**بہار کے انتخاب اور جمہوریت کی روح:
سیاسی شعور، انصاف پسند طبقہ، اور اقلیتوں کا حقیقی تحفظ**
✍️ قاری ممتاز احمد جامعی
majaamai@gmail.com
گزشتہ دنوں معروف مفکر و دانشور مولانا عبد الحمید نعمانی کا ایک بصیرت افروز مضمون روزنامہ انقلاب میں شائع ہوا جس میں انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان — “سیاسی اسلام نے سناتن آستھا پر کاری ضرب لگائی ہے” — کے پس منظر میں بھارتی سیاست کے بدلتے مزاج کا گہرائی سے تجزیہ کیا۔
نعمانی صاحب نے بجا فرمایا کہ بہار کا اسمبلی انتخاب اس وقت ہندوستان میں سوشلسٹ سیاست کا آخری قلعہ ہے۔ اگر یہ قلعہ منہدم ہو گیا تو ملک کی سیاست ایک خطرناک سمت اختیار کر لے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اقتدار کی تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی نہیں ہوتی، بلکہ پورے نظام کی سمت بدل دیتی ہے۔ آج کے حالات میں "مسلم وزیر اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ" کا نعرہ کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتا، کیونکہ سیاسی طاقت کے تمام محور ایک خاص نظریاتی طبقے کے قبضے میں ہیں۔
انہوں نے بہار کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ 18/19 مسلم ارکانِ اسمبلی ہونے کے باوجود حالات میں کوئی بنیادی فرق نہیں آیا، البتہ اسامہ شہاب کی کامیابی اگر یقینی ہو جائے تو سیوان کے شہاب الدین دور کی ایک نئی بازگشت پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر بہار کے مسلمانوں، خصوصاً سیمانچل کے عوام کو جذباتی نعروں کے بجائے سیاسی شعور سے کام لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ سرکار میں بی جے پی کے بڑھتے غلبے کے بعد “گھس پیٹھ” جیسے ایشوز کو پھر سے انتخابی ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔
یہ تجزیہ حقیقتاً موجودہ منظرنامے کا آئینہ دار ہے۔ میں خود اسی رائے سے متفق ہوں کہ ایک سیکولر جمہوری ملک میں اقلیتوں کے مسائل کلیدی عہدوں یا نمائندگی سے حل نہیں ہوتے۔
یہ عہدے ہمیشہ اکثریتی فرقہ کے ریڈار پر رہتے ہیں، اور جب چاہا، قانونی موشگافیوں کا سہارا لے کر ان عہدہ داروں کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔
ہمارے سامنے زندہ مثالیں ہیں — اعظم خان سے لے کر عتیق احمد، شہاب الدین سے اشرف تک — جن کی سیاسی یا سماجی حیثیت کو “قانون” کے نام پر مٹا دیا گیا۔
درحقیقت مسلمانوں کے حقوق کو جس عہدے سے محفوظ سمجھنے کی غلطی ہو رہی ہے، وہ تاریخ کا سب سے بڑا فریب ہے۔
افسر ہو یا ملازم، یا سیاسی گلیاروں کا بادشاہ — سبھی کو وقت آنے پر کسی نہ کسی بہانے ٹھکانے لگا دیا گیا، کبھی فرضی انکاؤنٹر سے، کبھی فریبِ قانون سے۔
یہ سلسلہ صرف بڑے ناموں تک محدود نہیں؛ ابھی حال ہی میں سمستی پور کلکٹریٹ میں ایک مسلم ملازم کو اس کے سینیئر افسر نے ڈاڑھی پکڑ کر نوچ مارا، اور انصاف کے بجائے خاموشی مسلط کر دی گئی۔
ایسا لگتا ہے جیسے پورا طبقہ اپنی ہی حفاظت میں ڈرا سہما، مظلوم بن کر جینے پر مجبور ہے۔
جب انسان اپنی ذات کے تحفظ میں خوف زدہ ہو تو وہ قوم کے مفاد کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
پھر کہاں کا “قائد”، کہاں کا “وزیر”، اور کہاں کے “حقوق”!
سوال یہ ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جہاں مسلمان محض ۲ فیصد ہیں، وہاں کون سا قائد ہے؟
پھر بھی وہاں کے مسلمان قانون، عزت اور امن کے ساتھ کیوں جی رہے ہیں؟
وجہ یہی ہے کہ وہاں کے نظام میں انسان کی پہچان مذہب نہیں، بلکہ صلاحیت، قانون، اور مساوات ہے — جو سچی جمہوریت کی بنیاد ہے۔
دوسری طرف جب ہم دنیا کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یورپ، امریکہ، اور دیگر غیر ایشیائی ممالک میں مسلمان محض ۲ فیصد ہونے کے باوجود قانونی تحفظ، تخصص، اور سماجی احترام کے ساتھ ترقی کر رہے ہیں۔
وجہ صاف ہے: وہاں کے ادارے اب بھی جمہوریت کی اصل روح — مساوات و انصاف — کو کچھ حد تک محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔
مگر بھارت میں آر ایس ایس نے اس جمہوریت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا۔
اس نے اپنے نظریاتی کارکنوں کو پولیس، عدلیہ، میڈیا، اور تعلیم سمیت ہر ادارے میں داخل کر کے ریاست کو ایک مخصوص فسطائی ذہنیت کے تابع بنا دیا ہے۔
ایسے حالات میں اگر مسلم سماج صرف اپنے نمائندوں پر بھروسہ کرے، تو یہ سیاسی غفلت کے سوا کچھ نہیں۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اکثریتی طبقے کے اندر سے ہی انصاف پسند، سیکولر، اور انسان دوست عناصر کو ابھارا جائے۔
کیونکہ نظام کو بدلنے کی طاقت اسی طبقے میں ہے — وہی طبقہ جو آر ایس ایس کے فکری زہر کے مقابلے میں جمہوریت، مساوات، اور انسانی احترام کی بنیادوں کو ازسرِنو مضبوط کر سکتا ہے۔
تاریخ کے صفحات ہمارے سامنے ہیں: اسپین کے مسلمانوں نے جب سیاسی و فکری بیداری کھو دی تو ان کی عظیم تہذیب صفحۂ تاریخ سے مٹ گئی، اور میانمار کے مسلمانوں کو عالمی جمہوریتوں کی موجودگی میں بھی کوئی تحفظ نہیں ملا۔
اگر بھارتی مسلمان اب بھی محض وعدوں اور نمائشی عہدوں سے مطمئن رہے تو تاریخ خود کو دہرانے میں دیر نہیں لگائے گی۔
لہٰذا بہار کے باشعور ووٹروں، خصوصاً مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا کہ
یہ انتخاب صرف ایک حکومت کے بننے یا گرنے کا نہیں، بلکہ جمہوریت کی روح کو بچانے کا سوال ہے۔
اب فیصلہ یہ ہے کہ ہم نعرے کے پیچھے چلیں گے یا شعور کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔