جمعرات، 30 اکتوبر، 2025

میتھلی ٹھاکر اور نسوانی وقار کی سیاست

 میتھلی ٹھاکر اور نسوانی وقار کی سیاست


قلم: قاری ممتاز احمد جامعی

majaamai@gmail.com 

گزشتہ دنوں ایک سوال میڈیا اور عوامی حلقوں میں بڑے زور و شور سے گردش کر رہا ہے —

"سیاست میں آنے کے بعد میتھلی ٹھاکر کا مستقبل کیا ہوگا؟"

یہ سوال محض سیاسی تجسس نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی اندیشہ بھی ہے۔

کیونکہ جب فنکار اپنی خالص تخلیقی دنیا سے نکل کر اقتدار کی گلیوں میں قدم رکھتا ہے تو اکثر فن کی صداقت، اخلاق کی نرمی، اور عوامی اعتماد سیاست کی گرد میں دب جاتے ہیں۔

یہی احساس اس مضمون کو لکھنے کا اصل محرک ہے — کہ میتھلی ٹھاکر جیسے ایک شفاف فنکارانہ وجود کو سیاست کی حرارت میں جلنے سے پہلے آئینہ دکھایا جائے۔


میتھلی ٹھاکر — دربھنگہ کی ایک باصلاحیت، کم سن، اور خوش آہنگ گلوکارہ — جنہوں نے اپنی نرم دھنوں، متوازن لب و لہجے اور تہذیبی خلوص سے بہار کی لوک روایت کو نئی زندگی بخشی۔ وہ میتھلی، بھوجپوری اور ہندی لوک گیتوں کے ذریعے نہ صرف دربھنگہ بلکہ پورے بھارت میں مقبول ہوئیں، اور نئ نسل کے لیے اپنی مادری زبان و ثقافت سے جڑنے کی ایک روشن مثال بن گئیں۔


لیکن جب اسی میتھلی ٹھاکر نے سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے آر ایس ایس و بی جے پی کے پلیٹ فارم سے ودھان پریشد کی امیدواری قبول کی، تو ان کے چاہنے والوں کے درمیان ایک گہری فکری بحث چھڑ گئی۔

کیوں کہ وہ جماعت جس نے “سنسکرتی” اور “ناری شکتی” کے نام پر قوم کو نعرے دیے، اسی کے اندر عورتوں کی عزت و وقار بارہا پامال ہوا۔


گزشتہ برسوں میں بی جے پی اور اس سے وابستہ رہنماؤں کے خلاف جنسی ہراسانی، بدسلوکی اور طاقت کے ناجائز استعمال کے متعدد سنگین واقعات منظرِ عام پر آئے۔

سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر پر دو درجن سے زائد خواتین صحافیوں نے دورانِ ملازمت جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ بالآخر عدالت نے متاثرہ خاتون کے حق میں فیصلہ دیا اور اکبر کو وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔

اتر پردیش میں کُلدیپ سنگھ سینگر، جو بی جے پی کے سابق ایم ایل اے تھے، ایک نابالغ لڑکی سے زیادتی کے جرم میں عدالت سے عمر قید کی سزا پا چکے ہیں۔

اسی طرح بی جے پی کے رکن پارلیمان بِرج بھوشن شرن سنگھ پر متعدد خاتون پہلوانوں نے جنسی استحصال کے سنگین الزامات لگائے، جن پر عدالتی چارچ شیٹ دائر ہو چکی ہے۔

ہتھرس کے لرزہ خیز واقعے میں مظلوم دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ عصمت دری اور قتل کے بعد بی جے پی کے مقامی رہنماؤں اور پولیس کے رویّے نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا۔

یہ تمام واقعات ایک ایسی تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طاقت اور مذہبی قوم پرستی کے امتزاج نے عورت کی عزت کو نعرہ تو بنا دیا، مگر عمل میں اس کے وقار کو سب سے زیادہ مجروح کیا۔


ایسے سیاسی ماحول میں میتھلی ٹھاکر جیسی باعزت اور فنکارانہ پہچان رکھنے والی خاتون کا بی جے پی سے وابستہ ہونا محض سیاسی قدم نہیں بلکہ ایک اخلاقی آزمائش ہے۔

فن و ثقافت کی دنیا میں ان کا مقام اس لیے نمایاں تھا کہ وہ “مقامی روایت اور نسوانی شرافت” کی ترجمان تھیں، مگر اب ان کی شناخت ایک ایسی جماعت کے سیاسی رنگ میں رنگنے جا رہی ہے جس کے ماضی پر عورتوں کی تذلیل کے داغ ثبت ہیں۔


فنکار کا سب سے بڑا سرمایا اس کا وقار اور عوامی اعتماد ہوتا ہے۔

اگر وہ سیاسی طاقت کے سائے میں اپنی آواز کو مصلحت کے خول میں چھپا لے، تو وہ صرف اپنی ذات نہیں، بلکہ پوری تہذیبی روایت کا نقصان کرتی ہے۔

میتھلی ٹھاکر کے لیے اصل کامیابی یہ نہ ہوگی کہ وہ ایوانِ اقتدار تک پہنچ جائیں، بلکہ یہ ہوگی کہ وہ اپنی اس فنّی اور اخلاقی شناخت کو برقرار رکھ سکیں جس نے انہیں عوام کے دلوں میں زندہ رکھا۔


سیاسی میدان میں ان کا یہ قدم یقینی طور پر ایک موڑ ہے — مگر اس موڑ پر انہیں فیصلہ خود کرنا ہوگا کہ وہ “بی جے پی امیدوار” بن کر یاد کی جائیں گی یا “میتھلی گائیکی کی تہذیبی روح” کے طور پر۔

ان کے لیے میرا مخلصانہ پیغام یہ ہے کہ وہ اپنی آواز، فن، اور نسوانی وقار کو کسی سیاسی مفاد کے تابع نہ کریں۔

اقتدار کی گلیاں وقتی ہوتی ہیں، مگر عوامی دلوں کی گونج ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

اگر وہ اپنی فطری سادگی اور فنکارانہ دیانت کو محفوظ رکھ سکیں تو وہ سیاست نہیں، قوم و تہذیب کی بیٹی کے طور پر ہمیشہ یاد کی جائیں گی۔



منگل، 28 اکتوبر، 2025

**بہار کے انتخاب اور جمہوریت کی روح:سیاسی شعور، انصاف پسند طبقہ، اور اقلیتوں کا حقیقی تحفظ**

**بہار کے انتخاب اور جمہوریت کی روح:

سیاسی شعور، انصاف پسند طبقہ، اور اقلیتوں کا حقیقی تحفظ**
✍️ قاری ممتاز احمد جامعی
majaamai@gmail.com 

گزشتہ دنوں معروف مفکر و دانشور مولانا عبد الحمید نعمانی کا ایک بصیرت افروز مضمون روزنامہ انقلاب میں شائع ہوا جس میں انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان — “سیاسی اسلام نے سناتن آستھا پر کاری ضرب لگائی ہے” — کے پس منظر میں بھارتی سیاست کے بدلتے مزاج کا گہرائی سے تجزیہ کیا۔
نعمانی صاحب نے بجا فرمایا کہ بہار کا اسمبلی انتخاب اس وقت ہندوستان میں سوشلسٹ سیاست کا آخری قلعہ ہے۔ اگر یہ قلعہ منہدم ہو گیا تو ملک کی سیاست ایک خطرناک سمت اختیار کر لے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اقتدار کی تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی نہیں ہوتی، بلکہ پورے نظام کی سمت بدل دیتی ہے۔ آج کے حالات میں "مسلم وزیر اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ" کا نعرہ کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتا، کیونکہ سیاسی طاقت کے تمام محور ایک خاص نظریاتی طبقے کے قبضے میں ہیں۔

انہوں نے بہار کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ 18/19 مسلم ارکانِ اسمبلی ہونے کے باوجود حالات میں کوئی بنیادی فرق نہیں آیا، البتہ اسامہ شہاب کی کامیابی اگر یقینی ہو جائے تو سیوان کے شہاب الدین دور کی ایک نئی بازگشت پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر بہار کے مسلمانوں، خصوصاً سیمانچل کے عوام کو جذباتی نعروں کے بجائے سیاسی شعور سے کام لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ سرکار میں بی جے پی کے بڑھتے غلبے کے بعد “گھس پیٹھ” جیسے ایشوز کو پھر سے انتخابی ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔

یہ تجزیہ حقیقتاً موجودہ منظرنامے کا آئینہ دار ہے۔ میں خود اسی رائے سے متفق ہوں کہ ایک سیکولر جمہوری ملک میں اقلیتوں کے مسائل کلیدی عہدوں یا نمائندگی سے حل نہیں ہوتے۔
یہ عہدے ہمیشہ اکثریتی فرقہ کے ریڈار پر رہتے ہیں، اور جب چاہا، قانونی موشگافیوں کا سہارا لے کر ان عہدہ داروں کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔
ہمارے سامنے زندہ مثالیں ہیں — اعظم خان سے لے کر عتیق احمد، شہاب الدین سے اشرف تک — جن کی سیاسی یا سماجی حیثیت کو “قانون” کے نام پر مٹا دیا گیا۔

درحقیقت مسلمانوں کے حقوق کو جس عہدے سے محفوظ سمجھنے کی غلطی ہو رہی ہے، وہ تاریخ کا سب سے بڑا فریب ہے۔
افسر ہو یا ملازم، یا سیاسی گلیاروں کا بادشاہ — سبھی کو وقت آنے پر کسی نہ کسی بہانے ٹھکانے لگا دیا گیا، کبھی فرضی انکاؤنٹر سے، کبھی فریبِ قانون سے۔
یہ سلسلہ صرف بڑے ناموں تک محدود نہیں؛ ابھی حال ہی میں سمستی پور کلکٹریٹ میں ایک مسلم ملازم کو اس کے سینیئر افسر نے ڈاڑھی پکڑ کر نوچ مارا، اور انصاف کے بجائے خاموشی مسلط کر دی گئی۔
ایسا لگتا ہے جیسے پورا طبقہ اپنی ہی حفاظت میں ڈرا سہما، مظلوم بن کر جینے پر مجبور ہے۔
جب انسان اپنی ذات کے تحفظ میں خوف زدہ ہو تو وہ قوم کے مفاد کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
پھر کہاں کا “قائد”، کہاں کا “وزیر”، اور کہاں کے “حقوق”!
سوال یہ ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جہاں مسلمان محض ۲ فیصد ہیں، وہاں کون سا قائد ہے؟
پھر بھی وہاں کے مسلمان قانون، عزت اور امن کے ساتھ کیوں جی رہے ہیں؟
وجہ یہی ہے کہ وہاں کے نظام میں انسان کی پہچان مذہب نہیں، بلکہ صلاحیت، قانون، اور مساوات ہے — جو سچی جمہوریت کی بنیاد ہے۔

دوسری طرف جب ہم دنیا کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یورپ، امریکہ، اور دیگر غیر ایشیائی ممالک میں مسلمان محض ۲ فیصد ہونے کے باوجود قانونی تحفظ، تخصص، اور سماجی احترام کے ساتھ ترقی کر رہے ہیں۔
وجہ صاف ہے: وہاں کے ادارے اب بھی جمہوریت کی اصل روح — مساوات و انصاف — کو کچھ حد تک محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔
مگر بھارت میں آر ایس ایس نے اس جمہوریت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا۔
اس نے اپنے نظریاتی کارکنوں کو پولیس، عدلیہ، میڈیا، اور تعلیم سمیت ہر ادارے میں داخل کر کے ریاست کو ایک مخصوص فسطائی ذہنیت کے تابع بنا دیا ہے۔

ایسے حالات میں اگر مسلم سماج صرف اپنے نمائندوں پر بھروسہ کرے، تو یہ سیاسی غفلت کے سوا کچھ نہیں۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اکثریتی طبقے کے اندر سے ہی انصاف پسند، سیکولر، اور انسان دوست عناصر کو ابھارا جائے۔
کیونکہ نظام کو بدلنے کی طاقت اسی طبقے میں ہے — وہی طبقہ جو آر ایس ایس کے فکری زہر کے مقابلے میں جمہوریت، مساوات، اور انسانی احترام کی بنیادوں کو ازسرِنو مضبوط کر سکتا ہے۔

تاریخ کے صفحات ہمارے سامنے ہیں: اسپین کے مسلمانوں نے جب سیاسی و فکری بیداری کھو دی تو ان کی عظیم تہذیب صفحۂ تاریخ سے مٹ گئی، اور میانمار کے مسلمانوں کو عالمی جمہوریتوں کی موجودگی میں بھی کوئی تحفظ نہیں ملا۔
اگر بھارتی مسلمان اب بھی محض وعدوں اور نمائشی عہدوں سے مطمئن رہے تو تاریخ خود کو دہرانے میں دیر نہیں لگائے گی۔

لہٰذا بہار کے باشعور ووٹروں، خصوصاً مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا کہ
یہ انتخاب صرف ایک حکومت کے بننے یا گرنے کا نہیں، بلکہ جمہوریت کی روح کو بچانے کا سوال ہے۔
اب فیصلہ یہ ہے کہ ہم نعرے کے پیچھے چلیں گے یا شعور کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

قائدین کی منافقت اور عوام کا اعتماد کا بحران — امت کی سیاسی و اخلاقی پسپائی کا اصل سبب

 قائدین کی منافقت اور عوام کا اعتماد کا بحران — امت کی سیاسی و اخلاقی پسپائی کا اصل سبب

یوں تو بندہ جب سے باشعور ہوا تبھی سے ہندی فلم انڈسٹری اور بھارتی سیاسی پارٹیوں (چند افراد کو چھوڑ کر) کے متعلق ایک واضح نظریہ رکھتا ہے کہ یہ طبقہ زیادہ تر لامذہب، زندیق اور جدید اصطلاح میں ’’لبرل ایتھیسٹ‘‘ مزاج رکھتا ہے۔ اسلام سے ان کا تعلق صرف اتنا ہی ہوتا ہے کہ ان کے نام کے ساتھ کوئی مسلمان پہچان والا لاحقہ جڑا ہوتا ہے، ورنہ عقائد و اسلامی شعائر سے یہ لوگ نابلد ہوتے ہیں۔ ہاں، کبھی کبھی یہی مسلم نام ان کے لیے مصیبت کا سبب بھی بن جاتا ہے، جب ہندوتوا نظریے کے شدت پسند ان سے ٹکرا جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند برس قبل مشہور اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے کو NCB کے ذریعے گرفتار کیا گیا، یا ایڈووکیٹ مجید میمن جیسے معتدل مسلم چہروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

بھارت مختلف تہذیبوں اور تمدنی تنوع کا مرکز ہے، اور اس میں شک نہیں کہ آزادی سے قبل یہ تنوع ایک اخلاقی توازن کے ساتھ موجود تھا، مگر آزادی کے بعد کے حالات نے بہت کچھ بدل دیا۔ ’’گنگا جمنی تہذیب‘‘ جیسا لفظ اگرچہ بظاہر ہم آہنگی اور باہمی احترام کا مظہر ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسی نظریے کے نام پر اسلام کی خالص شناخت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔ سیاسی مفاد پرستی اور فلمی ثقافت کے امتزاج نے مسلم معاشرت کی جڑیں کمزور کر دیں۔ عقائد، سیرتِ نبوی ﷺ اور دینی شعائر کا مذاق بننے لگا۔ آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، ملک بھر میں ’’چھٹ پوجا‘‘ منائی جا رہی ہے، اور سوشل میڈیا پر ایک مسلم ایم ایل اے (سمستی پور، بہار) کو دیکھا گیا کہ وہ سر پر پوجا کا سامان رکھ کر گھاٹ پر جا رہے ہیں، پانی میں اتر کر ’’ڈوبتے سورج‘‘ کو سلام کر رہے ہیں۔ یہ مناظر صرف مذہبی انحطاط نہیں بلکہ فکری خودکشی ہیں۔

سیاسی منافقت کا یہ زہر دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ قائدین جب اقتدار کے دربار میں پہنچتے ہیں تو ان کے لیے ایمان، اصول اور نظریہ سب کچھ ثانوی بن جاتا ہے۔ جب موقع آتا ہے، تو ذاتی مفاد کے لیے کفریہ کلمات زبان سے نکلنے میں لمحہ نہیں لگتا۔ چند سال قبل امارتِ شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ کے صدر مفتی سہیل ندوی قاسمی صاحب نے حالات کے بگاڑ پر ایک تاریخی فتویٰ دیا تھا، جب چمپارن کے ایک مسلم ایم ایل اے خورشید عرف فیروز نے عوامی جلسے میں ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ مفتی صاحب نے اس عمل کو کفر قرار دیا، مگر بعد میں خاندانی دباؤ میں آکر وہی شخص رجوع کے لیے امارت پہنچا۔ یہ وہی دوغلا پن ہے جو سیاست کے جسم میں خون بن کر دوڑ رہا ہے۔

اسی طرح جے ڈی یو کے لیڈر سلیم پرویز، جو اس وقت بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے چیئرمین بھی ہیں، نے وقف بل کے موقع پر امارتِ شرعیہ جیسے باوقار دینی ادارے کے خلاف زبان درازی کی، حالانکہ انہی اداروں کی قربت سے وہ پہچان حاصل کر پائے تھے۔ موجودہ ایم ایل سی خالد انور، جو کبھی امارتِ شرعیہ کے پلیٹ فارم سے ابھرے، وہ بھی وقف بل کی حمایت میں حکومت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے، جبکہ امارت نے امت کے مفاد میں اس کی مخالفت کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ امت کے نمائندہ بن کر منتخب ہوئے تھے، تو پھر ضمیر کہاں چلا گیا؟

ڈاکٹر فرید امان اللہ، جوائنٹ سیکرٹری ادارہ شرعیہ، کی طرف سے حالیہ دنوں کسی ’’سیکولر‘‘ پارٹی کی تائید کی خبر سامنے آئی ہے۔ اگر یہ تائید ادارے کی جانب سے ہے تو یہ ایک خطرناک اور منافقانہ رویہ ہے، کیونکہ اسی ادارے کے دوسرے ذمہ دار غلام رسول بلیاوی ایک کھلی فرقہ پرست پارٹی سے وابستہ ہیں۔ امت کے لیے یہ دوہرا معیار سب سے بڑا زہر ہے۔ ایک طرف ملی قیادت کا دعویٰ، دوسری طرف دشمنِ ملت جماعتوں کے ساتھ نرم رویہ—یہ وہی مزاج ہے جو امت کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مخلص نے اپنے ضمیر کی آواز پر سیاست میں قربانی دی، امت کو اخلاقی طاقت ملی۔ پہلا واقعہ 1996ء میں پیش آیا جب اٹل بہاری واجپائی کی سربراہی میں مرکز میں بی جے پی کی حکومت بنی، مگر صرف 13 دن میں گر گئی، کیونکہ نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ سیف الدین سوز نے اپنی پارٹی لائن سے اختلاف کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا۔ اسی طرح آندھرا پردیش کی تیلگو دیشم پارٹی کے رکن اسمبلی بشیر احمد نے فرقہ پرست حکومت کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس سے صوبائی حکومت گر گئی۔ یہ تھے وہ لوگ جنہوں نے اقتدار نہیں، ایمان کی حفاظت کو ترجیح دی۔

آج امت ایسے ضمیروں کی تلاش میں ہے جو کسی مفاد یا منصب کے سامنے جھک نہ جائیں۔ مگر افسوس کہ قائدین کی اکثریت نے خود کو اقتدار کی غلامی میں بیچ دیا ہے۔ عوام کا اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ لوگ اب اپنے قائدین کی بات پر یقین نہیں کرتے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہر تقریر کے پیچھے کوئی معاہدہ، کوئی لالچ، یا کوئی سیاسی گٹھ جوڑ چھپا ہوتا ہے۔

اصل المیہ یہ ہے کہ عوام کی بیداری وقتی جوش میں سمٹ کر رہ گئی ہے، اور قائدین کی منافقت دائمی عادت بن چکی ہے۔ جب تک امت اپنے نمائندوں کا محاسبہ نہیں کرے گی، ان سے جواب نہیں مانگے گی، تب تک یہ زوال جاری رہے گا۔ امت کی سیاسی، اخلاقی اور فکری پسپائی کا اصل سبب یہی دوغلا پن ہے—قائدین کا مفاد پرستی میں ڈوبا ضمیر اور عوام کا خاموش تماشائی بن جانا۔

وقت کا تقاضا ہے کہ امت ایک نئے سیاسی اخلاق کی بنیاد رکھے، جس میں ایمان، اصول، دیانت اور جواب دہی مرکزی حیثیت رکھتے ہوں۔ اگر اب بھی ہم نے اس بحران کو سمجھنے میں تاخیر کی، تو شاید ہماری نسلیں صرف تاریخ میں یہ لکھیں گی کہ ’’کبھی ہم ایک امت تھے، مگر منافقت نے ہمیں بکھیر دیا۔‘‘


قاری ممتاز احمد جامعی

📧 majaamai@gmail.com




اتوار، 26 اکتوبر، 2025

سیاسی منافقین کی فہرست میں بدنما کردار: جگدمبیکا پال

سیاسی منافقین کی فہرست میں بدنما کردار: جگدمبیکا پال

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی

تاریخ شاہد ہے کہ مفاد پرست سیاستدانوں نے سیکولرازم کی آڑ میں اقلیتوں، بالخصوص مسلم امہ کو بارہا دھوکہ دیا ہے۔ جگدمبیکا پال اس سیاسی منافقت کی ایک شرمناک مثال ہے، جس نے برسوں مسلمانوں کے اعتماد اور ووٹ سے فائدہ اٹھا کر جب اقتدار کی سیڑھی مکمل چڑھ لی تو اپنا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔

سیاسی آغاز اور سیکولر لبادہ

جگدمبیکا پال کا تعلق اترپردیش کے ضلع سدھارتھ نگر سے ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کانگریس جیسی نام نہاد سیکولر پارٹی سے کیا اور ایک لمبے عرصے تک اسی بینر تلے عوامی نمائندگی کا کردار ادا کیا۔ ان کے حلقۂ انتخاب ڈومریا گنج میں مسلمانوں کی قابلِ ذکر آبادی ہے، جنہوں نے کئی بار انہیں کامیاب بنایا۔ پال صاحب نے مسلم ووٹرز کے جذبات سے کھیلتے ہوئے ہم آہنگی، ترقی اور سیکولرازم کے دعوے کیے، اور خود کو "سب کا نمائندہ" ظاہر کیا۔

2014: وفاداری کی تبدیلی یا منافقت کی تکمیل؟

2014 میں جب بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز میں برسرِ اقتدار آئی، تو جگدمبیکا پال نے بھی سیاسی ہوا کا رخ پہچانتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ان کی سیاسی سچائی واضح ہونے لگی۔ اب وہ اس پارٹی کے ترجمان اور نمائندہ بن چکے تھے، جو ہندوتوا نظریات کی علمبردار ہے، اور جو کھلے عام اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے دینی، تعلیمی اور ثقافتی تشخص پر حملے کر رہی ہے۔

وقف ترمیمی بل 25: ایک سازش کا انکشاف

مسلمانوں کی اجتماعی اور شرعی املاک یعنی وقف کے نظام پر حملہ اس سازش کا تازہ ترین باب ہے۔ جگدمبیکا پال کو پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سوشیل جسٹس کا چیئرمین بنایا گیا، اور ان کی زیرِ نگرانی "وقف (ترمیمی) بل 25" پر رپورٹ تیار کی گئی۔ اس رپورٹ میں:

غیر مسلم افراد کو وقف بورڈ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی

وقف املاک پر سرکاری کنٹرول کو مزید وسعت دی گئی

شریعت کے مطابق وقف کی خود مختاری پر کاری ضرب لگائی گئی

یہ رپورٹ 21 مارچ 2025 کو لوک سبھا میں پیش کی گئی، حالانکہ دو مسلم ممبران پارلیمنٹ نے اس پر اختلافی نوٹ دیا تھا
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب جگدمبیکا پال نے مسلم قوم کے حقوق پر وار کیا۔ بلکہ بی جے پی میں شمولیت کے بعد وہ متواتر ایسے اقدامات میں شریک رہے جن میں مسلم مسائل کے لیے کوئی ہمدردی نظر نہیں آئی۔

قوم کے لیے پیغام: سیاستدانوں کو ان کے ماضی سے پہچانو

یہ وقت ہے کہ مسلم امہ ہوشیار ہو جائے۔ ہمیں چمکتے ہوئے نعرے، وقتی وعدے، یا ظاہری مسکراہٹوں پر نہیں، بلکہ کردار، ماضی، اور نظریاتی وابستگی پر اعتبار کرنا چاہیے۔ جگدمبیکا پال جیسے چہرے وہی ہیں جو سیکولرازم کے پردے میں چھپ کر قوم کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، اور پھر اُسی قوم کے دینی و دستوری حقوق پر شب خون مارتے ہیں۔

اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے چہروں کو پہچانیں، ان کے ماضی کو یاد رکھیں، اور آئندہ کسی بھی موقع پر نہ صرف جگدمبیکا پال، بلکہ اس کی سیاسی نسل اور نظریاتی وارثین کو نمائندگی کا کوئی موقع نہ دیں۔

> جگدمبیکا پال ایک سیاسی موقع پرست اور منافق چہرہ ہے، جس نے سیکولر ہونے کا نقاب پہن کر مسلمانوں کو دھوکہ دیا، اور آج وقف جیسے دینی ادارے پر حملہ آور ہو کر اپنے اندرونی تعصب اور نظریاتی بغض کو ظاہر کر دیا ہے۔ اس سے سبق لیتے ہوئے پوری ملت کو شعور، بیداری، اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

ووٹ: ایک شرعی گواہی — اور ذمہ دارانہ انتخاب کی ضرورت

 ووٹ: ایک شرعی گواہی — اور ذمہ دارانہ انتخاب کی ضرورت 

 قاری ممتاز احمد جامعی
 majaamai@gmail.com

جمہوریت میں ووٹ دینا محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ شرعی لحاظ سے ایک قسم کی گواہی (شہادت) ہے۔ اسلامی شریعت میں شہادت کا مفہوم صرف عدالت میں گواہی دینے تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جس سے حق و باطل میں فیصلہ ہو، اسے بھی گواہی کہا گیا ہے۔

حضرت مفتی محمد شفیعؒ رحمہ اللہ نے معارف القرآن (تفسیر سورۃ المائدہ: آیت 8) میں واضح فرمایا ہے:

> “اسلامی اصول شہادت کے مطابق ووٹ بھی ایک قسم کی گواہی ہے، کیونکہ اس کے ذریعہ کسی شخص یا جماعت کو اقتدار کی گواہی دی جاتی ہے۔ اگر یہ گواہی جانبداری، تعصب یا مفاد پرستی کے تحت دی جائے تو یہ جھوٹی شہادت کے حکم میں داخل ہوگی، جو کبیرہ گناہ ہے۔”
(معارف القرآن، جلد 3، صفحہ 58-60 کے ملاحظات کے مطابق خلاصہ)

یعنی ووٹ دینا صرف دنیاوی فیصلہ نہیں بلکہ دینی ذمہ داری اور شرعی امانت ہے۔ اگر ووٹ کے نتیجے میں کوئی ظالم، فاسق یا فرقہ پرست طاقت حاصل کر لے اور وہ کمزوروں پر ظلم کرے، تو اس ظلم میں ووٹ دینے والا بھی شریک سمجھا جائے گا، خواہ وہ کتنا ہی عبادت گزار کیوں نہ ہو۔

حالیہ انتخابی اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق، پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے کل اراکین کی تعداد تقریباً 4,850 ہے۔ ان میں سے تقریباً 1,994 (41٪) نے اپنے خلاف درج شدہ مقدمات کی تفصیل ظاہر کی ہے — جن میں 1,283 (26٪) سنگین نوعیت کے اور 711 (15٪) نسبتاً ہلکی نوعیت کے مقدمات شامل ہیں۔

یہ اعداد و شمار صرف وہ مقدمات ظاہر کرتے ہیں جو انتخابی حلف ناموں یا عدالتوں میں ریکارڈ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے معاملات میں ایف آئی آر درج ہی نہیں کی جاتی، خصوصاً جب متاثرہ فرد کمزور یا غیر مؤثر حیثیت رکھتا ہو، یا جب سیاسی دباؤ پولیس کے راستے میں حائل ہو۔ اسی تناظر میں یہ قیاس ممکن ہے کہ اصل شرح ظاہر کردہ 41٪ سے کہیں زیادہ — ممکنہ طور پر 45٪ تا 50٪ کے درمیان — ہو سکتی ہے۔

یہ بات فقہی اور اخلاقی لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ جب اقتدار کے مناصب پر ایسے افراد پہنچیں جن کے دامن پر مجرمانہ الزامات ہوں تو ووٹ دینے والوں کی شرعی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا ووٹ دیتے وقت تحقیق، دیانت اور زمینی حقیقتوں کا گہرا مطالعہ لازم ہے۔

 موجودہ حالات میں ووٹ دینے کا صحیح شرعی و عملی طریقہ

ملک کے موجودہ حالات، خصوصاً صوبہ بہار میں جہاں فرقہ واریت اور اقتدار کی سیاست نے عوامی اعتماد کو کمزور کیا ہے، ووٹ دینے سے پہلے ہر شہری — بالخصوص اہلِ ایمان — کو غور و فکر کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔

ذیل میں تین ترجیحات بیان کی جاتی ہیں:

1️⃣ پہلا درجہ: مضبوط آزاد امیدوار (Independent Candidate)
اگر آپ کے حلقے میں کوئی دیانت دار، تعلیم یافتہ اور خدمت گزار آزاد امیدوار موجود ہو، جس پر اعتماد کیا جا سکے کہ وہ کسی فرقہ پرست جماعت کی حمایت نہیں کرے گا، تو ایسے امیدوار کو ووٹ دینا شرعی و اخلاقی لحاظ سے بہتر ہے۔ عوام اس سے تحریری عہد یا اخباری بیان لیں کہ وہ کسی ظالمانہ حکومت کا حصہ نہیں بنے گا۔

2️⃣ دوسرا درجہ: قابلِ بھروسہ سیکولر امیدوار
اگر آزاد امیدوار کمزور ہو یا جیتنے کے امکانات نہ ہوں، تو ایسے سیکولر امیدوار کو ووٹ دینا بہتر ہے جس کا ماضی صاف ہو، جو عوامی مفاد کا حامی ہو، اور جس پر فرقہ واریت یا بدعنوانی کے الزامات نہ ہوں۔ ایسے امیدوار سے بھی تحریری وعدہ لیا جا سکتا ہے کہ وہ اقلیتوں، غریبوں اور مظلوموں کے حقوق کا تحفظ کرے گا۔

3️⃣ تیسرا درجہ: استثنائی صورت میں فرقہ پرست امیدوار
اگر متبادل امیدوار کمزور ہوں اور فرقہ پرست جماعت کا امیدوار شخصی طور پر نیک، شفاف اور علاقائی امن کے لیے سنجیدہ ہو، تو صرف تحریری عہد و بیان کی صورت میں ووٹ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ درجہ نہایت احتیاط کا متقاضی ہے۔
اسلامی سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عدل و اصلاح ہے۔ ووٹ دینے سے پہلے یاد رکھیں کہ یہ عمل اللہ کی عدالت میں گواہی کے مترادف ہے۔ ووٹ صرف اسی کو دیا جائے جو:

1. عوامی اعتماد کا اہل ہو۔

2. ظلم سے پاک سوچ رکھتا ہو۔

3. کمزوروں اور اقلیتوں کی عزت و سلامتی کا ضامن ہو۔

جو لوگ بغیر تحقیق کے صرف پارٹی یا ذات برادری کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں، وہ دراصل شہادتِ زور (جھوٹی گواہی) کے مرتکب ہو سکتے ہیں، جس کی قرآن و سنت میں سخت ممانعت آئی ہے۔

ووٹ امانت ہے، جذبات نہیں۔ اس کے ذریعے آپ صرف کسی امیدوار کو نہیں، بلکہ اپنے ضمیر، اپنی امت اور اپنی آخرت کو بھی گواہی دے رہے ہیں۔ لہٰذا ووٹ دینے سے پہلے غور کیجیے — کہ کہیں آپ کی یہ گواہی ظلم، جھوٹ اور فرقہ پرستی کے پلڑے میں نہ جا پڑے۔

انصاف کے نام پر ظلم — عدالت کی آنکھوں پر اکثریت کی پٹی

انصاف کے نام پر ظلم
عدالت کی آنکھوں پر اکثریت کی پٹی
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
آج بھارت میں انصاف مذہب دیکھ کر دیا جاتا ہے،
ایجنسیوں کے فیصلے قانون سے نہیں، عقیدے سے لکھے جاتے ہیں۔
یہ وقت ہے جاگنے کا —
ورنہ کل بولنے کی آزادی بھی جرم ہوگی۔
بھارت کی عدلیہ آج جس موڑ پر کھڑی ہے، وہاں انصاف ایک مقدس اصول کم اور سیاسی نعرہ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ فیصلے آئین اور قانون کی بنیاد پر نہیں بلکہ اکثریتی مزاج کو بھانپ کر سنائے جا رہے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب آئین کی روح زخمی ہوتی ہے اور اقلیتوں کا عدالتی نظام سے اعتماد لرزنے لگتا ہے۔
ایک مظلوم وکیل کی فریاد، ایک محبِ وطن سماجی رہنما کے آنسو، اور ایک بوڑھے استاد کی خاموشی — سب ایک ہی انجام پر پہنچتے ہیں:
“عدالت نے مہر لگا دی۔”
عدلیہ: انصاف سے تشہیر تک
عدالت کا دروازہ اب انصاف کے متلاشی کے لیے کم اور تشہیر کے شائق کے لیے زیادہ کھلتا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کے کمروں میں قانون کی دفعات سے زیادہ نفرت کے پیراگراف محفوظ ہیں۔
کسی مسلمان کا نام دیکھ کر فائل کا رنگ بدل جاتا ہے،
مقدمے کا لہجہ سخت ہو جاتا ہے،
اور فیصلہ پہلے ذہن میں، بعد میں کاغذ پر آتا ہے۔
یہاں جرم وہ نہیں جو تم نے کیا،
بلکہ وہ ہے جو تمہارا مذہب سمجھا گیا۔
ایجنسیاں اور ریاستی جبر
بھارتی ایجنسیاں آج قانون کی محافظ نہیں رہیں بلکہ اقتدار کی نگہبان بن چکی ہیں۔ وہ ظلم کے تماشے میں منصف نہیں بلکہ اداکار کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
کبھی کسی تعلیمی ادارے کے بانی کو “زمین ہتھیانے والا” کہا جاتا ہے،
کبھی کسی سماجی کارکن کو “دہشت گرد” بنا دیا جاتا ہے۔
تعلیم، خدمت اور علم سے وابستگی کو جرم بنا دیا گیا ہے۔
ریاست کے ہاتھ میں بندوق نہیں،
بلکہ FIR، نوٹس اور گرفتاری کا اختیار ہے —
اور یہی جدید ریاستی دہشت گردی کی پہچان بن چکا ہے۔
جب آئین خاموش ہو جائے
اب عدالت کے الفاظ میں آئین کی زبان نہیں بلکہ اکثریت کے جذبات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ فیصلہ وہی معتبر مانا جاتا ہے جو تالی بجانے والوں کو پسند آئے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انصاف تاخیر سے نہیں بلکہ تعصب سے مارا جاتا ہے۔
اور جب انصاف تعصب کے تابع ہو جائے تو ظلم آئینی لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔
خاموش اکثریت — شریکِ جرم
اکثریتی عوام محض خاموش نہیں بلکہ شریکِ جرم ہیں۔
ان کی خاموشی ظلم کو دوام دیتی ہے،
ان کا ووٹ ظالم کو تخت پر بٹھاتا ہے۔
قومیں تلوار سے نہیں گرتیں،
بلکہ انصاف کے قتل پر تالیاں بجانے والوں سے تباہ ہوتی ہیں۔
یہ خاموشی ہی سب سے بڑا شور ہے جو مظلوم کے دل کو چیرتا رہتا ہے۔
یہ صرف ایک کہانی نہیں
یہ کہانی کسی ایک اعظم خان، کسی ایک وکیل یا کسی ایک مسلمان کی نہیں۔
یہ ہر اُس شخص کی کہانی ہے جس نے قلم پکڑا اور نظام نے اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈال دی۔
یہ ہر اُس ذہن کی فریاد ہے جس نے تعلیم کو طاقت بنایا اور اقتدار نے اسے جرم بنا دیا۔
یہ ہر اُس شہری کی چیخ ہے جو آئین پر ایمان رکھتا تھا،
مگر عدالت نے اس ایمان کو کمزور کر دیا۔
بہار الیکشن اور ووٹ کی ذمہ داری
جب بہار کے انتخابات قریب ہیں تو ہر باضمیر شہری — خصوصاً مسلمان — یہ سوچنے پر مجبور ہے:
کیا ووٹ دینا صرف کسی پارٹی کو ہے؟
یا اپنے مستقبل، وقار اور آزادی کو؟
جس قوم کے ووٹ سے ظالم مضبوط ہوں،
وہ قوم اپنی زنجیر خود تیار کرتی ہے۔
اس بار ووٹ دینے سے پہلے:
اس وکیل کی آنکھوں کے آنسو یاد رکھنا،
اس بزرگ رہنما کی خاموشی یاد رکھنا
جو تعلیم کی بات کرنے کی سزا کاٹ رہا ہے۔
یہ ووٹ محض تمہارا حق نہیں —
یہ تمہاری گواہی ہے۔
اگر تم نے خاموشی کو ووٹ دیا،
تو کل تمہارے بچوں کی چیخوں کو بھی کوئی عدالت نہیں سنے گی۔
آخری سطر
جب انصاف کے کمرے میں ایمان نہیں بلکہ اکثریت کا دباؤ بولتا ہے،
تو عدالتیں عبادت گاہ نہیں رہتیں —
بلکہ ظلم پر مہر لگانے والے دفتر بن جاتی ہیں۔
اور جب انصاف مذہب دیکھ کر دیا جائے،
تو یاد رکھو:
آئین نہیں بچتا — انسانیت مرتی ہے۔
 
#انصاف_کے_نام_پر_ظلم
#عدالت_کی_آنکھوں_پر_اکثریت_کی_پٹی
#عدلیہ
#آئینی_حقوق
#اقلیتوں_کا_تحفظ
#BiharElection2025
#VoiceOfJustice
#قاری_ممتاز_احمد_جامعی
majaamai@gmail.com 

جمعرات، 23 اکتوبر، 2025

مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کا تجربہ: قیام، حکومت، زوال اور آج کا سبق


مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کا تجربہ: قیام، حکومت، زوال اور آج کا سبق

مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی نے 1930 کی دہائی کے وسط میں اُبھرتے مسلم سیاسی شعور کی نمائندگی کی۔ اس جماعت کی بنیاد اُس تناظر میں پڑی جب بہار کے مسلمانوں نے محسوس کیا کہ نہ تو All India Muslim League کی سیاست اُن کی علاقائی شناخت اور مسائل کا مکمل ازالہ کر رہی تھی، اور نہ ہی Indian National Congress کی جماعت انہیں ایک مؤثر پلیٹ فارم دے رہی تھی۔ مولانا ابوالمحاسن سجادؒ نے اس خلا کو دیکھتے ہوئے اس جماعت کو قائم کیا، تاکہ مسلمان طبقے کو آزاد، خود مختار اور اصولی سیاسی نمائندگی مل سکے۔

مولانا ابوالمحاسن سجادؒ کی ذاتی زندگی اور علمی خدمات اس تحریک کی بنیاد رہیں۔ مختلف ماخذ کے مطابق ان کی پیدائش کا سال 1880ء بتایا گیا ہے اور وفات کی تاریخ 23 نومبر 1940ء درج ہے۔ وہ بہار کے نالندا ضلع کے پنہسا گاؤں کے رہنے والے تھے۔ تاہم، امارتِ شرعیہ پٹنہ بہار کے مخصوص رجسٹری یا آرکائیو دستاویز کی تلاش میں کوئی واضح آن لائن ماخذ دستیاب نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دستاویزات مقامی آرکائیو میں محفوظ ہیں۔

1937ء میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت صوبائی انتخابات ہوئے جن میں مسلم نشستوں کی تعداد تقریباً 40 تھی۔ مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی نے ان نشستوں میں سے تقریباً 20 پر کامیابی حاصل کی اور اس طرح وہ مسلم نمائندگی کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بن گئی۔ اس جماعت نے بہار میں ایک مختصر مدت کی حکومت قائم کی جس کی قیادت سید محمد یونس نے کی۔ یہ حکومت اپریل 1937ء میں قائم ہوئی اور جولائی 1937ء تک جاری رہی۔

تاہم، اس حکومت کی مدت طویل نہ رہ سکی، اور پارٹی جلد اپنی سیاسی مؤثریت کھو بیٹھی۔ اس کے زوال کے اسباب متعدد ہیں: پارٹی کی سیاسی تنہائی، کانگریس اور مسلم لیگ کے دباؤ، اور تنظیمی و قیادی کمزوری۔ مولانا سجادؒ کی 1940ء میں وفات کے بعد جماعت کا قیام عملی طور پر ختم ہو گیا اور اس کی تنظیم مسلسل ضعف کا شکار رہی۔

آج کے سیاسی تناظر میں یہ تجربہ ایک اہم سبق کی حیثیت رکھتا ہے کہ اگر مذہبی یا علاقائی جماعتیں صرف نعرے بازی، جذباتیت یا وقتی کامیابی پر یقین کر لیں، اور تنظیمی ڈھانچہ، قیادی سرگرمی اور مستقل نظریہ نہ رکھیں، تو وہ جلد ختم ہو سکتی ہیں۔ اس اعتبار سے آج All India Majlis-e-Ittehad-ul-Muslimeen (AIMIM) اور دیگر مسلم سیاسی تنظیموں کے لیے یہ امر سبق آموز ہے کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمی، جماعتی ساخت اور قیادت کو مضبوط رکھیں، بصورتِ دیگر اُن کا بھی وہی انجام ہوسکتا ہے جو مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کا ہوا۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ریکارڈ کے مطابق “Muslim Independent Party” کا نام اب بھی بطور “Registered but Inactive” درج ہے، یعنی قانونی طور پر رجسٹرڈ ہے مگر فعالیت نہیں دکھا رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعینہ وہ جماعت دوبارہ فعال ہو سکتی ہے، مگر عملی اعتبار سے اُس نے اپنی سیاسی سرگرمیاں ختم کر رکھی ہیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اس تجربے سے سیکھے اور عملی تنظیم و فکر کو متحرک رکھے۔


(نوٹ): اس مضمون کا مقصد کسی جماعت یا شخصیت کی نفی نہیں بلکہ تاریخی تناظر میں وہ حقیقت واضح کرنا ہے جس سے موجودہ مسلم قیادت سبق حاصل کر سکتی ہے۔

 قاری ممتاز احمد جامعی
✉️ majaamai@gmail.com



حوالہ فہرست (References)

1. Election Commission of India – List of Registered (Inactive) Political Parties, accessed October 2025.

2. Abul Mahasin Muhammad Sajjad, Wikipedia (verified citations).

3. Syed Muhammad Yunus (Premier of Bihar), Bihar State Archives, Historical Records, 1937–1939.

4. Tārīkh-e-Amārat-e-Shar‘iyyah, Patna (compiled references).

5. Naumanī, Manzūr. Hayāt-e-Maulānā Abul Mahāsin Sajjad, Lucknow, 1955.

6. Indian Provincial Elections 1937: Statistical and Historical Report, Government of India Archives.


اتوار، 19 اکتوبر، 2025

اسلامی سیاست کے دعوے داروں میں سچائی اور وقار کی کمی — ایک فکری المیہ

اسلامی سیاست میں سچائی اور وقار کی کمی — ایک فکری المیہ

قلم: قاری ممتاز احمد جامعی

یہ انتشار، فتنہ و فساد، پروپیگنڈہ، دجل و فریب، مکاری و عیاری، اور عزت و نفس کی فروختگی — یہ سب بھارتی سیاست کا خاصہ بن چکا ہے۔ افسوس اس وقت بڑھ جاتا ہے جب یہی رویّے اُن افراد یا جماعتوں میں نظر آئیں جو خود کو دینی مزاج یا اسلامی تہذیب و تمدن سے وابستہ ظاہر کرتے ہیں۔ اگر دین کے نام لیوا بھی اسی طرزِ عمل کو اپنائیں تو پھر عوام کے لیے امتیاز باقی نہیں رہتا کہ کون اصول پر قائم ہے اور کون مفاد پر۔

سیاست دراصل امانت اور خدمتِ خلق کا نام ہے۔ یہ جھوٹ، الزام تراشی یا پروپیگنڈہ کا میدان نہیں۔ کسی بھی اختلاف یا رائے کے تناظر میں اگر سچائی کو مسخ کر کے پیش کیا جائے، یا اپنی بات کو تقویت دینے کے لیے غلط تاثر دیا جائے، تو یہ نہ صرف اخلاقی کمزوری ہے بلکہ عوامی اعتماد کے ساتھ خیانت بھی۔

دینی مزاج رکھنے والوں سے عوام کی توقع ہمیشہ بلند ہوتی ہے۔ ان کے ہر قول و عمل کو دیانت، صداقت اور تحمل کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر وہی طبقہ جلدبازی، غیر مصدقہ دعوے یا سیاسی مفاد کے لیے غلط فہمیوں کو فروغ دے، تو اس سے سب سے زیادہ نقصان اسلامی سیاست کے وقار کو پہنچتا ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اختلاف اور اتفاق دونوں وقتی چیزیں ہیں، مگر کردار دائمی ہوتا ہے۔
کردار وہ ستون ہے جس پر قوم کا اعتماد قائم رہتا ہے۔ لہٰذا جب سیاست، چاہے دینی ہو یا غیر دینی، کردار سے خالی ہونے لگے تو وہ فتنہ بن جاتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان سیاسی کارکن اور رہنما اپنی زبان و قلم کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔ سچائی کو مقدم رکھیں، اور اگر کسی معاملے میں ابہام ہو تو وضاحت طلب کریں، نہ کہ افواہ کو ہوا دیں۔
کیونکہ اسلامی مزاج سیاست میں نہیں، کردار میں ظاہر ہوتا ہے۔

ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

وقف قانون ترمیم 2025 اور عدالتی خاموشی تشویش ناک

وقف قانون ترمیم 2025 اور عدالتی خاموشی تشویش ناک 

ہم ملک میں جاری حالیہ قانونی پیش رفت، بالخصوص وقف قانون ترمیم 2025 اور اس کے خلاف دائر کردہ درخواست پر سپریم کورٹ کے فوری سماعت سے انکار پر شدید احتجاج اور گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

وقف ایک مذہبی، شرعی اور آئینی ادارہ ہے، جو مسلمانوں کے دینی، تعلیمی، سماجی اور فلاحی حقوق سے گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ اس پر یکطرفہ قانون سازی، ترمیمات یا قبضہ ایک ایسا غیر منصفانہ عمل ہے جو آئینِ ہند کی روح کے خلاف ہے۔

ہم اعلان کرتے ہیں کہ:

1. اگر ملک میں بدعنوان حکومتیں وقف کی جائیدادوں پر غاصبانہ قبضہ کریں یا

2. احتجاج کرنے والے پرامن عوام پر ریاستی طاقت کے ذریعے ظلم و جبر کیا جائے

تو ان تمام حالات کی براہ راست اخلاقی اور قانونی ذمہ داری سپریم کورٹ آف انڈیا پر عائد ہوگی،
کیونکہ جب انصاف کے دروازے بند ہوتے ہیں، تو ظلم کو کھلی چھوٹ ملتی ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:

سپریم کورٹ فوراً اس معاملے کی شنوائی کرے

مرکزی حکومت اقلیتوں کے مذہبی و فلاحی اداروں کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی سے باز رہے

تمام ملی، دینی، سماجی و انصاف پسند طبقات اس سنگین خطرے کے خلاف متحد ہو کر پرامن مگر پراثر جدوجہد کا آغاز کریں

یہ محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ جمہوریت، آئین، اور عدلیہ کے وقار کا سوال ہے۔

قاری ممتاز احمد جامعی
(بانی و ناظم: جامعہ اشاعت العلوم، سمستی پور)
(جنرل سیکرٹری: الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ)

وقف ترمیمی بل – حالیہ عدالتی کارروائی اور ہماری ذمہ داری

وقف ترمیمی بل – حالیہ عدالتی کارروائی اور ہماری ذمہ داری

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت وقف ترمیمی بل پر عدالتی کارروائی کے ابتدائی مراحل سے ایک خوش آئند فضا محسوس ہو رہی ہے۔ عدالت کا سنجیدہ رویہ، وکلاء کے سوالات کو اہمیت دینا، اور حکومت سے وضاحت طلبی، یہ تمام پہلو کسی حد تک اطمینان بخش ہیں۔ مگر یہ امر بھی ہمارے پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی کئی مقدمات کی کارروائی مثبت آغاز کے باوجود فیصلے انصاف سے خالی اور حکومت کی منشا کے عین مطابق آئے۔

بابری مسجد کا فیصلہ ایک ایسی مثال ہے جو ہمارے ذہن و دل میں ہمیشہ تازہ رہنی چاہیے۔ اس مقدمہ میں عدالت نے تسلیم کیا کہ مسجد کو غیر قانونی طور پر گرایا گیا، مگر فیصلہ انہی عناصر کے حق میں صادر ہوا جن کے خلاف قانون شکنی ثابت ہوئی تھی۔ اسی طرح دفعہ 370 کی منسوخی، سی اے اے اور این آر سی جیسے قوانین، اور دیگر حساس مقدمات میں بھی عدالتی کردار پر عوامی حلقے میں سنجیدہ سوالات اٹھے۔

ایسے پس منظر میں، موجودہ عدالتی کارروائی پر خوش ہونا فطری ہے، مگر مکمل طور پر مطمئن ہوکر بیٹھ جانا دانش مندی نہیں۔ تنظیمی سطح پر ہمیں مندرجہ ذیل پہلوؤں پر بھرپور توجہ دینی ہوگی:

1. ہوشیاری اور چوکسی کے ساتھ ہر پیش رفت کا جائزہ لیتے رہیں۔

2. قانونی محاذ پر مضبوط نمائندگی کی مکمل حمایت کریں اور ہر ممکن تعاون جاری رکھیں۔

3. عوامی سطح پر بیداری، سمجھ داری، اور شعوری تحریک کو فروغ دیں تاکہ رائے عامہ بیدار ہو اور دباؤ برقرار رہے۔

4. ماضی کے عدالتی فیصلوں سے سبق لیتے ہوئے آئندہ کی حکمت عملی طے کریں۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ لڑائی صرف عدالت میں نہیں، بلکہ فکری محاذ، سماجی میدان، اور تنظیمی صفوں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ ہماری یکجہتی، اصولی استقامت، اور سنجیدہ تیاری ہی مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حالات کی درست فہم، صبر و حکمت، اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

قاری ممتاز احمد جامعی
بانی و ناظم: جامعہ اشاعت العلوم، سمستی پور
مورخہ: 17 اپریل 2025ء

میرے دور کے رہنمائے وطن – سچ کا نوحہ، ظلم کا بیانیہ

میرے دور کے رہنمائے وطن – سچ کا نوحہ، ظلم کا بیانیہ
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
بانی و ناظم: جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور (بہار)
 جنرل سکریٹری: الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ 
میرے دور کے رہنمائے وطن
جس طرف بھی گئے کربلا کر گئے

کبھی کبھی ایک مصرعہ پوری قوم کی کہانی کہہ جاتا ہے۔ آج کے بھارت کی سیاسی فضا میں یہ شعر صرف شاعری نہیں، بلکہ وہ کڑوا سچ ہے جو ہر باضمیر انسان کے سینے میں گونج رہا ہے۔

نریندر مودی، جو بھارت کے وزیراعظم بنے، دراصل ایک خاص نظریے کے پرچارک ہیں۔ ان کے عروج کا آغاز ہی 2002 کے گجرات فسادات سے ہوا — ایک ایسا انسانی سانحہ جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ بلقیس بانو کی عزت پامال ہوئی، اور احسان جعفری جیسے افراد بے بسی کے عالم میں مار دیے گئے۔ ذکیہ جعفری نے برسوں انصاف کی دہائی دی، مگر قانون ہمیشہ اقتدار کے در پر سجدہ ریز رہا۔

مودی کا بھارت صرف ایک جغرافیہ نہیں رہا، وہ اب اقلیتوں کے لیے ایک خوف زدہ تجربہ بن چکا ہے۔ لنچنگ کے واقعات عام ہوئے، کبھی گائے کے نام پر، کبھی مذہب کے۔ کسی کو محض “جئے شری رام” نہ کہنے پر موت دے دی جاتی ہے — اور حکومت خاموش تماشائی۔

شریعتِ اسلامی پر سیاسی یلغار — اسے "خواتین کی آزادی" کا لبادہ اوڑھا کر کی گئی۔ تین طلاق جیسے معاملے میں مداخلت، وقف املاک پر قبضہ، حجاب پر پابندیاں — یہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ حکومت صرف اقتدار نہیں، عقائد تک کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔

اور پھر کشمیر — جسے آئینِ ہند نے خصوصی درجہ دیا تھا، وہ بھی ایک قلمی فیصلے میں چھین لیا گیا۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کا خاتمہ ہوا، اور ساتھ ہی کشمیریوں کا اعتماد، ان کی شناخت، اور ان کی آزادی بھی دفن ہو گئی۔ پوری وادی میں سناٹا، بند انٹرنیٹ، اور زنجیروں میں جکڑے عوام — یہ سب "ترقی" کے نام پر کیا گیا۔

ہر الیکشن سے پہلے ایک نیا فتنہ۔ کبھی رام مندر، کبھی NRC، کبھی CAA، کبھی دنگے۔ یہ سب ایک منظم طریقے سے عوام کو بانٹنے کا فارمولا ہے، تاکہ اصل مسائل — مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت — پس پشت چلے جائیں، اور صرف نفرت کی سیاست باقی رہے۔

مودی کے اقتدار کا ہر دن تاریخ کے صفحات پر ایک سیاسی جرم کی طرح درج ہے۔ ایسے جرم، جن کے مجرم عدالت میں نہیں، عوام کے اعتماد کے محل میں براجمان ہیں۔

تو آج جب ہم یہ شعر پڑھتے ہیں:

میرے دور کے رہنمائے وطن
جس طرف بھی گئے کربلا کر گئے

تو یہ ہمیں صرف گزرے دنوں کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ ہوشیار کرتا ہے کہ اگر ہم نے پہچاننے میں دیر کر دی، تو کل کی کربلا ہماری اپنی زمین پر ہوگی۔

دہشت گردی اور بھارتی سیاست: حملے، مواقع اور پس پردہ محرکات

دہشت گردی اور بھارتی سیاست: حملے، مواقع اور پس پردہ محرکات

بھارت میں دہشت گردی محض سیکیورٹی چیلنج ہی نہیں بلکہ بعض مواقع پر یہ ایک سیاسی آلہ کار کے طور پر بھی زیرِ بحث رہی ہے۔ متعدد مواقع پر دہشت گردانہ حملے ایسے وقت پر وقوع پذیر ہوئے جب ملک میں سیاسی ہلچل، انتخابات، اقلیتوں سے متعلق حساس مباحث، یا عدلیہ کے فیصلے زیرِ غور تھے۔ اس مضمون میں ہم چند اہم دہشت گردانہ واقعات کو ان کے سیاسی سیاق و سباق میں جانچنے کی کوشش کریں گے، اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آیا یہ اتفاقات ہیں یا کسی گہری سازش کا حصہ۔

1. پلوامہ حملہ (14 فروری 2019):

واقعہ: خودکش بمبار نے سی آر پی ایف کے قافلے پر حملہ کیا، 40 اہلکار ہلاک۔

سیاسی موقع: عام انتخابات سے دو ماہ قبل یہ حملہ ہوا۔ بی جے پی نے قومی سلامتی کو مرکزی انتخابی نعرہ بنایا۔

ردعمل: بالا کوٹ ایئر اسٹرائیک، میڈیا پر جنگی جنون، اپوزیشن پر "غدار" کا الزام۔

تنقید: کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران اور ماہرین نے سیکیورٹی میں خامیوں پر سوال اٹھائے۔ (ماخذ: The Wire, BBC Hindi)

2. پہلگام حملہ (22 اپریل 2025):

واقعہ: بائیسارن میڈو میں سیاحوں پر حملہ، 28 افراد ہلاک۔

سیاسی موقع: بہار الیکشن قریب، وقف بورڈ و عدلیہ پر مسلمانوں کے حقوق سے متعلق بیانات گرم۔

تجزیہ: حملے نے میڈیا کی توجہ فوراً سیاسی مباحث سے ہٹا کر قومی سلامتی پر مرکوز کر دی.

3. امرناتھ یاترا حملہ (10 جولائی 2017):

واقعہ: اننت ناگ میں یاتریوں کی بس پر فائرنگ، 8 ہلاکتیں۔

سیاسی موقع: کشمیر میں G. M. Lone کی ہلاکت اور علیحدگی پسندوں کی مقبولیت میں اضافہ۔

میڈیا بیانیہ: ہندو یاتریوں پر حملہ، فرقہ وارانہ تناؤ کو ہوا۔

4. اُڑی حملہ (18 ستمبر 2016):

واقعہ: چار عسکریت پسندوں نے فوجی کیمپ پر حملہ کیا، 19 اہلکار ہلاک۔

سیاسی موقع: برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں احتجاجات عروج پر تھے۔

حکومتی ردعمل: سرجیکل اسٹرائیکس، بی جے پی کا سخت مؤقف، پاکستان مخالف مہم۔

5. ناگروٹہ فوجی کیمپ حملہ (29 نومبر 2016):

واقعہ: 7 فوجی شہید، 3 حملہ آور ہلاک۔

سیاسی موقع: اُڑی واقعے کے بعد پیدا شدہ کشیدگی، کشمیر میں سیاسی دراڑیں۔

تنقید: سیکورٹی لیپس اور انٹیلیجنس کی ناکامی زیر بحث۔

6. پٹھان کوٹ حملہ (2–5 جنوری 2016):

واقعہ: چار حملہ آوروں نے ایئر بیس پر حملہ کیا، 7 اہلکار ہلاک۔

سیاسی موقع: نریندر مودی کے پاکستان دورے کے فوراً بعد۔

تجزیہ: امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش، لیکن سوالات بھارت کی انٹیلیجنس کارکردگی پر بھی اٹھے۔

اجتماعی تجزیہ:

مشترکہ عناصر: حملوں کا وقت، میڈیا کا فوری رخ بدلنا، عوامی جذبات کو قومی سلامتی کی طرف موڑنا۔

سیاسی فائدہ: حکمراں جماعت اکثر ایسے حملوں کے بعد "مضبوط قیادت" کے بیانیے کو پروان چڑھاتی ہے۔

سوالات: کیا یہ محض اتفاقات ہیں یا کچھ حملے داخلی طور پر نظر انداز کیے گئے یا سیاسی فوائد کے لیے بروقت استعمال ہوئے؟

نتیجہ:

دہشت گردی کے ہر واقعے کو خالص سیکیورٹی تناظر میں دیکھنے کے بجائے اس کے سیاسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں پر بھی غور ضروری ہے۔ اگرچہ تمام حملوں کے پیچھے سازش کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان کے وقوع کا وقت اور ان کے بعد کے سیاسی بیانیے ایک وسیع تنقیدی مطالعے کے متقاضی ہیں۔ عوام، دانشور اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ ان حملوں کو جذباتی کے بجائے فکری اور تحقیقی بنیاد پر دیکھیں، تاکہ کوئی بھی واقعہ محض ووٹ بینک کا ذریعہ نہ بننے پائے۔
قاری ممتاز احمد جامعی 

تعزیت حضرت مولانا غلام محمد وستانوی ؒ

 جناب مولانا حذیفہ وستانوی صاحب دامت برکاتهم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


بصد ادب و احترام!


حضرت مولانا غلام محمد وستانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کی خبر دل و روح کو ہلا دینے والی ہے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔


حضرتؒ کا شمار اُن برگزیدہ علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن کریم کی خدمت، اشاعتِ دین، اور مدارس و مکاتب کے قیام و استحکام میں صرف کر دی۔ وہ ہزاروں علماء، قراء، طلبہ، اور عوام الناس کے لیے ایک مربی، محسن، اور مشعلِ راہ تھے۔ ان کی علمی گہرائی، اخلاص، سادگی، اور امت کے لیے فکر مندی، ہمارے جیسے کم علموں کے لیے ہمیشہ ایک مثالی نمونہ رہے گی۔


ان کا وصال صرف ایک خانوادے یا ایک ادارے کا نہیں، بلکہ امت کا عظیم خسارہ ہے۔ جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور اور الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ہم آپ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت حضرتؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کی باقیاتِ صالحات کو آپ کے ذریعہ مزید ترقی عطا فرمائے۔


اللہ تعالیٰ آپ کو اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور حضرتؒ کی علمی و روحانی وراثت کو زندہ و تابندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


والسلام


قاری ممتاز احمد جامعی

بانی و ناظم، جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور

جنرل سیکریٹری، الامداد ایجوکیشنل


اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ

قاری محمد اقبال شہید: ایک سوالیہ نشان، ایک دستک

 قاری محمد اقبال شہید: ایک سوالیہ نشان، ایک دستک


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب لشکرِ طیبہ کا ایک خطرناک دہشت گرد مارا گیا، جسے پلوامہ حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی کہا گیا۔ بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ وہ کوئی اور نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے ایک نیک سیرت عالمِ دین قاری محمد اقبال تھے، جو مقامی مدرسے سے وابستہ تھے اور معروف دینی خدمات انجام دے رہے تھے۔


یہ واقعہ کئی آئینی و انسانی سوالات کو جنم دیتا ہے:


1. کیا میڈیا نے اتنا سنگین الزام بغیر دفاعی اداروں کی منظوری یا معلومات کے نشر کیا؟


2. اگر میڈیا کو دفاعی اداروں سے یہ معلومات فراہم کی گئیں، تو کیا ان کی تحقیق محض شبہ یا شباہت پر مبنی تھی؟


3. کیا محض ایک مسلمان ہونا اور مدرسے سے منسلک ہونا "دہشت گرد" قرار پانے کے لیے کافی ہے؟


4. ریاست نے قاری اقبال کے اہلِ خانہ سے رجوع کیوں نہیں کیا؟


5. کیا اتنے سنگین میڈیا دعوے پر کوئی عدالتی یا تفتیشی کارروائی ہوگی؟


یہ محض میڈیا کی لغزش نہیں، بلکہ اس فضا کی علامت ہے جہاں مسلمان شناخت، ظاہری وضع قطع، اور دینی وابستگی محض ایک "شبہ" کی بنیاد بن جاتے ہیں۔


قاری اقبال شہید کا خون ہم سے مطالبہ کرتا ہے:


ریاستی ادارے اور میڈیا اس کی حقیقت واضح کریں۔


اہلِ خانہ سے معذرت اور تحقیق کے بعد انصاف ہو۔


ایسے الزامات کو عدالتی طریقہ کار کے بغیر نشر نہ کیا جائے۔


یہ تحریر نہ اشتعال انگیزی ہے نہ الزام تراشی۔ یہ ایک شہری کی وہ دستک ہے جو آئین، عدل، اور انسانیت کے دروازے پر سوال لیے کھڑی ہے — کیا سچ کا حق اب بھی باقی ہے؟

ترجمانی سے پہلے آئینہ: جب سچائی گرفتار ہو، علم مجرم ہو،

 ترجمانی سے پہلے آئینہ: جب سچائی گرفتار ہو، علم مجرم ہو، اور ناموسِ رسالتؐ پامال ہو!

✍️ قاری ممتاز احمد جامعی


پروفیسر علی خان محمودآباد کی گرفتاری صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہندوستان میں تعلیمی آزادی، اظہارِ رائے، تحقیق اور اساتذہ کے وقار پر ایک کاری ضرب ہے۔ اشوکا یونیورسٹی جیسے باوقار ادارے کے معروف محقق، مورخ اور استاد کو اس بنا پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے بین الاقوامی سیاست پر ایک علمی تجزیہ پیش کیا، جس میں نہ کوئی اشتعال تھا، نہ ناپسندیدہ زبان، اور نہ ہی کوئی ملک دشمنی۔


یہ وہی علی خان ہیں جو کیمبرج کے فارغ التحصیل ہیں، جنہوں نے قوم کو فہم، تحقیق اور مکالمے کا سبق دیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب ان پر افتخار کرنا چاہیے تھا، ان کی گرفتاری کے وقت اشوکا یونیورسٹی نے محض یہ بیان دے کر جان چھڑا لی کہ "ان کے خیالات ذاتی ہیں"۔ کیا یہ ادارہ اسی دن کے لیے بنا تھا؟ کہ استاد جب ظلم کی زد میں آئے، تو دیوار بننے کے بجائے خاموش تماشائی بن جائے؟


اساتذہ کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر ان کا وقار پامال کیا جائے، ان کی زبان بند کی جائے، اور اختلافِ رائے پر انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے، تو یہ کسی ایک فرد کا زوال نہیں بلکہ سماج کی فکری خودکشی ہے۔


ایسے نازک موقع پر جب بھارت کا 59 رکنی سرکاری وفد دنیا کے 32 ممالک میں جا رہا ہے، اور اس میں 11 مسلم نمائندے شامل کیے گئے ہیں، تو یہ فطری توقع ہے کہ وہ نمائندگی صرف بیرون ملک بھارت کے چہرے کی نہ کریں، بلکہ اندرون ملک پیش آنے والے کچھ غیرسنجیدہ و تکلیف دہ واقعات کی بابت بھی حکومت تک نرم لہجے میں اپنا نقطۂ نظر رکھیں۔

مثلاً پروفیسر علی خان محمودآباد کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ، یا کسی سابق خاتون فوجی افسر پر ایک حکومتی شخصیت کے نامناسب تبصرے جیسے معاملات، بھارت کی اس روادار شبیہ کے منافی ہیں جسے ہم عالمی برادری کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔


تاہم سب سے اہم اور حساس پہلو، جو ہر باشعور مسلمان کے دل کو چھلنی کر دیتا ہے، وہ ناموسِ رسالت ﷺ کا مسئلہ ہے۔ آئے دن حکومت سے قربت حاصل کرنے یا سستی شہرت کی خاطر بعض انسان نما ناپاک عناصر اسلامی شعائر، قرآن و سنت، اور بالخصوص رسولِ اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف فتنہ، اشتعال اور مسلمانوں کو مشتعل کر کے انہیں مجرم بنانا ہوتا ہے، جب کہ حکومت ان پر نرمی اختیار کرتی ہے۔


یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جس حکومت کو عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے مسلم چہروں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہی حکومت اندرونِ ملک ایسے شرپسندوں پر نرمی کیوں برتتی ہے جو ملک کے امن کو سبوتاژ کرتے ہیں؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ کیا ناموسِ رسالت ﷺ پر ایمان رکھنے والے شہریوں کا کوئی تحفظ نہیں؟ کیا ان کی دل آزاری کوئی جرم نہیں؟


لہٰذا یہ تمام 11 مسلم نمائندے، جو بیرونِ ملک بھارت کا چہرہ پیش کرنے جا رہے ہیں، ان کی شرعی و قومی ذمے داری ہے کہ وہ باہر جا کر ملک کا دفاع ضرور کریں، لیکن روانگی سے پہلے حکومت سے گزارش کریں کہ وہ اندرون ملک مسلمانوں کے ایمان، وجود، اور وقار کی بھی حفاظت کرے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب استاد کی عزت ہو، خواتین کا احترام ہو، اختلاف کی گنجائش ہو، اور ناموسِ رسالت ﷺ پر حملہ کسی بھی صورت میں برداشت نہ کیا جائے۔


ورنہ ترجمانی کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، اگر وہ آواز جو باہر سنائی دے، اپنے ہی وطن میں دبا دی جائے۔


امارت شرعیہ: منصب کی جنگ یا امت کی امانت؟

 امارت شرعیہ: منصب کی جنگ یا امت کی امانت؟

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ… ایک ایسا دینی، اجتماعی اور سماجی ادارہ جو برصغیر میں اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے۔ لیکن گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے یہ ادارہ انتشار، باہمی چپقلش اور قیادت کے ٹکراؤ کا شکار ہے۔ یہ صورتِ حال صرف ایک ادارے کا بحران نہیں، بلکہ امت مسلمہ کی وحدت، اعتماد اور شعور کی پستی کا کھلا اعلان ہے۔


کیا واقعی ہم اس درجہ گر چکے ہیں کہ عہدہ، کرسی اور شہرت کے لیے ملت کے اجتماعی وقار اور اعتماد کو قربان کر دیا جائے؟ کیا ادارہ کا نام، اس کی تاریخ، اس کی خدمات اور اس کا امتیاز اس قابل نہ تھا کہ ہم ذاتی انا اور مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچتے؟


حالیہ دنوں دو بڑے جلسے ہوئے—ایک میں مولانا شبلی قاسمی اور مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب منظر پر تھے، دوسرے میں انجینئر فیصل ولی رحمانی صاحب۔ دونوں اطراف کے حمایتی حضرات، علما، مفکرین اور نمائندگان جمع ہوئے۔ دعویٰ یہی کہ امارت کی بقا اور اتحاد کا پیغام دینا ہے۔ لیکن اہل نظر سمجھتے ہیں کہ یہ اجتماعات “اتحاد” کے نام پر “اقتدار” کی مشق ہیں۔


سب سے دل خراش منظر یہ تھا کہ مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی جیسے بزرگ، جنہوں نے طویل مدت سے امارت کی خدمت کی ہے، محض نمائشی اتحاد کی خاطر عمر میں چھوٹے اور علمی اعتبار سے کم تر فرد کے پیچھے کھڑے دکھائی دیے۔

کیا اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے؟ کہ کبار علما و مشائخ کو چھوٹوں کی اقتدا میں صرف مصلحتِ وقتی یا دکھاوے کے لیے کھڑا کر دیا جائے؟

اگر یہی حبِ جاہ نہیں، تو پھر اور کیا ہے؟


یہ وقت کسی ایک فریق کو نیچا دکھانے کا نہیں، بلکہ امت کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑنے کا وقت ہے۔

اگر واقعی دونوں گروہ اقتدار کے بھوکے نہیں، جیسا کہ وہ بار بار اعلان کرتے ہیں، تو سوال یہ ہے:


امت کے وسیع تر مفاد میں اور امارت شرعیہ جیسے ادارے کے وقار کی حفاظت کی خاطر، دونوں فریق ایک ساتھ دستبردار کیوں نہیں ہوتے؟ کیوں نہ کسی تیسری اہل، متفق علیہ شخصیت کو میدان دیا جائے؟


کیا واقعی ملتِ اسلامیہ کی مائیں بانجھ ہو چکی ہیں کہ ان دونوں شخصیات کے علاوہ کوئی باوقار، دیانت دار، علم و فراست سے متصف، غیر جانبدار اور متفق علیہ شخصیت دستیاب نہیں؟


اگر جواب “نہیں” ہے—اور یقینا نہیں ہے—تو پھر سادہ الفاظ میں کہنا پڑے گا کہ یہ سب عہدوں کے لالچی ہیں، اور ملت کی بھلائی محض نعرہ ہے، مقصد کرسی ہے!


ہم امت کے وہ افراد ہیں جو امارت شرعیہ کو اپنے ایمان، اپنے تشخص، اپنے اتحاد کی علامت سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ:


کیا کوئی اجتماعی، آزاد، شفاف مشاورتی اجلاس ممکن نہیں جہاں مخلص، درد مند، غیر جانبدار علما و دانشور اس بحران کا حل نکالیں؟


کیا کوئی معیاری قیادت ان دو انتہاؤں کے علاوہ بھی ممکن نہیں؟


کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اداروں کو افراد سے بلند تر مانیں اور امت کو فرد کے سائے سے نکال کر اصول کے سائے میں لے آئیں؟


ہم سادہ مسلمان، ادارے کے خیرخواہ، طلبہ، والدین، مخلص علما، سب یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ:


امارت شرعیہ کسی فرد کی جاگیر نہیں! یہ امت کی امانت ہے، اور اس کی قیادت انہی کے سپرد ہونی چاہیے جو واقعی امانت دار ہوں۔

امارتِ شرعیہ: امت کی امانت، یا اقتدار کی جاگیر؟

 امارتِ شرعیہ: امت کی امانت، یا اقتدار کی جاگیر؟

(ایک کھلا خط بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کے علما و مشائخ کے نام)

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


امارتِ شرعیہ، بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کا وہ باوقار، دینی، ملی اور سماجی ادارہ ہے، جس نے ان خطوں میں شریعت کی روشنی، سماجی قیادت، تعلیمی رہنمائی اور ملی مرکزیت کا کام انجام دیا ہے۔ یہ ادارہ محض ایک تنظیم نہیں، ایک تحریک ہے، ایک تاریخ ہے، ایک اعتماد ہے—جسے حضرت مولانا ابو المحاسن سجادؒ جیسے عبقری بزرگ نے خونِ جگر سے سینچا، اور بعد میں مولانا منت اللہ رحمانیؒ، قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ، مولانا نظام الدینؒ، اور آخر میں مولانا ولی رحمانیؒ جیسے باکمال اہلِ علم و عمل نے امت کی کشتی کو گردابوں سے نکالا۔


لیکن آج!

یہی امارت... اقتدار کی رسہ کشی، ادارے پر قبضے اور ذاتی مفاد پرستی کا میدان بن چکی ہے۔ امت کے جذبات، ادارے کا وقار، امارت کا اعتماد—سب کچھ گروہی انا کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔


حالیہ جلسے اور "اربابِ حل و عقد" کے بیانات، جن میں "اتحاد" کی بات تو کی گئی، لیکن حقیقت میں وہ صرف اقتدار کی مشقیں اور الزامات کا تبادلہ زیادہ محسوس ہوئے۔

ایک گروپ نے دوسرے پر مالی غبن، خرد برد، عہدے کے ذریعے سرکاری مراعات کے ذاتی مفاد میں حصول اور ادارے کے وسائل کے ناجائز استعمال جیسے سنگین الزامات عائد کیے، جبکہ جواب میں دوسرا گروہ خود کو وارثِ شرعی، امینِ ملت اور عوامی تائید کا نمائندہ ثابت کرنے میں مصروف رہا۔


ایسا لگتا ہے جیسے دونوں گروہ امارت کو امت کی امانت نہیں بلکہ اپنی سیاسی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں۔

ورنہ اگر وہ واقعی مخلص ہوتے، تو سوال یہ ہے:


کیا وہ ملت کی امانت کو اپنی ذات پر ترجیح دے سکتے تھے؟


کیا وہ دونوں بیک وقت پیچھے ہٹ کر امت کو نئی راہ دکھانے کے لیے تیار ہوتے؟


کیا وہ اس عظیم ادارے کے وقار کو گروہی انا سے بلند سمجھتے?


آج ہم بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کے تمام

اکابر علما، مشائخِ عظام، مدارسِ اسلامیہ کے مہتممین، شیوخ الحدیث، بزرگ مفتیانِ کرام اور ملی رہنماؤں سے درد مندانہ، لیکن واضح اپیل کرتے ہیں:


اب خاموشی جرم ہے!

اگر آپ واقعی امارت کو حضرت سجادؒ، حضرت منت اللہؒ، حضرت ولیؒ کی امانت سمجھتے ہیں، تو اب آپ کو سامنے آنا ہوگا!

اب صرف “دعا کریں” کافی نہیں، اب کردار ادا کرنے کا وقت ہے۔


ہم پوچھتے ہیں:


کیا واقعی امت کی مائیں بانجھ ہو چکی ہیں کہ ان دو انتہاؤں کے سوا کوئی صالح، باوقار، دیانت دار، غیر جانبدار قیادت ممکن نہیں؟


کیا وقت نہیں آ گیا کہ دونوں گروہ بیک وقت دستبردار ہو کر میدان کسی تیسرے اہل، متفق علیہ شخص کے لیے خالی کریں؟


کیا ہم اداروں کو افراد کے سائے سے نکال کر اصول کے سائے میں لانے کا حوصلہ نہیں رکھتے؟


ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک آزاد، غیر جانب دار، وسیع البنیاد مشاورتی اجلاس بلایا جائے،

جس میں صرف وہ علما، مشائخ، اکابر اور نمائندہ اربابِ مدارس شریک ہوں جو کسی بھی فریق سے وابستہ نہ ہوں، اور جن کی دیانت و غیر جانب داری مسلم ہو۔

یہ اجلاس ہی آئندہ کے لائحۂ عمل، کسی نئی متفق علیہ قیادت اور ادارے کے آئینی استحکام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔


ورنہ اگر ہم خاموش رہے، تو تاریخ ہمارے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گی جو قومی و ملی غفلت کے مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔


امارت شرعیہ کسی فرد کی جاگیر نہیں،

یہ امت کی امانت ہے،

اور امانت، صرف اہل کے سپرد ہونی چاہیے۔


والسلام

قاری ممتاز احمد جامعی

(خادمِ دین و ملت)

امارت شرعیہ: منصب کی جنگ نہیں، ملت کی امانت ہے

 دردمندانہ اپیل


بعنوان:


امارت شرعیہ: منصب کی جنگ نہیں، ملت کی امانت ہے!


(ایک غیر جانب دار اصلاحی آواز)


جب ادارے افراد سے بڑے ہوں اور اصول شخصیتوں سے بلند تر — تب قومیں بنتی ہیں، اور تاریخ فخر کرتی ہے۔


لیکن جب فرد ادارے پر غالب آ جائے، جب ذاتی مفاد اصول پر بھاری ہو جائے، اور جب جماعتیں اپنے حصار میں ملت کو قید کرنے لگیں — تب امت انتشار کی دہلیز پر پہنچتی ہے۔


ایسا ہی ایک نازک لمحہ، آج امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ کے حوالے سے امت مسلمہ کے سامنے ہے۔


قضیہ نامرضیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کا دائرہ مسلسل ایک تشویشناک صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دونوں دعوے دارانِ "امیر شریعت" اپنے اپنے حلقے سے نکل کر اثر و رسوخ کے بل پر عوام الناس سے رجوع، ہنگامی دورے اور بیعت و تائید کے اجتماعات کر رہے ہیں، گویا ملت ایک دوسرگوں کشمکش کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔


یہ کوئی معمولی ادارہ نہیں، کہ جسے فقط کسی نشست، کسی عہدہ یا کسی شخصیت سے تعبیر کر دیا جائے۔


یہ ایک خواب کا تسلسل ہے — جو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ، مولانا محمد علی مونگیریؒ، مولانا منت اللہ رحمانیؒ، اور حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ جیسے رجال کی قربانیوں سے پروان چڑھا۔


یہ اس قوم کا اجتماعی ضمیر ہے — جو آئینِ ہند کے دائرے میں رہ کر دینی، ملی، تعلیمی، اور سماجی خودمختاری کا شعور رکھتی ہے۔


مگر آج جب ہم اپنے بزرگوں کی چھوڑی ہوئی اس امانت پر نظر ڈالتے ہیں، تو دل کانپ اٹھتا ہے۔


کرسی کی کشمکش، گروہی صف بندی، امارت کی تقسیم — یہ سب کچھ وہ زخم ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایک ادارہ، بلکہ پوری ملت کے وقار کو مجروح کیا ہے۔


حالیہ ایّام میں منعقد دونوں عظیم الشان جلسے، بظاہر اتحاد کے نام پر منعقد ہوئے — مگر باطن میں ایک ناقابلِ انکار حقیقت چھپی ہے:

امت دو رُخوں میں تقسیم ہو رہی ہے، اور ہم سب اس المیے کے خاموش گواہ بنے کھڑے ہیں۔


مفتیانِ کرام، فضلا، حفاظ، دانشوران قوم و ملت، ادارہ جاتی ذمے داران — سب کو ایک لائن میں کھڑا کر کے گروہی وفاداری کی فصیلیں بلند کی جا رہی ہیں۔


یہ وقت فتح و شکست کے اعلانات کا نہیں،

یہ وقت جیتنے یا ہرانے کا نہیں —

بلکہ یہ وہ گھڑی ہے جب ملت کے ذی شعور افراد، غیر جانب دار ادارے، مخلص علما و دانشور آگے آئیں، اور یہ کہیں:


> "ہمیں نہ تمہاری جیت سے غرض ہے، نہ اس کی ہار سے؛

ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ امت ہار رہی ہے!"


ہماری دردمندانہ اپیل ہے کہ:


1. دونوں موجودہ دعوے دار گروہ اعلانیہ اور بلاتاخیر دستبردار ہوں؛


2. ایک مشترکہ عبوری شوریٰ تشکیل دی جائے، جس میں کسی فریق کا غلبہ نہ ہو؛


3. اس شوریٰ کے زیرِ نگرانی، واضح، شرعی، آئینی، اور شفاف نظام کے مطابق نئے امیر کے انتخاب کی راہ ہموار ہو؛


4. اس نئے امیر کا انتخاب انسان نہیں، اصول کرے؛ اور پسند نہیں، ملت کی امانت کرے۔


ہم جیسے لوگ، جنہوں نے ہمیشہ امارت شرعیہ کے فیصلوں کو احترام دیا ہے، اور اس کے وجود کو دین کی اجتماعی علامت سمجھا ہے — آج یہ سوال کرتے ہیں:


📌 کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اداروں کو افراد سے بلند تر مانیں؟


📌 کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم کسی تیسرے باوقار، دیانت دار، متفق علیہ فرد کو موقع دیں؟


📌 کیا قوم کی مائیں صرف دو ہی افراد کو چننے پر قادر ہیں؟


📌 کیا واقعی ہم اصول، دیانت، اور شفاف قیادت کے خواب سے دستبردار ہو چکے ہیں؟


ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ:


📌 شخصیات کے ہجوم سے نکل کر اصولوں کا پرچم اٹھائیں؛


📌 ماضی پر رونے کے بجائے حال کو سنواریں؛


📌 اور اس ادارے کو آنے والی نسلوں کے اعتماد کے قابل بنا دیں۔


اگر ہم نے یہ موقع بھی کھو دیا —

تو یاد رکھئے!


کرسی بچ جائے گی، افراد جی لیں گے،

لیکن امت ہار جائے گی…!


جانب: قاری ممتاز احمد جامعی


کھیل کا جشن یا عقل کا ماتم؟ — ایک فکری تجزیہ

 کھیل کا جشن یا عقل کا ماتم؟ — ایک فکری تجزیہ


 پس منظر


بنگلور میں IPL ٹیم RCB کی جیت پر ایک جذباتی اور بے قابو ہجوم نے سڑکوں پر جشن منایا۔

دھوم دھڑاکے، نعرے، ڈھول، اور دیوانگی میں ڈوبی عوامی ریل کا انجام یہ ہوا کہ 10 قیمتی جانیں تلف ہو گئیں۔

ایک لمحے کو رک کر سوچیں:

یہ کس چیز کا جشن تھا؟

ایک کمرشل کھیل میں ایک ٹیم کی فتح؟

یا عقل، شعور، اور ایمان کی موت پر اجتماعی خاموشی؟

 کرکٹ: کھیل یا نئی نسل کا بت؟

یہ اب محض کھیل نہیں رہا،

بلکہ نفسیاتی غلامی، تجارتی جال، اور دینی بے حسی کا مجموعہ بن چکا ہے۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا:

ایک چھکے پر پوری قوم اچھلتی ہے،

لیکن مسجد کی اذان پر کوئی کان نہیں دھرتا؛

ایک بال کے لیے پوری رات جاگتے ہیں،

مگر قرآن سننے کے لیے پانچ منٹ بھی نکالنا مشکل؛

بچے کھلاڑیوں کے نام یاد رکھتے ہیں،

مگر اصحابِ بدر یا خلفائے راشدین کے نام پوچھیں تو نظریں جھک جاتی ہیں۔

 اخلاقی و دینی زوال

کھیل کے نام پر نمازیں قضا ہوتی ہیں

تعلیمی نظام پر کھیل کی دیوانگی حاوی ہے

میڈیا اور اشتہارات میں مرد و زن کی بے حیائی فروغ پا رہی ہے

نوجوان نسل کی سوچ کرکٹ کے ریٹائرمنٹ، سنچری، اور کیپٹنسی تک محدود ہو چکی ہے

ایسے میں اگر کوئی کہے کہ "کرکٹ قوم کا فخر ہے"، تو یہ نہیں بلکہ قومی المیہ ہے۔

 حضرت مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ کا فکری مشاہدہ

یہ بات صرف جذبات یا رائے نہیں، بلکہ علمی اور فقہی بصیرت کا بھی تقاضا ہے۔

حضرت مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ (مصنف فتاویٰ رحیمیہ)

اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک اہم شرعی استفتا تیار کروا رہے تھے — موضوع تھا:

"کرکٹ کا شرعی حکم اور اس کے دینی اثرات"

انہوں نے فقہ کے ماہر علما سے فرمایا:

> "اس استفتا میں یہ نکتہ ضرور شامل کریں کہ:

بعض لوگ کرکٹ دیکھنے میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ جب نماز کا وقت ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو سوچتے ہیں:

’ایک بال اور دیکھ لوں، شاید چھکا لگ جائے’

اور یوں فرض نماز قضا ہو جاتی ہے۔

ایسے عمل کا شرعی حکم بیان کیا جائے۔"

حضرت مفتیؒ نے اس بات کو ایک فتنہ قرار دیا تھا،

مگر افسوس! حضرت کی عمر نے وفا نہ کی،

اور بعد کے مفتیان میں وہ جرأت، فکر اور امت کا درد باقی نہ رہا۔

یوں ایک عظیم علمی رہنمائی امت سے محروم ہو گئی۔

 قوم کی ترجیحات کا المیہ

علمائے حق کے بیانات پر کوئی کان نہیں دھرتا

لیکن کمنٹیٹرز کی چیخ پر پوری قوم ہل جاتی ہے

اصلاحی جلسے خالی، مگر کھیلوں کی جگہ بھری ہوئی

جنہوں نے قوم کے لیے جان دی، ان کے مزار اجنبی

جنہوں نے بیٹ گھمایا، ان کی تصویریں دیواروں پر

ایسی قوم کے لیے "آ بیل مجھے مار" محاورہ نہیں، زندہ حقیقت بن چکا ہے۔

ہم کھیل کے خلاف نہیں،

غفلت، ترجیحات کی خرابی، اور دینی خسارے کے خلاف ہیں۔

> کیا کھیل دیکھنا فرض نماز سے بڑھ کر ہے؟

کیا ایک چھکا دین کے ایک حرف سے قیمتی ہو گیا؟

کیا ہمارا دین اتنا سستا ہو گیا ہے کہ ایک اسکرین پر قربان ہو جائے؟

اگر نہیں — تو اب وقت ہے کہ:

ہم تماشائی بننا چھوڑیں، رہبر بنیں

بچوں کو کھلاڑیوں کے بجائے صحابہ کا فین بنائیں

کھیل کے تماشے کو دین پر قربان نہ کریں

اور سب سے بڑھ کر، کرکٹ پر ایمان نہ لائیں — ایمان کو بچائیں

یہ مضمون نہ نفرت ہے، نہ حسد،

یہ ایک دردمند دل کی فریاد ہے — جو چاہتا ہے کہ امت ہوش میں آئے۔

کرکٹ دیکھنا حرام نہیں،

لیکن کرکٹ میں ڈوب کر دین، نماز، اور عقل کو دفن کرنا یقینا فتنہ ہے۔

 "کھیل زندگی کا حصہ ہو، تو خوبصورت ہے؛

لیکن اگر زندگی کھیل بن جائے — تو تباہی ہے۔"

اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں سے بچائے،

امت کو فہم، توازن اور ترجیحات کی درست سمت عطا فرمائے۔

آمین۔

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی 

نیا بھارت یا بے رحم بھارت؟

 ✍️ نیا بھارت یا بے رحم بھارت؟


2014 کے بعد انسانیت پر حملے، اور اخلاقی تباہی کی داستان


2014 میں جب اقتدار بدلا، تو صرف حکومت نہیں بدلی — ملک کی روح، اقدار، اور انسانی حرمت کے تصورات بھی بدلتے چلے گئے۔ "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کے نعرے کے پیچھے جو چہرہ چھپا تھا، اس نے دھیرے دھیرے ظلم، ناانصافی، اور بےحسی کو نیا قومی مزاج بنا دیا۔

🟥 1. عورت کی عصمت — نعرے میں تحفظ، عمل میں پامالی!

بیتے برسوں میں جنسی جرائم کی جو لہر چلی ہے، وہ صرف بدنظمی نہیں بلکہ منظم جرم کا دھڑلّا ہے۔

اناؤ، کٹھوعہ، ہتھرس، بلقیس بانو — یہ سب محض فائلوں کے کیس نہیں، بلکہ اس قوم کی بیٹیوں کے زخم ہیں، جن پر اقتدار نے نمک چھڑکا۔

اب اتراکھنڈ کے ہریدوار میں بی جے پی مہیلا مورچہ کی سابق صدر نے اپنی 13 سالہ بیٹی کی عزت کو بازار میں بیچنے کا مکروہ دھندہ کیا۔ یہ جرم نہیں، انسانیت کے منہ پر تھپڑ ہے۔

کیا یہ وہی “بیٹی بچاؤ” ہے جس کی دہائی دی جاتی ہے؟ اگر ماں جیسا مقدس رشتہ بھی سیاست کی دلدل میں ڈوب جائے، تو باقی رشتے کہاں محفوظ رہیں گے؟

🟥 2. گائے کے نام پر انسان کا خون — مذہب یا حیوانیت؟

2015 میں اخلاق احمد کو مارا گیا،

پھر پہلو خان، راکبر خان، تبریز انصاری...

قتل کا ہتھیار اب چھری یا بندوق نہیں، بلکہ افواہ، جے شری رام، اور گائے کا نام بن چکا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں گائے کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے، وہیں اس "ماں" کے تحفظ کے نام پر ہزاروں ماؤں کے بیٹے مارے گئے۔

کیا یہی "رام راج" ہے؟ کیا بھگوان رام کی تعلیمات اسی نفرت کی اجازت دیتی ہیں؟ مذہب کو اتنی سفاکی سے استعمال کرنا، خود مذہب کے ساتھ ظلم ہے۔

🟥 3. ہجوم کا انصاف — عدالتوں کے منہ پر طمانچہ

موب لنچنگ ایک دو واقعے نہیں، بلکہ نیا غیر سرکاری انصاف کا ماڈل بن چکا ہے۔

پولیس اکثر خاموش تماشائی بنی نظر آتی ہے، ویڈیو بنانے والے ہی مجرم بن جاتے ہیں، اور متاثرہ خاندان زندگی بھر انصاف کی دہائی دیتا ہے۔

🟥 4. راہنما کی نجی زندگی — قومی قیادت کا اخلاقی آئینہ

جب ایک ملک کا سربراہ اپنی بیوی کو لاوارث چھوڑ دے، تو وہ عورتوں کے تحفظ پر کیا بولے گا؟

یہ اس کی نجی زندگی نہیں، ایک اخلاقی نمونہ ہے — جو اگر بوسیدہ ہے، تو سارا نظام بوسیدہ ہو جاتا ہے۔

ازدواجی رشتہ محض قانونی معاہدہ نہیں، ایک تمدنی اکائی، ایک اخلاقی عہد ہے۔ اگر اسی کا وقار پامال ہو تو "پرم پراؤں" اور "سنکلپ" کے نعرے محض کھوکھلے الفاظ بن جاتے ہیں۔

📢 نتیجہ:

ان سب واقعات کو الگ الگ نہ دیکھا جائے۔

یہ سب ایک ذہنیت، ایک نظام، اور ایک ایجنڈے کی کڑیاں ہیں — جو انسان سے زیادہ عقیدے، قانون سے زیادہ نفرت، اور ضمیر سے زیادہ ووٹ بینک کو اہمیت دیتا ہے۔

🕊️ اختتامی جملہ:

یہ تحریر انسانیت کے تحفظ کی ایک آواز ہے — تاکہ سچائی زندہ رہے، اور ظلم کو بے نقاب کیا جا سکے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی جائے۔


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی 

عید الاضحی گزر چکی ہے… مگر قربانی کا پیغام باقی ہے!


📌 عید الاضحی گزر چکی ہے… مگر قربانی کا پیغام باقی ہے!


عید الاضحی گزرنے کو ہے — مگر سوال یہ ہے:


کیا ہم قربانی کا جانور خریدے تھے ؟ یا اپنی غیرت، دین، اور تہذیب کی قربانی دیئے تھے؟


جب کوئی قوم اپنے تہواروں سے بے زار ہو جائے اور اغیار کے جشن اسے زیادہ خوبصورت لگنے لگیں…

جب قربانی کی رات نیو ایئر نائٹ بن جائے، اور عید کا دن صرف پوسٹ، سیلفی اور شو آف کی دوڑ بن جائے…

تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔


قربانی کا مطلب صرف خون بہانا نہیں —

بلکہ دل نرم کرنا، غریبوں کو دینا، اور شعور جگانا ہے۔


مگر آج کے دور میں:


جانور کا خون تو بہا،

مگر دل کا تقویٰ کہاں گیا؟


گوشت کاٹ دیا،

مگر رشتہ دار بھوکے رہ گئے۔


سجی ٹرے تو بنی،

مگر پڑوسی بیوہ کا چولہا ٹھنڈا رہا۔


یہ قربانی نہیں، یہ رسم کا بے روح مجسمہ ہے!


📌 جب مسلم نسل غیروں کی نقالی میں فخر محسوس کرے...


فرینڈشپ ڈے پر تعلقات سجیں،

مگر صحابہؓ کی صحبت اجنبی ہو جائے؛


ہولی کے رنگ اپنائیں،

مگر تحجد کے آنسو بوجھ بن جائیں؛


دیوالی کے دیئے روشن کریں،

مگر قبر کی تاریکی کا خوف مٹ جائے؛


راکھی بندھوانا فخر بن جائے،

اور محرمات کا تقدس بے معنی ہو جائے؛


ویلنٹائن پر محبت کا ناٹک ہو،

مگر والدین کی قدم بوسی بوجھ لگے؛


تو سمجھو یہ قوم اسلامی روح سے خالی ہو چکی ہے — اور صرف جسمانی وجود کے بل پر جی رہی ہے۔


📖 قرآن کا پیغام:


> "وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ"

"اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔"

(آلِ عمران: 139)


قربانی کی اصل روح یہ ہے کہ ہم نفس، دکھاوے، دنیا پرستی، اور غفلت کو ذبح کریں،

اپنے اندر خشیت، اخلاص، تقویٰ اور ایثار کو زندہ کریں۔


اگر ہم غیروں کے طریقے، رنگ، جشن، اور تہذیب کو اپنا کر خود کو "روشن خیال" سمجھنے لگیں —

تو ہم خود کو اندھیروں کے قریب کر رہے ہیں، اور ہدایت سے دور جا رہے ہیں۔


📌 عید سے پہلے ایک بار خود سے پوچھو:

کیا میری قربانی… اللہ کے لیے ہے؟

یا لوگوں کو دکھانے کے لیے؟


✍️ قلم: قاری ممتاز احمد جامعی

مدارس پر تنقید: دانشوروں کے تعصب کی زہرآلود داستان

  مدارس پر تنقید: دانشوروں کے تعصب کی زہرآلود داستان

عجب و غریب صورتِ حال ہے!


آج کل ہمارے اہلِ دانش کا ایک مخصوص طبقہ "خلقیہ" کی تلاش کے بہانے، صدف کی مہک کو محسوس کرنے سے پہلے ہی، اس کے خلاف اعلانِ جنگ میں مصروف ہے۔ ایسی بے صبری اور جھنجھلاہٹ کہ گویا مدارس اور اہلِ مدارس ہی اس امت کے تمام زوالات کا سرچشمہ ہوں۔

حیرت ہے کہ یہ وہی امت ہے جس کا ۷۵ فیصد حصہ قبل و بعدِ آزادی مدارس اور ان کے وابستگان کو اپنے دین و ایمان کی بقا کے لیے استعمال کرتا رہا ہے—اپنے بچوں کے کان میں اذان کہلوانی ہو یا والدین کے جنازے کی نماز، نکاح کا معاملہ ہو یا ایصالِ ثواب کی مجالس—ہر موقع پر مدرسے والا ہی یاد آتا ہے۔

اور جب وہی مدرسے والا علمی اداروں میں جائے، معاشرے میں اپنی فکری نمائندگی کرے، تو یہی دانشور طبقہ اسے "نوکری کی لالچ میں آیا ہوا جاہل ملّا" کہنے لگتا ہے! کیا یہ تضاد نہیں؟ کیا یہ ناانصافی نہیں؟

ان حضرات کو شاید اندازہ نہیں کہ آج بھی امت مسلمہ کے صرف ۲۵ فیصد افراد ہی مدارس و مکاتب سے حقیقی وابستگی رکھتے ہیں۔ باقی ۷۵ فیصد کا اصل میدان خود وہ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں، این جی اوز، اور ادارے ہیں جہاں یہ تمام "دانشور" خود موجود ہیں۔ کیا انہوں نے کبھی وہاں کی اصلاح کے لیے ایسا شدید غصہ، ایسی زہریلی تنقید، اور ایسا سماجی بائیکاٹ کیا؟

نہیں! کیونکہ وہاں نوکری خطرے میں پڑتی ہے، ترقی رک جاتی ہے، فنڈنگ بند ہو جاتی ہے۔

مدارس پر تنقید ایک آسان نشانہ ہے، بے ضرر سا ہدف، جس پر تیر چلا کر خود کو جرأت مند اور بااصول ظاہر کیا جا سکتا ہے، حالانکہ اس میں نہ اصول بچتے ہیں نہ جرأت۔

مدارس نے، ہر دور میں، امت کی روحانی و فکری پیاس بجھائی ہے۔ وہ صرف اذان، نماز اور نکاح تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے ایسے رجال پیدا کیے جنہوں نے ملک کی تحریکِ آزادی سے لے کر اسلامی تشخص کی بقا تک، ہر محاذ پر قربانیاں دیں۔ اور آج بھی وہی مدارس، دین کا قلعہ بنے کھڑے ہیں، محدود وسائل، ہزاروں رکاوٹوں اور ہر قسم کی الزام تراشی کے باوجود۔

ہم مانتے ہیں کہ مدارس میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے، اور اہلِ مدارس خود اس کا شعور رکھتے ہیں۔ ہم نے بھی ان کی اصلاح کے لیے صدائے حق بلند کی ہے۔ لیکن یہ تنقید، تنقیص اور تحقیر کی صورت اختیار کرے، تو وہ علم نہیں، انتقام بن جاتی ہے۔

آخر میں، ہم ان "دانشوروں" اور "پروفیسر صاحبان" سے ادباً گزارش کرتے ہیں کہ روزی روٹی کا وعدہ ربِ کائنات نے کر رکھا ہے، تو اپنی علمی بصیرت کو اہلِ مدارس پر تیزاب پھینکنے میں ضائع نہ کریں۔ اس امت کی اجتماعی فلاح، اتحاد، اور ترقی میں اپنی توانائیاں صرف کریں تاکہ عنداللہ مقبول بنیں، نہ کہ صرف عندالناس مودی و یوگی کے ایجنڈے پر تالیاں بجوانے والے "ملعون" بن کر رہ جائیں۔


 قاری ممتاز احمد جامعی


ہوائ حادثہ یا سیاسی ہتھکنڈہ؟ — معصوم جانوں کا حساب کون دے گا؟

hawai-hadsa-ya-siyasi-hathkanda-2025

جون 2025 میں احمدآباد کے قریب پیش آنے والا ہولناک فضائی حادثہ، جس میں 241 سے زائد مسافر اور شہری جان سے گئے، محض کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک سنگین نظامی ناکامی، حفاظتی غفلت اور ممکنہ سیاسی اثرات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اسی تاریخی تسلسل میں اجیت پوار کا بارامتی کے قریب پیش آنے والا فضائی حادثہ مہاراشٹر کی ترقی پسند سیاست کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان بن کر سامنے آیا، جس نے جمہوری سیاست میں حادثات کی ٹائمنگ اور پس منظر پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔

جون 2025 میں احمدآباد کے قریب پیش آنے والا ہولناک فضائی حادثہ، جس میں 241 سے زائد مسافر اور شہری جان سے گئے، محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ایک پیچیدہ نظامی ناکامی کا مظہر بھی تھا۔ حادثات دنیا بھر میں رونما ہوتے ہیں، لیکن ہر حادثہ محض اتفاق نہیں ہوتا، خاص طور پر جب اس کے اثرات اجتماعی، سیاسی اور سماجی سطح پر دیرپا ہوں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تجارتی مسافر طیارہ ٹیک آف کے چند ہی لمحوں بعد حادثے کا شکار ہوا اور شہری آبادی کے قریب ایک عمارت اور ہاسٹل کے اطراف جا گرا۔ نتیجتاً نہ صرف مسافر اور عملہ بلکہ زمینی سطح پر موجود عام شہری بھی لقمۂ اجل بنے۔ یہی پہلو اس سانحے کو ایک معمول کے فضائی حادثے سے کہیں زیادہ سنگین بنا دیتا ہے، کیونکہ شہری علاقوں میں پرواز، حفاظتی دائرہ، رسک اسسمنٹ، اور ایمرجنسی ردِّ عمل جیسے بنیادی سوالات خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔

اس حادثے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اس میں گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ اس نے قومی سطح پر یہ بحث چھیڑ دی کہ اہم عوامی شخصیات کے سفر، ان کے لیے طے شدہ حفاظتی پروٹوکول، اور پرواز سے قبل خطرات کے تجزیے واقعی معیار کے مطابق تھے یا نہیں۔

وجے روپانی، جو ایک وقت مودی کے قریبی تھے اور بعد میں کنارہ کش ہو گئے، کچھ حساس سیاسی سرگرمیوں میں بھی شامل تھے۔ وہ سورت کے 2,500 کروڑ کے لینڈ اسکینڈل کو اجاگر کرنے والے رہنماؤں میں شامل تھے، جس میں "Silent Zone" Fraud اور سرکاری زمین کی جعلی فروخت شامل تھی۔ مرکزی کردار انانت پٹیل پہلے ہی گرفتار ہو چکے تھے اور سورت کی بیوروکریسی لرز رہی تھی۔ اس تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ ہوائی حادثہ محض ایک حادثہ تھا، یا کسی بڑے سیاسی اور نظامی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے؟

👥 ہمارا درد وجے روپانی سے نہیں—ہمارا درد ان 240+ مظلوم انسانوں سے ہے جو یا تو سیاست کی جنگ میں مارے گئے، یا نظام کی لاپرواہی، یا کسی اور کی سازش کا شکار بنے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام ہر شہری کے لیے یکساں طور پر محفوظ ہے؟

یہ سوال بھارت کی سیاسی اور فضائی تاریخ میں کئی بار سامنے آیا ہے۔ اہم سیاسی شخصیات کے فضائی حادثات اور دیگر سانحات اکثر ایک معمہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ تاریخی واقعات کی مکمل کرونولوجیکل ترتیب کچھ یوں ہے:

1975: سمستی پور میں ریلوے پل کے افتتاح کے موقع پر بم دھماکے میں ریلوے وزیر ڈاکٹر للت نارائن مشرا شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں وفات پا گئے۔

1980: سنجے گاندھی کا طیارہ حادثہ، جس پر سرکاری انکوائری ہوئی، لیکن حفاظتی انتظامات اور سوالات طویل عرصے تک زیر بحث رہے۔

12 مارچ 2000: سابق وزیر ریلوے اور سوشلسٹ مفکر مدھو دندوتے کا فضائی حادثہ، جس نے عوامی شعور میں سوالیہ نشان چھوڑا۔

2002: لوک سبھا کے اسپیکر جی ایم سی بلایوگی کا ہیلی کاپٹر حادثہ۔

2003: گجرات کے وزیر ہرین پاندیہ کا بہیمانہ قتل (سیاسی پس منظر سے متعلق)۔

2014: مرکزی وزیر گوپی ناتھ منڈے کا سڑک حادثہ اور جج بی ایچ لویا کی پراسرار موت۔

8 دسمبر 2021: بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور اعلیٰ افسران کا تمل ناڈو میں فوجی ہیلی کاپٹر حادثہ۔

جون 2025: احمدآباد فضائی حادثہ، جس میں وجے روپانی سمیت 241+ مسافر اور شہری جان بحق ہوئے۔

اسی تاریخی تسلسل میں اجیت پوار کا حادثہ بھی مہاراشٹر کی سیاست میں ایک دردناک موڑ ہے۔ اجیت پوار کا بارامتی فضائی حادثہ، جس وقت وہ مہاراشٹر کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ پر تھے، ان کی سیاسی سمت، ممکنہ واپسی اور بدلتے اتحادوں کی بازگشت زوروں پر تھی۔ گزشتہ دنوں سیاسی گلیاروں میں یہ چہ مگوئیاں زور پکڑ رہی تھیں کہ اجیت پوار ایک بار پھر شرد پوار کے پاس واپس جا سکتے ہیں اور شرد پوار کوئی نئی حکمت عملی یا سیاسی کھیل کر سکتے تھے۔ ان افواہوں کا کوئی حل سامنے آنے سے قبل ہی اجیت پوار اس حادثے کا شکار ہوگئے۔

یہ حادثہ نہ صرف ان کے سیاسی کیرئیر کے عروج پر پیش آیا بلکہ مہاراشٹر کی عوام اور جمہوری سیاست کے لیے ایک خالی جگہ چھوڑ گیا۔ اجیت پوار ہمیشہ نفرت، دنگے اور فساد کی سیاست سے دور رہے اور اپنی پوری زندگی ترقی پسند اور عوامی مفاد پر مبنی سیاست کرنے میں گزاری۔ اگرچہ بھاجپا نے انہیں سخت دباؤ میں رکھا اور پالیسیوں یا اتحادی تعلقات پر اثر ڈالنے کی کوشش کی، اجیت پوار نے کبھی بھی بھاجپا کی زبان نہیں اپنائی اور مہاراشٹر میں نتیش رانے کی مخالفت کھل کر کی، جس سے نتیش رانے کے سیاسی اثرات کمزور ہوتے رہے۔

جاننے والے جانتے ہیں کہ اجیت پوار کے پاس اگر کوئی بھی شخص اپنا کام لے کر آتا اور وہ عوامی مفاد میں ہوتا، تو وہ بلا تفریق مذہب اور ذات اس کا کام کروانے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔ گزشتہ برس گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بھی اسی طرح ایئر انڈیا جہاز کی تباہی میں جاں بحق ہوئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی حادثاتی موتیں کبھی کبھی سیاسی اور نظامی خلا پیدا کر دیتی ہیں۔ اجیت پوار کے ساتھ پیش آنے والا یہ دردناک سانحہ مہاراشٹر کی ترقی پسند سیاست کا بڑا نقصان ہے، اور ایک ایسا خلا چھوڑ گیا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ میں ان کے اہل خانہ اور پسماندگان کے دکھ میں شریک ہوں اور اس نازک و غمناک موقع پر ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔

حادثے کی تفتیش صرف تکنیکی پہلو تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ بلیک باکس، انجن اور ایویونکس ڈیٹا، فلائٹ پلان اور ایئر ٹریفک کنٹرول لاگز کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ:

شہری آبادی کے قریب پرواز کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی؟

رسک اسسمنٹ کن اصولوں کے تحت کی گئی؟

موجودہ ایوی ایشن پالیسی کسی بڑے سانحے کو روکنے کے لیے کافی ہے یا نہیں؟

آزاد اور ہمہ جہت تحقیق کے لیے CBI یا NIA جیسے اداروں کی شمولیت ضروری نہیں؟

یہ سوالات کسی سازشی ذہن کی پیداوار نہیں بلکہ ہندوستانی سیاسی اور انتظامی تاریخ کے تجربات سے جنم لیتے ہیں۔ احمدآباد کا یہ حادثہ قیامت صغریٰ سے کم نہیں۔ لمحوں میں ہنستے بستے گھر اُجڑ گئے، خواب بکھر گئے، نسلیں منقطع ہو گئیں۔ کوئی اپنے پورے خاندان کے ساتھ سفر پر نکلا تھا، اور کوئی مستقبل کے سنہرے خواب سجائے منزل کی طرف بڑھ رہا تھا—مگر قدرت کے فیصلے نے پل بھر میں سب کچھ بدل دیا۔ ایسے مواقع پر محض غم کا اظہار کافی نہیں بلکہ اجتماعی خود احتسابی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

آج کا انسان طاقت، دولت اور غرور میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ کمزور اور لاچار انسان اس کے نزدیک مچھر اور مکھی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ وہ ہمسایہ ہونے کا حق بھول جاتا ہے، راستے بند کرتا ہے، عزتِ نفس مجروح کرتا ہے اور پھر خود کو کامیاب سمجھنے لگتا ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت، دولت اور غرور عارضی ہیں، اور انسانیت، انصاف اور جوابدہی میں ہی اصل کامیابی ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:

﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾

فضائی حادثات ہوں یا سیاسی سانحات، یہ ہمیں سبق دیتے ہیں کہ زندگی ناپائیدار ہے، اور ہر انسان کے لیے شفافیت اور اصلاح کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ اگر ہم نے انصاف اور احتساب کو نظرانداز کیا، تو نہ ہمارا نظام معاف کرے گا اور نہ ہماری بے حسی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم سے بچنے، حق ادا کرنے، غرور و تکبر سے دور رہنے، اور زندگی کو انسانیت، انصاف اور سچائی کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

✍️ تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی

📧 ای میل: majaamai@gmail.com

🇵🇰 پاکستان میں اقتدار کی غیر فطری ترتیب: ایک تنقیدی مشاہدہ


🇵🇰 پاکستان میں اقتدار کی غیر فطری ترتیب: ایک تنقیدی مشاہدہ

دنیا کے اکثر مہذب ممالک میں ریاستی نظم و نسق اور سفارتی پروٹوکول کا ایک بنیادی اصول ہے کہ ہر عہدہ دار صرف اپنے ہم منصب سے سرکاری ملاقات کرتا ہے — یعنی صدر کا صدر سے، وزیرِاعظم کا وزیرِاعظم سے، اور فوجی سربراہ کا کسی دفاعی یا عسکری ہم منصب سے۔ لیکن پاکستان میں یہ روایت اکثر و بیشتر پامال کی جاتی ہے۔ یہاں ریاستی طاقت کا مرکز عوامی نمائندوں، پارلیمنٹ یا آئینی صدر کی بجائے، چند عسکری شخصیات کے ہاتھ میں دکھائی دیتا ہے — گویا جمہوریت محض ایک رسمی لبادہ ہے، اور فیصلے پردے کے پیچھے کہیں اور ہوتے ہیں۔

حالیہ مثال امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں دعوت دے کر ملاقات کرنا ہے — جب کہ نہ تو پاکستانی صدر، اور نہ ہی وزیرِاعظم کو اس سطح پر کوئی اہمیت دی گئی۔ یہ محض سفارتی واقعہ نہیں، بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور حکومتی ڈھانچے میں فوج کی بالادستی کا عملی اظہار ہے۔ ایسے مناظر دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان میں اصل طاقت کا مرکز آئین نہیں، بلکہ وردی ہے — اور یہی تاثر پاکستان کے وقار اور استحکام دونوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

یہی غیر متوازن اختیارات کا نظام ہے جو پاکستان کو اکثر اندرونی انتشار کا شکار بناتا ہے۔ کبھی عدلیہ سے تصادم، کبھی مقننہ سے محاذ آرائی، اور کبھی سول حکومت کو پس منظر میں دھکیلنے کی روش — سب اسی مزاج کی پیداوار ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ موقع ملتے ہی یہی عسکری قیادت آمریت کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے، اور یوں ریاستی ادارے باہم ٹکرا کر کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ درحقیقت، یہی روش پاکستان کی بدنصیبی کا مستقل عنوان بن چکی ہے — ایک ایسی حقیقت جسے نہ چھپایا جا سکتا ہے، نہ جھٹلایا جا سکتا ہے۔

یہ تبصرہ کسی ملک، قوم یا ادارے کی مخالفت نہیں، بلکہ ایک اصولی نکتہ نظر ہے — جو دنیا کے ہر جمہوری مزاج رکھنے والے شہری کو اپنانا چاہیے۔

ہم بھارتی شہری کی حیثیت سے اچھی طرح محسوس کرتے ہیں کہ جمہوریت کا حسن اسی میں ہے کہ عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ اور فوج — سب اپنی آئینی حدود میں رہیں۔ اگر کسی ایک ادارے کو بے لگام اختیار دے دیا جائے، تو جمہوریت کا توازن بگڑ جاتا ہے — اور قومیں شخصیات کے سہارے کمزور، جب کہ اداروں کے ذریعے مضبوط بنتی ہیں۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں — آج خود ہمارے ملک میں بھی عدلیہ میں حکومتی مداخلت، میڈیا کی جانبداری، اور اختلافِ رائے کو کچلنے کی روش ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ لہٰذا، اس تجزیے کا مقصد محض تنقید نہیں، بلکہ ایک مشترکہ فکری بیداری پیدا کرنا ہے — تاکہ ہم سب اپنی اپنی ریاستوں کو انصاف، شفافیت اور عوامی طاقت کی حقیقی علامت بنا سکیں۔

قاری ممتاز احمد جامعی

امت مسلمہ، باضمیر اقوام، اور عالمی ضمیر کے نام ایک غیرت مند اپیل

  امت مسلمہ، باضمیر اقوام، اور عالمی ضمیر کے نام ایک غیرت مند اپیل


دنیا ایک بار پھر ظلم، جارحیت، اور سامراجی سازشوں کی زد میں ہے۔ امریکہ و اسرائیل کا اتحاد مشرقِ وسطیٰ سے لے کر افریقی ساحل، ایشیا کے دروازوں اور خلیجی درّوں تک خون کی ندیاں بہا رہا ہے۔ بیروت سے تہران، غزہ سے صنعا، دمشق سے کابل تک ہر جگہ جنگی جنون کا عذاب ہے۔ ایسے میں خاموشی جرم اور تقسیم خودکشی بن چکی ہے۔


📢 اب صرف بیانات نہیں، بلکہ خالص خلوص، مزاحمتی عمل، اور حکمتِ عملی کی بنیاد پر ایک مؤثر عالمی اتحاد کی فوری ضرورت ہے۔


مگر اس اتحاد کی بنیاد صرف نعرہ، نام یا کسی نئے "عالمی فورم" کی نمائش نہ ہو، جیسا کہ ہم نے ماضی میں OIC اور عرب لیگ جیسے اداروں میں دیکھ لیا:


 "نشستند، گفتند، خوردند، برخاستند"

بیٹھے، بولے، کھایا پیا اور چلے گئے۔


🔻 ایسا اتحاد تب ہی فائدہ مند ہو سکتا ہے، جب وہ درج ذیل 5 بنیادی نکات پر قائم ہو:


✅ 1. نظریاتی اتحاد:

بنیاد صرف نسل، زبان یا حکومت نہ ہو، بلکہ ظلم کے خلاف بے باک مزاحمت، انصاف اور انسانی غیرت ہو — چاہے مظلوم فلسطینی ہو یا کشمیری، افغانی ہو یا یمنی، برمی ہو یا چیچن، ایغور۔


✅ 2. سفارتی ہمت و جُرأت:

اقوام متحدہ، OIC، اور دیگر اداروں میں رسمی بیانات کے بجائے مؤثر قراردادیں، عالمی دباؤ، اور ویٹو پاور کی منافقانہ سیاست کے خلاف عالمی بیداری مہم چلائی جائے۔


✅ 3. دفاعی ہم آہنگی و تعاون:

ایک ایسا نظام بنایا جائے جس میں عسکری معلومات، ٹیکنالوجی، وسائل، اور انٹیلی جنس شیئرنگ ہو — تاکہ ایران، حزب اللہ، حماس، انصار اللہ جیسے مزاحمتی گروہ اکیلے نہ رہ جائیں۔


✅ 4. میڈیا و بیانیے کی جنگ:

ایک آزاد، طاقتور، اور سچ بولنے والا عالمی مزاحمتی میڈیا نیٹ ورک قائم کیا جائے — تاکہ مغرب کے پروپیگنڈہ کو توڑا جا سکے اور مظلوموں کی حقیقی آواز دنیا تک پہنچے۔


✅ 5. معاشی حکمتِ عملی و خود کفالت:

مغربی سرمایہ دارانہ شکنجے سے نکلنے کے لیے تجارتی بائیکاٹ، اپنی کرنسی و نظامِ معیشت کی بنیاد، اور باہمی امداد پر مشتمل معاشی سسٹم قائم ہو۔

 اگر ہم نے اب بھی تاخیر کی، تو تاریخ ہمیں بے عمل، بے حس، اور مغلوب قوم کے طور پر یاد رکھے گی۔

اور اگر ہم متحد ہوئے — خلوص، حکمت اور قربانی کے ساتھ — تو یہی لمحہ تاریخ کے دھارے کو موڑ دے گا۔

 امت کو اب نئی تنظیموں کے نام نہیں، نیا عزم، نیا کردار، اور نیا عمل چاہیے۔

ورنہ یاد رکھئے:

> آج غزہ جل رہا ہے، کل بیروت ہوگا، پرسوں دمشق، اور شاید اگلا نشانہ ہم ہوں!

تحریر۔ قاری ممتاز احمد جامعی

مدارس و مکاتب: ملتِ اسلامیہ ہی نہیں، ہندوستان کی مشترکہ روحانی وراثت

 مدارس و مکاتب: ملتِ اسلامیہ ہی نہیں، ہندوستان کی مشترکہ روحانی وراثت


(ایک فکری و قومی رہنمائی پر مبنی تحریر)


یہ کوئی اتفاق نہیں کہ جب برصغیر کا معاشرہ غلامی، جہالت اور اخلاقی پستی کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، تب مدارس و مکاتب نے شمعِ علم، روحانیت، تہذیب، اور قربانی روشن کی۔


یہ بھی حقیقت ہے کہ ان اداروں نے صرف قرآن و حدیث کی تعلیم ہی نہیں دی، بلکہ انگریزوں کے خلاف مزاحمت، اردو زبان و ادب کی ترویج، اور معاشرتی اصلاحات میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔


لیکن افسوس!

آج کچھ حلقے ان اداروں کو صرف ایک مخصوص مذہبی طبقے کی علامت سمجھ کر ان کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مدارس صرف مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی اجتماعی وراثت ہیں۔


  تاریخ کی روشن گواہی: صدرِ جمہوریہ کی زبان سے


ڈاکٹر راجندر پرشاد (پہلے صدر جمہوریہ ہند) نے جب دارالعلوم دیوبند کا دورہ کیا، تو اپنے خطاب میں فرمایا:


> "میں بیرون ممالک گیا، وہاں کے تعلیم یافتہ مسلمانوں نے مجھ سے کہا: اگر تمہارے ملک میں دارالعلوم دیوبند جیسا ادارہ ہو تو ہم ہر تعاون کے لیے تیار ہیں۔ وہاں کے مسلمان اس ادارے کو دین، روحانیت اور سچائی کی علامت سمجھتے ہیں۔"

(ماخوذ: دارالعلوم دیوبند میں خطاب)


کیا یہ محض ایک مذہبی ادارہ تھا؟

نہیں، یہ ایک روحانی، تعلیمی اور تہذیبی قلعہ ہے، جس کی تاثیر آج بھی سرحد پار محسوس کی جاتی ہے۔


  مدارس و مکاتب: ضرورتِ وقت، فطری ادارے


جہاں جدید تعلیم صرف دماغ بناتی ہے، وہاں مدرسہ دل و ضمیر کو بھی جگاتا ہے۔


جہاں اسکول صرف معیشت سنوارتے ہیں، وہاں مکتب معاشرت کا توازن بناتا ہے۔


جہاں نظام تعلیم میں "پیداوار" مقصود ہوتی ہے، وہاں مدارس میں سخاوت، صبر، دیانت، اور عبادت کا مزاج پیدا کیا جاتا ہے۔


آج بھی ملک کا ہر عام مسلمان، اپنے بچوں کے کان میں اذان سے لے کر جنازے کی نماز تک کے لیے مدرسے والے کا محتاج ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ مظلوم طبقہ اپنی محنت سے امت کی پیاس بجھاتا رہا ہے، اور اگر کچھ فضلاء جدید میدانوں میں آ جائیں تو انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ کیسی ناانصافی ہے؟


   ہمیں کیا کرنا ہے؟


مدارس کو برا کہنے سے پہلے اپنا ادارہ دیکھو


اہلِ مدارس پر طعنہ دینے سے پہلے اپنی قربانی ناپو


اور سب سے اہم:

اگر اس ملک کو دوبارہ "سونے کی چڑیا" بنانا ہے، تو روحانیت اور اخلاقی تعلیم کے بغیر یہ ممکن نہیں


  آخر میں:


  مدارس، مکتب اور علماء اس ملک کے اخلاقی ورثہ دار ہیں، ان کی قدر کرو، وہ تمہاری نسلوں کو بگاڑ سے بچا سکتے ہیں۔


 ہم اپنی بساط کے مطابق چراغ جلاتے رہیں گے...

کیونکہ ظلمات کے درمیان روشنی کے چند دیپ ہی کافی ہوتے ہیں۔

قاری ممتاز احمد جامعی

سیاست کا زوال: جب ایمان نیلام ہو، اور قیادت مشکوک ہو جائے

 سیاست کا زوال: جب ایمان نیلام ہو، اور قیادت مشکوک ہو جائے


سیاست، اگر اصول و اخلاق کے تابع ہو تو قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ لیکن جب یہی سیاست جھوٹ، مصلحت، اور مفاد پرستی کا شکار ہو جائے، تو یہ صرف کرسی کی تجارت اور ضمیر کی نیلامی بن کر رہ جاتی ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاسی فضا میں یہی منظرنامہ چھایا ہوا ہے — خاص طور پر مسلمانوں کی سیاست اس المیے کا شکار ہے کہ اس میں نہ نظریاتی استقامت ہے، نہ فکری قیادت کا جرات مندانہ وجود۔


ایک زمانہ تھا جب مولانا حسرت موہانی جیسے رہنما بغیر کسی سرکاری مراعات کے صرف خدمتِ ملت کو مقصدِ حیات بنا کر سیاست کے میدان میں اترتے تھے۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ اکثر مسلم سیاستدان قوم کے نام پر ووٹ لیتے ہیں، مگر کامیابی کے بعد نہ اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ اقلیتوں کے تحفظ کی وکالت۔ مذہبی شناخت سے شرمندگی، اور اکثریتی بیانیے سے وفاداری ان کا سیاسی دستور بن چکا ہے۔


افسوسناک بات یہ ہے کہ قوم خود بھی اپنی فکری شناخت سے بے پروا ہو چکی ہے۔ قیادت کے معاملے میں وہ ہمیشہ الجھن کا شکار رہی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے سچ کہا تھا کہ "قیامت آ جائے گی، مگر مسلمان اپنے رہنما پر یقین نہیں کرے گا"۔ یہی وجہ ہے کہ آج اگر کوئی رہنما ملت کے حقوق کی آواز بلند کرتا ہے، تو خود ملت ہی اسے مشکوک، متنازع یا "بی ٹیم" قرار دے دیتی ہے۔


اسدالدین اویسی جیسے سیاسی خطیب، جنہوں نے برسوں سے پارلیمنٹ میں اقلیتوں، دستور، اور مسلم تشخص کی جرات مندانہ وکالت کی، انہیں ملت کی اکثریت نے کبھی قبولِ دل سے نہیں اپنایا۔ کوئی کہتا ہے وہ صرف تلنگانہ کے ہیں، کوئی کہتا ہے ان کے صرف سات ایم ایل اے ہیں، اور کوئی انہیں بی جے پی کا فائدہ پہنچانے والا قرار دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قیادت کی قدر اس کے رُکنوں کی تعداد سے ہوتی ہے، یا اس کی فکر، استقامت اور جرأتِ گفتار سے؟


جب کنہیا کمار، جگنیش میوانی، ہاردک پٹیل جیسے نوجوان سیکولر طبقے سے اٹھتے ہیں تو ان کے لیے میڈیا، عدلیہ اور نظام میں راستہ کھل جاتا ہے۔ مگر جیسے ہی کوئی مسلمان نوجوان بولنے کی جرأت کرتا ہے — چاہے وہ شرجیل امام ہو، عمر خالد ہو یا خالد سیفی — اُسے یا تو جیل بھیج دیا جاتا ہے یا غدار بنا کر بدنام کیا جاتا ہے۔ اس دوہرے معیار نے ملت کے فکری افق کو مزید تاریک کر دیا ہے۔


مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ جب اشرافیہ طبقے کے سیاسی قائدین کے گھروں میں بین المذاہب شادی ہو، تو اُسے "گنگا جمنی تہذیب" اور "انفرادی آزادی" کا جشن کہا جاتا ہے، مگر جب یہی عمل کسی غریب یا عام مسلمان کے گھر ہو، تو اُسے "لو جہاد" کا نام دے کر ہدفِ نفرت بنا دیا جاتا ہے۔ اشوک سنگھل، ایل کے اڈوانی جیسے مسلم مخالف نظریات کے حامل لیڈروں کی اپنی بیٹیوں نے مسلمان مردوں سے رشتہ قائم کیا، لیکن نہ کہیں سنگھی بھڑکے، نہ میڈیا شور مچایا۔ اس کے برعکس کسی مسلم نوجوان کا یہی عمل پورے نظام کو لرزا دیتا ہے۔


یہ تضاد، یہ منافقت، اور یہ اخلاقی دوہرا پن دراصل اس قوم کی فکری کمزوری کا شاخسانہ ہے۔ جب ملت خود اپنے رہنماؤں پر اعتماد نہ کرے، اپنی شناخت پر فخر نہ کرے، اور ہر نئے ابھرتے چہرے کو مشکوک نظروں سے دیکھے، تو پھر زوال اس کا مقدر بن جاتا ہے۔


تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں کو بارہا صرف استعمال کیا گیا، ان کا خون اور ووٹ لیا گیا، مگر وقتِ مصیبت انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ شہاب الدین جیسے دبنگ لیڈر، جنہوں نے لالو پرساد یادو کی سیاست کو سیوان کی گلیوں سے پارلیمنٹ تک پہنچایا، وہ جب جیل میں بیماری و مظلومی کی حالت میں دم توڑتے ہیں تو کوئی لالو، کوئی آر جے ڈی ان کے جنازے پر بھی نہیں آتا۔


اعظم خان، جنہوں نے سماجوادی پارٹی کی بنیادوں میں اپنے لہو کی اینٹ رکھی، آج مقدموں کی زد میں تن تنہا کھڑے ہیں۔ وہ شخص جس نے سیکڑوں تعلیمی ادارے قائم کیے، رامپور کا چہرہ بدل دیا، اسے پارٹی نے خاموشی سے قربان کر دیا۔


احسان جعفری، گجرات کے سابق ایم پی، جنہیں دنگائی ہجوم نے زندہ جلا دیا، دہلی کی پارلیمنٹ نے ان کے لیے ایک سطر بھی مؤثر انداز میں ادا نہ کی۔ ان کی بیوی کی دہائی پر سپریم کورٹ کے دروازے بھی برسوں خاموش رہے۔


یہ نام صرف شخصیات نہیں، بلکہ مثالیں ہیں اس سچ کی کہ مسلمان اگر وفادار ہو بھی جائے تو سسٹم اس کا وفادار کبھی نہیں ہوتا۔


ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانانِ ہند قیادت کے تئیں اپنی نفسیاتی غلامی کو ختم کریں، فکری طور پر آزاد سوچ اپنائیں، اور دینی و اخلاقی بنیاد پر وفادار، باصلاحیت، بے باک رہنماؤں کو مضبوط کریں۔ بصورت دیگر، ملت ایک ایسا ہجوم بن کر رہ جائے گی جو صرف نعرے لگانا جانتی ہے، مگر نہ راستہ چن سکتی ہے، نہ کارواں بنا سکتی ہے۔


یہ مضمون ایک تلخ سچائی کا آئینہ ہے۔ اگر ہم نے آج بھی اپنی قیادت، فکر، اور کردار کا محاسبہ نہ کیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم دین، عقل، اور سیاسی شعور کو بنیاد بنا کر اپنے مستقبل کی تعمیر کریں، اور نعرے بازی سے نکل کر نظریاتی استقلال کی راہ اپنائیں۔


سیاست اگر قرآن و سنت کے زیر سایہ نہ ہو، تو صرف فتنہ ہے — اور ہم اس فتنے میں جل رہے ہیں۔


قاری ممتاز احمد جامعی 

majaamai@gmail.com


دعوت، نسبت اور نسبتوں کی سرزمین: پالنپور کا ایک بابرکت سفر

 دعوت، نسبت اور نسبتوں کی سرزمین: پالنپور کا ایک بابرکت سفر


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


ان دنوں بندہ الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت جاری مکاتب و مدارس کی مالی استحکام اور دعوتی بیداری کے مقدس مقصد سے گجرات کے معروف اور دینی تاریخ سے معمور شہر پالنپور کے سفر پر ہے۔ یہ سفر بظاہر چند ملاقاتوں اور تعاون کی ترغیب پر مشتمل تھا، مگر حقیقت میں یہ میرے دل و روح کو تازگی بخشنے والا ایک روحانی انکشاف بن گیا۔


پالنپور نہ صرف گجرات بلکہ برصغیر کی دینی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ کبھی یہاں شیعہ مسلک کے نواب حکمران ہوا کرتے تھے، مگر اسی سرزمین پر سب سے پہلے حضرت پیر محمد مشائخؒ نے توحید و رسالت کی صدائے حق بلند کی۔ پھر کشمیری صوفی بزرگ حضرت مولانا نذیرؒ نے اپنے سفر کو موقوف کر کے یہاں قیام فرمایا اور اس دعوتی انقلاب کی بنیاد رکھی جس نے ایک پورے شہر کی روح بدل دی۔ انہی کی مسند دعوت کو بعد میں حضرت مولانا عمر پالنپوریؒ نے اپنے علم و اخلاص سے عالمگیر پیغام میں تبدیل کر دیا۔


یہ میری سعادت رہی کہ مجھے اس عظیم خطے کی کچھ بزرگ ہستیوں کی زیارت، ملاقات اور یادگاروں سے روحانی انسیت کا موقع ملا۔ ان میں خصوصیت سے:


حضرت مولانا غلام رسول خاموشؒ (سابق مہتمم، دارالعلوم دیوبند)


حضرت مولانا عبد القیومؒ (مجلسِ دعوت الحق، پالنپور)


حضرت مولانا آدم صاحب مجادرؒ


حضرت مولانا اسماعیل سیوانیؒ


حضرت مولانا عبد الرزاقؒ کمالپوری بھاگل


اور علمِ حدیث کے آفتاب، حضرت مفتی سعید احمد پالنپوریؒ — جن کے علمی فیضان سے ایک عالم نے سیرابی حاصل کی۔



پالنپور کے موجودہ علمی و روحانی ماحول میں حضرت مولانا عبد القدوس ندوی دامت برکاتہم کی علمی رفعت، زہد و تقویٰ، اور دل نشین شخصیت کا گہرا اثر محسوس ہوا۔ اسی طرح حضرت مولانا عبد الرشید صاحب بسوی دامت برکاتہم جیسی عبقری ہستیوں کی قربت نے سفر کو مزید نورانی بنا دیا۔


اس بابرکت سفر کی ایک خاص جھلک اس وقت سامنے آئی جب چھاپی میں ظہر کی نماز کے بعد میرے پرانے ہم مقصد، ہم وطن اور مخلص رفیق مولانا عبد المتین مدھوبنی (فارغ دیوبند) سے ملاقات ہوئی۔ چونکہ ہم دونوں ایک ہی مشن کے تحت سرگرمِ سفر تھے، اس لیے مشورہ ہوا کہ آج ہم ساتھ کمالپور چلیں اور وہیں قیام کریں تاکہ دعوتی و تعلیمی تعاون کے امکانات پر گفتگو کی جا سکے۔


شام کو کمالپور کی ہی ذیلی بستی نذیر پورہ کی بری مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد ایک مقامی ساتھی نے بائک پر بیٹھا کر مجھے کمالپور کی جامع مسجد پہنچا دیا، جہاں اتفاقاً آج کا دن "گشت" کا مقرر تھا۔


یہاں اللہ نے مجھے ایک نایاب موقع عنایت فرمایا — مقامی عالم حضرت مولانا اشرف صاحب کمالپوری کا ولولہ انگیز بیان سننے کا۔ موصوف حضرت مولانا عبد الرزاقؒ کے فرزند اور ۱۹۹۵ کے فارغِ دیوبند ہیں۔ ان کا خطاب دعوتِ توحید و رسالت اور سیرتِ نبوی ﷺ پر ایسا پراثر، رواں اور بلیغ تھا کہ پوری مجلس محویت کا مجسمہ بن گئی۔


خاص طور پر نبوت سے قبل نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے واقعات کو اس دلنشیں انداز میں بیان فرمایا کہ ایسا محسوس ہونے لگا گویا ہم ایک تازہ واقعے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، نہ کہ صدیوں پرانی سیرت کا تذکرہ۔

حضور ﷺ کی ولادت، حضرت حلیمہ سعدیہؓ کی گود، عبدالمطلب و ابوطالب کی سرپرستی، اور حضرت خدیجہؓ کے ساتھ تجارتی معاہدہ سے نکاح تک کا بیان ایسا مرتب، متوازن اور جذبات سے لبریز تھا کہ سامعین پلک جھپکنا بھی بھول گئے۔


چونکہ وقت مغرب تا اذانِ عشاء تک محدود تھا، اس لیے مولانا نے نبوت کے بعد والے حصے کو مؤخر کرتے ہوئے مجلس کو دعوتی رخ پر ختم کیا — جیسا کہ گشت کی روح ہے۔


آخر میں صرف اتنا عرض کروں گا:


پالنپور صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ نسبتوں، دعوتوں اور روحانی مجاہدوں کی وہ مبارک سرزمین ہے جو آج بھی دینی بیداری، ایمانی حرارت اور اسلامی تشخص کا علم تھامے ہوئے ہے۔


اللہ تعالیٰ اس علاقے کو سلامت رکھے، اس کی دعوتی فضاؤں کو ثبات عطا فرمائے، اور ہم جیسے راہِ دین کے مسافروں کو ان نسبتوں سے دائمی فیض عطا کرے۔

آمین ثم آمین۔

علاقہ پالنپور — دارالسلام کی خوشبو سے معطر

 علاقہ پالنپور — دارالسلام کی خوشبو سے معطر


پالنپور صدیوں سے علم و دین کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں کے مدارس نے نہ صرف گجرات بلکہ پورے ملک میں قرآن و سنت کی روشنی عام کی ہے۔ ان میں سرفہرست اور ام المدارس کا درجہ رکھنے والا مدرسہ اسلامیہ عربیہ مجلسِ دعوت الحق، پالنپور ہے، جو کئی دہائیوں سے علمی و دینی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ دارالعلوم چھاپی، جامعہ نذیریہ کاکوسی اور دیگر ادارے علاقے کی دینی غیرت اور علمی روایت کے مضبوط ستون ہیں۔ مذہبی اجتماعات، اذان کی گونج، اور علما کی مجلسیں یہاں کے معاشرتی دھڑکن میں شامل ہیں، جنہوں نے شہر کو ایک منفرد روحانی شناخت دی ہے۔


اس سال کا سفر تین اگست 2025 سے شروع ہوا، اور ارادہ یہ تھا کہ بستی بستی جا کر نماز ادا کی جائے، اور ساتھ ساتھ دینی اداروں کے لیے تعاون کی راہیں ہموار کی جائیں۔ یہ سفر محض سیاحت نہ تھا، بلکہ ایک ماہ پر محیط ایک مسلسل دینی ذمہ داری کا سلسلہ تھا، جس میں مقاصد کا مرکز اور محور پالنپور کا دینی ماحول اور یہاں کے علما و دینی اداروں سے تعلق قائم رکھنا تھا۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی پالنپور میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلے جن کی خدمت میں حاضری ہوئی، وہ مولانا عارف کھریاسنوی (بسو والے) تھے۔ گویا میرے لیے پالنپور میں داخل ہونے کا پہلا زینہ یہی درِ ملاقات ہوتا ہے۔ وہ بردبار، حلیم اور متین طبیعت کے مالک ہیں۔ صوبہ بہار کے مدارس کو اس علاقے میں مالی تعاون فراہم کرنے کے لیے تصدیق نامہ جاری کرنے کی ذمہ داری ان کے سپرد ہے، جو وہ نہایت اصول پسندی اور دیانتداری سے ادا کرتے ہیں۔ ان کی بردباری کا یہ عالم ہے کہ اگر کوئی بے اصولی سے پیش آئے تو بھی وہ مسکرا کر اپنے حسنِ خلق سے جواب دیتے ہیں، اور اپنے اخلاقی وقار سے ماحول کو خوشگوار بنا دیتے ہیں۔


یہاں کے مذہبی دعوتی مجالس اور معاشرت میں اسلامی شعائر کو دیکھ کر دل بے اختیار اپنے علاقے کے ماحول سے موازنہ کرنے لگتا ہے۔ پالنپور کے مسلم معاشرے میں دینی اعمال و اخلاق کا ایسا رنگ ہے کہ اکثر یہ داعیہ پیدا ہوتا ہے کہ کاش میرا علاقہ بھی اسی کے مثل ہوتا۔ حالیہ دنوں میں متعدد کہنہ مشق اساتذہ، نطما، اہلِ ثروت اور مخیر حضرات سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور ان کی دعائیں سمیٹنے کا موقع ملا۔ ان میں خاص طور پر حضرت مولانا عبدالرشید صاحب، مہتمم دارالعلوم چھاپی، جو صوفی صفت بزرگ اور عالمِ دین ہیں۔ جمعہ کی نماز سے قبل ان سے مختصر ملاقات ہوئی۔ مولانا اسامہ بن عبدالرشید، مدرس فتح گڑھ، ایک خوش طبع اور ملنسار شخصیت کے مالک ہیں۔ مولانا سعید اور مولانا سفیان، مدرسین دارالعلوم چھاپی، نے اپنے اخلاص اور شفقت سے یادگار لمحات دیے۔ مولانا الیاس صاحب ماہی اور مولانا محمد بن مولانا ہارون صاحب سے بھی ملاقات رہی۔


مولانا ہارون صاحب ایک کامیاب ہیروں کے تاجر ہیں، مگر حقیقت میں اصل ہیرے تو ان کے صاحبزادے ہیں، جو اپنے والد کے تمام نیک اوصاف سے مزین ہیں۔ اس سال اگرچہ مصروفیات کی وجہ سے مولانا ہارون سے طویل ملاقات ممکن نہ ہو سکی، مگر اپنے حسنِ اخلاق اور حسنِ تدبیر سے انہوں نے پرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا، جو ان کے ذوقِ مہمان نوازی کا آئینہ دار تھا۔


یہ سفر اب بھی جاری ہے، اور بستی بستی جا کر ایک ایک فرض نماز ادا کرنے، مقاصدِ سفر کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور یہاں کے علما و صلحا کے خلوص و نیک نیتی کو قریب سے دیکھنے کا سلسلہ بدستور چل رہا ہے۔ ہر ملاقات ایک نیا جذبہ، ہر دعا ایک نئی توانائی اور ہر دن اس اطمینان کا سبب ہے کہ قدم دارالسلام کی مٹی پر ہیں۔


تحریر۔ قاری ممتاز احمد جامعی 

جنرل سکریٹری الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ سمستی پور بہار

بابِ ملاقات — پالنپور کے قیمتی چہرے

 بابِ ملاقات — پالنپور کے قیمتی چہرے


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


شہر پالنپور کے مکمل ایک ماہ کا مسلسل سفر وہ روحانی و بابرکت تیسرے باب کا چل رہا ہے جس میں شریعت میں فقہی مسئلہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنے حقوق میں نرمی کر چار رکعات والی نماز میں تخفیف فرما دی، لیکن اس سرزمین پر جہاں بھی قدم رکھا جائے، دل کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ نفلی نماز میں اضافہ ہو۔ مگر چونکہ سفر ایک خاص مقصد اور مقامی اصول کے پابند ہے، اس لیے اسی نظام کے ساتھ آگے بڑھنا ہی بہتر ہے، ورنہ مقامی اصول توڑ کر بدنظمی کے مرتکب ہو کر سفر میں الجھن پیدا کرنا بالکل مناسب نہیں۔

ویسے بھی اصول، نظم و ضبط، اور پوری ملت کو اسلامی معاشرے میں ضم کرنے کی اصل محنت کے سبب ہی یہ سفر ہے۔


خیر، بندہ نے مغرب کی نماز ادا کرنے کے لیے شہر پالنپور سے متصل سانگرا گاؤں کا انتخاب کیا۔ اس کے لیے مسجد نور کے امام العصر حضرت مولانا عرفان منصوری سے رہنمائی کی درخواست کی۔ ماشاءاللہ، مولانا نے دعوت کے ایک مخلص ساتھی، آٹو والے کو ساتھ روانہ کر دیا۔ "امام العصر" کا لقب انہیں بندہ نے ہی دیا، کیونکہ زیادہ بے تکلفی مسجد نور میں انہی سے ہے اور تمام تر سفر کا آخری سرا واپسی میں مسجد نور ہی ہوتا ہے۔

یہاں کے دوسرے مدرس حضرت مولانا عطا الرحمان جامپوری، حضرت مولانا عبد الرشید، اور مسجد کے متولی یونس بھائی سندھی (جن کو "مرفوع القلم" کا لاحقہ لگا ہوا ہے)، نیز دعوت کے ذمہ دار متولی شفیع بھائی — جو منکسرالمزاج اور ہمہ وقت اللہ کی مخلوق کو اللہ کی معرفت دلانے میں کوشاں رہتے ہیں — سب سے محبت و انسیت ہے۔

ان کے ایک عزیز حافظ عبد القدوس صاحب بھی بڑی محبت رکھتے ہیں۔ ماشاءاللہ، حافظ صاحب ایک مسجد کے امام بھی ہیں اور مجلس دعوت الحق میں دفتری امور کی خدمات انجام دیتے ہیں۔


منتخب رہبر مجھے لے کر آٹو میں سانگرا مسجد پہنچے۔ یہاں پرانے لوگوں اور رونق میں کچھ کمی محسوس ہوئی۔ وہ دن یاد آ گیا جب مسجد چھوٹی اور پرانے بزرگ عالم دین حضرت مولانا اسماعیل سانگرا حیات تھے۔ ان کے وصال کے بعد جب بھی گیا، اس پررونق ماحول میں کمی محسوس ہوئی۔ نمازیوں کی تعداد بھی، باعتبار آبادی، کم نظر آئی۔ یہاں اتفاق سے پرانے مخلص دوست خالد بھائی سے ملاقات ہوئی۔


بعد مغرب، رہبر نے علی گڑھ عشاء کے لیے پہنچایا، جہاں پہلے سے منتظر تھے ہدایت اللہ بھائی کڑیوال، جو دو روز قبل ہی عمرہ کے مبارک سفر سے لوٹے تھے۔ ان کے گھر پر ملاقات اور رات کے کھانے سے فراغت کے بعد پرانے دوست مولانا وصی اللہ صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن عشاء کا وقت قریب تھا، اس لیے مسجد پہنچ گئے۔ عشاء کے بعد مسجد نور واپس آ گئے۔


اگلے روز چھاپی و اطراف کا دورہ طے تھا۔ وہاں عبد الواحد بھائی کڑیوال اور حنیف بھائی سانگرا والے سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ یہ دونوں شخصیات مثالی مشترکہ معاشی نظام رکھتی ہیں اور چھاپی و اطراف کے اکثر کاروباری لوگوں کے مالی حساب کتاب اور آڈٹ رپورٹ کی خدمات انجام دیتے ہیں، اس وجہ سے عام و خاص میں مقبول ہیں۔

اس موقع پر ایک خاص میزبان، حضرت مولانا محمد صاحب امام مدنی مسجد چھاپی ہائی وے بھی اپنی محبت و تواضع کے ساتھ شریک رہے، جن کی خوش اخلاقی اور دینی جذبہ اس ملاقات کو مزید بابرکت بنا گیا۔


اس مبارک اور بابرکت سفر کی یہ قسط اگرچہ اپنے ایک مرحلے پر پہنچ چکی ہے، مگر دل میں اب بھی کچھ مقامات اور عزیز احباب سے ملاقات کی تڑپ باقی ہے۔ خاص طور پر یہ خواہش ہے کہ اگلی منزل میں یونس بھائی سانگرہ والے، چھاپی، حضرت مولانا شبیر احمد قاسمی — کرنالہ والے، کرشنپورہ، مولانا اسحاق صاحب — کالیڑہ والے، کرشنپورہ، اور مدرسہ حنفیہ، کرشنپورہ کے دیگر مخلص مدرسین کی زیارت ہو۔

اسی طرح حضرت مولانا شفیق صاحب امام و خطیب مسجد علی گنج پورہ، یاسین بھائی — امبیتھا والے، شعبہ گجرات پولیس میں خدمات انجام دینے والے، حضرت مولانا مجیب صاحب مولیپوری استاد حدیث مدرسہ سلم العلوم، کالیڑہ، اور جناب محمد طیب باقی صاحب — وسنگر سے ملاقات کا شرف حاصل ہو۔

یہ سب حضرات اپنی علمی، دعوتی اور خدمتِ دین کی مساعی میں نمایاں ہیں اور ان سے ملنے کی تمنا قلب میں موجزن ہے۔


اللہ پاک سے دعا ہے کہ اس سفر کو ہر پریشانی اور رکاوٹ سے محفوظ فرما کر تمام مقاصد کے ساتھ مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہر ملاقات کو خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

آزادی کے سوداگر، انصاف کے قاتل

 آزادی کے سوداگر، انصاف کے قاتل


بھارت کی آزادی کوئی تحفہ نہیں تھی، یہ دو صدیوں سے زائد قربانیوں کا نتیجہ تھی۔ سید احمد شہیدؒ، شاہ ولی اللہؒ کے خانوادے، مولانا فضلِ حق خیرآبادیؒ، مفتی محمود گنگوہیؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ، اور ہزاروں علما و مجاہدین نے سولی، قید اور شہادت کے راستے آزادی کی بنیاد رکھی۔ کچھ کو توپ کے دہانے پر باندھ کر اڑا دیا گیا، کچھ کو سور کی کھال میں بھر کر جلایا گیا، اور لاکھوں موحدین کا خون اس مٹی میں جذب ہوا۔


مگر 1947 کے بعد کی تاریخ بھی خون سے رنگین ہے۔ ہاشم پورہ، بھاگلپور، میرٹھ، مظفرنگر، دہلی، گجرات 2002 — ہر جگہ مسلم نوجوان قتل ہوئے، عورتوں کی عصمت دری ہوئی، حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کر معصوم بچوں کو تلوار کی نوک پر لہرایا گیا۔ بازاروں میں بھیڑ نے انصاف کا گلا گھونٹا، اور جیلوں نے بے قصور جوانیوں کو نگل لیا۔


آج عدلیہ، جو مظلوم کی آخری امید تھی، ریاستی بیانیے کا سایہ بن چکی ہے۔ ممبئی لوکل ٹرین دھماکوں میں پھانسی پانے والے 12 مسلم بے قصور 19 برس بعد بری ہوئے، اور مالیگاوں بم دھماکے کے تمام ملزمان بھی باعزت رہا کر دیے گئے — فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے کیس میں مسلم نوجوانوں کی جوانی سلاخوں میں سڑ گئی، اور دوسرے میں ہندوتوا دہشت گرد کھلے آسمان تلے جشن مناتے رہے۔ شاہد اعظمی جیسے وکیل، جو اس ناانصافی کے خلاف ڈٹ گئے، اسی نظام نے خاموش کرا دیے — قاتل کبھی نہ ملے، کیونکہ شاید وہ نظام کے اندر ہی تھے۔


یہ وہی ملک ہے جہاں کروڑوں روپیہ دے کر مجرموں کی جان بچائی جاتی ہے، مگر بے قصور قیدیوں کے لیے زرِ ضمانت تک میسر نہیں۔ میڈیا نفرت بیچتا ہے، ایجنسیاں ظلم ڈھاتی ہیں، اور اکثریتی خاموشی شریکِ جرم بن جاتی ہے۔


اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جس قوم کے نظریاتی رہنما مہاتما گاندھی جیسے ہندوتوا پرست قاتل ہوں، جو اپنے مفاد کے لیے اپنی ہی برادری کو نہ چھوڑیں، وہ مخالف موحدین کو کب برداشت کریں گے؟ بول البقر (گائے کا پیشاب) پینے والے نظریے کے ہاتھوں اس وقت اس ملک کا مقدر لکھا جا رہا ہے، اور یہ موحدین کے لیے ایک المیہ ہے۔


آزادی کے دن مبارک ہوں — مگر یہ یاد رہے کہ جس آزادی کے لیے موحدین نے جان دی، آج اس پر ہندوتوا کی زنجیریں ہیں۔ اور تاریخ جب سچ لکھے گی، تو اس جمہوریت کے ہر قاتل کو نام لے کر لعنت بھیجے گی، اور اصل ذمہ داران کو آنے والی نسلوں کے سامنے بے نقاب کرے گی۔


قاری ممتاز احمد جامعی

قدیم شہر وڈنگر سے گزر اور مولی پور کی پررونق فضا میں یک شب قیام

 قدیم شہر وڈنگر سے گزر اور مولی پور کی پررونق فضا میں یک شب قیام


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


سفر کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے ہم کل ایک ایسے شہر میں داخل ہوئے جسے حال ہی میں دنیا بھر میں شہرت ملی ہے۔ یہ پہلے سے میرے علم میں تھا کہ اس شہر کا نام بڑی تیزی سے عروج پا رہا ہے، اور ہر خاص و عام میں اس کی نسبت ایک مشہور زمانہ شخصیت — پھیکو جملہ باز — کی وجہ سے زبان زد خاص و عام ہے۔ بعض اہلِ علم کے یہاں یہ لفظ بدل بھی جاتا ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ آج یہ شہر اسی نام سے پہچانا جاتا ہے۔


ویسے تو ہر سال اس شہر سے میرا گزر ہوتا رہا، لیکن کل ایک اہم انکشاف ہوا کہ یہ شہر نیا نہیں بلکہ اطراف کے تمام شہروں سے قدیم ہے، البتہ پٹن شہر کے بعد۔ قبلِ اسلام کے تقریباً پانچ سو سال پرانا یہ شہر، جو ضلع مہسانہ کے تحت ہے، وسنگر کے قریب وڈنگر اپنی قدامت اور تاریخی پس منظر کے باوجود عروج کو ایک متشدد اور فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے شخص کی وجہ سے ہی پہنچا۔ یہ تاریخ کا ایک عجیب المیہ اور باعثِ افسوس ہے کہ صدیوں پر محیط علمی و تہذیبی ورثہ پس منظر میں چلا گیا، اور آج اس کی پہچان ایک وقتی اور منفی نسبت کے سہارے قائم ہے۔


یہ تاریخی پہلو مقامی معمر بزرگ — جو فاضلِ دیوبند بھی تھے — کی زبانی معلوم ہوا۔ وہاں سے میرا اگلا پڑاؤ مومن قوم کی بستی مولی پور میں ہوا۔ یہاں پہلے سے منتظر تھے حضرت مولانا مجیب الرحمن صاحب قاسمی (استادِ حدیث، مدرسہ سلم العلوم، کالیڑہ) کہ جن کا آبائی وطن یہی مولی پور ہے۔ بعد نمازِ عشاء اپنے ادارے کے تعاون کے اعلان کا موقع بھی ملا۔ الحمدللہ، اس بستی کے سب سے قدیم بزرگ استاد، حضرت مولانا عبد الصمد صاحب نے نہایت دلجوئی فرمائی۔ معلوم ہوا کہ وہ اس قدر قدیم استاد ہیں کہ تیسری پیڑھی کے بھی ابھی تک فعال استاد شمار ہوتے ہیں۔ یہ حالِ زمانہ میں ایک عجیب و نادر چیز ہے۔


یہ بات بھی باعثِ رشک ہے کہ اس علاقے کے کئی علما کرام نے اپنی ابتدائی عمر سے لے کر آخر دم تک ایک ہی بستی میں علم و تدریس کی خدمت انجام دی۔ یہ نہ صرف قابلِ تقلید ہے بلکہ آئندہ کے نوجوان فضلا کے لیے بھی ایک اہم نکتہ ہے۔ یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ "فضلا" کا مفہوم اور اصطلاح وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے۔ شاید اسی لیے ماضی میں علما کے نزدیک فضلا کی تعریف کچھ اور تھی اور آج کے دور میں اس کے معنی مختلف ہیں۔


اسی گفتگو کے دوران تعاونِ مدارس کا موضوع بھی آیا۔ یہاں کے انداز اور اطرافِ پالنپور کے رویے میں خاص فرق پایا جاتا ہے۔ وہاں کے بستی کے ذمہ داران اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے ایک مخصوص طریقہ اختیار کرتے ہیں، جب کہ اطرافِ پالنپور کے مشہور گاؤں جیسے بھاگل اور مجادر میں مدارس کو مختلف جہتوں سے ہر مسجد میں ہر سفیر کے لیے موقع دیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مولی پور کی اس روش کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ بستی دیگر مومن قوم کی بستیوں سے خاصی دوری پر واقع ہے اور یہاں کے ذمہ داران کا باقی علاقوں کے ذمہ داران کے ساتھ اس موضوع پر مذاکرات نہ ہوتے ہوں۔


یہاں قیام کے بعد اپنے مخلص قدیم دوست جناب حاجی طیب باقی صاحب کے ہاں وسنگر جانا ہوا۔ جناب طیب باقی صاحب اسم بامسمیٰ ہیں۔ ان کے نام کی وجہ تسمیہ بھی بڑی تاریخی ہے۔ ایک موقع پر انہوں نے خود بتایا کہ ان کے شہر میں مشہور داعی اسلام اور مہتممِ دارالعلوم دیوبند، حضرت قاری طیب صاحب رحمہ اللہ کی آمد ہوئی۔ اسی دن ان کی ولادت ہوئی، تو والدین نے عقیدت کے ساتھ نام طیب رکھا۔ اللہ پاک نے نام کی نسبت سے ہی ان میں صفاتِ حمیدہ عطا فرما دیں۔


اللہ پاک سے دعا ہے کہ یہ سفر خیر و عافیت کے ساتھ جاری رہے، ہر منزل کو کامیابی اور برکت کا ذریعہ بنائے، اور ہر ملاقات کو دین و ایمان کی تازگی عطا کرنے والی بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔