قاری محمد اقبال شہید: ایک سوالیہ نشان، ایک دستک
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب لشکرِ طیبہ کا ایک خطرناک دہشت گرد مارا گیا، جسے پلوامہ حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی کہا گیا۔ بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ وہ کوئی اور نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے ایک نیک سیرت عالمِ دین قاری محمد اقبال تھے، جو مقامی مدرسے سے وابستہ تھے اور معروف دینی خدمات انجام دے رہے تھے۔
یہ واقعہ کئی آئینی و انسانی سوالات کو جنم دیتا ہے:
1. کیا میڈیا نے اتنا سنگین الزام بغیر دفاعی اداروں کی منظوری یا معلومات کے نشر کیا؟
2. اگر میڈیا کو دفاعی اداروں سے یہ معلومات فراہم کی گئیں، تو کیا ان کی تحقیق محض شبہ یا شباہت پر مبنی تھی؟
3. کیا محض ایک مسلمان ہونا اور مدرسے سے منسلک ہونا "دہشت گرد" قرار پانے کے لیے کافی ہے؟
4. ریاست نے قاری اقبال کے اہلِ خانہ سے رجوع کیوں نہیں کیا؟
5. کیا اتنے سنگین میڈیا دعوے پر کوئی عدالتی یا تفتیشی کارروائی ہوگی؟
یہ محض میڈیا کی لغزش نہیں، بلکہ اس فضا کی علامت ہے جہاں مسلمان شناخت، ظاہری وضع قطع، اور دینی وابستگی محض ایک "شبہ" کی بنیاد بن جاتے ہیں۔
قاری اقبال شہید کا خون ہم سے مطالبہ کرتا ہے:
ریاستی ادارے اور میڈیا اس کی حقیقت واضح کریں۔
اہلِ خانہ سے معذرت اور تحقیق کے بعد انصاف ہو۔
ایسے الزامات کو عدالتی طریقہ کار کے بغیر نشر نہ کیا جائے۔
یہ تحریر نہ اشتعال انگیزی ہے نہ الزام تراشی۔ یہ ایک شہری کی وہ دستک ہے جو آئین، عدل، اور انسانیت کے دروازے پر سوال لیے کھڑی ہے — کیا سچ کا حق اب بھی باقی ہے؟
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔