دارالسلام سے دارالایمان تک: ایک فکری زوال کا مطالعہ
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
majaamai@gmail.com
مولانا عبداللہ سالم قمر چترویدی کا “دارالسلام سے دارالایمان” تک کا سفر بظاہر ایک انفرادی فیصلہ معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے پسِ منظر میں ایک گہرا فکری، سیاسی اور ایمانی بحران پوشیدہ ہے۔ اس تبدیلی کی کلی تفصیلات پر تو وہی لوگ بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں جو مقامی سطح پر حالات اور شخصیات سے واقف ہیں، لیکن جزوی اعتبار سے جو کچھ عام ذرائع اور سوشل میڈیا کے توسط سے سامنے آیا، وہ اہلِ اسلام و ایمان کے درمیان طرزِ سیاست میں ایسے تضادات کی نشاندہی کرتا ہے جو ہمالیہ سے بھی بلند اور زیادہ بھاری محسوس ہوتے ہیں۔
ہمارے اکابرین نے بارہا متنبہ کیا ہے کہ بھارت جیسے کثیرالمذاہب اور جمہوری ملک میں مذہبی نعروں کی بنیاد پر سیاسی حقوق حاصل کرنے کی کوشش نہ صرف غیر حکیمانہ بلکہ سیاسی حکمت و بصیرت کے منافی ہے۔ دوسری طرف اکثریتی فرقہ ان تمام اصولوں سے ماورا رہ کر مذہب کو براہِ راست سیاست میں داخل کرتا ہے اور اسی کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزادؒ نے ایک موقع پر بڑی بصیرت کے ساتھ فرمایا تھا:
> “ہندوستان کے مسلمان اپنے سیاسی رہنماؤں پر کبھی متفق نہیں ہو سکتے، اور یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔”
(حوالہ: India Wins Freedom، حصہ دوم)
تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ہمارے بیشتر قائدین بھی اپنی جماعتی یا ذاتی ترجیحات سے اوپر اٹھ کر قوم کے مفاد میں خالص مخلص نہیں رہ پاتے۔ اس کی وجوہات تاریخی، نفسیاتی اور سماجی سطح پر غور طلب ہیں۔
اسی پس منظر میں ایک سوال ہمیشہ ذہن میں گونجتا ہے کہ سیاسی جماعتیں مولوی کو ہمیشہ “اچھوت” کیوں سمجھتی ہیں؟ انہیں فیصلہ کن عہدوں پر دیکھنے سے کیوں کتراتی ہیں؟ انہیں اکثر “دری بچھانے” یا “تقریر کرنے” تک ہی محدود کیوں رکھتی ہیں؟
اس کی ایک ہی بنیادی وجہ سمجھ آتی ہے — وہ یہ کہ مولوی اگر صحیح معنوں میں اپنے دینی وقار کے ساتھ سیاسی میدان میں داخل ہو جائے تو سیاسی جماعتوں کے مہمانی و نفسانی مفادات پر کاری ضرب پڑتی ہے۔ کیونکہ مولوی کے لیے اپنی عزتِ نفس اور دینی حیثیت کے پیشِ نظر ملی مفاد سے ہٹ کر چلنا بھارت جیسے مذہبی ملک میں تقریباً ناممکن ہے۔ یہی خوف اکثر پارٹیوں کو مذہبی قیادت سے دور رکھتا ہے۔
اسی تناظر میں ماضی کی ایک مثال عبرت آموز ہے کہ مولانا اجمل آسامی جیسے مخلص و فعال رہنما، جنہوں نے مسلم امہ کے لیے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں، ایک غیر معروف امیدوار کے ہاتھوں بھاری ووٹوں سے شکست کھا گئے۔ یہ صرف انتخابی ناکامی نہیں، بلکہ قوم کی فکری بے سمتی اور جذباتی فیصلوں کی علامت ہے۔
یہ تمام واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ جب تک ہم اصولوں اور اجتماعی حکمت پر مبنی سیاسی بصیرت پیدا نہیں کرتے، نعروں اور شخصیات کے حصار سے نکل کر عمل و اخلاص کو معیار نہیں بناتے — نہ دارالسلام سے دارالایمان کے اس سفر کا مفہوم سمجھا جا سکتا ہے، نہ ملت کی سمت درست ہو سکتی ہے
نوٹ: یہاں “دارالسلام” سے مراد مجلسِ اتحاد المسلمین کا مرکزی دفتر (حیدرآباد) ہے، اور “دارالایمان” سے مراد اسی جماعت کا بہار میں قائم صوبائی صدر دفتر (کشنگنج) ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔