ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

میرے دور کے رہنمائے وطن – سچ کا نوحہ، ظلم کا بیانیہ

میرے دور کے رہنمائے وطن – سچ کا نوحہ، ظلم کا بیانیہ
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
بانی و ناظم: جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور (بہار)
 جنرل سکریٹری: الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ 
میرے دور کے رہنمائے وطن
جس طرف بھی گئے کربلا کر گئے

کبھی کبھی ایک مصرعہ پوری قوم کی کہانی کہہ جاتا ہے۔ آج کے بھارت کی سیاسی فضا میں یہ شعر صرف شاعری نہیں، بلکہ وہ کڑوا سچ ہے جو ہر باضمیر انسان کے سینے میں گونج رہا ہے۔

نریندر مودی، جو بھارت کے وزیراعظم بنے، دراصل ایک خاص نظریے کے پرچارک ہیں۔ ان کے عروج کا آغاز ہی 2002 کے گجرات فسادات سے ہوا — ایک ایسا انسانی سانحہ جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ بلقیس بانو کی عزت پامال ہوئی، اور احسان جعفری جیسے افراد بے بسی کے عالم میں مار دیے گئے۔ ذکیہ جعفری نے برسوں انصاف کی دہائی دی، مگر قانون ہمیشہ اقتدار کے در پر سجدہ ریز رہا۔

مودی کا بھارت صرف ایک جغرافیہ نہیں رہا، وہ اب اقلیتوں کے لیے ایک خوف زدہ تجربہ بن چکا ہے۔ لنچنگ کے واقعات عام ہوئے، کبھی گائے کے نام پر، کبھی مذہب کے۔ کسی کو محض “جئے شری رام” نہ کہنے پر موت دے دی جاتی ہے — اور حکومت خاموش تماشائی۔

شریعتِ اسلامی پر سیاسی یلغار — اسے "خواتین کی آزادی" کا لبادہ اوڑھا کر کی گئی۔ تین طلاق جیسے معاملے میں مداخلت، وقف املاک پر قبضہ، حجاب پر پابندیاں — یہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ حکومت صرف اقتدار نہیں، عقائد تک کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔

اور پھر کشمیر — جسے آئینِ ہند نے خصوصی درجہ دیا تھا، وہ بھی ایک قلمی فیصلے میں چھین لیا گیا۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کا خاتمہ ہوا، اور ساتھ ہی کشمیریوں کا اعتماد، ان کی شناخت، اور ان کی آزادی بھی دفن ہو گئی۔ پوری وادی میں سناٹا، بند انٹرنیٹ، اور زنجیروں میں جکڑے عوام — یہ سب "ترقی" کے نام پر کیا گیا۔

ہر الیکشن سے پہلے ایک نیا فتنہ۔ کبھی رام مندر، کبھی NRC، کبھی CAA، کبھی دنگے۔ یہ سب ایک منظم طریقے سے عوام کو بانٹنے کا فارمولا ہے، تاکہ اصل مسائل — مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت — پس پشت چلے جائیں، اور صرف نفرت کی سیاست باقی رہے۔

مودی کے اقتدار کا ہر دن تاریخ کے صفحات پر ایک سیاسی جرم کی طرح درج ہے۔ ایسے جرم، جن کے مجرم عدالت میں نہیں، عوام کے اعتماد کے محل میں براجمان ہیں۔

تو آج جب ہم یہ شعر پڑھتے ہیں:

میرے دور کے رہنمائے وطن
جس طرف بھی گئے کربلا کر گئے

تو یہ ہمیں صرف گزرے دنوں کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ ہوشیار کرتا ہے کہ اگر ہم نے پہچاننے میں دیر کر دی، تو کل کی کربلا ہماری اپنی زمین پر ہوگی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔