مدارس و مکاتب: ملتِ اسلامیہ ہی نہیں، ہندوستان کی مشترکہ روحانی وراثت
(ایک فکری و قومی رہنمائی پر مبنی تحریر)
یہ کوئی اتفاق نہیں کہ جب برصغیر کا معاشرہ غلامی، جہالت اور اخلاقی پستی کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، تب مدارس و مکاتب نے شمعِ علم، روحانیت، تہذیب، اور قربانی روشن کی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ان اداروں نے صرف قرآن و حدیث کی تعلیم ہی نہیں دی، بلکہ انگریزوں کے خلاف مزاحمت، اردو زبان و ادب کی ترویج، اور معاشرتی اصلاحات میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
لیکن افسوس!
آج کچھ حلقے ان اداروں کو صرف ایک مخصوص مذہبی طبقے کی علامت سمجھ کر ان کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مدارس صرف مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی اجتماعی وراثت ہیں۔
تاریخ کی روشن گواہی: صدرِ جمہوریہ کی زبان سے
ڈاکٹر راجندر پرشاد (پہلے صدر جمہوریہ ہند) نے جب دارالعلوم دیوبند کا دورہ کیا، تو اپنے خطاب میں فرمایا:
> "میں بیرون ممالک گیا، وہاں کے تعلیم یافتہ مسلمانوں نے مجھ سے کہا: اگر تمہارے ملک میں دارالعلوم دیوبند جیسا ادارہ ہو تو ہم ہر تعاون کے لیے تیار ہیں۔ وہاں کے مسلمان اس ادارے کو دین، روحانیت اور سچائی کی علامت سمجھتے ہیں۔"
(ماخوذ: دارالعلوم دیوبند میں خطاب)
کیا یہ محض ایک مذہبی ادارہ تھا؟
نہیں، یہ ایک روحانی، تعلیمی اور تہذیبی قلعہ ہے، جس کی تاثیر آج بھی سرحد پار محسوس کی جاتی ہے۔
مدارس و مکاتب: ضرورتِ وقت، فطری ادارے
جہاں جدید تعلیم صرف دماغ بناتی ہے، وہاں مدرسہ دل و ضمیر کو بھی جگاتا ہے۔
جہاں اسکول صرف معیشت سنوارتے ہیں، وہاں مکتب معاشرت کا توازن بناتا ہے۔
جہاں نظام تعلیم میں "پیداوار" مقصود ہوتی ہے، وہاں مدارس میں سخاوت، صبر، دیانت، اور عبادت کا مزاج پیدا کیا جاتا ہے۔
آج بھی ملک کا ہر عام مسلمان، اپنے بچوں کے کان میں اذان سے لے کر جنازے کی نماز تک کے لیے مدرسے والے کا محتاج ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ مظلوم طبقہ اپنی محنت سے امت کی پیاس بجھاتا رہا ہے، اور اگر کچھ فضلاء جدید میدانوں میں آ جائیں تو انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ کیسی ناانصافی ہے؟
ہمیں کیا کرنا ہے؟
مدارس کو برا کہنے سے پہلے اپنا ادارہ دیکھو
اہلِ مدارس پر طعنہ دینے سے پہلے اپنی قربانی ناپو
اور سب سے اہم:
اگر اس ملک کو دوبارہ "سونے کی چڑیا" بنانا ہے، تو روحانیت اور اخلاقی تعلیم کے بغیر یہ ممکن نہیں
آخر میں:
مدارس، مکتب اور علماء اس ملک کے اخلاقی ورثہ دار ہیں، ان کی قدر کرو، وہ تمہاری نسلوں کو بگاڑ سے بچا سکتے ہیں۔
ہم اپنی بساط کے مطابق چراغ جلاتے رہیں گے...
کیونکہ ظلمات کے درمیان روشنی کے چند دیپ ہی کافی ہوتے ہیں۔
قاری ممتاز احمد جامعی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔