بدھ، 31 دسمبر، 2025

لبرل شائستگی، میڈیا ٹرائل اور مفتی شمائل ندوی: ایک فکری و اخلاقی احتساب

لبرل شائستگی، میڈیا ٹرائل اور مفتی شمائل ندوی: ایک فکری و اخلاقی احتساب
Hybrid Opening | لبرل اخلاقیات اور مذہبی کردار کشی کا تضاد
ڈبیٹ کے اسٹیج پر جاوید اختر کا یہ جملہ—
“میرے اچھے ہونے سے زیادہ مشکل مذہبی لوگوں کا اچھا ہونا ہے”—
اور اس کے جواب میں مفتی شمائل ندوی کی مدلل، متوازن اور علمی گفتگو؛ پھر اختتام پر ماڈریٹر کے اعلان کے بعد جاوید اختر کا سامعین سے یہ کہنا کہ
“اب ہم مفتی صاحب کے ساتھ کھانا کھائیں گے”—
یہ سب کچھ بظاہر شائستگی، رواداری اور مثبت مکالمے کی ایک دلکش تصویر پیش کرتا ہے۔
مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا لبرل اور ایتھیسٹ حلقوں میں “اچھا ہونا” محض اسٹیج کی حد تک ایک اداکاری ہے؟ کیا اچھا ہونا یہ ہے کہ سامنے بیٹھ کر کھانا کھا لیا جائے، لیکن پسِ پردہ اسی فریق کے خلاف میڈیا ٹرائل، کردار کشی، سیاق و سباق سے کاٹی گئی ویڈیوز اور گودی میڈیا کے ذریعے منظم بدنامی کی مہم چلنے دی جائے؟ اگر یہ مباحثہ واقعی اکیڈمک، علمی اور پرامن تھا تو پھر فرقہ پرست عناصر اور زرد صحافت کو یہ اخلاقی جواز کس نے فراہم کیا؟ اور اگر مفتی شمائل ندوی کے کسی بیان میں پہلے ہی کوئی قابلِ مواخذہ بات موجود تھی تو وہ ان کی مقبولیت کے بعد ہی کیوں دریافت ہوئی—اس سے پہلے کیوں نہیں؟
مفتی شمائل ندوی کے ڈبیٹ کے بعد فتنوں کی یلغار
مفتی شمائل ندوی کے حالیہ ڈبیٹ کے بعد گویا فتنوں کا دروازہ کھل گیا ہے۔ وہ تمام فرقہ پرست اور شرپسند عناصر جو مدتوں تاک میں بیٹھے تھے، اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ یہ بھی کوئی ساجد رشیدی یا انصار رضا طرز کا مولوی ہوگا، جو حصولِ شہرت کے شوق میں جاوید اختر جیسے منجھے ہوئے اور آزمودہ مباحث سے الجھ پڑا ہے۔ جاوید اختر، جو اس سے قبل انجنا اوم کشیپ، طارق فتح اور سادھو گرو جیسے افراد کو بھی دن میں تارے دکھا چکے ہیں، ان کے سامنے یہ نوخیز عالم کہاں ٹھہر پائے گا؟ اور یوں اسلام پر طنز، تمسخر اور استہزا کا ایک نیا میدان ہاتھ آئے گا۔
لیکن نتیجہ ان تمام اندازوں کے بالکل برعکس نکلا۔ مفتی شمائل ندوی نے جس سنجیدگی، شائستگی اور وقار کے ساتھ گفتگو کی، اس نے اتنے بڑے اور حساس ڈبیٹ کے باوجود میڈیا کو کوئی سنسنی خیز مسالا فراہم نہیں کیا۔
سیاق و سباق سے کٹی ویڈیوز اور منظم کردار کشی
چونکہ اس مباحثے سے اسلام کو نیچا دکھانے یا تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ نہ آیا، اس لیے اب سیاق و سباق سے کاٹی گئی پرانی ویڈیوز کو بنیاد بنا کر مفتی شمائل ندوی کی گھیرابندی شروع کر دی گئی۔ ہندوتوا وادی، لبرل و ایتھیسٹ حلقے، بعض بریلوی، کچھ غیر مقلدین اور گودی میڈیا—سب ایک صف میں آ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کی اپنی تکلیف اور اپنا ایجنڈا ہے۔
حالاں کہ یہ ڈبیٹ “اللہ” کے وجود پر نہیں بلکہ “God” کے وجود پر تھا—جو ہر مذہب کی بنیاد اور اساس ہے—مگر ہندوتوا وادیوں کو اسلام پر طنز کا موقع نہ ملا، ایتھیزم منطقی بنیادوں پر مؤثر کارکردگی نہ دکھا سکا، بعض متشدد سلفیوں نے عقیدے میں کج فہمی تلاش کر لی، اور بریلوی حلقوں کو—جیسا کہ روایت ہے—ہر وہ کوشش ناگوار گزری جس سے اسلام کی سربلندی کا پہلو نکلتا ہو۔
لیکن دلچسپ اور افسوسناک بات یہ ہے کہ میڈیا ٹرائل اور کردار کشی کی ابتداء دراصل ایک محدود، مگر متعفن حلقے سے ہوئی۔ ڈاکٹر شجاعت علی قادری، جو بریلوی فکر و نہج کے علمبردار ہیں، نے X پر ایک ٹوئیٹ کے ذریعے مباحثے کے بعد تنقید کا آغاز کیا۔ اس ٹوئیٹ کو ری ٹوئیٹ کرتے ہوئے ایک کانگریس لیڈر—جو دراصل آر ایس ایس کا نمائندہ ہے—کانگریس کے پلیٹ فارم سے یہ لکھتا ہے کہ مفتی شمائل ندوی کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ایک ایسا منظم میڈیا ٹرائل شروع ہوا جس میں سماجی اور فکری ماحول تقریباً کینسر زدہ محسوس ہونے لگا، اور منفی رویے ایک طرح سے اجتماعی تعفن کی صورت منہ کھولنے لگے، جس نے مفتی صاحب کی سچائی اور علمی کردار کو نشانہ بنایا۔
اپنوں کی خاموشی اور داخلی انتشار
نتیجتاً مفتی شمائل ندوی کے خلاف اشتعال انگیزی کی ایک منظم مہم چل پڑی۔ ایسے نازک اور حساس موقع پر تو کم از کم اپنوں کو آگے آنا چاہیے تھا، حوصلہ دینا چاہیے تھا، غیر مشروط حمایت کرنی چاہیے تھی؛ مگر افسوس کہ ہم خود ہی آپس میں دست و گریباں ہو گئے۔ یہ المیہ محض شخصی نہیں بلکہ فکری اور ادارہ جاتی ہے۔
دیوبند و ندوہ: مشترکات کے باوجود تصادم
یہ کتنی افسوس ناک حقیقت ہے کہ دو ایسے ادارے، جن کا خدا و رسول ایک، دین و فکر ایک، ملت و مذہب ایک، مشرب و مسلک میں بنیادی اتحاد، اور نصاب میں فقہ و حدیث جیسی کتب مشترک ہیں—وہ محض فنونِ آلیہ کے چند اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔ دیوبند کے بعض فضلاء ندوی فضلاء کو “ہیولی” اور “صورتِ جسمیہ” نہ جاننے کا طعنہ دیں، اور ندوی حلقوں سے دیوبندی فضلاء کو محض “مناظرہ باز” کہہ کر ڈی گریڈ کرنے کی کوشش کی جائے—یہ روش علمی اختلاف نہیں بلکہ فکری تنگ نظری کی علامت ہے۔
تضادِ فکر: باہر محبت، اندر نفرت
ہم ان لوگوں سے محبت، امن اور بھائی چارے کی امید رکھتے ہیں جن سے ہمارے دین، مذہب، خدا اور رسول میں کوئی بنیادی اشتراک نہیں؛ لیکن جن کے ساتھ سو میں سے ننانوے امور میں اتحاد ہے، ان سے ایک اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ یہ طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ کھلے فرقہ پرستوں سے بھی زیادہ خطرناک فرقہ پرست ہیں—کیونکہ وہ اتحاد کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔
نوخیزی، بے احتیاطی اور اخلاقی ذمہ داری
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ مفتی شمائل ندوی سے بعض مقامات پر بے احتیاطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ وہ نوخیز ہیں، ابھی ابتدائے سفر میں ہیں، اور یہ فطری امر ہے۔ مگر یہ نہ اس وقت کا تقاضا ہے کہ ان لغزشوں کو اچھالا جائے، نہ عوامی محاسبہ کیا جائے۔ یہ وقت ان کا حوصلہ بڑھانے، ان کے ساتھ کھڑے ہونے اور غیر مشروط حمایت کا ہے۔
البتہ جن اہلِ علم یا احباب کا ان سے ذاتی تعلق ہے، وہ خلوص کے ساتھ نجی طور پر رہنمائی کر سکتے ہیں—خصوصاً اس تناظر میں کہ وہ ایک امریکی استاد کے شاگرد ہیں، خود امریکی شہری نہیں۔
Powerful Conclusion | اصل امتحان شائستگی نہیں، دیانت ہے
اصل سوال یہ نہیں کہ کون اسٹیج پر کتنا شائستہ تھا، یا کس نے کس کے ساتھ کھانا کھایا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اسٹیج سے اترنے کے بعد کون سچ کے ساتھ کھڑا رہا، اور کون خاموشی کے پردے میں ناانصافی کا شریک بنا۔ اگر علمی مکالمہ واقعی مثبت، پرامن اور اکیڈمک تھا، تو پھر اس کے بعد چلنے والی کردار کشی، میڈیا ٹرائل اور فرقہ پرستانہ زہر آلود مہم پر جاوید اختر (شریکِ مباحثہ) اور سوربھ دیویدی (ماڈریٹر) کی خاموشی خود ایک اخلاقی جرم ہے۔
مفتی شمائل ندوی کا معاملہ کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ یہ اس اجتماعی رویّے کا امتحان ہے جس میں ہم باہر والوں سے اخلاقیات کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر اندر اپنے ہی لوگوں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر ہم نے اس موقع پر بھی انصاف، دیانت اور فکری بالغ نظری کا ثبوت نہ دیا، تو یاد رکھیے—نقصان کسی ایک 
عالم کا نہیں ہوگا، بلکہ پوری امت کے فکری وقار کا ہوگا۔

قاری ممتاز احمد جامعی 
majaamai@gmail.com 

بدھ، 17 دسمبر، 2025

ریاست، عورت اور آئین: جب اقتدار خود وقار کا منکر بن جائے


Bihar CM Nitish Kumar Pulls Woman Doctor’s Hijab (YouTube)

An analytical column examining constitutional morality in India through women’s dignity, religious freedom, minority rights, and the limits of state power, based on a recent public incident.

ریاست، عورت اور آئین: جب اقتدار خود وقار کا منکر بن جائے

تمہید: مسئلہ ایک ویڈیو نہیں، ایک ذہنیت ہے

پٹنہ کی ایک سرکاری تقریب میں بہار کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے حجاب کو زبردستی ہٹانے کا منظر اگر محض ایک لمحاتی بدتمیزی سمجھ لیا جائے تو یہ خود فریبی ہوگی۔ یہ واقعہ اس ریاستی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں عورت کے جسم، مذہبی شناخت اور ذاتی وقار کو اقتدار کے تابع سمجھ لیا جاتا ہے۔

یہ سوال اب کسی فرد کی نفسیات تک محدود نہیں رہا بلکہ آئینی اخلاقیات (Constitutional Morality) سے جڑ چکا ہے—وہ اخلاقیات جنہیں ہندوستانی آئین نے جمہوریت کی بنیاد بنایا ہے۔

آئینی دائرہ: ریاست کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟

بھارتی آئین واضح طور پر یہ طے کرتا ہے کہ ریاست شہری کے جسم، لباس اور مذہبی شناخت پر جبر نہیں کر سکتی:

آرٹیکل 14: قانون کی نظر میں مساوات

آرٹیکل 15: جنس اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت

آرٹیکل 19: اظہارِ ذات اور طرزِ زندگی کی آزادی

آرٹیکل 21: شخصی وقار اور نجی زندگی کا حق

آرٹیکل 25: مذہبی آزادی

ان دفعات کا مجموعی مفہوم یہ ہے کہ ریاست شہری کے ذاتی انتخاب میں اس وقت تک مداخلت نہیں کر سکتی جب تک وہ انتخاب کسی دوسرے شہری کے بنیادی حقوق کو مجروح نہ کرے۔

کسی خاتون کے لباس میں زبردستی مداخلت نہ صرف اس کی شخصی آزادی کی نفی ہے بلکہ یہ ریاستی طاقت کے غلط استعمال کی واضح مثال بھی ہے—خصوصاً جب یہ عمل ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز فرد کی جانب سے ہو۔

تحقیر کا منظرنامہ: ویڈیو کیا ظاہر کرتی ہے؟

ویڈیو کا باریک مطالعہ تین بنیادی حقائق کو بے نقاب کرتا ہے:

1. بلا اجازت جسمانی قربت اور ذاتی دائرے میں مداخلت

2. پس منظر میں ہنسی اور خاموش تماشائی—یعنی اجتماعی بے حسی

3. عورت کے مذہبی انتخاب کو غیر متعلق سمجھنے کا رویہ

یہ عناصر مل کر بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ محض ایک ذاتی لغزش نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کا اظہار ہے جو ریاست کو عورت کے جسم اور شناخت پر بالادست تصور کرتی ہے۔

ایک وسیع تر تسلسل: انفرادی واقعہ نہیں، ریاستی رویہ

یہ واقعہ ایک بڑے اور مسلسل مسئلے کا حصہ ہے، جس کی جھلک ان معاملات میں بھی نظر آتی ہے:

بلقیس بانو کیس میں مجرموں کے ساتھ نرمی

کتھوعہ میں آصفہ کے مقدمے میں طاقتور عناصر کا اثر

ہاتھرس میں متاثرہ خاندان کے وقار کی پامالی

اتر پردیش میں اخلاقی لنچنگ سے متعلق مقدمات کی واپسی

یہ تمام مثالیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جب ریاست نظریاتی طور پر جانبدار ہو جائے تو انصاف کمزور اور انسانی وقار غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔

مسئلہ قوم کا نہیں، نظریاتی ریاست کا ہے

اس پورے پس منظر میں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ناگزیر ہے: مسئلہ کسی مذہب یا قوم کا نہیں بلکہ ایک ایسے نظریاتی ریاستی رویے کا ہے جو اکثریت کے نام پر کمزور طبقات کے حقوق کو ثانوی بنا دیتا ہے۔

جب عورت کے وقار کو اصلاح کے نام پر پامال کیا جائے، مذہبی شناخت کو پسماندگی سے جوڑا جائے اور انصاف کو اکثریتی جذبات کے تابع کر دیا جائے تو یہ آئینی جمہوریت نہیں بلکہ طاقت کی حکمرانی بن جاتی ہے۔

نتیجہ: آئین بطور آئینہ

یہ تحریر کسی طبقے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ آئین کو آئینہ بنا کر ریاستی رویے کو پرکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

جمہوریت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اکثریت کیا چاہتی ہے بلکہ یہ ہے کہ کمزور کے وقار، عورت کی آزادی اور اقلیت کے آئینی حقوق کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔ اگر ریاست اس ذمہ داری سے انحراف کرے تو تاریخ، عالمی ضمیر اور خود آئینی اصول اس کا احتساب کرتے ہیں۔


By: Qari Mumtaz Ahmad Jamaee

Email: majaamai@gmail.com


اتوار، 7 دسمبر، 2025

اسلامی عدل کا درخشاں ورثہ اور آج کے فیصلوں کا زوال


اسلامی عدل کا درخشاں ورثہ اور آج کے فیصلوں کا زوال

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی

انسانی تاریخ کے بڑے بڑے ابواب اس بات کے گواہ ہیں کہ جب بھی کسی قوم نے ترقی کی بلندیاں چھوئیں، اس کی بنیاد طاقت، لشکر یا دولت نہیں بلکہ عدل و انصاف رہا۔ اور جب بھی قومیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں، ان کے زوال کا نقطۂ آغاز عدالت کا ڈھے جانا ہی تھا۔ اسلامی تاریخ بالخصوص عدل کی اس روایت سے منور ہے جس کی مثالیں نہ صرف دلوں کو گرماتی ہیں بلکہ جدید دنیا کے لیے بھی رہنمائی کا مینار ہیں۔

حالیہ دنوں میں افغانستان کے امیر الاسلام شیخ بیت اللہ اخوندزادہ صاحب (حفظہ اللہ) کا ایک عمل سامنے آیا جس نے اسی سنہرے ورثے کی یاد دلادی۔ انہوں نے ملک کے تمام گورنروں کو مقررہ وقت پر بلاکر خود دو گھنٹے کی تاخیر سے آمد اختیار کی۔ لوگوں نے ادب سے دریافت کیا تو جواب دیا کہ میں چاہتا تھا تم یہ محسوس کرو کہ رعایا کو انتظار کروانا کتنی تکلیف دہ بات ہے۔ پھر کھانا سب کے ساتھ پیش ہوا مگر انہوں نے الگ پلیٹ منگوائی، کہ بیت المال صرف ضرورت مند کے لیے ہے، میرے پاس ذاتی رقم موجود ہے۔ یہ طرزِ عمل خود اسلامی سیاسی اخلاقیات کی قدیم روایت ہے جہاں منصب اور بیت المال کے درمیان واضح تفریق لازم سمجھی جاتی تھی۔

یہ بات ہمیں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے طرزِ حکومت کی طرف لے جاتی ہے، جنہیں امام ذہبی، ابن کثیر اور طبری جیسے مؤرخین نے ”خامس الخلفاء الراشدین“ یا ”عمر ثانی“ کے لقب سے یاد کیا۔ تاریخ ابن کثیر میں مذکور ہے کہ جب سرکاری امور انجام دیتے تو بیت المال کا چراغ روشن رکھتے، مگر جیسے ہی ذاتی گفتگو شروع ہوتی فوراً چراغ بجھا دیتے اور اپنا ذاتی چراغ جلا لیتے۔ فرمایا کرتے تھے کہ عوام کے مال پر میرا کوئی ذاتی حق نہیں۔ یہی نہیں، ان کے دور میں زکات لینے والوں کا فقدان اس حد تک پہنچ گیا کہ خراج کی مد میں جمع مال خرچ کرنے کو مستحق نہیں ملتے تھے—یہ امام مالک کے تلامذہ کی روایت سے ثابت ہے (المدوّنة الکبری وغیرہ)۔

اسی روایت کا تسلسل ہمیں ہندوستان کی مسلم تاریخ میں بھی ملتا ہے۔ اورنگزیب عالمگیر، جنہیں مغل مؤرخ خافی خان، سیّد گلاب، اور معاصر غیر مسلم مؤرخین بھی تقویٰ، دیانت اور عدل میں فریدِ روزگار لکھتے ہیں، کے زمانے کا ایک مشہور واقعہ "ماخذ: مصنفِ عالمگیرنامہ، اور بعض مقامی بنارسی تواریخ" میں مذکور ملتا ہے۔ ایک سرکاری افسر نے بنارس کے ایک پنڈت کی بیٹی پر ناپاک ارادہ ظاہر کیا۔ لڑکی نے والد کو تسلی دی اور دہلی پہنچ کر جمعہ کے بعد مسجد کے دروازے پر اس صف میں کھڑی ہو گئی جہاں عالمگیر ضرورت مندوں کی مدد کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔ اس نے اپنا دکھ بیان کیا تو بادشاہ نے فرمایا: بیٹی فکر نہ کرو، اگر ڈولی اٹھے گی تو تمہاری نہیں اس کی۔ روایت کے مطابق بادشاہ نے بھیس بدلا، رات میں بنارس پہنچے، پنڈت کے گھر چھپے، اور لڑکی کی جگہ خود کو ڈولی میں بٹھا کر اس فاسق افسر کے گھر بھیجا۔ دروازہ بند ہوتے ہی بادشاہ نے عدل کا وہ نافذ کیا جو اس وقت ریاستی شریعت کے عین مطابق تھا۔ روایتوں میں اس افسر کو برطرفی اور سخت سزا دیے جانے کا ذکر آتا ہے۔ یہ واقعہ بلاشبہ اس عدل کی نمائندگی کرتا ہے جو حکومت کو خوفِ خدا سے مضبوط کرتا تھا نہ کہ شخصی طاقت سے۔

اسلام کا عدل ان تین واقعات تک محدود نہیں بلکہ پوری تاریخ میں اس کی لامحدود مثالیں بکھری پڑی ہیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ کے وہ فیصلے جنہیں ابن جوزی اور امام طبری نے نقل کیا ہے کہ جب قبطی غلام نے گورنرِ مصر کے بیٹے کی زیادتی کی شکایت کی تو سیدنا عمرؓ نے غلام کو فرمایا: انت صفعت ابن الأکرمین فاضربہ—"تم نے سب سے معزز باپ کے بیٹے کو مارا ہے، تو اب اسے مارنے کا پورا حق رکھتے ہو"۔ عدل کی یہ شان آج بھی عالمی قانون کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

اسی طرح سیدنا علیؓ اور ایک یہودی کے درمیان زرہ کا مقدمہ "کتاب الخراج" اور "سنن دارقطنی" میں مذکور ہے۔ قاضی شریح نے دلیل کا مطالبہ کیا، جو امیرالمؤمنین علیؓ کے پاس نہ تھا، چنانچہ فیصلہ ان کے خلاف آیا۔ عدل کا یہ معیار جب یہودی نے دیکھا تو اس کا ضمیر پکار اٹھا: یہ عدل انسانوں کا نہیں ہو سکتا اور وہ اسلام لے آیا۔

اسلامی عدل کی یہ نسل در نسل جاری روایت اس امر کی دلیل ہے کہ ریاستیں قانون کی قوت سے نہیں، انصاف کی روح سے قائم رہتی ہیں۔ جہاں قاضی آزاد ہو، حکمران جواب دہ ہو، اور کمزور پر ہاتھ اٹھانا جرمِ اعظم ہو—وہاں معاشرے پھلتے پھولتے ہیں۔

لیکن آج… جب ہم اپنے ہندوستانی عدالتی ماحول کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں، حالیہ فیصلوں کی صورت میں جو منظر سامنے آتا ہے وہ نہ صرف انسانیت کو زخمی کرتا ہے بلکہ تاریخ کے اس آئینے میں ہمیں اپنا چہرہ بھی دھندلا دکھائی دیتا ہے۔ جب عدالت عوام کی امیدوں کے بجائے طاقت کے دباؤ کا شکار ہو جائے تو یہ کسی ایک فیصلے کا نقصان نہیں ہوتا، یہ اعتماد کے ٹوٹنے کا وہ لمحہ ہوتا ہے جو پوری قوم کی بنیاد ہلا دیتا ہے۔

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ یک آواز ہو کر کہہ رہی ہے کہ عدل ہی ریاست کا ستون ہے۔ جہاں عدل قائم رہے وہاں قومیں محفوظ رہتی ہیں؛ اور جہاں عدل مٹ جائے وہاں دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے فیصلوں، نظاموں، اداروں اور معاشروں کو انہی روشن مثالوں کی روشنی میں پرکھیں—کیونکہ عدل کا چراغ بجھ جائے تو ظلم کی تاریکی کبھی اکیلی نہیں آتی، بلکہ پوری نسلوں کو اپنے سائے میں نگل لیتی ہے۔

پیر، 1 دسمبر، 2025

نور سے اندھیرے تک: نسلوں کے بدلنے کی وہ خاموش حقیقت جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں

 نور سے اندھیرے تک: نسلوں کے بدلنے کی وہ خاموش حقیقت جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں

مرتب: قاری ممتاز احمد جامعی

Email: majaamai@gmail.com


نسلوں کا سفر انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ ایمان وراثت میں منتقل نہیں ہوتا؛ اسے حفاظت، تربیت اور صالح ماحول کے سائے میں پروان چڑھانا پڑتا ہے۔ تاریخ میں ایسے کئی خاندان ملتے ہیں جن کے سفر کی ابتدا نور، علم اور دینداری سے ہوئی، مگر چند ہی نسلوں بعد وہ فکری اندھیروں میں گم ہوگئے۔ یہ معاملہ محض ایک نظری بحث نہیں؛ اس کی زندہ مثالیں ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔ جاوید اختر کا خانوادہ اسی حقیقت کا بین ثبوت ہے—وہ خاندان جس کی بنیاد علمِ دین، جہادِ آزادی اور اسلامی غیرت کے ستونوں پر رکھی گئی تھی۔ ان کے پردادا مولانا فضلِ حق خیرآبادیؒ وہ عظیم مجاہد اور بلند پایہ عالم تھے جنہوں نے 1857 میں انگریز کے خلاف تاریخی فتویٰ صادر کیا اور جنہیں برصغیر میں “شیخ الاسلام” کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی علمی قد آور شخصیت، استقامت اور خدمات ہماری دینی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ جاوید اختر کے دادا مضطر خیرآبادی بھی شعر و ادب کے باوقار نام اور دینی و تہذیبی وقار کے حامل تھے۔ ان کے والد جانثار اختر ممتاز شاعر تھے، مگر رفتہ رفتہ سوشلسٹ فکر کے زیرِ اثر مذہبی وابستگی کمزور پڑتی چلی گئی۔ اور یہی فکری زوال چند دہائیوں میں ایسے نقطے تک جا پہنچا کہ انہی نسلوں کے وارث جاوید اختر نے خدا کے وجود ہی کا انکار اپنا فکری تشخص بنا لیا۔ یہ پوری داستان اس حقیقت کی بڑی دلیل ہے کہ نسلوں کی فکری سمت بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

اسی طرح تسلیمہ نسرین کا پس منظر بھی اسلامی اخلاق اور مشرقی اقدار سے خالی نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں مذہب سے لاتعلقی کا کوئی تصور نہ تھا۔ ان کے والد ڈاکٹر رفیق الاسلام باوقار، تعلیم یافتہ اور با شعور انسان تھے جن کے گھر میں قرآن کی تلاوت، تہذیبی شائستگی اور خاندانی اقدار کی فضا موجود تھی۔ مگر ذہنی بغاوت، مغربی فکر کی یلغار، شہرت کی خواہش اور مذہب بیزار حلقوں کی حوصلہ افزائی نے انہیں اپنی بنیادی شناخت سے دور کر دیا—یہاں تک کہ مذہب پر حملہ ان کے اظہار کا انداز بن گیا۔

سلمان رشدی کا خاندانی ماحول بھی اسلام اور تہذیبی ادب سے ناآشنا نہ تھا۔ ان کے والد انوار رشدی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ، تہذیبی سلیقے اور ادبی ذوق رکھنے والے شخص تھے۔ گھر میں مشرقی آداب اور مذہبی احترام موجود تھا۔ مگر مغربی علمی دنیا کی چکاچوند، اس کے فکری جال اور نظریاتی غلامی نے انہیں ایسی تحریر لکھنے کی طرف دھکیل دیا جس نے پوری مسلم دنیا کے دل زخمی کیے۔

یہ تینوں مثالیں اس ناقابلِ انکار حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ اگر نسلوں کو دین کی روشنی اور ایمان کی نرم آنچ مہیا نہ کی جائے، اگر ان کے ذہن، فکر اور اخلاق کے نگہبان موجود نہ ہوں، اگر گھر کا ماحول ایمان کا محافظ نہ ہو—تو چند نسلوں کے اندر ایک خاندان کی فکری بنیادیں مکمل طور پر ڈھل سکتی ہیں۔ اسلام کسی شاعر، ادیب، مفکر یا خاندان کا محتاج نہیں۔ اللہ کی ربوبیت اور دینِ حق کی شان کسی ایک فرد یا خاندان کے انکار سے نہ کبھی کم ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ خسارہ تو اسی شخص اور اس کی نسلوں کا ہے جو اپنے ہاتھوں اپنی آخرت کا چراغ بجھا بیٹھے۔

اسی پس منظر میں 20 دسمبر 2025 کو دہلی میں ہونے والا مکالمہ “Does God Exist?” غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک جانب جاوید اختر ہیں—جن کے فکری ڈھانچے کی بنیاد خدا کے انکار پر قائم ہے، اور دوسری جانب مفتی شمائل ندوی—جو وحی، عقلِ سلیم اور علمی استدلال کی روشنی میں خدا کے وجود کا مضبوط مقدمہ پیش کرنے والے محقق و عالم ہیں۔ یہ محض دو شخصیات کی بحث نہیں؛ یہ دو نظریات کا ٹکراؤ ہے: ایک طرف الحاد، شک اور مادیت کی تاریکی؛ دوسری طرف ایمان، فطرت، وحی اور عقل کا نور۔

یہ زمانہ ہمیں مسلسل یاد دہانی کرا رہا ہے کہ اپنی نسلوں کی حفاظت کیجیے۔ انہیں قرآن و سنت سے جوڑیے، صالح ماحول دیجئے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت دلوں میں بٹھائیے۔ اگر تربیت کا چراغ بجھ گیا اور گھر کا ماحول ایمان کا نگہبان نہ رہا تو وہی حالات دہرائے جائیں گے—چند نسلوں میں ایمان کمزور پڑتا جائے گا، اور لوگ وہاں پہنچ جائیں گے جہاں خدا کے انکار پر فخر کیا جاتا ہے۔

اس لیے غور کیجیے… سوچئے… اپنے گھرانے کے مستقبل کی ذمہ داری سنبھالیے۔ ایمان کی حفاظت علم، تربیت اور نیک ماحول سے ہوتی ہے۔ ورنہ نسلوں کا بدل جانا وقت کا محتاج نہیں ہوتا۔


جمعہ، 28 نومبر، 2025

فسطائیت کی زد میں… جامعہ اشاعت العلوم

 فسطائیت کی زد میں… جامعہ اشاعت العلوم


 قاری ممتاز احمد جامعی 

majaamai@gmail.com

جامعہ اشاعت العلوم کا ذکر آتے ہی ذہن میں ایک ایسے روشن چراغ کی تصویر ابھرتی ہے جس نے برسوں سے علم، خدمت اور انسانی وقار کی شمعیں جلائے رکھیں۔ لیکن آج اس چراغ پر سیاسی یلغار کا سایہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ قومیں جب اپنی تاریخ کے تاریک ترین دور سے گزرتی ہیں تو ظلم کی کئی شکلیں سامنے آتی ہیں—کبھی انسانی حقوق پر شب خون، کبھی آئین کی روح کا گلا گھونٹنا، کبھی اقلیتوں کو حاشیے پر دھکیلنا، اور کبھی اُن تعلیمی مراکز کو نشانہ بنانا جو دراصل کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ آج بھارت کا ماحول اسی گھٹن اور اسی بے چینی سے بوجھل ہے، اور اسی بوجھ کے نیچے وہ ادارے بھی کراہ رہے ہیں جنہوں نے دہائیوں تک سماج کے کمزور طبقات کو امید، تحفظ اور شعور فراہم کیا۔

انہی عظیم اداروں میں سے ایک، جامعہ اشاعت العلوم اکل کُوا، اس وقت ایک ایسی یلغار کا سامنا کر رہا ہے جس کی نہ بنیاد ہے، نہ جواز، نہ اخلاقی وزن۔ یہ بات کسی بھی صاحبِ شعور کے لیے ناقابلِ برداشت ہے کہ ایک ایسا مرکز، جو چالیس پچاس سال سے زائد عرصے سے قوم اور انسانیت کی خاموش مگر عظیم خدمات سرانجام دیتا آیا، اسے آج سیاسی چنگیزیت کے نرغے میں لے لیا جائے۔ یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ ایسے اداروں پر حملے ہمیشہ سیاسی ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ظلم کے مقابلے میں باشعور نسل تیار کرتے ہیں، اور باشعوری ہمیشہ فسطائیت کے لیے خطرہ ہوتی ہے۔

جامعہ کا سفر ایک چھوٹی سی جھونپڑی اور چند طلبہ سے شروع ہوا تھا، لیکن چند دہائیوں میں یہ ایک ایسے تعلیمی شہر میں تبدیل ہو گیا جس نے دینی تعلیم، عصری تعلیم، میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبے، یتیم خانے، ہاسٹل، فلاحی مراکز اور انتظامی ڈھانچے کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو نئی سمت دی۔ یہ محض ایک مدرسہ نہیں تھا؛ یہ مسلمانوں کے تعلیمی وجود کی علامت بن چکا تھا۔ اس نے ہندوستانی سماج کو یہ پیغام دیا کہ مسلمان محروم نہیں—بلکہ مستقبل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ عظیم سفر حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ کی قیادت اور بصیرت کا نتیجہ تھا۔ وہ ایسے باوقار، باصلاحیت اور بے خوف قائد تھے جنہوں نے علم کے راستے کو خدمت، انسانیت اور اصول کے ساتھ جوڑا۔ وہ ایک ایسا مضبوط ستون تھے کہ جن کے دور میں کسی سیاسی طاقت، کسی آر ایس ایس ذہنیت یا کسی حکومتی ایجنسی کو یہ ہمت نہ تھی کہ ادارے پر میلی نگاہ ڈال سکے۔ ان کی دیانت، نظم، شفافیت اور جرأت خود ایک ڈھال بنی رہتی تھی۔ یہ انہی کا جذبہ اور انہی کی بنیادیں تھیں جنہوں نے اس ادارے کو ریاستی و سماجی سطح پر اعتماد کا سرچشمہ بنا دیا۔

مولانا کے انتقال کے بعد ادارہ ان کے صاحبزادے مولانا حذیفہ وستانوی کے زیرِ نظم ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ کام وہی اصول، وہی ترتیب، وہی شفافیت اور وہی انتظامی ڈھانچہ کے ساتھ جاری ہے جو حضرت وستانویؒ نے قائم کیا تھا۔ اس لیے کسی بھی طرح کی کارروائی، تفتیش یا الزامت کو انتظامی کمزوری یا بدعنوانی کے ساتھ جوڑنا سراسر ظلم ہے۔ یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ یہاں نظم و ضبط موجود ہے، حساب کتاب موجود ہے، شفافیت موجود ہے—پھر بھی نشانہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں، اور اسی میں چھپا ہے اصل سیاسی کھیل۔

سوال یہ ہے کہ ایک ایسا ادارہ جو مذہبی نہیں، سیاسی نہیں، ٹکراؤ کا مرکز نہیں، بلکہ خالص تعلیمی اور فلاحی کردار ادا کر رہا ہے—آخر اسے نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ ایک ایسا ادارہ جو غریب بچوں کو تعلیم دے رہا ہے، یتیموں کو سہارا دے رہا ہے، قبائلی بچوں کو عزت دے رہا ہے، سماج کے پسماندہ طبقات کو اٹھا رہا ہے—وہ کس جرم کی سزا کاٹ رہا ہے؟ اس کا جواب ایک ہی ہے: خوف۔ وہ طاقتیں جو اقلیتوں، دلتوں، غریبوں، قبائلیوں اور کمزور طبقات کو تعلیم یافتہ نہیں دیکھنا چاہتیں، وہ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں علم کی روشنی ظلم کے ایوانوں میں دراڑیں نہ ڈال دے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں کو سب سے پہلے نشانہ بنایا جاتا ہے، کیونکہ ظالم جانتا ہے کہ تعلیم یافتہ قوم کبھی غلام نہیں رہتی۔

یہ تفتیشیں، یہ کارروائیاں، یہ پروپیگنڈے—یہ سب دراصل اسی بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد اقلیتوں کو ذہنی، سماجی اور تعلیمی طور پر کمزور رکھنا ہے۔ آج جب آئین لہولہان ہے، جمہوریت کمزور پڑ چکی ہے، دلت مسلمان مسلسل نشانے پر ہیں، تب ایسے اداروں پر یلغار کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی ہے۔ ظلم کے ایوان چاہتے ہیں کہ یہ چراغ بجھ جائیں، یہ تعلیمی پرچم سر نہ اٹھا سکیں، اور قوم ایک بار پھر پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیل دی جائے۔

لیکن یہ بھی تاریخ کا اٹل اصول ہے کہ علم کے چراغ بجھائے نہیں جا سکتے۔ ظلم کی گرم ہوا انہیں کچھ دیر کے لیے لرزا ضرور سکتی ہے مگر بجھا نہیں سکتی۔ اور جامعہ اشاعت العلوم جیسا ادارہ، جو خدمت، اخلاق، شفافیت اور اصولوں پر قائم ہے، اسے کسی بھی سیاسی یلغار سے دبایا نہیں جا سکتا۔

آج جب ہم حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ کو یاد کرتے ہیں تو دل گواہی دیتا ہے کہ وہ ہوتے تو کوئی طاقت اس ادارے پر ہاتھ نہ ڈال سکتی۔ لیکن ان کی غیر موجودگی میں بھی یہ ادارہ کمزور نہیں—صرف ہم کمزور ہیں، بکھرے ہوئے ہیں، منتشر ہیں۔ اور یہی وقت ہے کہ ہم یہ طے کر لیں کہ علم کے چراغ کے ساتھ کھڑے رہنا ہے، ظلم کے مقابلے میں خاموش نہیں رہنا۔

کیونکہ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے:

ادارے باقی رہتے ہیں… ظلم باقی نہیں رہتا۔


اتوار، 16 نومبر، 2025

اتنی بد احتیاطی" کا پس منظر — ودود ساجد کی تحریر پر ایک حقیقت پسندانہ اور مدلل تبصرہ


اتنی بد احتیاطی" کا پس منظر — ودود ساجد کی تحریر پر ایک حقیقت پسندانہ اور مدلل تبصرہ


ودود ساجد صاحب کی تحریر بظاہر مسلمان نوجوانوں کو احتیاط اور سمجھ داری کا مشورہ دیتی ہے، اور یہ مشورہ اپنی جگہ بجا بھی ہے۔ لیکن اس مشورے کے پیچھے چھپے بڑے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ آخر ایک ایسے ملک میں جہاں ریاستی طاقت، حکومتی ادارے، پولیس، اور اکثریتی سیاست کی پوری مشینری برسوں سے اقلیتوں کے خلاف کارفرما ہو—صرف کمزور طبقے کو ہی بداحتیاطی کا سبق کیوں دیا جاتا ہے؟ مسئلہ نوجوانوں کی جذباتی پوسٹس کا نہیں، مسئلہ اس وسیع تر ریاستی رویے کا ہے جو آزاد بھارت کی پوری تاریخ میں بار بار دہرایا گیا۔


یہ دھارا آج کا نہیں، دہائیوں پر محیط ہے۔ 1987 کا ہاشم پورہ آج بھی گواہی دیتا ہے کہ کس طرح ریاستی وردی میں ملبوس اہلکاروں نے مسلمانوں کو لائن میں کھڑا کرکے گولیوں سے بھون دیا۔ میرٹھ، مرادآباد، علی گڑھ, ممبئی، سورت، بھاگلپور اور پھر 2002 کا گجرات—یہ سب واقعات اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہاں "بداحتیاطی" ہمیشہ کمزور کے کھاتے میں ڈالی گئی، مگر ظلم اور زیادتی کا بوجھ کبھی طاقتور پر نہیں ڈالا گیا۔ مظفر نگر 2013 ہو یا دہلی 2020—ریاست کی خاموشی اور انتظامیہ کی شراکت داری کا نقشہ بار بار دہرا نظر آتا ہے۔


ودود ساجد کے مضمون میں جن واقعات کا حوالہ ہے، وہ اس رویے کو اور نمایاں کرتے ہیں۔ آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا یہ کہنا کہ وہ مسلمانوں کی ہر پوسٹ دیکھ رہے ہیں اور سب کے اسکرین شاٹس محفوظ کیے جا رہے ہیں، ایک جمہوری ریاست میں خوف پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ کیا وزیراعلیٰ کا کام شہریوں کی سوشل میڈیا نگرانی ہے؟ یا یہ کام ریاستی ایجنسیوں کے اختیار میں ہوتا ہے؟ یہ حقیقت بتاتی ہے کہ ریاستی طاقت کو امن و قانون کی خاطر نہیں، بلکہ ایک مخصوص طبقے کی زبان بند کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔


اسی تناظر میں سلچر آسام کا واقعہ بھی سامنے آتا ہے جہاں ایک سبکدوش اسکول پرنسپل کو محض "الیکشن اسٹنٹ" لکھنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ جرم نہیں تھا—یہ ریاستی عدم برداشت تھی۔ دیوبند کے ہندو انسپکٹر کو “آتنک واد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا” کہنے پر لائن حاضر کر دینا اس بات کی علامت ہے کہ اس ملک میں انصاف پسندی بھی سزا بن جاتی ہے۔ پھر مہاراشٹر میں ایک عمر رسیدہ ٹیچر کو ”جے شری رام“ نہ بولنے پر تذلیل کرتے ہوئے گھٹنوں کے بل جھکایا گیا—یہ صرف بداخلاقی نہیں بلکہ ایک تہذیبی پیغام ہے کہ اقلیت کو سر جھکا کر ہی جینا ہوگا۔


ان واقعات کے درمیان یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ اعلان کہ "ہم جنوری–فروری میں مئی–جون جیسی گرمی لے آئیں گے" سیاسی زبان سے زیادہ دھمکی کی زبان ہے۔ یہ وہ جملے ہیں جو ایک عام نوجوان کو نہیں، بلکہ ایک ریاستی سربراہ کو زیب دیتے ہیں، مگر تعجب یہ ہے کہ احتیاط کے لیکچر ہمیشہ کمزور کو ملتے ہیں اور طاقتور کو کبھی نہیں۔


اویسی نے کشمیر میں انکاونٹر کے بعد پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا تھا کہ اگر لاکھوں لوگ کسی مقتول کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کی گورننس ہی لوگوں کے دل جیتنے میں ناکام ہے۔ یہی سوال آج پورے بھارت پر لاگو ہوتا ہے کہ جب ریاست انصاف نہیں دے گی تو بداعتمادیاں تو بڑھیں گی ہی۔


یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں کو اصول پر چلتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری کب قبول کرے گی؟ جب پورا نظام اکثریتی سیاست کے ہاتھوں یرغمال ہو، جب میڈیا نفرت بیچے، جب ایجنسیاں مخصوص زاویے سے کام کریں، جب ہر مثبت آواز کو سزا ملے، تو صرف اقلیت سے احتیاط کا مطالبہ حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔


حقیقت یہی ہے کہ آج کے بھارت میں اقلیت مجرم نہیں—بلکہ مسلسل نشانے پر رہنے والی مظلوم اکائی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو بچانے، اپنے گھروں کو محفوظ رکھنے، اور اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ طاقت کے سرچشمے اسے دبانے کے لیے متحد اور سرگرم ہیں۔ ایسے میں ودود ساجد کا مشورہ اپنی جگہ مگر پوری تصویر صرف اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب ریاست کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے، کیونکہ بداحتیاطی اگر کہیں سب سے زیادہ خطرناک ہے تو وہ ریاستی سطح پر ہے، نہ کہ ایک نوجوان کے موبائل اسکرین پر۔


اور اصل سوال یہی ہے کہ آخر کب تک اقلیتوں کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہے گا؟ کب تک نوجوانوں کی زبان بند کی جائے گی اور کب تک طاقتوروں کے خطرناک بیانات پر خاموشی اختیار کی جائے گی؟ جب تک یہ سوال زندہ ہے، تب تک احتیاط کے ساتھ ساتھ اجتماعی بیداری، تاریخی شعور، اور منظم فکری جدوجہد کی ضرورت باقی رہے گی۔


✍️ قاری ممتاز احمد جامعی


بدھ، 5 نومبر، 2025

انڈیا الائنس اور اویسی کی عدم شمولیت — سیاسی خوف یا فکری کمزوری؟

 انڈیا الائنس اور اویسی کی عدم شمولیت — سیاسی خوف یا فکری کمزوری؟
✍️ قلم: قاری ممتاز احمد جامعی
📧 majaamai@gmail.com

ہندوستانی سیاست میں اتحاد، مفاد اور نظریات کا ملاپ ہمیشہ ایک پیچیدہ معاملہ رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں انڈیا گٹھ بندھن (INDIA Alliance) کے قیام کے بعد یہ سوال شدت سے ابھرا ہے کہ اگر یہ اتحاد واقعی جمہوریت اور سیکولرزم کا علمبردار ہے، تو پھر اویسی جیسی آئینی اور عوامی آواز کو اس سے باہر کیوں رکھا گیا؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انڈیا الائنس میں شامل بڑی جماعتیں، خصوصاً کانگریس، آر جے ڈی، مکیش سہنی کی پارٹی، اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اگر اویسی کو اتحاد میں شامل کیا گیا تو بی جے پی اور آر ایس ایس اس پر “اقلیت نواز سیاست” کا الزام لگا کر ہندو ووٹوں کو متحد کر لیں گی۔ یہی خوف ان جماعتوں کی سب سے بڑی کمزوری بن چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر بی جے پی کا پروپیگنڈہ ہی آپ کے فیصلوں کو طے کرے تو پھر آپ بی جے پی سے مختلف کب ہیں؟ سیکولرزم اگر واقعی اصول ہے تو اسے “ہندو ردِعمل کے خوف” سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ماضی میں اویسی خاندان اور ان کی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کانگریس حکومتوں کے ساتھ اندرونی سطح پر شاملِ اقتدار رہی ہے۔ وہی کانگریس، جو کبھی انہیں “جمہوری پارٹنر” مانتی تھی، آج انہیں “سیاسی اچھوت” سمجھتی ہے۔ یہ تضاد دراصل نظریاتی نہیں بلکہ وقتی مفاد اور خوف پر مبنی رویے کی علامت ہے۔ اگر کل اویسی کی موجودگی سیکولرزم کے منافی نہ تھی، تو آج وہ اچانک کیوں بن گئی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب انڈیا الائنس کے کسی رہنما کے پاس نہیں۔

عملی سیاست میں ضروری نہیں کہ ہر جماعت تحریری طور پر اتحاد میں شامل ہو۔ اگر انڈیا الائنس واقعی فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کے لیے مخلص ہوتا، تو کم از کم اخلاقی و انتخابی سمجھوتے کی بنیاد پر اویسی کو ان کے اثر والے علاقوں — مثلاً سیمانچل، کشن گنج، ارریہ، کٹیہار — کی چند سیٹوں پر آزادانہ لڑنے دیا جاتا، اور بقیہ حلقوں میں باہمی حمایت و مہم کے ذریعے ایک مضبوط مشترکہ حکمتِ عملی تیار کی جاتی۔ اس سے عوام میں یہ تاثر قائم ہوتا کہ اتحاد واقعی سب کو ساتھ لے کر چلنے کا حوصلہ رکھتا ہے، نہ کہ محض “مسلمان ووٹ لینے” کے لیے دکھاوے کی سیاست کر رہا ہے۔

اویسی کو اکثر “ووٹ کٹر” کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ آئینی حقوق، تعلیمی انصاف، اور اقلیتوں کی نمائندگی کے سوالات اٹھاتے آئے ہیں۔ اگر انڈیا الائنس انہیں نظرانداز کرتا ہے، تو دراصل یہ اویسی کے اثر و فکر کی قبولیت ہے، جسے وہ زبان سے تسلیم کرنے سے جھجھکتے ہیں۔ اویسی کی سیاست مذہب نہیں، بلکہ آئین کے اس جملے “We the People of India” کی عملی تعبیر ہے۔ انہیں اتحاد سے باہر رکھنا دراصل آئینی سیاست کی سب سے مضبوط مسلم آواز کو خاموش کرنے کے مترادف ہے۔

تاہم اویسی پر یہ الزام بھی درست ہے کہ ان کے بعض بیانات اور طرزِ تقریر میں تضاد پایا جاتا ہے۔ وہ حیدرآباد یا سیمانچل جیسے اپنے مضبوط علاقوں میں جب تیز لہجے میں تقریر کرتے ہیں تو یہ نہیں سوچتے کہ ملک کے دوسرے حصوں میں، جہاں کمزور مسلمان ہندوتوا اکثریت کے درمیان رہتے ہیں، ان کے الفاظ کا کیا اثر ہوگا۔ ایک پرانی اور تجربہ کار سیاسی جماعت سے یہ تیز رفتاری اور بے احتیاطی ناقابلِ فہم ہے۔ ان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی تقاریر کے اثرات پر غور کریں، کیونکہ بعض اوقات ایک درست بات بھی غلط موقع یا غیر مناسب لہجے میں کہی جائے تو نقصان دہ بن جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ انڈیا الائنس کی قیادت جمہوریت کی بقا کے لیے سرگرم ہے یا محض اقتدار کے لیے ایک نیا چہرہ تیار کر رہی ہے؟ اگر نیت واقعی خالص ہوتی تو اویسی جیسے رہنما کو کم از کم مشترکہ پلیٹ فارم پر مدعو کیا جاتا، تاکہ ملک کے سامنے یہ پیغام جائے کہ یہ اتحاد محض بی جے پی کا متبادل نہیں بلکہ فکری سطح پر ایک بہتر راستہ ہے۔ مگر یہاں بھی سیاسی خودغرضی اور خوف غالب آ گیا — سیکولرزم صرف نعرہ رہا، جبکہ عملی سیاست پر ہندوتوا کے ردِعمل کا سایہ چھایا رہا۔

نتیجہ یہ ہے کہ اویسی کو الگ رکھ کر انڈیا الائنس نے اپنی “شمولیت” (Inclusiveness) کی بنیاد کمزور کر دی ہے۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر سیاسی حساب سے فائدہ مند لگ سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہی کمزوری اس کے زوال کا سبب بنے گی۔ کیونکہ جو اتحاد خوف، مفاد اور تاثر کے دباؤ پر کھڑا ہو، وہ کبھی قوم اور ضمیر دونوں کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔

آخر میں سوال باقی رہ جاتا ہے —
کیا انڈیا الائنس واقعی بی جے پی کا متبادل بننا چاہتا ہے،
یا وہ صرف بی جے پی کے خوف سے چلنے والا ایک نیا چہرہ ہے؟

منگل، 4 نومبر، 2025

بہار الیکشن 2025: جمہوریت کا امتحان اور عوام کی بے حسی

بہار الیکشن 2025: جمہوریت کا امتحان اور عوام کی بے حسی

قلم: قاری ممتاز احمد جامعی
📧 majaamai@gmail.com

بہار میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں اب صرف دو روز باقی ہیں، اور دوسرا مرحلہ 11 نومبر کو ہوگا۔ سیاسی فضا میں جوش ہے، لیکن ہوش کا فقدان نمایاں ہے۔
ایک طبقہ مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی کے دلدل میں جکڑا ہوا این ڈی اے کے ساتھ ہے۔ دوسرا طبقہ اگرچہ خود کو سیکولر مزاج کہتا ہے، مگر حالیہ نقل و حرکت سے اس کے جھکاؤ میں بھی ہندوتوا کی پرچھائیں صاف دکھائی دیتی ہے۔ تیسرا حلقہ، جس میں اویسی یا آزاد امیدواروں کے حامی شامل ہیں، انتشار کا شکار ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد تعلیم، روزگار اور سیاسی شعور سے محروم ہے۔ وہ جمہوریت کے اصل مفہوم — عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے — کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ خود اپنے اعمال سے اس پستی میں گرتا جا رہا ہے۔ کیونکہ جمہوری نظام میں طاقت کا اصل محور عوام ہی ہوتے ہیں۔

ایسے میں باشعور، تعلیم یافتہ اور اخلاقی ذمہ داری کا احساس رکھنے والا طبقہ، جو تعداد میں نہایت قلیل ہے، ایک سخت امتحان سے گزر رہا ہے۔ وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں — نظام درہم برہم ہے، انصاف بے وزن، اور عوامی شعور منجمد۔ مگر جمہوری دائرے میں وہ بے بس ہیں۔

حال ہی میں ایک معتبر صحافی سوربھ شکلا (سابق اینکر NDTV، بانی The Red Mic) نے مکامہ، بہار میں چند نوجوانوں سے انٹرویو کے دوران یہ افسوسناک منظر پیش کیا کہ بیروزگاری، بدعنوانی اور جہالت کے باوجود نوجوان اپنے حال میں مست ہیں۔ اس گفتگو نے واضح کر دیا کہ سماج کا زوال صرف حکومت کی ناکامی نہیں، بلکہ عوامی بے حسی اور فکری دیوالیہ پن کا نتیجہ ہے۔

فرقہ پرست ہندوتوا نظریہ اپنی مرکزی طاقت اور نتیش کمار کے تعاون سے بہار کے اقتدار پر کم و بیش بیس سال تک قابض رہا، مگر نہ بنیادی حقوق میں کوئی حقیقی پیش رفت ہوئی، نہ صوبے کی ترقی میں کوئی واضح پہل۔
مرکزی سطح پر بھی ان کے عزائم عوامی ترقی کے بجائے مذہبی تفرقے، نفرت، اور ہندو مسلم فتنہ و فساد کے فروغ پر مبنی رہے ہیں۔
ان کے سیاسی خواب اور آئندہ عزائم بھی خون اور تقسیم سے لبریز دکھائی دیتے ہیں۔

ایسے میں ایک باشعور شہری کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ امیدوار کی ذات یا ذاتی زندگی پر نہیں بلکہ اس کے نظریے اور جماعتی پس منظر پر ووٹ دے۔
اگر بہار کے عوام واقعی امن، تعلیم، انصاف اور ترقی چاہتے ہیں، تو انہیں فرقہ پرست جماعتوں کے بجائے سیکولر امیدواروں کو ووٹ دینا ہوگا — تاکہ جمہوریت کے نام پر نفرت کا کاروبار کرنے والوں کے مکروہ عزائم کو روکا جا سکے۔

جمعرات، 30 اکتوبر، 2025

میتھلی ٹھاکر اور نسوانی وقار کی سیاست

 میتھلی ٹھاکر اور نسوانی وقار کی سیاست


قلم: قاری ممتاز احمد جامعی

majaamai@gmail.com 

گزشتہ دنوں ایک سوال میڈیا اور عوامی حلقوں میں بڑے زور و شور سے گردش کر رہا ہے —

"سیاست میں آنے کے بعد میتھلی ٹھاکر کا مستقبل کیا ہوگا؟"

یہ سوال محض سیاسی تجسس نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی اندیشہ بھی ہے۔

کیونکہ جب فنکار اپنی خالص تخلیقی دنیا سے نکل کر اقتدار کی گلیوں میں قدم رکھتا ہے تو اکثر فن کی صداقت، اخلاق کی نرمی، اور عوامی اعتماد سیاست کی گرد میں دب جاتے ہیں۔

یہی احساس اس مضمون کو لکھنے کا اصل محرک ہے — کہ میتھلی ٹھاکر جیسے ایک شفاف فنکارانہ وجود کو سیاست کی حرارت میں جلنے سے پہلے آئینہ دکھایا جائے۔


میتھلی ٹھاکر — دربھنگہ کی ایک باصلاحیت، کم سن، اور خوش آہنگ گلوکارہ — جنہوں نے اپنی نرم دھنوں، متوازن لب و لہجے اور تہذیبی خلوص سے بہار کی لوک روایت کو نئی زندگی بخشی۔ وہ میتھلی، بھوجپوری اور ہندی لوک گیتوں کے ذریعے نہ صرف دربھنگہ بلکہ پورے بھارت میں مقبول ہوئیں، اور نئ نسل کے لیے اپنی مادری زبان و ثقافت سے جڑنے کی ایک روشن مثال بن گئیں۔


لیکن جب اسی میتھلی ٹھاکر نے سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے آر ایس ایس و بی جے پی کے پلیٹ فارم سے ودھان پریشد کی امیدواری قبول کی، تو ان کے چاہنے والوں کے درمیان ایک گہری فکری بحث چھڑ گئی۔

کیوں کہ وہ جماعت جس نے “سنسکرتی” اور “ناری شکتی” کے نام پر قوم کو نعرے دیے، اسی کے اندر عورتوں کی عزت و وقار بارہا پامال ہوا۔


گزشتہ برسوں میں بی جے پی اور اس سے وابستہ رہنماؤں کے خلاف جنسی ہراسانی، بدسلوکی اور طاقت کے ناجائز استعمال کے متعدد سنگین واقعات منظرِ عام پر آئے۔

سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر پر دو درجن سے زائد خواتین صحافیوں نے دورانِ ملازمت جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ بالآخر عدالت نے متاثرہ خاتون کے حق میں فیصلہ دیا اور اکبر کو وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔

اتر پردیش میں کُلدیپ سنگھ سینگر، جو بی جے پی کے سابق ایم ایل اے تھے، ایک نابالغ لڑکی سے زیادتی کے جرم میں عدالت سے عمر قید کی سزا پا چکے ہیں۔

اسی طرح بی جے پی کے رکن پارلیمان بِرج بھوشن شرن سنگھ پر متعدد خاتون پہلوانوں نے جنسی استحصال کے سنگین الزامات لگائے، جن پر عدالتی چارچ شیٹ دائر ہو چکی ہے۔

ہتھرس کے لرزہ خیز واقعے میں مظلوم دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ عصمت دری اور قتل کے بعد بی جے پی کے مقامی رہنماؤں اور پولیس کے رویّے نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا۔

یہ تمام واقعات ایک ایسی تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طاقت اور مذہبی قوم پرستی کے امتزاج نے عورت کی عزت کو نعرہ تو بنا دیا، مگر عمل میں اس کے وقار کو سب سے زیادہ مجروح کیا۔


ایسے سیاسی ماحول میں میتھلی ٹھاکر جیسی باعزت اور فنکارانہ پہچان رکھنے والی خاتون کا بی جے پی سے وابستہ ہونا محض سیاسی قدم نہیں بلکہ ایک اخلاقی آزمائش ہے۔

فن و ثقافت کی دنیا میں ان کا مقام اس لیے نمایاں تھا کہ وہ “مقامی روایت اور نسوانی شرافت” کی ترجمان تھیں، مگر اب ان کی شناخت ایک ایسی جماعت کے سیاسی رنگ میں رنگنے جا رہی ہے جس کے ماضی پر عورتوں کی تذلیل کے داغ ثبت ہیں۔


فنکار کا سب سے بڑا سرمایا اس کا وقار اور عوامی اعتماد ہوتا ہے۔

اگر وہ سیاسی طاقت کے سائے میں اپنی آواز کو مصلحت کے خول میں چھپا لے، تو وہ صرف اپنی ذات نہیں، بلکہ پوری تہذیبی روایت کا نقصان کرتی ہے۔

میتھلی ٹھاکر کے لیے اصل کامیابی یہ نہ ہوگی کہ وہ ایوانِ اقتدار تک پہنچ جائیں، بلکہ یہ ہوگی کہ وہ اپنی اس فنّی اور اخلاقی شناخت کو برقرار رکھ سکیں جس نے انہیں عوام کے دلوں میں زندہ رکھا۔


سیاسی میدان میں ان کا یہ قدم یقینی طور پر ایک موڑ ہے — مگر اس موڑ پر انہیں فیصلہ خود کرنا ہوگا کہ وہ “بی جے پی امیدوار” بن کر یاد کی جائیں گی یا “میتھلی گائیکی کی تہذیبی روح” کے طور پر۔

ان کے لیے میرا مخلصانہ پیغام یہ ہے کہ وہ اپنی آواز، فن، اور نسوانی وقار کو کسی سیاسی مفاد کے تابع نہ کریں۔

اقتدار کی گلیاں وقتی ہوتی ہیں، مگر عوامی دلوں کی گونج ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

اگر وہ اپنی فطری سادگی اور فنکارانہ دیانت کو محفوظ رکھ سکیں تو وہ سیاست نہیں، قوم و تہذیب کی بیٹی کے طور پر ہمیشہ یاد کی جائیں گی۔



منگل، 28 اکتوبر، 2025

**بہار کے انتخاب اور جمہوریت کی روح:سیاسی شعور، انصاف پسند طبقہ، اور اقلیتوں کا حقیقی تحفظ**

**بہار کے انتخاب اور جمہوریت کی روح:

سیاسی شعور، انصاف پسند طبقہ، اور اقلیتوں کا حقیقی تحفظ**
✍️ قاری ممتاز احمد جامعی
majaamai@gmail.com 

گزشتہ دنوں معروف مفکر و دانشور مولانا عبد الحمید نعمانی کا ایک بصیرت افروز مضمون روزنامہ انقلاب میں شائع ہوا جس میں انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان — “سیاسی اسلام نے سناتن آستھا پر کاری ضرب لگائی ہے” — کے پس منظر میں بھارتی سیاست کے بدلتے مزاج کا گہرائی سے تجزیہ کیا۔
نعمانی صاحب نے بجا فرمایا کہ بہار کا اسمبلی انتخاب اس وقت ہندوستان میں سوشلسٹ سیاست کا آخری قلعہ ہے۔ اگر یہ قلعہ منہدم ہو گیا تو ملک کی سیاست ایک خطرناک سمت اختیار کر لے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اقتدار کی تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی نہیں ہوتی، بلکہ پورے نظام کی سمت بدل دیتی ہے۔ آج کے حالات میں "مسلم وزیر اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ" کا نعرہ کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتا، کیونکہ سیاسی طاقت کے تمام محور ایک خاص نظریاتی طبقے کے قبضے میں ہیں۔

انہوں نے بہار کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ 18/19 مسلم ارکانِ اسمبلی ہونے کے باوجود حالات میں کوئی بنیادی فرق نہیں آیا، البتہ اسامہ شہاب کی کامیابی اگر یقینی ہو جائے تو سیوان کے شہاب الدین دور کی ایک نئی بازگشت پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر بہار کے مسلمانوں، خصوصاً سیمانچل کے عوام کو جذباتی نعروں کے بجائے سیاسی شعور سے کام لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ سرکار میں بی جے پی کے بڑھتے غلبے کے بعد “گھس پیٹھ” جیسے ایشوز کو پھر سے انتخابی ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔

یہ تجزیہ حقیقتاً موجودہ منظرنامے کا آئینہ دار ہے۔ میں خود اسی رائے سے متفق ہوں کہ ایک سیکولر جمہوری ملک میں اقلیتوں کے مسائل کلیدی عہدوں یا نمائندگی سے حل نہیں ہوتے۔
یہ عہدے ہمیشہ اکثریتی فرقہ کے ریڈار پر رہتے ہیں، اور جب چاہا، قانونی موشگافیوں کا سہارا لے کر ان عہدہ داروں کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔
ہمارے سامنے زندہ مثالیں ہیں — اعظم خان سے لے کر عتیق احمد، شہاب الدین سے اشرف تک — جن کی سیاسی یا سماجی حیثیت کو “قانون” کے نام پر مٹا دیا گیا۔

درحقیقت مسلمانوں کے حقوق کو جس عہدے سے محفوظ سمجھنے کی غلطی ہو رہی ہے، وہ تاریخ کا سب سے بڑا فریب ہے۔
افسر ہو یا ملازم، یا سیاسی گلیاروں کا بادشاہ — سبھی کو وقت آنے پر کسی نہ کسی بہانے ٹھکانے لگا دیا گیا، کبھی فرضی انکاؤنٹر سے، کبھی فریبِ قانون سے۔
یہ سلسلہ صرف بڑے ناموں تک محدود نہیں؛ ابھی حال ہی میں سمستی پور کلکٹریٹ میں ایک مسلم ملازم کو اس کے سینیئر افسر نے ڈاڑھی پکڑ کر نوچ مارا، اور انصاف کے بجائے خاموشی مسلط کر دی گئی۔
ایسا لگتا ہے جیسے پورا طبقہ اپنی ہی حفاظت میں ڈرا سہما، مظلوم بن کر جینے پر مجبور ہے۔
جب انسان اپنی ذات کے تحفظ میں خوف زدہ ہو تو وہ قوم کے مفاد کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
پھر کہاں کا “قائد”، کہاں کا “وزیر”، اور کہاں کے “حقوق”!
سوال یہ ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جہاں مسلمان محض ۲ فیصد ہیں، وہاں کون سا قائد ہے؟
پھر بھی وہاں کے مسلمان قانون، عزت اور امن کے ساتھ کیوں جی رہے ہیں؟
وجہ یہی ہے کہ وہاں کے نظام میں انسان کی پہچان مذہب نہیں، بلکہ صلاحیت، قانون، اور مساوات ہے — جو سچی جمہوریت کی بنیاد ہے۔

دوسری طرف جب ہم دنیا کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یورپ، امریکہ، اور دیگر غیر ایشیائی ممالک میں مسلمان محض ۲ فیصد ہونے کے باوجود قانونی تحفظ، تخصص، اور سماجی احترام کے ساتھ ترقی کر رہے ہیں۔
وجہ صاف ہے: وہاں کے ادارے اب بھی جمہوریت کی اصل روح — مساوات و انصاف — کو کچھ حد تک محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔
مگر بھارت میں آر ایس ایس نے اس جمہوریت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا۔
اس نے اپنے نظریاتی کارکنوں کو پولیس، عدلیہ، میڈیا، اور تعلیم سمیت ہر ادارے میں داخل کر کے ریاست کو ایک مخصوص فسطائی ذہنیت کے تابع بنا دیا ہے۔

ایسے حالات میں اگر مسلم سماج صرف اپنے نمائندوں پر بھروسہ کرے، تو یہ سیاسی غفلت کے سوا کچھ نہیں۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اکثریتی طبقے کے اندر سے ہی انصاف پسند، سیکولر، اور انسان دوست عناصر کو ابھارا جائے۔
کیونکہ نظام کو بدلنے کی طاقت اسی طبقے میں ہے — وہی طبقہ جو آر ایس ایس کے فکری زہر کے مقابلے میں جمہوریت، مساوات، اور انسانی احترام کی بنیادوں کو ازسرِنو مضبوط کر سکتا ہے۔

تاریخ کے صفحات ہمارے سامنے ہیں: اسپین کے مسلمانوں نے جب سیاسی و فکری بیداری کھو دی تو ان کی عظیم تہذیب صفحۂ تاریخ سے مٹ گئی، اور میانمار کے مسلمانوں کو عالمی جمہوریتوں کی موجودگی میں بھی کوئی تحفظ نہیں ملا۔
اگر بھارتی مسلمان اب بھی محض وعدوں اور نمائشی عہدوں سے مطمئن رہے تو تاریخ خود کو دہرانے میں دیر نہیں لگائے گی۔

لہٰذا بہار کے باشعور ووٹروں، خصوصاً مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا کہ
یہ انتخاب صرف ایک حکومت کے بننے یا گرنے کا نہیں، بلکہ جمہوریت کی روح کو بچانے کا سوال ہے۔
اب فیصلہ یہ ہے کہ ہم نعرے کے پیچھے چلیں گے یا شعور کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

قائدین کی منافقت اور عوام کا اعتماد کا بحران — امت کی سیاسی و اخلاقی پسپائی کا اصل سبب

 قائدین کی منافقت اور عوام کا اعتماد کا بحران — امت کی سیاسی و اخلاقی پسپائی کا اصل سبب

یوں تو بندہ جب سے باشعور ہوا تبھی سے ہندی فلم انڈسٹری اور بھارتی سیاسی پارٹیوں (چند افراد کو چھوڑ کر) کے متعلق ایک واضح نظریہ رکھتا ہے کہ یہ طبقہ زیادہ تر لامذہب، زندیق اور جدید اصطلاح میں ’’لبرل ایتھیسٹ‘‘ مزاج رکھتا ہے۔ اسلام سے ان کا تعلق صرف اتنا ہی ہوتا ہے کہ ان کے نام کے ساتھ کوئی مسلمان پہچان والا لاحقہ جڑا ہوتا ہے، ورنہ عقائد و اسلامی شعائر سے یہ لوگ نابلد ہوتے ہیں۔ ہاں، کبھی کبھی یہی مسلم نام ان کے لیے مصیبت کا سبب بھی بن جاتا ہے، جب ہندوتوا نظریے کے شدت پسند ان سے ٹکرا جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند برس قبل مشہور اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے کو NCB کے ذریعے گرفتار کیا گیا، یا ایڈووکیٹ مجید میمن جیسے معتدل مسلم چہروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

بھارت مختلف تہذیبوں اور تمدنی تنوع کا مرکز ہے، اور اس میں شک نہیں کہ آزادی سے قبل یہ تنوع ایک اخلاقی توازن کے ساتھ موجود تھا، مگر آزادی کے بعد کے حالات نے بہت کچھ بدل دیا۔ ’’گنگا جمنی تہذیب‘‘ جیسا لفظ اگرچہ بظاہر ہم آہنگی اور باہمی احترام کا مظہر ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسی نظریے کے نام پر اسلام کی خالص شناخت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔ سیاسی مفاد پرستی اور فلمی ثقافت کے امتزاج نے مسلم معاشرت کی جڑیں کمزور کر دیں۔ عقائد، سیرتِ نبوی ﷺ اور دینی شعائر کا مذاق بننے لگا۔ آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، ملک بھر میں ’’چھٹ پوجا‘‘ منائی جا رہی ہے، اور سوشل میڈیا پر ایک مسلم ایم ایل اے (سمستی پور، بہار) کو دیکھا گیا کہ وہ سر پر پوجا کا سامان رکھ کر گھاٹ پر جا رہے ہیں، پانی میں اتر کر ’’ڈوبتے سورج‘‘ کو سلام کر رہے ہیں۔ یہ مناظر صرف مذہبی انحطاط نہیں بلکہ فکری خودکشی ہیں۔

سیاسی منافقت کا یہ زہر دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ قائدین جب اقتدار کے دربار میں پہنچتے ہیں تو ان کے لیے ایمان، اصول اور نظریہ سب کچھ ثانوی بن جاتا ہے۔ جب موقع آتا ہے، تو ذاتی مفاد کے لیے کفریہ کلمات زبان سے نکلنے میں لمحہ نہیں لگتا۔ چند سال قبل امارتِ شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ کے صدر مفتی سہیل ندوی قاسمی صاحب نے حالات کے بگاڑ پر ایک تاریخی فتویٰ دیا تھا، جب چمپارن کے ایک مسلم ایم ایل اے خورشید عرف فیروز نے عوامی جلسے میں ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ مفتی صاحب نے اس عمل کو کفر قرار دیا، مگر بعد میں خاندانی دباؤ میں آکر وہی شخص رجوع کے لیے امارت پہنچا۔ یہ وہی دوغلا پن ہے جو سیاست کے جسم میں خون بن کر دوڑ رہا ہے۔

اسی طرح جے ڈی یو کے لیڈر سلیم پرویز، جو اس وقت بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے چیئرمین بھی ہیں، نے وقف بل کے موقع پر امارتِ شرعیہ جیسے باوقار دینی ادارے کے خلاف زبان درازی کی، حالانکہ انہی اداروں کی قربت سے وہ پہچان حاصل کر پائے تھے۔ موجودہ ایم ایل سی خالد انور، جو کبھی امارتِ شرعیہ کے پلیٹ فارم سے ابھرے، وہ بھی وقف بل کی حمایت میں حکومت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے، جبکہ امارت نے امت کے مفاد میں اس کی مخالفت کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ امت کے نمائندہ بن کر منتخب ہوئے تھے، تو پھر ضمیر کہاں چلا گیا؟

ڈاکٹر فرید امان اللہ، جوائنٹ سیکرٹری ادارہ شرعیہ، کی طرف سے حالیہ دنوں کسی ’’سیکولر‘‘ پارٹی کی تائید کی خبر سامنے آئی ہے۔ اگر یہ تائید ادارے کی جانب سے ہے تو یہ ایک خطرناک اور منافقانہ رویہ ہے، کیونکہ اسی ادارے کے دوسرے ذمہ دار غلام رسول بلیاوی ایک کھلی فرقہ پرست پارٹی سے وابستہ ہیں۔ امت کے لیے یہ دوہرا معیار سب سے بڑا زہر ہے۔ ایک طرف ملی قیادت کا دعویٰ، دوسری طرف دشمنِ ملت جماعتوں کے ساتھ نرم رویہ—یہ وہی مزاج ہے جو امت کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مخلص نے اپنے ضمیر کی آواز پر سیاست میں قربانی دی، امت کو اخلاقی طاقت ملی۔ پہلا واقعہ 1996ء میں پیش آیا جب اٹل بہاری واجپائی کی سربراہی میں مرکز میں بی جے پی کی حکومت بنی، مگر صرف 13 دن میں گر گئی، کیونکہ نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ سیف الدین سوز نے اپنی پارٹی لائن سے اختلاف کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا۔ اسی طرح آندھرا پردیش کی تیلگو دیشم پارٹی کے رکن اسمبلی بشیر احمد نے فرقہ پرست حکومت کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس سے صوبائی حکومت گر گئی۔ یہ تھے وہ لوگ جنہوں نے اقتدار نہیں، ایمان کی حفاظت کو ترجیح دی۔

آج امت ایسے ضمیروں کی تلاش میں ہے جو کسی مفاد یا منصب کے سامنے جھک نہ جائیں۔ مگر افسوس کہ قائدین کی اکثریت نے خود کو اقتدار کی غلامی میں بیچ دیا ہے۔ عوام کا اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ لوگ اب اپنے قائدین کی بات پر یقین نہیں کرتے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہر تقریر کے پیچھے کوئی معاہدہ، کوئی لالچ، یا کوئی سیاسی گٹھ جوڑ چھپا ہوتا ہے۔

اصل المیہ یہ ہے کہ عوام کی بیداری وقتی جوش میں سمٹ کر رہ گئی ہے، اور قائدین کی منافقت دائمی عادت بن چکی ہے۔ جب تک امت اپنے نمائندوں کا محاسبہ نہیں کرے گی، ان سے جواب نہیں مانگے گی، تب تک یہ زوال جاری رہے گا۔ امت کی سیاسی، اخلاقی اور فکری پسپائی کا اصل سبب یہی دوغلا پن ہے—قائدین کا مفاد پرستی میں ڈوبا ضمیر اور عوام کا خاموش تماشائی بن جانا۔

وقت کا تقاضا ہے کہ امت ایک نئے سیاسی اخلاق کی بنیاد رکھے، جس میں ایمان، اصول، دیانت اور جواب دہی مرکزی حیثیت رکھتے ہوں۔ اگر اب بھی ہم نے اس بحران کو سمجھنے میں تاخیر کی، تو شاید ہماری نسلیں صرف تاریخ میں یہ لکھیں گی کہ ’’کبھی ہم ایک امت تھے، مگر منافقت نے ہمیں بکھیر دیا۔‘‘


قاری ممتاز احمد جامعی

📧 majaamai@gmail.com




اتوار، 26 اکتوبر، 2025

سیاسی منافقین کی فہرست میں بدنما کردار: جگدمبیکا پال

سیاسی منافقین کی فہرست میں بدنما کردار: جگدمبیکا پال

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی

تاریخ شاہد ہے کہ مفاد پرست سیاستدانوں نے سیکولرازم کی آڑ میں اقلیتوں، بالخصوص مسلم امہ کو بارہا دھوکہ دیا ہے۔ جگدمبیکا پال اس سیاسی منافقت کی ایک شرمناک مثال ہے، جس نے برسوں مسلمانوں کے اعتماد اور ووٹ سے فائدہ اٹھا کر جب اقتدار کی سیڑھی مکمل چڑھ لی تو اپنا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔

سیاسی آغاز اور سیکولر لبادہ

جگدمبیکا پال کا تعلق اترپردیش کے ضلع سدھارتھ نگر سے ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کانگریس جیسی نام نہاد سیکولر پارٹی سے کیا اور ایک لمبے عرصے تک اسی بینر تلے عوامی نمائندگی کا کردار ادا کیا۔ ان کے حلقۂ انتخاب ڈومریا گنج میں مسلمانوں کی قابلِ ذکر آبادی ہے، جنہوں نے کئی بار انہیں کامیاب بنایا۔ پال صاحب نے مسلم ووٹرز کے جذبات سے کھیلتے ہوئے ہم آہنگی، ترقی اور سیکولرازم کے دعوے کیے، اور خود کو "سب کا نمائندہ" ظاہر کیا۔

2014: وفاداری کی تبدیلی یا منافقت کی تکمیل؟

2014 میں جب بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز میں برسرِ اقتدار آئی، تو جگدمبیکا پال نے بھی سیاسی ہوا کا رخ پہچانتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ان کی سیاسی سچائی واضح ہونے لگی۔ اب وہ اس پارٹی کے ترجمان اور نمائندہ بن چکے تھے، جو ہندوتوا نظریات کی علمبردار ہے، اور جو کھلے عام اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے دینی، تعلیمی اور ثقافتی تشخص پر حملے کر رہی ہے۔

وقف ترمیمی بل 25: ایک سازش کا انکشاف

مسلمانوں کی اجتماعی اور شرعی املاک یعنی وقف کے نظام پر حملہ اس سازش کا تازہ ترین باب ہے۔ جگدمبیکا پال کو پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سوشیل جسٹس کا چیئرمین بنایا گیا، اور ان کی زیرِ نگرانی "وقف (ترمیمی) بل 25" پر رپورٹ تیار کی گئی۔ اس رپورٹ میں:

غیر مسلم افراد کو وقف بورڈ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی

وقف املاک پر سرکاری کنٹرول کو مزید وسعت دی گئی

شریعت کے مطابق وقف کی خود مختاری پر کاری ضرب لگائی گئی

یہ رپورٹ 21 مارچ 2025 کو لوک سبھا میں پیش کی گئی، حالانکہ دو مسلم ممبران پارلیمنٹ نے اس پر اختلافی نوٹ دیا تھا
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب جگدمبیکا پال نے مسلم قوم کے حقوق پر وار کیا۔ بلکہ بی جے پی میں شمولیت کے بعد وہ متواتر ایسے اقدامات میں شریک رہے جن میں مسلم مسائل کے لیے کوئی ہمدردی نظر نہیں آئی۔

قوم کے لیے پیغام: سیاستدانوں کو ان کے ماضی سے پہچانو

یہ وقت ہے کہ مسلم امہ ہوشیار ہو جائے۔ ہمیں چمکتے ہوئے نعرے، وقتی وعدے، یا ظاہری مسکراہٹوں پر نہیں، بلکہ کردار، ماضی، اور نظریاتی وابستگی پر اعتبار کرنا چاہیے۔ جگدمبیکا پال جیسے چہرے وہی ہیں جو سیکولرازم کے پردے میں چھپ کر قوم کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، اور پھر اُسی قوم کے دینی و دستوری حقوق پر شب خون مارتے ہیں۔

اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے چہروں کو پہچانیں، ان کے ماضی کو یاد رکھیں، اور آئندہ کسی بھی موقع پر نہ صرف جگدمبیکا پال، بلکہ اس کی سیاسی نسل اور نظریاتی وارثین کو نمائندگی کا کوئی موقع نہ دیں۔

> جگدمبیکا پال ایک سیاسی موقع پرست اور منافق چہرہ ہے، جس نے سیکولر ہونے کا نقاب پہن کر مسلمانوں کو دھوکہ دیا، اور آج وقف جیسے دینی ادارے پر حملہ آور ہو کر اپنے اندرونی تعصب اور نظریاتی بغض کو ظاہر کر دیا ہے۔ اس سے سبق لیتے ہوئے پوری ملت کو شعور، بیداری، اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

ووٹ: ایک شرعی گواہی — اور ذمہ دارانہ انتخاب کی ضرورت

 ووٹ: ایک شرعی گواہی — اور ذمہ دارانہ انتخاب کی ضرورت 

 قاری ممتاز احمد جامعی
 majaamai@gmail.com

جمہوریت میں ووٹ دینا محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ شرعی لحاظ سے ایک قسم کی گواہی (شہادت) ہے۔ اسلامی شریعت میں شہادت کا مفہوم صرف عدالت میں گواہی دینے تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جس سے حق و باطل میں فیصلہ ہو، اسے بھی گواہی کہا گیا ہے۔

حضرت مفتی محمد شفیعؒ رحمہ اللہ نے معارف القرآن (تفسیر سورۃ المائدہ: آیت 8) میں واضح فرمایا ہے:

> “اسلامی اصول شہادت کے مطابق ووٹ بھی ایک قسم کی گواہی ہے، کیونکہ اس کے ذریعہ کسی شخص یا جماعت کو اقتدار کی گواہی دی جاتی ہے۔ اگر یہ گواہی جانبداری، تعصب یا مفاد پرستی کے تحت دی جائے تو یہ جھوٹی شہادت کے حکم میں داخل ہوگی، جو کبیرہ گناہ ہے۔”
(معارف القرآن، جلد 3، صفحہ 58-60 کے ملاحظات کے مطابق خلاصہ)

یعنی ووٹ دینا صرف دنیاوی فیصلہ نہیں بلکہ دینی ذمہ داری اور شرعی امانت ہے۔ اگر ووٹ کے نتیجے میں کوئی ظالم، فاسق یا فرقہ پرست طاقت حاصل کر لے اور وہ کمزوروں پر ظلم کرے، تو اس ظلم میں ووٹ دینے والا بھی شریک سمجھا جائے گا، خواہ وہ کتنا ہی عبادت گزار کیوں نہ ہو۔

حالیہ انتخابی اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق، پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے کل اراکین کی تعداد تقریباً 4,850 ہے۔ ان میں سے تقریباً 1,994 (41٪) نے اپنے خلاف درج شدہ مقدمات کی تفصیل ظاہر کی ہے — جن میں 1,283 (26٪) سنگین نوعیت کے اور 711 (15٪) نسبتاً ہلکی نوعیت کے مقدمات شامل ہیں۔

یہ اعداد و شمار صرف وہ مقدمات ظاہر کرتے ہیں جو انتخابی حلف ناموں یا عدالتوں میں ریکارڈ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے معاملات میں ایف آئی آر درج ہی نہیں کی جاتی، خصوصاً جب متاثرہ فرد کمزور یا غیر مؤثر حیثیت رکھتا ہو، یا جب سیاسی دباؤ پولیس کے راستے میں حائل ہو۔ اسی تناظر میں یہ قیاس ممکن ہے کہ اصل شرح ظاہر کردہ 41٪ سے کہیں زیادہ — ممکنہ طور پر 45٪ تا 50٪ کے درمیان — ہو سکتی ہے۔

یہ بات فقہی اور اخلاقی لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ جب اقتدار کے مناصب پر ایسے افراد پہنچیں جن کے دامن پر مجرمانہ الزامات ہوں تو ووٹ دینے والوں کی شرعی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا ووٹ دیتے وقت تحقیق، دیانت اور زمینی حقیقتوں کا گہرا مطالعہ لازم ہے۔

 موجودہ حالات میں ووٹ دینے کا صحیح شرعی و عملی طریقہ

ملک کے موجودہ حالات، خصوصاً صوبہ بہار میں جہاں فرقہ واریت اور اقتدار کی سیاست نے عوامی اعتماد کو کمزور کیا ہے، ووٹ دینے سے پہلے ہر شہری — بالخصوص اہلِ ایمان — کو غور و فکر کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔

ذیل میں تین ترجیحات بیان کی جاتی ہیں:

1️⃣ پہلا درجہ: مضبوط آزاد امیدوار (Independent Candidate)
اگر آپ کے حلقے میں کوئی دیانت دار، تعلیم یافتہ اور خدمت گزار آزاد امیدوار موجود ہو، جس پر اعتماد کیا جا سکے کہ وہ کسی فرقہ پرست جماعت کی حمایت نہیں کرے گا، تو ایسے امیدوار کو ووٹ دینا شرعی و اخلاقی لحاظ سے بہتر ہے۔ عوام اس سے تحریری عہد یا اخباری بیان لیں کہ وہ کسی ظالمانہ حکومت کا حصہ نہیں بنے گا۔

2️⃣ دوسرا درجہ: قابلِ بھروسہ سیکولر امیدوار
اگر آزاد امیدوار کمزور ہو یا جیتنے کے امکانات نہ ہوں، تو ایسے سیکولر امیدوار کو ووٹ دینا بہتر ہے جس کا ماضی صاف ہو، جو عوامی مفاد کا حامی ہو، اور جس پر فرقہ واریت یا بدعنوانی کے الزامات نہ ہوں۔ ایسے امیدوار سے بھی تحریری وعدہ لیا جا سکتا ہے کہ وہ اقلیتوں، غریبوں اور مظلوموں کے حقوق کا تحفظ کرے گا۔

3️⃣ تیسرا درجہ: استثنائی صورت میں فرقہ پرست امیدوار
اگر متبادل امیدوار کمزور ہوں اور فرقہ پرست جماعت کا امیدوار شخصی طور پر نیک، شفاف اور علاقائی امن کے لیے سنجیدہ ہو، تو صرف تحریری عہد و بیان کی صورت میں ووٹ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ درجہ نہایت احتیاط کا متقاضی ہے۔
اسلامی سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عدل و اصلاح ہے۔ ووٹ دینے سے پہلے یاد رکھیں کہ یہ عمل اللہ کی عدالت میں گواہی کے مترادف ہے۔ ووٹ صرف اسی کو دیا جائے جو:

1. عوامی اعتماد کا اہل ہو۔

2. ظلم سے پاک سوچ رکھتا ہو۔

3. کمزوروں اور اقلیتوں کی عزت و سلامتی کا ضامن ہو۔

جو لوگ بغیر تحقیق کے صرف پارٹی یا ذات برادری کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں، وہ دراصل شہادتِ زور (جھوٹی گواہی) کے مرتکب ہو سکتے ہیں، جس کی قرآن و سنت میں سخت ممانعت آئی ہے۔

ووٹ امانت ہے، جذبات نہیں۔ اس کے ذریعے آپ صرف کسی امیدوار کو نہیں، بلکہ اپنے ضمیر، اپنی امت اور اپنی آخرت کو بھی گواہی دے رہے ہیں۔ لہٰذا ووٹ دینے سے پہلے غور کیجیے — کہ کہیں آپ کی یہ گواہی ظلم، جھوٹ اور فرقہ پرستی کے پلڑے میں نہ جا پڑے۔

انصاف کے نام پر ظلم — عدالت کی آنکھوں پر اکثریت کی پٹی

انصاف کے نام پر ظلم
عدالت کی آنکھوں پر اکثریت کی پٹی
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
آج بھارت میں انصاف مذہب دیکھ کر دیا جاتا ہے،
ایجنسیوں کے فیصلے قانون سے نہیں، عقیدے سے لکھے جاتے ہیں۔
یہ وقت ہے جاگنے کا —
ورنہ کل بولنے کی آزادی بھی جرم ہوگی۔
بھارت کی عدلیہ آج جس موڑ پر کھڑی ہے، وہاں انصاف ایک مقدس اصول کم اور سیاسی نعرہ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ فیصلے آئین اور قانون کی بنیاد پر نہیں بلکہ اکثریتی مزاج کو بھانپ کر سنائے جا رہے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب آئین کی روح زخمی ہوتی ہے اور اقلیتوں کا عدالتی نظام سے اعتماد لرزنے لگتا ہے۔
ایک مظلوم وکیل کی فریاد، ایک محبِ وطن سماجی رہنما کے آنسو، اور ایک بوڑھے استاد کی خاموشی — سب ایک ہی انجام پر پہنچتے ہیں:
“عدالت نے مہر لگا دی۔”
عدلیہ: انصاف سے تشہیر تک
عدالت کا دروازہ اب انصاف کے متلاشی کے لیے کم اور تشہیر کے شائق کے لیے زیادہ کھلتا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کے کمروں میں قانون کی دفعات سے زیادہ نفرت کے پیراگراف محفوظ ہیں۔
کسی مسلمان کا نام دیکھ کر فائل کا رنگ بدل جاتا ہے،
مقدمے کا لہجہ سخت ہو جاتا ہے،
اور فیصلہ پہلے ذہن میں، بعد میں کاغذ پر آتا ہے۔
یہاں جرم وہ نہیں جو تم نے کیا،
بلکہ وہ ہے جو تمہارا مذہب سمجھا گیا۔
ایجنسیاں اور ریاستی جبر
بھارتی ایجنسیاں آج قانون کی محافظ نہیں رہیں بلکہ اقتدار کی نگہبان بن چکی ہیں۔ وہ ظلم کے تماشے میں منصف نہیں بلکہ اداکار کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
کبھی کسی تعلیمی ادارے کے بانی کو “زمین ہتھیانے والا” کہا جاتا ہے،
کبھی کسی سماجی کارکن کو “دہشت گرد” بنا دیا جاتا ہے۔
تعلیم، خدمت اور علم سے وابستگی کو جرم بنا دیا گیا ہے۔
ریاست کے ہاتھ میں بندوق نہیں،
بلکہ FIR، نوٹس اور گرفتاری کا اختیار ہے —
اور یہی جدید ریاستی دہشت گردی کی پہچان بن چکا ہے۔
جب آئین خاموش ہو جائے
اب عدالت کے الفاظ میں آئین کی زبان نہیں بلکہ اکثریت کے جذبات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ فیصلہ وہی معتبر مانا جاتا ہے جو تالی بجانے والوں کو پسند آئے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انصاف تاخیر سے نہیں بلکہ تعصب سے مارا جاتا ہے۔
اور جب انصاف تعصب کے تابع ہو جائے تو ظلم آئینی لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔
خاموش اکثریت — شریکِ جرم
اکثریتی عوام محض خاموش نہیں بلکہ شریکِ جرم ہیں۔
ان کی خاموشی ظلم کو دوام دیتی ہے،
ان کا ووٹ ظالم کو تخت پر بٹھاتا ہے۔
قومیں تلوار سے نہیں گرتیں،
بلکہ انصاف کے قتل پر تالیاں بجانے والوں سے تباہ ہوتی ہیں۔
یہ خاموشی ہی سب سے بڑا شور ہے جو مظلوم کے دل کو چیرتا رہتا ہے۔
یہ صرف ایک کہانی نہیں
یہ کہانی کسی ایک اعظم خان، کسی ایک وکیل یا کسی ایک مسلمان کی نہیں۔
یہ ہر اُس شخص کی کہانی ہے جس نے قلم پکڑا اور نظام نے اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈال دی۔
یہ ہر اُس ذہن کی فریاد ہے جس نے تعلیم کو طاقت بنایا اور اقتدار نے اسے جرم بنا دیا۔
یہ ہر اُس شہری کی چیخ ہے جو آئین پر ایمان رکھتا تھا،
مگر عدالت نے اس ایمان کو کمزور کر دیا۔
بہار الیکشن اور ووٹ کی ذمہ داری
جب بہار کے انتخابات قریب ہیں تو ہر باضمیر شہری — خصوصاً مسلمان — یہ سوچنے پر مجبور ہے:
کیا ووٹ دینا صرف کسی پارٹی کو ہے؟
یا اپنے مستقبل، وقار اور آزادی کو؟
جس قوم کے ووٹ سے ظالم مضبوط ہوں،
وہ قوم اپنی زنجیر خود تیار کرتی ہے۔
اس بار ووٹ دینے سے پہلے:
اس وکیل کی آنکھوں کے آنسو یاد رکھنا،
اس بزرگ رہنما کی خاموشی یاد رکھنا
جو تعلیم کی بات کرنے کی سزا کاٹ رہا ہے۔
یہ ووٹ محض تمہارا حق نہیں —
یہ تمہاری گواہی ہے۔
اگر تم نے خاموشی کو ووٹ دیا،
تو کل تمہارے بچوں کی چیخوں کو بھی کوئی عدالت نہیں سنے گی۔
آخری سطر
جب انصاف کے کمرے میں ایمان نہیں بلکہ اکثریت کا دباؤ بولتا ہے،
تو عدالتیں عبادت گاہ نہیں رہتیں —
بلکہ ظلم پر مہر لگانے والے دفتر بن جاتی ہیں۔
اور جب انصاف مذہب دیکھ کر دیا جائے،
تو یاد رکھو:
آئین نہیں بچتا — انسانیت مرتی ہے۔
 
#انصاف_کے_نام_پر_ظلم
#عدالت_کی_آنکھوں_پر_اکثریت_کی_پٹی
#عدلیہ
#آئینی_حقوق
#اقلیتوں_کا_تحفظ
#BiharElection2025
#VoiceOfJustice
#قاری_ممتاز_احمد_جامعی
majaamai@gmail.com 

جمعرات، 23 اکتوبر، 2025

مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کا تجربہ: قیام، حکومت، زوال اور آج کا سبق


مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کا تجربہ: قیام، حکومت، زوال اور آج کا سبق

مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی نے 1930 کی دہائی کے وسط میں اُبھرتے مسلم سیاسی شعور کی نمائندگی کی۔ اس جماعت کی بنیاد اُس تناظر میں پڑی جب بہار کے مسلمانوں نے محسوس کیا کہ نہ تو All India Muslim League کی سیاست اُن کی علاقائی شناخت اور مسائل کا مکمل ازالہ کر رہی تھی، اور نہ ہی Indian National Congress کی جماعت انہیں ایک مؤثر پلیٹ فارم دے رہی تھی۔ مولانا ابوالمحاسن سجادؒ نے اس خلا کو دیکھتے ہوئے اس جماعت کو قائم کیا، تاکہ مسلمان طبقے کو آزاد، خود مختار اور اصولی سیاسی نمائندگی مل سکے۔

مولانا ابوالمحاسن سجادؒ کی ذاتی زندگی اور علمی خدمات اس تحریک کی بنیاد رہیں۔ مختلف ماخذ کے مطابق ان کی پیدائش کا سال 1880ء بتایا گیا ہے اور وفات کی تاریخ 23 نومبر 1940ء درج ہے۔ وہ بہار کے نالندا ضلع کے پنہسا گاؤں کے رہنے والے تھے۔ تاہم، امارتِ شرعیہ پٹنہ بہار کے مخصوص رجسٹری یا آرکائیو دستاویز کی تلاش میں کوئی واضح آن لائن ماخذ دستیاب نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دستاویزات مقامی آرکائیو میں محفوظ ہیں۔

1937ء میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت صوبائی انتخابات ہوئے جن میں مسلم نشستوں کی تعداد تقریباً 40 تھی۔ مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی نے ان نشستوں میں سے تقریباً 20 پر کامیابی حاصل کی اور اس طرح وہ مسلم نمائندگی کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بن گئی۔ اس جماعت نے بہار میں ایک مختصر مدت کی حکومت قائم کی جس کی قیادت سید محمد یونس نے کی۔ یہ حکومت اپریل 1937ء میں قائم ہوئی اور جولائی 1937ء تک جاری رہی۔

تاہم، اس حکومت کی مدت طویل نہ رہ سکی، اور پارٹی جلد اپنی سیاسی مؤثریت کھو بیٹھی۔ اس کے زوال کے اسباب متعدد ہیں: پارٹی کی سیاسی تنہائی، کانگریس اور مسلم لیگ کے دباؤ، اور تنظیمی و قیادی کمزوری۔ مولانا سجادؒ کی 1940ء میں وفات کے بعد جماعت کا قیام عملی طور پر ختم ہو گیا اور اس کی تنظیم مسلسل ضعف کا شکار رہی۔

آج کے سیاسی تناظر میں یہ تجربہ ایک اہم سبق کی حیثیت رکھتا ہے کہ اگر مذہبی یا علاقائی جماعتیں صرف نعرے بازی، جذباتیت یا وقتی کامیابی پر یقین کر لیں، اور تنظیمی ڈھانچہ، قیادی سرگرمی اور مستقل نظریہ نہ رکھیں، تو وہ جلد ختم ہو سکتی ہیں۔ اس اعتبار سے آج All India Majlis-e-Ittehad-ul-Muslimeen (AIMIM) اور دیگر مسلم سیاسی تنظیموں کے لیے یہ امر سبق آموز ہے کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمی، جماعتی ساخت اور قیادت کو مضبوط رکھیں، بصورتِ دیگر اُن کا بھی وہی انجام ہوسکتا ہے جو مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کا ہوا۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ریکارڈ کے مطابق “Muslim Independent Party” کا نام اب بھی بطور “Registered but Inactive” درج ہے، یعنی قانونی طور پر رجسٹرڈ ہے مگر فعالیت نہیں دکھا رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعینہ وہ جماعت دوبارہ فعال ہو سکتی ہے، مگر عملی اعتبار سے اُس نے اپنی سیاسی سرگرمیاں ختم کر رکھی ہیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اس تجربے سے سیکھے اور عملی تنظیم و فکر کو متحرک رکھے۔


(نوٹ): اس مضمون کا مقصد کسی جماعت یا شخصیت کی نفی نہیں بلکہ تاریخی تناظر میں وہ حقیقت واضح کرنا ہے جس سے موجودہ مسلم قیادت سبق حاصل کر سکتی ہے۔

 قاری ممتاز احمد جامعی
✉️ majaamai@gmail.com



حوالہ فہرست (References)

1. Election Commission of India – List of Registered (Inactive) Political Parties, accessed October 2025.

2. Abul Mahasin Muhammad Sajjad, Wikipedia (verified citations).

3. Syed Muhammad Yunus (Premier of Bihar), Bihar State Archives, Historical Records, 1937–1939.

4. Tārīkh-e-Amārat-e-Shar‘iyyah, Patna (compiled references).

5. Naumanī, Manzūr. Hayāt-e-Maulānā Abul Mahāsin Sajjad, Lucknow, 1955.

6. Indian Provincial Elections 1937: Statistical and Historical Report, Government of India Archives.


اتوار، 19 اکتوبر، 2025

اسلامی سیاست کے دعوے داروں میں سچائی اور وقار کی کمی — ایک فکری المیہ

اسلامی سیاست میں سچائی اور وقار کی کمی — ایک فکری المیہ

قلم: قاری ممتاز احمد جامعی

یہ انتشار، فتنہ و فساد، پروپیگنڈہ، دجل و فریب، مکاری و عیاری، اور عزت و نفس کی فروختگی — یہ سب بھارتی سیاست کا خاصہ بن چکا ہے۔ افسوس اس وقت بڑھ جاتا ہے جب یہی رویّے اُن افراد یا جماعتوں میں نظر آئیں جو خود کو دینی مزاج یا اسلامی تہذیب و تمدن سے وابستہ ظاہر کرتے ہیں۔ اگر دین کے نام لیوا بھی اسی طرزِ عمل کو اپنائیں تو پھر عوام کے لیے امتیاز باقی نہیں رہتا کہ کون اصول پر قائم ہے اور کون مفاد پر۔

سیاست دراصل امانت اور خدمتِ خلق کا نام ہے۔ یہ جھوٹ، الزام تراشی یا پروپیگنڈہ کا میدان نہیں۔ کسی بھی اختلاف یا رائے کے تناظر میں اگر سچائی کو مسخ کر کے پیش کیا جائے، یا اپنی بات کو تقویت دینے کے لیے غلط تاثر دیا جائے، تو یہ نہ صرف اخلاقی کمزوری ہے بلکہ عوامی اعتماد کے ساتھ خیانت بھی۔

دینی مزاج رکھنے والوں سے عوام کی توقع ہمیشہ بلند ہوتی ہے۔ ان کے ہر قول و عمل کو دیانت، صداقت اور تحمل کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر وہی طبقہ جلدبازی، غیر مصدقہ دعوے یا سیاسی مفاد کے لیے غلط فہمیوں کو فروغ دے، تو اس سے سب سے زیادہ نقصان اسلامی سیاست کے وقار کو پہنچتا ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اختلاف اور اتفاق دونوں وقتی چیزیں ہیں، مگر کردار دائمی ہوتا ہے۔
کردار وہ ستون ہے جس پر قوم کا اعتماد قائم رہتا ہے۔ لہٰذا جب سیاست، چاہے دینی ہو یا غیر دینی، کردار سے خالی ہونے لگے تو وہ فتنہ بن جاتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان سیاسی کارکن اور رہنما اپنی زبان و قلم کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔ سچائی کو مقدم رکھیں، اور اگر کسی معاملے میں ابہام ہو تو وضاحت طلب کریں، نہ کہ افواہ کو ہوا دیں۔
کیونکہ اسلامی مزاج سیاست میں نہیں، کردار میں ظاہر ہوتا ہے۔

ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

وقف قانون ترمیم 2025 اور عدالتی خاموشی تشویش ناک

وقف قانون ترمیم 2025 اور عدالتی خاموشی تشویش ناک 

ہم ملک میں جاری حالیہ قانونی پیش رفت، بالخصوص وقف قانون ترمیم 2025 اور اس کے خلاف دائر کردہ درخواست پر سپریم کورٹ کے فوری سماعت سے انکار پر شدید احتجاج اور گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

وقف ایک مذہبی، شرعی اور آئینی ادارہ ہے، جو مسلمانوں کے دینی، تعلیمی، سماجی اور فلاحی حقوق سے گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ اس پر یکطرفہ قانون سازی، ترمیمات یا قبضہ ایک ایسا غیر منصفانہ عمل ہے جو آئینِ ہند کی روح کے خلاف ہے۔

ہم اعلان کرتے ہیں کہ:

1. اگر ملک میں بدعنوان حکومتیں وقف کی جائیدادوں پر غاصبانہ قبضہ کریں یا

2. احتجاج کرنے والے پرامن عوام پر ریاستی طاقت کے ذریعے ظلم و جبر کیا جائے

تو ان تمام حالات کی براہ راست اخلاقی اور قانونی ذمہ داری سپریم کورٹ آف انڈیا پر عائد ہوگی،
کیونکہ جب انصاف کے دروازے بند ہوتے ہیں، تو ظلم کو کھلی چھوٹ ملتی ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:

سپریم کورٹ فوراً اس معاملے کی شنوائی کرے

مرکزی حکومت اقلیتوں کے مذہبی و فلاحی اداروں کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی سے باز رہے

تمام ملی، دینی، سماجی و انصاف پسند طبقات اس سنگین خطرے کے خلاف متحد ہو کر پرامن مگر پراثر جدوجہد کا آغاز کریں

یہ محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ جمہوریت، آئین، اور عدلیہ کے وقار کا سوال ہے۔

قاری ممتاز احمد جامعی
(بانی و ناظم: جامعہ اشاعت العلوم، سمستی پور)
(جنرل سیکرٹری: الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ)

وقف ترمیمی بل – حالیہ عدالتی کارروائی اور ہماری ذمہ داری

وقف ترمیمی بل – حالیہ عدالتی کارروائی اور ہماری ذمہ داری

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت وقف ترمیمی بل پر عدالتی کارروائی کے ابتدائی مراحل سے ایک خوش آئند فضا محسوس ہو رہی ہے۔ عدالت کا سنجیدہ رویہ، وکلاء کے سوالات کو اہمیت دینا، اور حکومت سے وضاحت طلبی، یہ تمام پہلو کسی حد تک اطمینان بخش ہیں۔ مگر یہ امر بھی ہمارے پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی کئی مقدمات کی کارروائی مثبت آغاز کے باوجود فیصلے انصاف سے خالی اور حکومت کی منشا کے عین مطابق آئے۔

بابری مسجد کا فیصلہ ایک ایسی مثال ہے جو ہمارے ذہن و دل میں ہمیشہ تازہ رہنی چاہیے۔ اس مقدمہ میں عدالت نے تسلیم کیا کہ مسجد کو غیر قانونی طور پر گرایا گیا، مگر فیصلہ انہی عناصر کے حق میں صادر ہوا جن کے خلاف قانون شکنی ثابت ہوئی تھی۔ اسی طرح دفعہ 370 کی منسوخی، سی اے اے اور این آر سی جیسے قوانین، اور دیگر حساس مقدمات میں بھی عدالتی کردار پر عوامی حلقے میں سنجیدہ سوالات اٹھے۔

ایسے پس منظر میں، موجودہ عدالتی کارروائی پر خوش ہونا فطری ہے، مگر مکمل طور پر مطمئن ہوکر بیٹھ جانا دانش مندی نہیں۔ تنظیمی سطح پر ہمیں مندرجہ ذیل پہلوؤں پر بھرپور توجہ دینی ہوگی:

1. ہوشیاری اور چوکسی کے ساتھ ہر پیش رفت کا جائزہ لیتے رہیں۔

2. قانونی محاذ پر مضبوط نمائندگی کی مکمل حمایت کریں اور ہر ممکن تعاون جاری رکھیں۔

3. عوامی سطح پر بیداری، سمجھ داری، اور شعوری تحریک کو فروغ دیں تاکہ رائے عامہ بیدار ہو اور دباؤ برقرار رہے۔

4. ماضی کے عدالتی فیصلوں سے سبق لیتے ہوئے آئندہ کی حکمت عملی طے کریں۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ لڑائی صرف عدالت میں نہیں، بلکہ فکری محاذ، سماجی میدان، اور تنظیمی صفوں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ ہماری یکجہتی، اصولی استقامت، اور سنجیدہ تیاری ہی مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حالات کی درست فہم، صبر و حکمت، اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

قاری ممتاز احمد جامعی
بانی و ناظم: جامعہ اشاعت العلوم، سمستی پور
مورخہ: 17 اپریل 2025ء

میرے دور کے رہنمائے وطن – سچ کا نوحہ، ظلم کا بیانیہ

میرے دور کے رہنمائے وطن – سچ کا نوحہ، ظلم کا بیانیہ
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
بانی و ناظم: جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور (بہار)
 جنرل سکریٹری: الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ 
میرے دور کے رہنمائے وطن
جس طرف بھی گئے کربلا کر گئے

کبھی کبھی ایک مصرعہ پوری قوم کی کہانی کہہ جاتا ہے۔ آج کے بھارت کی سیاسی فضا میں یہ شعر صرف شاعری نہیں، بلکہ وہ کڑوا سچ ہے جو ہر باضمیر انسان کے سینے میں گونج رہا ہے۔

نریندر مودی، جو بھارت کے وزیراعظم بنے، دراصل ایک خاص نظریے کے پرچارک ہیں۔ ان کے عروج کا آغاز ہی 2002 کے گجرات فسادات سے ہوا — ایک ایسا انسانی سانحہ جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ بلقیس بانو کی عزت پامال ہوئی، اور احسان جعفری جیسے افراد بے بسی کے عالم میں مار دیے گئے۔ ذکیہ جعفری نے برسوں انصاف کی دہائی دی، مگر قانون ہمیشہ اقتدار کے در پر سجدہ ریز رہا۔

مودی کا بھارت صرف ایک جغرافیہ نہیں رہا، وہ اب اقلیتوں کے لیے ایک خوف زدہ تجربہ بن چکا ہے۔ لنچنگ کے واقعات عام ہوئے، کبھی گائے کے نام پر، کبھی مذہب کے۔ کسی کو محض “جئے شری رام” نہ کہنے پر موت دے دی جاتی ہے — اور حکومت خاموش تماشائی۔

شریعتِ اسلامی پر سیاسی یلغار — اسے "خواتین کی آزادی" کا لبادہ اوڑھا کر کی گئی۔ تین طلاق جیسے معاملے میں مداخلت، وقف املاک پر قبضہ، حجاب پر پابندیاں — یہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ حکومت صرف اقتدار نہیں، عقائد تک کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔

اور پھر کشمیر — جسے آئینِ ہند نے خصوصی درجہ دیا تھا، وہ بھی ایک قلمی فیصلے میں چھین لیا گیا۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کا خاتمہ ہوا، اور ساتھ ہی کشمیریوں کا اعتماد، ان کی شناخت، اور ان کی آزادی بھی دفن ہو گئی۔ پوری وادی میں سناٹا، بند انٹرنیٹ، اور زنجیروں میں جکڑے عوام — یہ سب "ترقی" کے نام پر کیا گیا۔

ہر الیکشن سے پہلے ایک نیا فتنہ۔ کبھی رام مندر، کبھی NRC، کبھی CAA، کبھی دنگے۔ یہ سب ایک منظم طریقے سے عوام کو بانٹنے کا فارمولا ہے، تاکہ اصل مسائل — مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت — پس پشت چلے جائیں، اور صرف نفرت کی سیاست باقی رہے۔

مودی کے اقتدار کا ہر دن تاریخ کے صفحات پر ایک سیاسی جرم کی طرح درج ہے۔ ایسے جرم، جن کے مجرم عدالت میں نہیں، عوام کے اعتماد کے محل میں براجمان ہیں۔

تو آج جب ہم یہ شعر پڑھتے ہیں:

میرے دور کے رہنمائے وطن
جس طرف بھی گئے کربلا کر گئے

تو یہ ہمیں صرف گزرے دنوں کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ ہوشیار کرتا ہے کہ اگر ہم نے پہچاننے میں دیر کر دی، تو کل کی کربلا ہماری اپنی زمین پر ہوگی۔

دہشت گردی اور بھارتی سیاست: حملے، مواقع اور پس پردہ محرکات

دہشت گردی اور بھارتی سیاست: حملے، مواقع اور پس پردہ محرکات

بھارت میں دہشت گردی محض سیکیورٹی چیلنج ہی نہیں بلکہ بعض مواقع پر یہ ایک سیاسی آلہ کار کے طور پر بھی زیرِ بحث رہی ہے۔ متعدد مواقع پر دہشت گردانہ حملے ایسے وقت پر وقوع پذیر ہوئے جب ملک میں سیاسی ہلچل، انتخابات، اقلیتوں سے متعلق حساس مباحث، یا عدلیہ کے فیصلے زیرِ غور تھے۔ اس مضمون میں ہم چند اہم دہشت گردانہ واقعات کو ان کے سیاسی سیاق و سباق میں جانچنے کی کوشش کریں گے، اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آیا یہ اتفاقات ہیں یا کسی گہری سازش کا حصہ۔

1. پلوامہ حملہ (14 فروری 2019):

واقعہ: خودکش بمبار نے سی آر پی ایف کے قافلے پر حملہ کیا، 40 اہلکار ہلاک۔

سیاسی موقع: عام انتخابات سے دو ماہ قبل یہ حملہ ہوا۔ بی جے پی نے قومی سلامتی کو مرکزی انتخابی نعرہ بنایا۔

ردعمل: بالا کوٹ ایئر اسٹرائیک، میڈیا پر جنگی جنون، اپوزیشن پر "غدار" کا الزام۔

تنقید: کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران اور ماہرین نے سیکیورٹی میں خامیوں پر سوال اٹھائے۔ (ماخذ: The Wire, BBC Hindi)

2. پہلگام حملہ (22 اپریل 2025):

واقعہ: بائیسارن میڈو میں سیاحوں پر حملہ، 28 افراد ہلاک۔

سیاسی موقع: بہار الیکشن قریب، وقف بورڈ و عدلیہ پر مسلمانوں کے حقوق سے متعلق بیانات گرم۔

تجزیہ: حملے نے میڈیا کی توجہ فوراً سیاسی مباحث سے ہٹا کر قومی سلامتی پر مرکوز کر دی.

3. امرناتھ یاترا حملہ (10 جولائی 2017):

واقعہ: اننت ناگ میں یاتریوں کی بس پر فائرنگ، 8 ہلاکتیں۔

سیاسی موقع: کشمیر میں G. M. Lone کی ہلاکت اور علیحدگی پسندوں کی مقبولیت میں اضافہ۔

میڈیا بیانیہ: ہندو یاتریوں پر حملہ، فرقہ وارانہ تناؤ کو ہوا۔

4. اُڑی حملہ (18 ستمبر 2016):

واقعہ: چار عسکریت پسندوں نے فوجی کیمپ پر حملہ کیا، 19 اہلکار ہلاک۔

سیاسی موقع: برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں احتجاجات عروج پر تھے۔

حکومتی ردعمل: سرجیکل اسٹرائیکس، بی جے پی کا سخت مؤقف، پاکستان مخالف مہم۔

5. ناگروٹہ فوجی کیمپ حملہ (29 نومبر 2016):

واقعہ: 7 فوجی شہید، 3 حملہ آور ہلاک۔

سیاسی موقع: اُڑی واقعے کے بعد پیدا شدہ کشیدگی، کشمیر میں سیاسی دراڑیں۔

تنقید: سیکورٹی لیپس اور انٹیلیجنس کی ناکامی زیر بحث۔

6. پٹھان کوٹ حملہ (2–5 جنوری 2016):

واقعہ: چار حملہ آوروں نے ایئر بیس پر حملہ کیا، 7 اہلکار ہلاک۔

سیاسی موقع: نریندر مودی کے پاکستان دورے کے فوراً بعد۔

تجزیہ: امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش، لیکن سوالات بھارت کی انٹیلیجنس کارکردگی پر بھی اٹھے۔

اجتماعی تجزیہ:

مشترکہ عناصر: حملوں کا وقت، میڈیا کا فوری رخ بدلنا، عوامی جذبات کو قومی سلامتی کی طرف موڑنا۔

سیاسی فائدہ: حکمراں جماعت اکثر ایسے حملوں کے بعد "مضبوط قیادت" کے بیانیے کو پروان چڑھاتی ہے۔

سوالات: کیا یہ محض اتفاقات ہیں یا کچھ حملے داخلی طور پر نظر انداز کیے گئے یا سیاسی فوائد کے لیے بروقت استعمال ہوئے؟

نتیجہ:

دہشت گردی کے ہر واقعے کو خالص سیکیورٹی تناظر میں دیکھنے کے بجائے اس کے سیاسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں پر بھی غور ضروری ہے۔ اگرچہ تمام حملوں کے پیچھے سازش کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان کے وقوع کا وقت اور ان کے بعد کے سیاسی بیانیے ایک وسیع تنقیدی مطالعے کے متقاضی ہیں۔ عوام، دانشور اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ ان حملوں کو جذباتی کے بجائے فکری اور تحقیقی بنیاد پر دیکھیں، تاکہ کوئی بھی واقعہ محض ووٹ بینک کا ذریعہ نہ بننے پائے۔
قاری ممتاز احمد جامعی 

تعزیت حضرت مولانا غلام محمد وستانوی ؒ

 جناب مولانا حذیفہ وستانوی صاحب دامت برکاتهم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


بصد ادب و احترام!


حضرت مولانا غلام محمد وستانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کی خبر دل و روح کو ہلا دینے والی ہے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔


حضرتؒ کا شمار اُن برگزیدہ علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن کریم کی خدمت، اشاعتِ دین، اور مدارس و مکاتب کے قیام و استحکام میں صرف کر دی۔ وہ ہزاروں علماء، قراء، طلبہ، اور عوام الناس کے لیے ایک مربی، محسن، اور مشعلِ راہ تھے۔ ان کی علمی گہرائی، اخلاص، سادگی، اور امت کے لیے فکر مندی، ہمارے جیسے کم علموں کے لیے ہمیشہ ایک مثالی نمونہ رہے گی۔


ان کا وصال صرف ایک خانوادے یا ایک ادارے کا نہیں، بلکہ امت کا عظیم خسارہ ہے۔ جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور اور الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ہم آپ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت حضرتؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کی باقیاتِ صالحات کو آپ کے ذریعہ مزید ترقی عطا فرمائے۔


اللہ تعالیٰ آپ کو اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور حضرتؒ کی علمی و روحانی وراثت کو زندہ و تابندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


والسلام


قاری ممتاز احمد جامعی

بانی و ناظم، جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور

جنرل سیکریٹری، الامداد ایجوکیشنل


اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ

قاری محمد اقبال شہید: ایک سوالیہ نشان، ایک دستک

 قاری محمد اقبال شہید: ایک سوالیہ نشان، ایک دستک


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب لشکرِ طیبہ کا ایک خطرناک دہشت گرد مارا گیا، جسے پلوامہ حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی کہا گیا۔ بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ وہ کوئی اور نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے ایک نیک سیرت عالمِ دین قاری محمد اقبال تھے، جو مقامی مدرسے سے وابستہ تھے اور معروف دینی خدمات انجام دے رہے تھے۔


یہ واقعہ کئی آئینی و انسانی سوالات کو جنم دیتا ہے:


1. کیا میڈیا نے اتنا سنگین الزام بغیر دفاعی اداروں کی منظوری یا معلومات کے نشر کیا؟


2. اگر میڈیا کو دفاعی اداروں سے یہ معلومات فراہم کی گئیں، تو کیا ان کی تحقیق محض شبہ یا شباہت پر مبنی تھی؟


3. کیا محض ایک مسلمان ہونا اور مدرسے سے منسلک ہونا "دہشت گرد" قرار پانے کے لیے کافی ہے؟


4. ریاست نے قاری اقبال کے اہلِ خانہ سے رجوع کیوں نہیں کیا؟


5. کیا اتنے سنگین میڈیا دعوے پر کوئی عدالتی یا تفتیشی کارروائی ہوگی؟


یہ محض میڈیا کی لغزش نہیں، بلکہ اس فضا کی علامت ہے جہاں مسلمان شناخت، ظاہری وضع قطع، اور دینی وابستگی محض ایک "شبہ" کی بنیاد بن جاتے ہیں۔


قاری اقبال شہید کا خون ہم سے مطالبہ کرتا ہے:


ریاستی ادارے اور میڈیا اس کی حقیقت واضح کریں۔


اہلِ خانہ سے معذرت اور تحقیق کے بعد انصاف ہو۔


ایسے الزامات کو عدالتی طریقہ کار کے بغیر نشر نہ کیا جائے۔


یہ تحریر نہ اشتعال انگیزی ہے نہ الزام تراشی۔ یہ ایک شہری کی وہ دستک ہے جو آئین، عدل، اور انسانیت کے دروازے پر سوال لیے کھڑی ہے — کیا سچ کا حق اب بھی باقی ہے؟

ترجمانی سے پہلے آئینہ: جب سچائی گرفتار ہو، علم مجرم ہو،

 ترجمانی سے پہلے آئینہ: جب سچائی گرفتار ہو، علم مجرم ہو، اور ناموسِ رسالتؐ پامال ہو!

✍️ قاری ممتاز احمد جامعی


پروفیسر علی خان محمودآباد کی گرفتاری صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہندوستان میں تعلیمی آزادی، اظہارِ رائے، تحقیق اور اساتذہ کے وقار پر ایک کاری ضرب ہے۔ اشوکا یونیورسٹی جیسے باوقار ادارے کے معروف محقق، مورخ اور استاد کو اس بنا پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے بین الاقوامی سیاست پر ایک علمی تجزیہ پیش کیا، جس میں نہ کوئی اشتعال تھا، نہ ناپسندیدہ زبان، اور نہ ہی کوئی ملک دشمنی۔


یہ وہی علی خان ہیں جو کیمبرج کے فارغ التحصیل ہیں، جنہوں نے قوم کو فہم، تحقیق اور مکالمے کا سبق دیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب ان پر افتخار کرنا چاہیے تھا، ان کی گرفتاری کے وقت اشوکا یونیورسٹی نے محض یہ بیان دے کر جان چھڑا لی کہ "ان کے خیالات ذاتی ہیں"۔ کیا یہ ادارہ اسی دن کے لیے بنا تھا؟ کہ استاد جب ظلم کی زد میں آئے، تو دیوار بننے کے بجائے خاموش تماشائی بن جائے؟


اساتذہ کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر ان کا وقار پامال کیا جائے، ان کی زبان بند کی جائے، اور اختلافِ رائے پر انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے، تو یہ کسی ایک فرد کا زوال نہیں بلکہ سماج کی فکری خودکشی ہے۔


ایسے نازک موقع پر جب بھارت کا 59 رکنی سرکاری وفد دنیا کے 32 ممالک میں جا رہا ہے، اور اس میں 11 مسلم نمائندے شامل کیے گئے ہیں، تو یہ فطری توقع ہے کہ وہ نمائندگی صرف بیرون ملک بھارت کے چہرے کی نہ کریں، بلکہ اندرون ملک پیش آنے والے کچھ غیرسنجیدہ و تکلیف دہ واقعات کی بابت بھی حکومت تک نرم لہجے میں اپنا نقطۂ نظر رکھیں۔

مثلاً پروفیسر علی خان محمودآباد کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ، یا کسی سابق خاتون فوجی افسر پر ایک حکومتی شخصیت کے نامناسب تبصرے جیسے معاملات، بھارت کی اس روادار شبیہ کے منافی ہیں جسے ہم عالمی برادری کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔


تاہم سب سے اہم اور حساس پہلو، جو ہر باشعور مسلمان کے دل کو چھلنی کر دیتا ہے، وہ ناموسِ رسالت ﷺ کا مسئلہ ہے۔ آئے دن حکومت سے قربت حاصل کرنے یا سستی شہرت کی خاطر بعض انسان نما ناپاک عناصر اسلامی شعائر، قرآن و سنت، اور بالخصوص رسولِ اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف فتنہ، اشتعال اور مسلمانوں کو مشتعل کر کے انہیں مجرم بنانا ہوتا ہے، جب کہ حکومت ان پر نرمی اختیار کرتی ہے۔


یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جس حکومت کو عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے مسلم چہروں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہی حکومت اندرونِ ملک ایسے شرپسندوں پر نرمی کیوں برتتی ہے جو ملک کے امن کو سبوتاژ کرتے ہیں؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ کیا ناموسِ رسالت ﷺ پر ایمان رکھنے والے شہریوں کا کوئی تحفظ نہیں؟ کیا ان کی دل آزاری کوئی جرم نہیں؟


لہٰذا یہ تمام 11 مسلم نمائندے، جو بیرونِ ملک بھارت کا چہرہ پیش کرنے جا رہے ہیں، ان کی شرعی و قومی ذمے داری ہے کہ وہ باہر جا کر ملک کا دفاع ضرور کریں، لیکن روانگی سے پہلے حکومت سے گزارش کریں کہ وہ اندرون ملک مسلمانوں کے ایمان، وجود، اور وقار کی بھی حفاظت کرے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب استاد کی عزت ہو، خواتین کا احترام ہو، اختلاف کی گنجائش ہو، اور ناموسِ رسالت ﷺ پر حملہ کسی بھی صورت میں برداشت نہ کیا جائے۔


ورنہ ترجمانی کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، اگر وہ آواز جو باہر سنائی دے، اپنے ہی وطن میں دبا دی جائے۔


امارت شرعیہ: منصب کی جنگ یا امت کی امانت؟

 امارت شرعیہ: منصب کی جنگ یا امت کی امانت؟

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ… ایک ایسا دینی، اجتماعی اور سماجی ادارہ جو برصغیر میں اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے۔ لیکن گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے یہ ادارہ انتشار، باہمی چپقلش اور قیادت کے ٹکراؤ کا شکار ہے۔ یہ صورتِ حال صرف ایک ادارے کا بحران نہیں، بلکہ امت مسلمہ کی وحدت، اعتماد اور شعور کی پستی کا کھلا اعلان ہے۔


کیا واقعی ہم اس درجہ گر چکے ہیں کہ عہدہ، کرسی اور شہرت کے لیے ملت کے اجتماعی وقار اور اعتماد کو قربان کر دیا جائے؟ کیا ادارہ کا نام، اس کی تاریخ، اس کی خدمات اور اس کا امتیاز اس قابل نہ تھا کہ ہم ذاتی انا اور مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچتے؟


حالیہ دنوں دو بڑے جلسے ہوئے—ایک میں مولانا شبلی قاسمی اور مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب منظر پر تھے، دوسرے میں انجینئر فیصل ولی رحمانی صاحب۔ دونوں اطراف کے حمایتی حضرات، علما، مفکرین اور نمائندگان جمع ہوئے۔ دعویٰ یہی کہ امارت کی بقا اور اتحاد کا پیغام دینا ہے۔ لیکن اہل نظر سمجھتے ہیں کہ یہ اجتماعات “اتحاد” کے نام پر “اقتدار” کی مشق ہیں۔


سب سے دل خراش منظر یہ تھا کہ مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی جیسے بزرگ، جنہوں نے طویل مدت سے امارت کی خدمت کی ہے، محض نمائشی اتحاد کی خاطر عمر میں چھوٹے اور علمی اعتبار سے کم تر فرد کے پیچھے کھڑے دکھائی دیے۔

کیا اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے؟ کہ کبار علما و مشائخ کو چھوٹوں کی اقتدا میں صرف مصلحتِ وقتی یا دکھاوے کے لیے کھڑا کر دیا جائے؟

اگر یہی حبِ جاہ نہیں، تو پھر اور کیا ہے؟


یہ وقت کسی ایک فریق کو نیچا دکھانے کا نہیں، بلکہ امت کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑنے کا وقت ہے۔

اگر واقعی دونوں گروہ اقتدار کے بھوکے نہیں، جیسا کہ وہ بار بار اعلان کرتے ہیں، تو سوال یہ ہے:


امت کے وسیع تر مفاد میں اور امارت شرعیہ جیسے ادارے کے وقار کی حفاظت کی خاطر، دونوں فریق ایک ساتھ دستبردار کیوں نہیں ہوتے؟ کیوں نہ کسی تیسری اہل، متفق علیہ شخصیت کو میدان دیا جائے؟


کیا واقعی ملتِ اسلامیہ کی مائیں بانجھ ہو چکی ہیں کہ ان دونوں شخصیات کے علاوہ کوئی باوقار، دیانت دار، علم و فراست سے متصف، غیر جانبدار اور متفق علیہ شخصیت دستیاب نہیں؟


اگر جواب “نہیں” ہے—اور یقینا نہیں ہے—تو پھر سادہ الفاظ میں کہنا پڑے گا کہ یہ سب عہدوں کے لالچی ہیں، اور ملت کی بھلائی محض نعرہ ہے، مقصد کرسی ہے!


ہم امت کے وہ افراد ہیں جو امارت شرعیہ کو اپنے ایمان، اپنے تشخص، اپنے اتحاد کی علامت سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ:


کیا کوئی اجتماعی، آزاد، شفاف مشاورتی اجلاس ممکن نہیں جہاں مخلص، درد مند، غیر جانبدار علما و دانشور اس بحران کا حل نکالیں؟


کیا کوئی معیاری قیادت ان دو انتہاؤں کے علاوہ بھی ممکن نہیں؟


کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اداروں کو افراد سے بلند تر مانیں اور امت کو فرد کے سائے سے نکال کر اصول کے سائے میں لے آئیں؟


ہم سادہ مسلمان، ادارے کے خیرخواہ، طلبہ، والدین، مخلص علما، سب یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ:


امارت شرعیہ کسی فرد کی جاگیر نہیں! یہ امت کی امانت ہے، اور اس کی قیادت انہی کے سپرد ہونی چاہیے جو واقعی امانت دار ہوں۔

امارتِ شرعیہ: امت کی امانت، یا اقتدار کی جاگیر؟

 امارتِ شرعیہ: امت کی امانت، یا اقتدار کی جاگیر؟

(ایک کھلا خط بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کے علما و مشائخ کے نام)

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


امارتِ شرعیہ، بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کا وہ باوقار، دینی، ملی اور سماجی ادارہ ہے، جس نے ان خطوں میں شریعت کی روشنی، سماجی قیادت، تعلیمی رہنمائی اور ملی مرکزیت کا کام انجام دیا ہے۔ یہ ادارہ محض ایک تنظیم نہیں، ایک تحریک ہے، ایک تاریخ ہے، ایک اعتماد ہے—جسے حضرت مولانا ابو المحاسن سجادؒ جیسے عبقری بزرگ نے خونِ جگر سے سینچا، اور بعد میں مولانا منت اللہ رحمانیؒ، قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ، مولانا نظام الدینؒ، اور آخر میں مولانا ولی رحمانیؒ جیسے باکمال اہلِ علم و عمل نے امت کی کشتی کو گردابوں سے نکالا۔


لیکن آج!

یہی امارت... اقتدار کی رسہ کشی، ادارے پر قبضے اور ذاتی مفاد پرستی کا میدان بن چکی ہے۔ امت کے جذبات، ادارے کا وقار، امارت کا اعتماد—سب کچھ گروہی انا کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔


حالیہ جلسے اور "اربابِ حل و عقد" کے بیانات، جن میں "اتحاد" کی بات تو کی گئی، لیکن حقیقت میں وہ صرف اقتدار کی مشقیں اور الزامات کا تبادلہ زیادہ محسوس ہوئے۔

ایک گروپ نے دوسرے پر مالی غبن، خرد برد، عہدے کے ذریعے سرکاری مراعات کے ذاتی مفاد میں حصول اور ادارے کے وسائل کے ناجائز استعمال جیسے سنگین الزامات عائد کیے، جبکہ جواب میں دوسرا گروہ خود کو وارثِ شرعی، امینِ ملت اور عوامی تائید کا نمائندہ ثابت کرنے میں مصروف رہا۔


ایسا لگتا ہے جیسے دونوں گروہ امارت کو امت کی امانت نہیں بلکہ اپنی سیاسی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں۔

ورنہ اگر وہ واقعی مخلص ہوتے، تو سوال یہ ہے:


کیا وہ ملت کی امانت کو اپنی ذات پر ترجیح دے سکتے تھے؟


کیا وہ دونوں بیک وقت پیچھے ہٹ کر امت کو نئی راہ دکھانے کے لیے تیار ہوتے؟


کیا وہ اس عظیم ادارے کے وقار کو گروہی انا سے بلند سمجھتے?


آج ہم بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کے تمام

اکابر علما، مشائخِ عظام، مدارسِ اسلامیہ کے مہتممین، شیوخ الحدیث، بزرگ مفتیانِ کرام اور ملی رہنماؤں سے درد مندانہ، لیکن واضح اپیل کرتے ہیں:


اب خاموشی جرم ہے!

اگر آپ واقعی امارت کو حضرت سجادؒ، حضرت منت اللہؒ، حضرت ولیؒ کی امانت سمجھتے ہیں، تو اب آپ کو سامنے آنا ہوگا!

اب صرف “دعا کریں” کافی نہیں، اب کردار ادا کرنے کا وقت ہے۔


ہم پوچھتے ہیں:


کیا واقعی امت کی مائیں بانجھ ہو چکی ہیں کہ ان دو انتہاؤں کے سوا کوئی صالح، باوقار، دیانت دار، غیر جانبدار قیادت ممکن نہیں؟


کیا وقت نہیں آ گیا کہ دونوں گروہ بیک وقت دستبردار ہو کر میدان کسی تیسرے اہل، متفق علیہ شخص کے لیے خالی کریں؟


کیا ہم اداروں کو افراد کے سائے سے نکال کر اصول کے سائے میں لانے کا حوصلہ نہیں رکھتے؟


ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک آزاد، غیر جانب دار، وسیع البنیاد مشاورتی اجلاس بلایا جائے،

جس میں صرف وہ علما، مشائخ، اکابر اور نمائندہ اربابِ مدارس شریک ہوں جو کسی بھی فریق سے وابستہ نہ ہوں، اور جن کی دیانت و غیر جانب داری مسلم ہو۔

یہ اجلاس ہی آئندہ کے لائحۂ عمل، کسی نئی متفق علیہ قیادت اور ادارے کے آئینی استحکام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔


ورنہ اگر ہم خاموش رہے، تو تاریخ ہمارے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گی جو قومی و ملی غفلت کے مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔


امارت شرعیہ کسی فرد کی جاگیر نہیں،

یہ امت کی امانت ہے،

اور امانت، صرف اہل کے سپرد ہونی چاہیے۔


والسلام

قاری ممتاز احمد جامعی

(خادمِ دین و ملت)

امارت شرعیہ: منصب کی جنگ نہیں، ملت کی امانت ہے

 دردمندانہ اپیل


بعنوان:


امارت شرعیہ: منصب کی جنگ نہیں، ملت کی امانت ہے!


(ایک غیر جانب دار اصلاحی آواز)


جب ادارے افراد سے بڑے ہوں اور اصول شخصیتوں سے بلند تر — تب قومیں بنتی ہیں، اور تاریخ فخر کرتی ہے۔


لیکن جب فرد ادارے پر غالب آ جائے، جب ذاتی مفاد اصول پر بھاری ہو جائے، اور جب جماعتیں اپنے حصار میں ملت کو قید کرنے لگیں — تب امت انتشار کی دہلیز پر پہنچتی ہے۔


ایسا ہی ایک نازک لمحہ، آج امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ کے حوالے سے امت مسلمہ کے سامنے ہے۔


قضیہ نامرضیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کا دائرہ مسلسل ایک تشویشناک صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دونوں دعوے دارانِ "امیر شریعت" اپنے اپنے حلقے سے نکل کر اثر و رسوخ کے بل پر عوام الناس سے رجوع، ہنگامی دورے اور بیعت و تائید کے اجتماعات کر رہے ہیں، گویا ملت ایک دوسرگوں کشمکش کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔


یہ کوئی معمولی ادارہ نہیں، کہ جسے فقط کسی نشست، کسی عہدہ یا کسی شخصیت سے تعبیر کر دیا جائے۔


یہ ایک خواب کا تسلسل ہے — جو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ، مولانا محمد علی مونگیریؒ، مولانا منت اللہ رحمانیؒ، اور حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ جیسے رجال کی قربانیوں سے پروان چڑھا۔


یہ اس قوم کا اجتماعی ضمیر ہے — جو آئینِ ہند کے دائرے میں رہ کر دینی، ملی، تعلیمی، اور سماجی خودمختاری کا شعور رکھتی ہے۔


مگر آج جب ہم اپنے بزرگوں کی چھوڑی ہوئی اس امانت پر نظر ڈالتے ہیں، تو دل کانپ اٹھتا ہے۔


کرسی کی کشمکش، گروہی صف بندی، امارت کی تقسیم — یہ سب کچھ وہ زخم ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایک ادارہ، بلکہ پوری ملت کے وقار کو مجروح کیا ہے۔


حالیہ ایّام میں منعقد دونوں عظیم الشان جلسے، بظاہر اتحاد کے نام پر منعقد ہوئے — مگر باطن میں ایک ناقابلِ انکار حقیقت چھپی ہے:

امت دو رُخوں میں تقسیم ہو رہی ہے، اور ہم سب اس المیے کے خاموش گواہ بنے کھڑے ہیں۔


مفتیانِ کرام، فضلا، حفاظ، دانشوران قوم و ملت، ادارہ جاتی ذمے داران — سب کو ایک لائن میں کھڑا کر کے گروہی وفاداری کی فصیلیں بلند کی جا رہی ہیں۔


یہ وقت فتح و شکست کے اعلانات کا نہیں،

یہ وقت جیتنے یا ہرانے کا نہیں —

بلکہ یہ وہ گھڑی ہے جب ملت کے ذی شعور افراد، غیر جانب دار ادارے، مخلص علما و دانشور آگے آئیں، اور یہ کہیں:


> "ہمیں نہ تمہاری جیت سے غرض ہے، نہ اس کی ہار سے؛

ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ امت ہار رہی ہے!"


ہماری دردمندانہ اپیل ہے کہ:


1. دونوں موجودہ دعوے دار گروہ اعلانیہ اور بلاتاخیر دستبردار ہوں؛


2. ایک مشترکہ عبوری شوریٰ تشکیل دی جائے، جس میں کسی فریق کا غلبہ نہ ہو؛


3. اس شوریٰ کے زیرِ نگرانی، واضح، شرعی، آئینی، اور شفاف نظام کے مطابق نئے امیر کے انتخاب کی راہ ہموار ہو؛


4. اس نئے امیر کا انتخاب انسان نہیں، اصول کرے؛ اور پسند نہیں، ملت کی امانت کرے۔


ہم جیسے لوگ، جنہوں نے ہمیشہ امارت شرعیہ کے فیصلوں کو احترام دیا ہے، اور اس کے وجود کو دین کی اجتماعی علامت سمجھا ہے — آج یہ سوال کرتے ہیں:


📌 کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اداروں کو افراد سے بلند تر مانیں؟


📌 کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم کسی تیسرے باوقار، دیانت دار، متفق علیہ فرد کو موقع دیں؟


📌 کیا قوم کی مائیں صرف دو ہی افراد کو چننے پر قادر ہیں؟


📌 کیا واقعی ہم اصول، دیانت، اور شفاف قیادت کے خواب سے دستبردار ہو چکے ہیں؟


ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ:


📌 شخصیات کے ہجوم سے نکل کر اصولوں کا پرچم اٹھائیں؛


📌 ماضی پر رونے کے بجائے حال کو سنواریں؛


📌 اور اس ادارے کو آنے والی نسلوں کے اعتماد کے قابل بنا دیں۔


اگر ہم نے یہ موقع بھی کھو دیا —

تو یاد رکھئے!


کرسی بچ جائے گی، افراد جی لیں گے،

لیکن امت ہار جائے گی…!


جانب: قاری ممتاز احمد جامعی


کھیل کا جشن یا عقل کا ماتم؟ — ایک فکری تجزیہ

 کھیل کا جشن یا عقل کا ماتم؟ — ایک فکری تجزیہ


 پس منظر


بنگلور میں IPL ٹیم RCB کی جیت پر ایک جذباتی اور بے قابو ہجوم نے سڑکوں پر جشن منایا۔

دھوم دھڑاکے، نعرے، ڈھول، اور دیوانگی میں ڈوبی عوامی ریل کا انجام یہ ہوا کہ 10 قیمتی جانیں تلف ہو گئیں۔

ایک لمحے کو رک کر سوچیں:

یہ کس چیز کا جشن تھا؟

ایک کمرشل کھیل میں ایک ٹیم کی فتح؟

یا عقل، شعور، اور ایمان کی موت پر اجتماعی خاموشی؟

 کرکٹ: کھیل یا نئی نسل کا بت؟

یہ اب محض کھیل نہیں رہا،

بلکہ نفسیاتی غلامی، تجارتی جال، اور دینی بے حسی کا مجموعہ بن چکا ہے۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا:

ایک چھکے پر پوری قوم اچھلتی ہے،

لیکن مسجد کی اذان پر کوئی کان نہیں دھرتا؛

ایک بال کے لیے پوری رات جاگتے ہیں،

مگر قرآن سننے کے لیے پانچ منٹ بھی نکالنا مشکل؛

بچے کھلاڑیوں کے نام یاد رکھتے ہیں،

مگر اصحابِ بدر یا خلفائے راشدین کے نام پوچھیں تو نظریں جھک جاتی ہیں۔

 اخلاقی و دینی زوال

کھیل کے نام پر نمازیں قضا ہوتی ہیں

تعلیمی نظام پر کھیل کی دیوانگی حاوی ہے

میڈیا اور اشتہارات میں مرد و زن کی بے حیائی فروغ پا رہی ہے

نوجوان نسل کی سوچ کرکٹ کے ریٹائرمنٹ، سنچری، اور کیپٹنسی تک محدود ہو چکی ہے

ایسے میں اگر کوئی کہے کہ "کرکٹ قوم کا فخر ہے"، تو یہ نہیں بلکہ قومی المیہ ہے۔

 حضرت مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ کا فکری مشاہدہ

یہ بات صرف جذبات یا رائے نہیں، بلکہ علمی اور فقہی بصیرت کا بھی تقاضا ہے۔

حضرت مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ (مصنف فتاویٰ رحیمیہ)

اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک اہم شرعی استفتا تیار کروا رہے تھے — موضوع تھا:

"کرکٹ کا شرعی حکم اور اس کے دینی اثرات"

انہوں نے فقہ کے ماہر علما سے فرمایا:

> "اس استفتا میں یہ نکتہ ضرور شامل کریں کہ:

بعض لوگ کرکٹ دیکھنے میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ جب نماز کا وقت ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو سوچتے ہیں:

’ایک بال اور دیکھ لوں، شاید چھکا لگ جائے’

اور یوں فرض نماز قضا ہو جاتی ہے۔

ایسے عمل کا شرعی حکم بیان کیا جائے۔"

حضرت مفتیؒ نے اس بات کو ایک فتنہ قرار دیا تھا،

مگر افسوس! حضرت کی عمر نے وفا نہ کی،

اور بعد کے مفتیان میں وہ جرأت، فکر اور امت کا درد باقی نہ رہا۔

یوں ایک عظیم علمی رہنمائی امت سے محروم ہو گئی۔

 قوم کی ترجیحات کا المیہ

علمائے حق کے بیانات پر کوئی کان نہیں دھرتا

لیکن کمنٹیٹرز کی چیخ پر پوری قوم ہل جاتی ہے

اصلاحی جلسے خالی، مگر کھیلوں کی جگہ بھری ہوئی

جنہوں نے قوم کے لیے جان دی، ان کے مزار اجنبی

جنہوں نے بیٹ گھمایا، ان کی تصویریں دیواروں پر

ایسی قوم کے لیے "آ بیل مجھے مار" محاورہ نہیں، زندہ حقیقت بن چکا ہے۔

ہم کھیل کے خلاف نہیں،

غفلت، ترجیحات کی خرابی، اور دینی خسارے کے خلاف ہیں۔

> کیا کھیل دیکھنا فرض نماز سے بڑھ کر ہے؟

کیا ایک چھکا دین کے ایک حرف سے قیمتی ہو گیا؟

کیا ہمارا دین اتنا سستا ہو گیا ہے کہ ایک اسکرین پر قربان ہو جائے؟

اگر نہیں — تو اب وقت ہے کہ:

ہم تماشائی بننا چھوڑیں، رہبر بنیں

بچوں کو کھلاڑیوں کے بجائے صحابہ کا فین بنائیں

کھیل کے تماشے کو دین پر قربان نہ کریں

اور سب سے بڑھ کر، کرکٹ پر ایمان نہ لائیں — ایمان کو بچائیں

یہ مضمون نہ نفرت ہے، نہ حسد،

یہ ایک دردمند دل کی فریاد ہے — جو چاہتا ہے کہ امت ہوش میں آئے۔

کرکٹ دیکھنا حرام نہیں،

لیکن کرکٹ میں ڈوب کر دین، نماز، اور عقل کو دفن کرنا یقینا فتنہ ہے۔

 "کھیل زندگی کا حصہ ہو، تو خوبصورت ہے؛

لیکن اگر زندگی کھیل بن جائے — تو تباہی ہے۔"

اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں سے بچائے،

امت کو فہم، توازن اور ترجیحات کی درست سمت عطا فرمائے۔

آمین۔

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی 

نیا بھارت یا بے رحم بھارت؟

 ✍️ نیا بھارت یا بے رحم بھارت؟


2014 کے بعد انسانیت پر حملے، اور اخلاقی تباہی کی داستان


2014 میں جب اقتدار بدلا، تو صرف حکومت نہیں بدلی — ملک کی روح، اقدار، اور انسانی حرمت کے تصورات بھی بدلتے چلے گئے۔ "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کے نعرے کے پیچھے جو چہرہ چھپا تھا، اس نے دھیرے دھیرے ظلم، ناانصافی، اور بےحسی کو نیا قومی مزاج بنا دیا۔

🟥 1. عورت کی عصمت — نعرے میں تحفظ، عمل میں پامالی!

بیتے برسوں میں جنسی جرائم کی جو لہر چلی ہے، وہ صرف بدنظمی نہیں بلکہ منظم جرم کا دھڑلّا ہے۔

اناؤ، کٹھوعہ، ہتھرس، بلقیس بانو — یہ سب محض فائلوں کے کیس نہیں، بلکہ اس قوم کی بیٹیوں کے زخم ہیں، جن پر اقتدار نے نمک چھڑکا۔

اب اتراکھنڈ کے ہریدوار میں بی جے پی مہیلا مورچہ کی سابق صدر نے اپنی 13 سالہ بیٹی کی عزت کو بازار میں بیچنے کا مکروہ دھندہ کیا۔ یہ جرم نہیں، انسانیت کے منہ پر تھپڑ ہے۔

کیا یہ وہی “بیٹی بچاؤ” ہے جس کی دہائی دی جاتی ہے؟ اگر ماں جیسا مقدس رشتہ بھی سیاست کی دلدل میں ڈوب جائے، تو باقی رشتے کہاں محفوظ رہیں گے؟

🟥 2. گائے کے نام پر انسان کا خون — مذہب یا حیوانیت؟

2015 میں اخلاق احمد کو مارا گیا،

پھر پہلو خان، راکبر خان، تبریز انصاری...

قتل کا ہتھیار اب چھری یا بندوق نہیں، بلکہ افواہ، جے شری رام، اور گائے کا نام بن چکا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں گائے کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے، وہیں اس "ماں" کے تحفظ کے نام پر ہزاروں ماؤں کے بیٹے مارے گئے۔

کیا یہی "رام راج" ہے؟ کیا بھگوان رام کی تعلیمات اسی نفرت کی اجازت دیتی ہیں؟ مذہب کو اتنی سفاکی سے استعمال کرنا، خود مذہب کے ساتھ ظلم ہے۔

🟥 3. ہجوم کا انصاف — عدالتوں کے منہ پر طمانچہ

موب لنچنگ ایک دو واقعے نہیں، بلکہ نیا غیر سرکاری انصاف کا ماڈل بن چکا ہے۔

پولیس اکثر خاموش تماشائی بنی نظر آتی ہے، ویڈیو بنانے والے ہی مجرم بن جاتے ہیں، اور متاثرہ خاندان زندگی بھر انصاف کی دہائی دیتا ہے۔

🟥 4. راہنما کی نجی زندگی — قومی قیادت کا اخلاقی آئینہ

جب ایک ملک کا سربراہ اپنی بیوی کو لاوارث چھوڑ دے، تو وہ عورتوں کے تحفظ پر کیا بولے گا؟

یہ اس کی نجی زندگی نہیں، ایک اخلاقی نمونہ ہے — جو اگر بوسیدہ ہے، تو سارا نظام بوسیدہ ہو جاتا ہے۔

ازدواجی رشتہ محض قانونی معاہدہ نہیں، ایک تمدنی اکائی، ایک اخلاقی عہد ہے۔ اگر اسی کا وقار پامال ہو تو "پرم پراؤں" اور "سنکلپ" کے نعرے محض کھوکھلے الفاظ بن جاتے ہیں۔

📢 نتیجہ:

ان سب واقعات کو الگ الگ نہ دیکھا جائے۔

یہ سب ایک ذہنیت، ایک نظام، اور ایک ایجنڈے کی کڑیاں ہیں — جو انسان سے زیادہ عقیدے، قانون سے زیادہ نفرت، اور ضمیر سے زیادہ ووٹ بینک کو اہمیت دیتا ہے۔

🕊️ اختتامی جملہ:

یہ تحریر انسانیت کے تحفظ کی ایک آواز ہے — تاکہ سچائی زندہ رہے، اور ظلم کو بے نقاب کیا جا سکے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی جائے۔


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی 

عید الاضحی گزر چکی ہے… مگر قربانی کا پیغام باقی ہے!


📌 عید الاضحی گزر چکی ہے… مگر قربانی کا پیغام باقی ہے!


عید الاضحی گزرنے کو ہے — مگر سوال یہ ہے:


کیا ہم قربانی کا جانور خریدے تھے ؟ یا اپنی غیرت، دین، اور تہذیب کی قربانی دیئے تھے؟


جب کوئی قوم اپنے تہواروں سے بے زار ہو جائے اور اغیار کے جشن اسے زیادہ خوبصورت لگنے لگیں…

جب قربانی کی رات نیو ایئر نائٹ بن جائے، اور عید کا دن صرف پوسٹ، سیلفی اور شو آف کی دوڑ بن جائے…

تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔


قربانی کا مطلب صرف خون بہانا نہیں —

بلکہ دل نرم کرنا، غریبوں کو دینا، اور شعور جگانا ہے۔


مگر آج کے دور میں:


جانور کا خون تو بہا،

مگر دل کا تقویٰ کہاں گیا؟


گوشت کاٹ دیا،

مگر رشتہ دار بھوکے رہ گئے۔


سجی ٹرے تو بنی،

مگر پڑوسی بیوہ کا چولہا ٹھنڈا رہا۔


یہ قربانی نہیں، یہ رسم کا بے روح مجسمہ ہے!


📌 جب مسلم نسل غیروں کی نقالی میں فخر محسوس کرے...


فرینڈشپ ڈے پر تعلقات سجیں،

مگر صحابہؓ کی صحبت اجنبی ہو جائے؛


ہولی کے رنگ اپنائیں،

مگر تحجد کے آنسو بوجھ بن جائیں؛


دیوالی کے دیئے روشن کریں،

مگر قبر کی تاریکی کا خوف مٹ جائے؛


راکھی بندھوانا فخر بن جائے،

اور محرمات کا تقدس بے معنی ہو جائے؛


ویلنٹائن پر محبت کا ناٹک ہو،

مگر والدین کی قدم بوسی بوجھ لگے؛


تو سمجھو یہ قوم اسلامی روح سے خالی ہو چکی ہے — اور صرف جسمانی وجود کے بل پر جی رہی ہے۔


📖 قرآن کا پیغام:


> "وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ"

"اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔"

(آلِ عمران: 139)


قربانی کی اصل روح یہ ہے کہ ہم نفس، دکھاوے، دنیا پرستی، اور غفلت کو ذبح کریں،

اپنے اندر خشیت، اخلاص، تقویٰ اور ایثار کو زندہ کریں۔


اگر ہم غیروں کے طریقے، رنگ، جشن، اور تہذیب کو اپنا کر خود کو "روشن خیال" سمجھنے لگیں —

تو ہم خود کو اندھیروں کے قریب کر رہے ہیں، اور ہدایت سے دور جا رہے ہیں۔


📌 عید سے پہلے ایک بار خود سے پوچھو:

کیا میری قربانی… اللہ کے لیے ہے؟

یا لوگوں کو دکھانے کے لیے؟


✍️ قلم: قاری ممتاز احمد جامعی