اتوار، 26 اکتوبر، 2025

ووٹ: ایک شرعی گواہی — اور ذمہ دارانہ انتخاب کی ضرورت

 ووٹ: ایک شرعی گواہی — اور ذمہ دارانہ انتخاب کی ضرورت 

 قاری ممتاز احمد جامعی
 majaamai@gmail.com

جمہوریت میں ووٹ دینا محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ شرعی لحاظ سے ایک قسم کی گواہی (شہادت) ہے۔ اسلامی شریعت میں شہادت کا مفہوم صرف عدالت میں گواہی دینے تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جس سے حق و باطل میں فیصلہ ہو، اسے بھی گواہی کہا گیا ہے۔

حضرت مفتی محمد شفیعؒ رحمہ اللہ نے معارف القرآن (تفسیر سورۃ المائدہ: آیت 8) میں واضح فرمایا ہے:

> “اسلامی اصول شہادت کے مطابق ووٹ بھی ایک قسم کی گواہی ہے، کیونکہ اس کے ذریعہ کسی شخص یا جماعت کو اقتدار کی گواہی دی جاتی ہے۔ اگر یہ گواہی جانبداری، تعصب یا مفاد پرستی کے تحت دی جائے تو یہ جھوٹی شہادت کے حکم میں داخل ہوگی، جو کبیرہ گناہ ہے۔”
(معارف القرآن، جلد 3، صفحہ 58-60 کے ملاحظات کے مطابق خلاصہ)

یعنی ووٹ دینا صرف دنیاوی فیصلہ نہیں بلکہ دینی ذمہ داری اور شرعی امانت ہے۔ اگر ووٹ کے نتیجے میں کوئی ظالم، فاسق یا فرقہ پرست طاقت حاصل کر لے اور وہ کمزوروں پر ظلم کرے، تو اس ظلم میں ووٹ دینے والا بھی شریک سمجھا جائے گا، خواہ وہ کتنا ہی عبادت گزار کیوں نہ ہو۔

حالیہ انتخابی اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق، پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے کل اراکین کی تعداد تقریباً 4,850 ہے۔ ان میں سے تقریباً 1,994 (41٪) نے اپنے خلاف درج شدہ مقدمات کی تفصیل ظاہر کی ہے — جن میں 1,283 (26٪) سنگین نوعیت کے اور 711 (15٪) نسبتاً ہلکی نوعیت کے مقدمات شامل ہیں۔

یہ اعداد و شمار صرف وہ مقدمات ظاہر کرتے ہیں جو انتخابی حلف ناموں یا عدالتوں میں ریکارڈ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے معاملات میں ایف آئی آر درج ہی نہیں کی جاتی، خصوصاً جب متاثرہ فرد کمزور یا غیر مؤثر حیثیت رکھتا ہو، یا جب سیاسی دباؤ پولیس کے راستے میں حائل ہو۔ اسی تناظر میں یہ قیاس ممکن ہے کہ اصل شرح ظاہر کردہ 41٪ سے کہیں زیادہ — ممکنہ طور پر 45٪ تا 50٪ کے درمیان — ہو سکتی ہے۔

یہ بات فقہی اور اخلاقی لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ جب اقتدار کے مناصب پر ایسے افراد پہنچیں جن کے دامن پر مجرمانہ الزامات ہوں تو ووٹ دینے والوں کی شرعی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا ووٹ دیتے وقت تحقیق، دیانت اور زمینی حقیقتوں کا گہرا مطالعہ لازم ہے۔

 موجودہ حالات میں ووٹ دینے کا صحیح شرعی و عملی طریقہ

ملک کے موجودہ حالات، خصوصاً صوبہ بہار میں جہاں فرقہ واریت اور اقتدار کی سیاست نے عوامی اعتماد کو کمزور کیا ہے، ووٹ دینے سے پہلے ہر شہری — بالخصوص اہلِ ایمان — کو غور و فکر کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔

ذیل میں تین ترجیحات بیان کی جاتی ہیں:

1️⃣ پہلا درجہ: مضبوط آزاد امیدوار (Independent Candidate)
اگر آپ کے حلقے میں کوئی دیانت دار، تعلیم یافتہ اور خدمت گزار آزاد امیدوار موجود ہو، جس پر اعتماد کیا جا سکے کہ وہ کسی فرقہ پرست جماعت کی حمایت نہیں کرے گا، تو ایسے امیدوار کو ووٹ دینا شرعی و اخلاقی لحاظ سے بہتر ہے۔ عوام اس سے تحریری عہد یا اخباری بیان لیں کہ وہ کسی ظالمانہ حکومت کا حصہ نہیں بنے گا۔

2️⃣ دوسرا درجہ: قابلِ بھروسہ سیکولر امیدوار
اگر آزاد امیدوار کمزور ہو یا جیتنے کے امکانات نہ ہوں، تو ایسے سیکولر امیدوار کو ووٹ دینا بہتر ہے جس کا ماضی صاف ہو، جو عوامی مفاد کا حامی ہو، اور جس پر فرقہ واریت یا بدعنوانی کے الزامات نہ ہوں۔ ایسے امیدوار سے بھی تحریری وعدہ لیا جا سکتا ہے کہ وہ اقلیتوں، غریبوں اور مظلوموں کے حقوق کا تحفظ کرے گا۔

3️⃣ تیسرا درجہ: استثنائی صورت میں فرقہ پرست امیدوار
اگر متبادل امیدوار کمزور ہوں اور فرقہ پرست جماعت کا امیدوار شخصی طور پر نیک، شفاف اور علاقائی امن کے لیے سنجیدہ ہو، تو صرف تحریری عہد و بیان کی صورت میں ووٹ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ درجہ نہایت احتیاط کا متقاضی ہے۔
اسلامی سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عدل و اصلاح ہے۔ ووٹ دینے سے پہلے یاد رکھیں کہ یہ عمل اللہ کی عدالت میں گواہی کے مترادف ہے۔ ووٹ صرف اسی کو دیا جائے جو:

1. عوامی اعتماد کا اہل ہو۔

2. ظلم سے پاک سوچ رکھتا ہو۔

3. کمزوروں اور اقلیتوں کی عزت و سلامتی کا ضامن ہو۔

جو لوگ بغیر تحقیق کے صرف پارٹی یا ذات برادری کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں، وہ دراصل شہادتِ زور (جھوٹی گواہی) کے مرتکب ہو سکتے ہیں، جس کی قرآن و سنت میں سخت ممانعت آئی ہے۔

ووٹ امانت ہے، جذبات نہیں۔ اس کے ذریعے آپ صرف کسی امیدوار کو نہیں، بلکہ اپنے ضمیر، اپنی امت اور اپنی آخرت کو بھی گواہی دے رہے ہیں۔ لہٰذا ووٹ دینے سے پہلے غور کیجیے — کہ کہیں آپ کی یہ گواہی ظلم، جھوٹ اور فرقہ پرستی کے پلڑے میں نہ جا پڑے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔