہے جہاں سے آزادی کی شمع روشن ہوئی، جہاں علم، عمل، تقویٰ اور بصیرت نے وہ نسل تیار کی جس نے غلامی، فکری مرعوبیت اور تہذیبی احساسِ کمتری کے خلاف مزاحمت کی۔ یہی وہ تہذیبی خودداری ہے جو آج بھی سوالوں کے جواب میں نہیں، بلکہ اپنے وجود میں بولتی ہے۔
افغانستان کا موجودہ نظام ہو یا طالبان کا بیانیہ، اسے صرف عسکری یا سیاسی زاویے سے دیکھنا ایک سطحی مطالعہ ہوگا۔ اس کے پیچھے ایک مخصوص فکری روایت، مذہبی تعبیر اور نظریاتی وابستگی کارفرما ہے جسے وہ اپنی شناخت اور حکمرانی کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ شریعت کی بالادستی، خودمختاری کا تصور اور بیرونی دباؤ کے مقابل فکری استقلال — یہ سب عناصر مل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتے ہیں جو متنازع ضرور ہو سکتا ہے، مگر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
افغانستان کا تجربہ ہمیں بار بار اس بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اقوام کی زندگی میں اصل فیصلہ کن قوت اندر سے جنم لیتی ہے۔ جب ایمان، علم اور تہذیبی شعور ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو وہ قومیں عالمی دباؤ، پابندیوں اور عسکری چیلنجوں کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھتی ہیں۔ طاقت کا اصل سرچشمہ وہی ہوتا ہے جو دل و دماغ کو تسخیر کر لے — اور یہی وہ سبق ہے جو افغانستان کی مثال ہمیں تاریخ کے ہر موڑ پر یاد دلاتی ہے۔
طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں بعض ایسے فیصلے سامنے آئے جو عالمی سماج، بالخصوص مغربی اقوام، کے نزدیک ناقابلِ قبول قرار دیے گئے۔ ان میں بامیان کی بدھ مت مورتیوں کی مسماری کو سب سے زیادہ نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے پر دنیا بھر میں شور اٹھا، اور مہذب دنیا کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ یہ آثار خلیفۂ ثانی حضرت عمرؓ کے دور سے موجود تھے، پھر انہیں مسمار کرنے کا اخلاقی یا تاریخی جواز کیا ہے؟ اس موقع پر طالبان کے نمائندوں کو پاکستانی وفود کے ذریعے یہ اعتراضات منتقل کیے گئے، مگر جواب میں جو موقف سامنے آیا، وہ محض ایک دفاعی بیان نہیں بلکہ خودمختاری، نظریے اور سیاسی شعور کا اعلان تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک اور اپنی قوم کے مفاد، اسلامی اقدار کے دائرے میں، بے حد عزیز ہیں — چاہے وہ عالمی قوتوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزریں۔ ان کا شکوہ یہ بھی تھا کہ عالمی سطح پر ہر فورم پر ان کی ناطقہ بندی کی جا رہی ہے، ان کا موقف سمجھے بغیر فیصلے صادر کیے جا رہے ہیں۔ اور پھر وہ جملہ آیا جو اس پوری بحث کو ایک نئے زاویے پر لے گیا: جب میرا وجود ہی تسلیم نہیں کیا جاتا، تو پھر میں جو کروں، اس پر اعتراض کا حق کس بنیاد پر؟ یہ محض تلخی نہیں تھی، بلکہ اس نظامِ فکر کے خلاف ایک دو ٹوک سوال تھا جو خود تسلیم کرنے سے انکار کرے اور پھر اخلاقی درس بھی دے۔
اسی طرح مومنانہ فہم و فراست اور سیاسی حاضر جوابی کا ایک اور واقعہ اُس وقت سامنے آیا جب قطر کی ثالثی میں امریکہ اور نیٹو گروپ کے ساتھ مذاکرات جاری تھے۔ بظاہر یہ ایک عسکری اور سفارتی گفت و شنید تھی، مگر درحقیقت یہ خودمختاری اور برابری کے تصور کا امتحان تھا۔ مذاکرات کے دوران امریکی نمائندے نے شرائط کے ضمن میں ایک نکتہ شامل کیا کہ طالبان اگر دیگر معاملات پر اختلاف نہ بھی کریں، تو انہیں بگرام ایئر بیس درکار ہوگا۔ یہ مطالبہ دراصل مستقبل میں افغان خودمختاری پر ایک مستقل سایہ ڈالنے کی کوشش تھی۔ اس پر طالبان کی جانب سے جو جواب آیا، وہ سفارتی تاریخ کے ان جملوں میں شمار ہوتا ہے جو مسکرا کر کہے جاتے ہیں مگر دور تک گونجتے ہیں۔ جواب یہ تھا کہ اگر بات صرف ایک ایئر بیس کی ہے تو افغانستان کے تمام ہوائی اڈے آپ کے زیرِ انتظام دے دیے جائیں، بدلے میں ہمیں صرف امریکہ کا ایک ہوائی اڈہ دے دیا جائے — واشنگٹن یا نیویارک میں۔ یہ جملہ کسی اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ طاقت کے عدم توازن کو آئینے میں دکھا دینے والا ایک فکری وار تھا، جس نے یہ واضح کر دیا کہ اصل مسئلہ ایئر بیس نہیں، بلکہ وہ برابری ہے جسے بڑی طاقتیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتیں۔
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
Email: majaamai@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔