ترجمانی سے پہلے آئینہ: جب سچائی گرفتار ہو، علم مجرم ہو، اور ناموسِ رسالتؐ پامال ہو!
✍️ قاری ممتاز احمد جامعی
پروفیسر علی خان محمودآباد کی گرفتاری صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہندوستان میں تعلیمی آزادی، اظہارِ رائے، تحقیق اور اساتذہ کے وقار پر ایک کاری ضرب ہے۔ اشوکا یونیورسٹی جیسے باوقار ادارے کے معروف محقق، مورخ اور استاد کو اس بنا پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے بین الاقوامی سیاست پر ایک علمی تجزیہ پیش کیا، جس میں نہ کوئی اشتعال تھا، نہ ناپسندیدہ زبان، اور نہ ہی کوئی ملک دشمنی۔
یہ وہی علی خان ہیں جو کیمبرج کے فارغ التحصیل ہیں، جنہوں نے قوم کو فہم، تحقیق اور مکالمے کا سبق دیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب ان پر افتخار کرنا چاہیے تھا، ان کی گرفتاری کے وقت اشوکا یونیورسٹی نے محض یہ بیان دے کر جان چھڑا لی کہ "ان کے خیالات ذاتی ہیں"۔ کیا یہ ادارہ اسی دن کے لیے بنا تھا؟ کہ استاد جب ظلم کی زد میں آئے، تو دیوار بننے کے بجائے خاموش تماشائی بن جائے؟
اساتذہ کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر ان کا وقار پامال کیا جائے، ان کی زبان بند کی جائے، اور اختلافِ رائے پر انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے، تو یہ کسی ایک فرد کا زوال نہیں بلکہ سماج کی فکری خودکشی ہے۔
ایسے نازک موقع پر جب بھارت کا 59 رکنی سرکاری وفد دنیا کے 32 ممالک میں جا رہا ہے، اور اس میں 11 مسلم نمائندے شامل کیے گئے ہیں، تو یہ فطری توقع ہے کہ وہ نمائندگی صرف بیرون ملک بھارت کے چہرے کی نہ کریں، بلکہ اندرون ملک پیش آنے والے کچھ غیرسنجیدہ و تکلیف دہ واقعات کی بابت بھی حکومت تک نرم لہجے میں اپنا نقطۂ نظر رکھیں۔
مثلاً پروفیسر علی خان محمودآباد کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ، یا کسی سابق خاتون فوجی افسر پر ایک حکومتی شخصیت کے نامناسب تبصرے جیسے معاملات، بھارت کی اس روادار شبیہ کے منافی ہیں جسے ہم عالمی برادری کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم سب سے اہم اور حساس پہلو، جو ہر باشعور مسلمان کے دل کو چھلنی کر دیتا ہے، وہ ناموسِ رسالت ﷺ کا مسئلہ ہے۔ آئے دن حکومت سے قربت حاصل کرنے یا سستی شہرت کی خاطر بعض انسان نما ناپاک عناصر اسلامی شعائر، قرآن و سنت، اور بالخصوص رسولِ اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف فتنہ، اشتعال اور مسلمانوں کو مشتعل کر کے انہیں مجرم بنانا ہوتا ہے، جب کہ حکومت ان پر نرمی اختیار کرتی ہے۔
یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جس حکومت کو عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے مسلم چہروں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہی حکومت اندرونِ ملک ایسے شرپسندوں پر نرمی کیوں برتتی ہے جو ملک کے امن کو سبوتاژ کرتے ہیں؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ کیا ناموسِ رسالت ﷺ پر ایمان رکھنے والے شہریوں کا کوئی تحفظ نہیں؟ کیا ان کی دل آزاری کوئی جرم نہیں؟
لہٰذا یہ تمام 11 مسلم نمائندے، جو بیرونِ ملک بھارت کا چہرہ پیش کرنے جا رہے ہیں، ان کی شرعی و قومی ذمے داری ہے کہ وہ باہر جا کر ملک کا دفاع ضرور کریں، لیکن روانگی سے پہلے حکومت سے گزارش کریں کہ وہ اندرون ملک مسلمانوں کے ایمان، وجود، اور وقار کی بھی حفاظت کرے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب استاد کی عزت ہو، خواتین کا احترام ہو، اختلاف کی گنجائش ہو، اور ناموسِ رسالت ﷺ پر حملہ کسی بھی صورت میں برداشت نہ کیا جائے۔
ورنہ ترجمانی کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، اگر وہ آواز جو باہر سنائی دے، اپنے ہی وطن میں دبا دی جائے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔