ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

سیاست کا زوال: جب ایمان نیلام ہو، اور قیادت مشکوک ہو جائے

 سیاست کا زوال: جب ایمان نیلام ہو، اور قیادت مشکوک ہو جائے


سیاست، اگر اصول و اخلاق کے تابع ہو تو قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ لیکن جب یہی سیاست جھوٹ، مصلحت، اور مفاد پرستی کا شکار ہو جائے، تو یہ صرف کرسی کی تجارت اور ضمیر کی نیلامی بن کر رہ جاتی ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاسی فضا میں یہی منظرنامہ چھایا ہوا ہے — خاص طور پر مسلمانوں کی سیاست اس المیے کا شکار ہے کہ اس میں نہ نظریاتی استقامت ہے، نہ فکری قیادت کا جرات مندانہ وجود۔


ایک زمانہ تھا جب مولانا حسرت موہانی جیسے رہنما بغیر کسی سرکاری مراعات کے صرف خدمتِ ملت کو مقصدِ حیات بنا کر سیاست کے میدان میں اترتے تھے۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ اکثر مسلم سیاستدان قوم کے نام پر ووٹ لیتے ہیں، مگر کامیابی کے بعد نہ اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ اقلیتوں کے تحفظ کی وکالت۔ مذہبی شناخت سے شرمندگی، اور اکثریتی بیانیے سے وفاداری ان کا سیاسی دستور بن چکا ہے۔


افسوسناک بات یہ ہے کہ قوم خود بھی اپنی فکری شناخت سے بے پروا ہو چکی ہے۔ قیادت کے معاملے میں وہ ہمیشہ الجھن کا شکار رہی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے سچ کہا تھا کہ "قیامت آ جائے گی، مگر مسلمان اپنے رہنما پر یقین نہیں کرے گا"۔ یہی وجہ ہے کہ آج اگر کوئی رہنما ملت کے حقوق کی آواز بلند کرتا ہے، تو خود ملت ہی اسے مشکوک، متنازع یا "بی ٹیم" قرار دے دیتی ہے۔


اسدالدین اویسی جیسے سیاسی خطیب، جنہوں نے برسوں سے پارلیمنٹ میں اقلیتوں، دستور، اور مسلم تشخص کی جرات مندانہ وکالت کی، انہیں ملت کی اکثریت نے کبھی قبولِ دل سے نہیں اپنایا۔ کوئی کہتا ہے وہ صرف تلنگانہ کے ہیں، کوئی کہتا ہے ان کے صرف سات ایم ایل اے ہیں، اور کوئی انہیں بی جے پی کا فائدہ پہنچانے والا قرار دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قیادت کی قدر اس کے رُکنوں کی تعداد سے ہوتی ہے، یا اس کی فکر، استقامت اور جرأتِ گفتار سے؟


جب کنہیا کمار، جگنیش میوانی، ہاردک پٹیل جیسے نوجوان سیکولر طبقے سے اٹھتے ہیں تو ان کے لیے میڈیا، عدلیہ اور نظام میں راستہ کھل جاتا ہے۔ مگر جیسے ہی کوئی مسلمان نوجوان بولنے کی جرأت کرتا ہے — چاہے وہ شرجیل امام ہو، عمر خالد ہو یا خالد سیفی — اُسے یا تو جیل بھیج دیا جاتا ہے یا غدار بنا کر بدنام کیا جاتا ہے۔ اس دوہرے معیار نے ملت کے فکری افق کو مزید تاریک کر دیا ہے۔


مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ جب اشرافیہ طبقے کے سیاسی قائدین کے گھروں میں بین المذاہب شادی ہو، تو اُسے "گنگا جمنی تہذیب" اور "انفرادی آزادی" کا جشن کہا جاتا ہے، مگر جب یہی عمل کسی غریب یا عام مسلمان کے گھر ہو، تو اُسے "لو جہاد" کا نام دے کر ہدفِ نفرت بنا دیا جاتا ہے۔ اشوک سنگھل، ایل کے اڈوانی جیسے مسلم مخالف نظریات کے حامل لیڈروں کی اپنی بیٹیوں نے مسلمان مردوں سے رشتہ قائم کیا، لیکن نہ کہیں سنگھی بھڑکے، نہ میڈیا شور مچایا۔ اس کے برعکس کسی مسلم نوجوان کا یہی عمل پورے نظام کو لرزا دیتا ہے۔


یہ تضاد، یہ منافقت، اور یہ اخلاقی دوہرا پن دراصل اس قوم کی فکری کمزوری کا شاخسانہ ہے۔ جب ملت خود اپنے رہنماؤں پر اعتماد نہ کرے، اپنی شناخت پر فخر نہ کرے، اور ہر نئے ابھرتے چہرے کو مشکوک نظروں سے دیکھے، تو پھر زوال اس کا مقدر بن جاتا ہے۔


تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں کو بارہا صرف استعمال کیا گیا، ان کا خون اور ووٹ لیا گیا، مگر وقتِ مصیبت انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ شہاب الدین جیسے دبنگ لیڈر، جنہوں نے لالو پرساد یادو کی سیاست کو سیوان کی گلیوں سے پارلیمنٹ تک پہنچایا، وہ جب جیل میں بیماری و مظلومی کی حالت میں دم توڑتے ہیں تو کوئی لالو، کوئی آر جے ڈی ان کے جنازے پر بھی نہیں آتا۔


اعظم خان، جنہوں نے سماجوادی پارٹی کی بنیادوں میں اپنے لہو کی اینٹ رکھی، آج مقدموں کی زد میں تن تنہا کھڑے ہیں۔ وہ شخص جس نے سیکڑوں تعلیمی ادارے قائم کیے، رامپور کا چہرہ بدل دیا، اسے پارٹی نے خاموشی سے قربان کر دیا۔


احسان جعفری، گجرات کے سابق ایم پی، جنہیں دنگائی ہجوم نے زندہ جلا دیا، دہلی کی پارلیمنٹ نے ان کے لیے ایک سطر بھی مؤثر انداز میں ادا نہ کی۔ ان کی بیوی کی دہائی پر سپریم کورٹ کے دروازے بھی برسوں خاموش رہے۔


یہ نام صرف شخصیات نہیں، بلکہ مثالیں ہیں اس سچ کی کہ مسلمان اگر وفادار ہو بھی جائے تو سسٹم اس کا وفادار کبھی نہیں ہوتا۔


ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانانِ ہند قیادت کے تئیں اپنی نفسیاتی غلامی کو ختم کریں، فکری طور پر آزاد سوچ اپنائیں، اور دینی و اخلاقی بنیاد پر وفادار، باصلاحیت، بے باک رہنماؤں کو مضبوط کریں۔ بصورت دیگر، ملت ایک ایسا ہجوم بن کر رہ جائے گی جو صرف نعرے لگانا جانتی ہے، مگر نہ راستہ چن سکتی ہے، نہ کارواں بنا سکتی ہے۔


یہ مضمون ایک تلخ سچائی کا آئینہ ہے۔ اگر ہم نے آج بھی اپنی قیادت، فکر، اور کردار کا محاسبہ نہ کیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم دین، عقل، اور سیاسی شعور کو بنیاد بنا کر اپنے مستقبل کی تعمیر کریں، اور نعرے بازی سے نکل کر نظریاتی استقلال کی راہ اپنائیں۔


سیاست اگر قرآن و سنت کے زیر سایہ نہ ہو، تو صرف فتنہ ہے — اور ہم اس فتنے میں جل رہے ہیں۔


قاری ممتاز احمد جامعی 

majaamai@gmail.com


1 تبصرہ:

براہِ کرم موضوع سے متعلق اور باوقار تبصرہ کریں۔