MUMTAZ AHMED JAMAEE ایک فکری و معلوماتی بلاگ ہے جو دینی و اسلامی نظریات، بھارتی سیاسی و سماجی حالات، اور تہذیبی مباحث کو صحافتی زاویے سے پیش کرتا ہے۔ یہاں ہر تحریر علم، تحقیق اور اعتدال پر مبنی ہے — مقصد ہے قارئین میں فکری بیداری، مثبت سوچ اور ذمہ دارانہ شعور کو فروغ دینا۔
بدھ، 31 دسمبر، 2025
لبرل شائستگی، میڈیا ٹرائل اور مفتی شمائل ندوی: ایک فکری و اخلاقی احتساب
بدھ، 17 دسمبر، 2025
ریاست، عورت اور آئین: جب اقتدار خود وقار کا منکر بن جائے
Bihar CM Nitish Kumar Pulls Woman Doctor’s Hijab (YouTube)
An analytical column examining constitutional morality in India through women’s dignity, religious freedom, minority rights, and the limits of state power, based on a recent public incident.
ریاست، عورت اور آئین: جب اقتدار خود وقار کا منکر بن جائے
تمہید: مسئلہ ایک ویڈیو نہیں، ایک ذہنیت ہے
پٹنہ کی ایک سرکاری تقریب میں بہار کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے حجاب کو زبردستی ہٹانے کا منظر اگر محض ایک لمحاتی بدتمیزی سمجھ لیا جائے تو یہ خود فریبی ہوگی۔ یہ واقعہ اس ریاستی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں عورت کے جسم، مذہبی شناخت اور ذاتی وقار کو اقتدار کے تابع سمجھ لیا جاتا ہے۔
یہ سوال اب کسی فرد کی نفسیات تک محدود نہیں رہا بلکہ آئینی اخلاقیات (Constitutional Morality) سے جڑ چکا ہے—وہ اخلاقیات جنہیں ہندوستانی آئین نے جمہوریت کی بنیاد بنایا ہے۔
آئینی دائرہ: ریاست کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟
بھارتی آئین واضح طور پر یہ طے کرتا ہے کہ ریاست شہری کے جسم، لباس اور مذہبی شناخت پر جبر نہیں کر سکتی:
آرٹیکل 14: قانون کی نظر میں مساوات
آرٹیکل 15: جنس اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت
آرٹیکل 19: اظہارِ ذات اور طرزِ زندگی کی آزادی
آرٹیکل 21: شخصی وقار اور نجی زندگی کا حق
آرٹیکل 25: مذہبی آزادی
ان دفعات کا مجموعی مفہوم یہ ہے کہ ریاست شہری کے ذاتی انتخاب میں اس وقت تک مداخلت نہیں کر سکتی جب تک وہ انتخاب کسی دوسرے شہری کے بنیادی حقوق کو مجروح نہ کرے۔
کسی خاتون کے لباس میں زبردستی مداخلت نہ صرف اس کی شخصی آزادی کی نفی ہے بلکہ یہ ریاستی طاقت کے غلط استعمال کی واضح مثال بھی ہے—خصوصاً جب یہ عمل ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز فرد کی جانب سے ہو۔
تحقیر کا منظرنامہ: ویڈیو کیا ظاہر کرتی ہے؟
ویڈیو کا باریک مطالعہ تین بنیادی حقائق کو بے نقاب کرتا ہے:
1. بلا اجازت جسمانی قربت اور ذاتی دائرے میں مداخلت
2. پس منظر میں ہنسی اور خاموش تماشائی—یعنی اجتماعی بے حسی
3. عورت کے مذہبی انتخاب کو غیر متعلق سمجھنے کا رویہ
یہ عناصر مل کر بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ محض ایک ذاتی لغزش نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کا اظہار ہے جو ریاست کو عورت کے جسم اور شناخت پر بالادست تصور کرتی ہے۔
ایک وسیع تر تسلسل: انفرادی واقعہ نہیں، ریاستی رویہ
یہ واقعہ ایک بڑے اور مسلسل مسئلے کا حصہ ہے، جس کی جھلک ان معاملات میں بھی نظر آتی ہے:
بلقیس بانو کیس میں مجرموں کے ساتھ نرمی
کتھوعہ میں آصفہ کے مقدمے میں طاقتور عناصر کا اثر
ہاتھرس میں متاثرہ خاندان کے وقار کی پامالی
اتر پردیش میں اخلاقی لنچنگ سے متعلق مقدمات کی واپسی
یہ تمام مثالیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جب ریاست نظریاتی طور پر جانبدار ہو جائے تو انصاف کمزور اور انسانی وقار غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔
مسئلہ قوم کا نہیں، نظریاتی ریاست کا ہے
اس پورے پس منظر میں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ناگزیر ہے: مسئلہ کسی مذہب یا قوم کا نہیں بلکہ ایک ایسے نظریاتی ریاستی رویے کا ہے جو اکثریت کے نام پر کمزور طبقات کے حقوق کو ثانوی بنا دیتا ہے۔
جب عورت کے وقار کو اصلاح کے نام پر پامال کیا جائے، مذہبی شناخت کو پسماندگی سے جوڑا جائے اور انصاف کو اکثریتی جذبات کے تابع کر دیا جائے تو یہ آئینی جمہوریت نہیں بلکہ طاقت کی حکمرانی بن جاتی ہے۔
نتیجہ: آئین بطور آئینہ
یہ تحریر کسی طبقے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ آئین کو آئینہ بنا کر ریاستی رویے کو پرکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
جمہوریت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اکثریت کیا چاہتی ہے بلکہ یہ ہے کہ کمزور کے وقار، عورت کی آزادی اور اقلیت کے آئینی حقوق کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔ اگر ریاست اس ذمہ داری سے انحراف کرے تو تاریخ، عالمی ضمیر اور خود آئینی اصول اس کا احتساب کرتے ہیں۔
By: Qari Mumtaz Ahmad Jamaee
Email: majaamai@gmail.com
اتوار، 7 دسمبر، 2025
اسلامی عدل کا درخشاں ورثہ اور آج کے فیصلوں کا زوال
پیر، 1 دسمبر، 2025
نور سے اندھیرے تک: نسلوں کے بدلنے کی وہ خاموش حقیقت جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں
نور سے اندھیرے تک: نسلوں کے بدلنے کی وہ خاموش حقیقت جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں
مرتب: قاری ممتاز احمد جامعی
Email: majaamai@gmail.com
نسلوں کا سفر انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ ایمان وراثت میں منتقل نہیں ہوتا؛ اسے حفاظت، تربیت اور صالح ماحول کے سائے میں پروان چڑھانا پڑتا ہے۔ تاریخ میں ایسے کئی خاندان ملتے ہیں جن کے سفر کی ابتدا نور، علم اور دینداری سے ہوئی، مگر چند ہی نسلوں بعد وہ فکری اندھیروں میں گم ہوگئے۔ یہ معاملہ محض ایک نظری بحث نہیں؛ اس کی زندہ مثالیں ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔ جاوید اختر کا خانوادہ اسی حقیقت کا بین ثبوت ہے—وہ خاندان جس کی بنیاد علمِ دین، جہادِ آزادی اور اسلامی غیرت کے ستونوں پر رکھی گئی تھی۔ ان کے پردادا مولانا فضلِ حق خیرآبادیؒ وہ عظیم مجاہد اور بلند پایہ عالم تھے جنہوں نے 1857 میں انگریز کے خلاف تاریخی فتویٰ صادر کیا اور جنہیں برصغیر میں “شیخ الاسلام” کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی علمی قد آور شخصیت، استقامت اور خدمات ہماری دینی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ جاوید اختر کے دادا مضطر خیرآبادی بھی شعر و ادب کے باوقار نام اور دینی و تہذیبی وقار کے حامل تھے۔ ان کے والد جانثار اختر ممتاز شاعر تھے، مگر رفتہ رفتہ سوشلسٹ فکر کے زیرِ اثر مذہبی وابستگی کمزور پڑتی چلی گئی۔ اور یہی فکری زوال چند دہائیوں میں ایسے نقطے تک جا پہنچا کہ انہی نسلوں کے وارث جاوید اختر نے خدا کے وجود ہی کا انکار اپنا فکری تشخص بنا لیا۔ یہ پوری داستان اس حقیقت کی بڑی دلیل ہے کہ نسلوں کی فکری سمت بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
اسی طرح تسلیمہ نسرین کا پس منظر بھی اسلامی اخلاق اور مشرقی اقدار سے خالی نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں مذہب سے لاتعلقی کا کوئی تصور نہ تھا۔ ان کے والد ڈاکٹر رفیق الاسلام باوقار، تعلیم یافتہ اور با شعور انسان تھے جن کے گھر میں قرآن کی تلاوت، تہذیبی شائستگی اور خاندانی اقدار کی فضا موجود تھی۔ مگر ذہنی بغاوت، مغربی فکر کی یلغار، شہرت کی خواہش اور مذہب بیزار حلقوں کی حوصلہ افزائی نے انہیں اپنی بنیادی شناخت سے دور کر دیا—یہاں تک کہ مذہب پر حملہ ان کے اظہار کا انداز بن گیا۔
سلمان رشدی کا خاندانی ماحول بھی اسلام اور تہذیبی ادب سے ناآشنا نہ تھا۔ ان کے والد انوار رشدی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ، تہذیبی سلیقے اور ادبی ذوق رکھنے والے شخص تھے۔ گھر میں مشرقی آداب اور مذہبی احترام موجود تھا۔ مگر مغربی علمی دنیا کی چکاچوند، اس کے فکری جال اور نظریاتی غلامی نے انہیں ایسی تحریر لکھنے کی طرف دھکیل دیا جس نے پوری مسلم دنیا کے دل زخمی کیے۔
یہ تینوں مثالیں اس ناقابلِ انکار حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ اگر نسلوں کو دین کی روشنی اور ایمان کی نرم آنچ مہیا نہ کی جائے، اگر ان کے ذہن، فکر اور اخلاق کے نگہبان موجود نہ ہوں، اگر گھر کا ماحول ایمان کا محافظ نہ ہو—تو چند نسلوں کے اندر ایک خاندان کی فکری بنیادیں مکمل طور پر ڈھل سکتی ہیں۔ اسلام کسی شاعر، ادیب، مفکر یا خاندان کا محتاج نہیں۔ اللہ کی ربوبیت اور دینِ حق کی شان کسی ایک فرد یا خاندان کے انکار سے نہ کبھی کم ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ خسارہ تو اسی شخص اور اس کی نسلوں کا ہے جو اپنے ہاتھوں اپنی آخرت کا چراغ بجھا بیٹھے۔
اسی پس منظر میں 20 دسمبر 2025 کو دہلی میں ہونے والا مکالمہ “Does God Exist?” غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک جانب جاوید اختر ہیں—جن کے فکری ڈھانچے کی بنیاد خدا کے انکار پر قائم ہے، اور دوسری جانب مفتی شمائل ندوی—جو وحی، عقلِ سلیم اور علمی استدلال کی روشنی میں خدا کے وجود کا مضبوط مقدمہ پیش کرنے والے محقق و عالم ہیں۔ یہ محض دو شخصیات کی بحث نہیں؛ یہ دو نظریات کا ٹکراؤ ہے: ایک طرف الحاد، شک اور مادیت کی تاریکی؛ دوسری طرف ایمان، فطرت، وحی اور عقل کا نور۔
یہ زمانہ ہمیں مسلسل یاد دہانی کرا رہا ہے کہ اپنی نسلوں کی حفاظت کیجیے۔ انہیں قرآن و سنت سے جوڑیے، صالح ماحول دیجئے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت دلوں میں بٹھائیے۔ اگر تربیت کا چراغ بجھ گیا اور گھر کا ماحول ایمان کا نگہبان نہ رہا تو وہی حالات دہرائے جائیں گے—چند نسلوں میں ایمان کمزور پڑتا جائے گا، اور لوگ وہاں پہنچ جائیں گے جہاں خدا کے انکار پر فخر کیا جاتا ہے۔
اس لیے غور کیجیے… سوچئے… اپنے گھرانے کے مستقبل کی ذمہ داری سنبھالیے۔ ایمان کی حفاظت علم، تربیت اور نیک ماحول سے ہوتی ہے۔ ورنہ نسلوں کا بدل جانا وقت کا محتاج نہیں ہوتا۔
جمعہ، 28 نومبر، 2025
فسطائیت کی زد میں… جامعہ اشاعت العلوم
فسطائیت کی زد میں… جامعہ اشاعت العلوم
قاری ممتاز احمد جامعی
majaamai@gmail.com
جامعہ اشاعت العلوم کا ذکر آتے ہی ذہن میں ایک ایسے روشن چراغ کی تصویر ابھرتی ہے جس نے برسوں سے علم، خدمت اور انسانی وقار کی شمعیں جلائے رکھیں۔ لیکن آج اس چراغ پر سیاسی یلغار کا سایہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ قومیں جب اپنی تاریخ کے تاریک ترین دور سے گزرتی ہیں تو ظلم کی کئی شکلیں سامنے آتی ہیں—کبھی انسانی حقوق پر شب خون، کبھی آئین کی روح کا گلا گھونٹنا، کبھی اقلیتوں کو حاشیے پر دھکیلنا، اور کبھی اُن تعلیمی مراکز کو نشانہ بنانا جو دراصل کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ آج بھارت کا ماحول اسی گھٹن اور اسی بے چینی سے بوجھل ہے، اور اسی بوجھ کے نیچے وہ ادارے بھی کراہ رہے ہیں جنہوں نے دہائیوں تک سماج کے کمزور طبقات کو امید، تحفظ اور شعور فراہم کیا۔
انہی عظیم اداروں میں سے ایک، جامعہ اشاعت العلوم اکل کُوا، اس وقت ایک ایسی یلغار کا سامنا کر رہا ہے جس کی نہ بنیاد ہے، نہ جواز، نہ اخلاقی وزن۔ یہ بات کسی بھی صاحبِ شعور کے لیے ناقابلِ برداشت ہے کہ ایک ایسا مرکز، جو چالیس پچاس سال سے زائد عرصے سے قوم اور انسانیت کی خاموش مگر عظیم خدمات سرانجام دیتا آیا، اسے آج سیاسی چنگیزیت کے نرغے میں لے لیا جائے۔ یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ ایسے اداروں پر حملے ہمیشہ سیاسی ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ظلم کے مقابلے میں باشعور نسل تیار کرتے ہیں، اور باشعوری ہمیشہ فسطائیت کے لیے خطرہ ہوتی ہے۔
جامعہ کا سفر ایک چھوٹی سی جھونپڑی اور چند طلبہ سے شروع ہوا تھا، لیکن چند دہائیوں میں یہ ایک ایسے تعلیمی شہر میں تبدیل ہو گیا جس نے دینی تعلیم، عصری تعلیم، میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبے، یتیم خانے، ہاسٹل، فلاحی مراکز اور انتظامی ڈھانچے کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو نئی سمت دی۔ یہ محض ایک مدرسہ نہیں تھا؛ یہ مسلمانوں کے تعلیمی وجود کی علامت بن چکا تھا۔ اس نے ہندوستانی سماج کو یہ پیغام دیا کہ مسلمان محروم نہیں—بلکہ مستقبل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ عظیم سفر حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ کی قیادت اور بصیرت کا نتیجہ تھا۔ وہ ایسے باوقار، باصلاحیت اور بے خوف قائد تھے جنہوں نے علم کے راستے کو خدمت، انسانیت اور اصول کے ساتھ جوڑا۔ وہ ایک ایسا مضبوط ستون تھے کہ جن کے دور میں کسی سیاسی طاقت، کسی آر ایس ایس ذہنیت یا کسی حکومتی ایجنسی کو یہ ہمت نہ تھی کہ ادارے پر میلی نگاہ ڈال سکے۔ ان کی دیانت، نظم، شفافیت اور جرأت خود ایک ڈھال بنی رہتی تھی۔ یہ انہی کا جذبہ اور انہی کی بنیادیں تھیں جنہوں نے اس ادارے کو ریاستی و سماجی سطح پر اعتماد کا سرچشمہ بنا دیا۔
مولانا کے انتقال کے بعد ادارہ ان کے صاحبزادے مولانا حذیفہ وستانوی کے زیرِ نظم ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ کام وہی اصول، وہی ترتیب، وہی شفافیت اور وہی انتظامی ڈھانچہ کے ساتھ جاری ہے جو حضرت وستانویؒ نے قائم کیا تھا۔ اس لیے کسی بھی طرح کی کارروائی، تفتیش یا الزامت کو انتظامی کمزوری یا بدعنوانی کے ساتھ جوڑنا سراسر ظلم ہے۔ یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ یہاں نظم و ضبط موجود ہے، حساب کتاب موجود ہے، شفافیت موجود ہے—پھر بھی نشانہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں، اور اسی میں چھپا ہے اصل سیاسی کھیل۔
سوال یہ ہے کہ ایک ایسا ادارہ جو مذہبی نہیں، سیاسی نہیں، ٹکراؤ کا مرکز نہیں، بلکہ خالص تعلیمی اور فلاحی کردار ادا کر رہا ہے—آخر اسے نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ ایک ایسا ادارہ جو غریب بچوں کو تعلیم دے رہا ہے، یتیموں کو سہارا دے رہا ہے، قبائلی بچوں کو عزت دے رہا ہے، سماج کے پسماندہ طبقات کو اٹھا رہا ہے—وہ کس جرم کی سزا کاٹ رہا ہے؟ اس کا جواب ایک ہی ہے: خوف۔ وہ طاقتیں جو اقلیتوں، دلتوں، غریبوں، قبائلیوں اور کمزور طبقات کو تعلیم یافتہ نہیں دیکھنا چاہتیں، وہ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں علم کی روشنی ظلم کے ایوانوں میں دراڑیں نہ ڈال دے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں کو سب سے پہلے نشانہ بنایا جاتا ہے، کیونکہ ظالم جانتا ہے کہ تعلیم یافتہ قوم کبھی غلام نہیں رہتی۔
یہ تفتیشیں، یہ کارروائیاں، یہ پروپیگنڈے—یہ سب دراصل اسی بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد اقلیتوں کو ذہنی، سماجی اور تعلیمی طور پر کمزور رکھنا ہے۔ آج جب آئین لہولہان ہے، جمہوریت کمزور پڑ چکی ہے، دلت مسلمان مسلسل نشانے پر ہیں، تب ایسے اداروں پر یلغار کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی ہے۔ ظلم کے ایوان چاہتے ہیں کہ یہ چراغ بجھ جائیں، یہ تعلیمی پرچم سر نہ اٹھا سکیں، اور قوم ایک بار پھر پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیل دی جائے۔
لیکن یہ بھی تاریخ کا اٹل اصول ہے کہ علم کے چراغ بجھائے نہیں جا سکتے۔ ظلم کی گرم ہوا انہیں کچھ دیر کے لیے لرزا ضرور سکتی ہے مگر بجھا نہیں سکتی۔ اور جامعہ اشاعت العلوم جیسا ادارہ، جو خدمت، اخلاق، شفافیت اور اصولوں پر قائم ہے، اسے کسی بھی سیاسی یلغار سے دبایا نہیں جا سکتا۔
آج جب ہم حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ کو یاد کرتے ہیں تو دل گواہی دیتا ہے کہ وہ ہوتے تو کوئی طاقت اس ادارے پر ہاتھ نہ ڈال سکتی۔ لیکن ان کی غیر موجودگی میں بھی یہ ادارہ کمزور نہیں—صرف ہم کمزور ہیں، بکھرے ہوئے ہیں، منتشر ہیں۔ اور یہی وقت ہے کہ ہم یہ طے کر لیں کہ علم کے چراغ کے ساتھ کھڑے رہنا ہے، ظلم کے مقابلے میں خاموش نہیں رہنا۔
کیونکہ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے:
ادارے باقی رہتے ہیں… ظلم باقی نہیں رہتا۔
اتوار، 16 نومبر، 2025
اتنی بد احتیاطی" کا پس منظر — ودود ساجد کی تحریر پر ایک حقیقت پسندانہ اور مدلل تبصرہ
اتنی بد احتیاطی" کا پس منظر — ودود ساجد کی تحریر پر ایک حقیقت پسندانہ اور مدلل تبصرہ
ودود ساجد صاحب کی تحریر بظاہر مسلمان نوجوانوں کو احتیاط اور سمجھ داری کا مشورہ دیتی ہے، اور یہ مشورہ اپنی جگہ بجا بھی ہے۔ لیکن اس مشورے کے پیچھے چھپے بڑے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ آخر ایک ایسے ملک میں جہاں ریاستی طاقت، حکومتی ادارے، پولیس، اور اکثریتی سیاست کی پوری مشینری برسوں سے اقلیتوں کے خلاف کارفرما ہو—صرف کمزور طبقے کو ہی بداحتیاطی کا سبق کیوں دیا جاتا ہے؟ مسئلہ نوجوانوں کی جذباتی پوسٹس کا نہیں، مسئلہ اس وسیع تر ریاستی رویے کا ہے جو آزاد بھارت کی پوری تاریخ میں بار بار دہرایا گیا۔
یہ دھارا آج کا نہیں، دہائیوں پر محیط ہے۔ 1987 کا ہاشم پورہ آج بھی گواہی دیتا ہے کہ کس طرح ریاستی وردی میں ملبوس اہلکاروں نے مسلمانوں کو لائن میں کھڑا کرکے گولیوں سے بھون دیا۔ میرٹھ، مرادآباد، علی گڑھ, ممبئی، سورت، بھاگلپور اور پھر 2002 کا گجرات—یہ سب واقعات اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہاں "بداحتیاطی" ہمیشہ کمزور کے کھاتے میں ڈالی گئی، مگر ظلم اور زیادتی کا بوجھ کبھی طاقتور پر نہیں ڈالا گیا۔ مظفر نگر 2013 ہو یا دہلی 2020—ریاست کی خاموشی اور انتظامیہ کی شراکت داری کا نقشہ بار بار دہرا نظر آتا ہے۔
ودود ساجد کے مضمون میں جن واقعات کا حوالہ ہے، وہ اس رویے کو اور نمایاں کرتے ہیں۔ آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا یہ کہنا کہ وہ مسلمانوں کی ہر پوسٹ دیکھ رہے ہیں اور سب کے اسکرین شاٹس محفوظ کیے جا رہے ہیں، ایک جمہوری ریاست میں خوف پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ کیا وزیراعلیٰ کا کام شہریوں کی سوشل میڈیا نگرانی ہے؟ یا یہ کام ریاستی ایجنسیوں کے اختیار میں ہوتا ہے؟ یہ حقیقت بتاتی ہے کہ ریاستی طاقت کو امن و قانون کی خاطر نہیں، بلکہ ایک مخصوص طبقے کی زبان بند کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں سلچر آسام کا واقعہ بھی سامنے آتا ہے جہاں ایک سبکدوش اسکول پرنسپل کو محض "الیکشن اسٹنٹ" لکھنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ جرم نہیں تھا—یہ ریاستی عدم برداشت تھی۔ دیوبند کے ہندو انسپکٹر کو “آتنک واد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا” کہنے پر لائن حاضر کر دینا اس بات کی علامت ہے کہ اس ملک میں انصاف پسندی بھی سزا بن جاتی ہے۔ پھر مہاراشٹر میں ایک عمر رسیدہ ٹیچر کو ”جے شری رام“ نہ بولنے پر تذلیل کرتے ہوئے گھٹنوں کے بل جھکایا گیا—یہ صرف بداخلاقی نہیں بلکہ ایک تہذیبی پیغام ہے کہ اقلیت کو سر جھکا کر ہی جینا ہوگا۔
ان واقعات کے درمیان یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ اعلان کہ "ہم جنوری–فروری میں مئی–جون جیسی گرمی لے آئیں گے" سیاسی زبان سے زیادہ دھمکی کی زبان ہے۔ یہ وہ جملے ہیں جو ایک عام نوجوان کو نہیں، بلکہ ایک ریاستی سربراہ کو زیب دیتے ہیں، مگر تعجب یہ ہے کہ احتیاط کے لیکچر ہمیشہ کمزور کو ملتے ہیں اور طاقتور کو کبھی نہیں۔
اویسی نے کشمیر میں انکاونٹر کے بعد پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا تھا کہ اگر لاکھوں لوگ کسی مقتول کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کی گورننس ہی لوگوں کے دل جیتنے میں ناکام ہے۔ یہی سوال آج پورے بھارت پر لاگو ہوتا ہے کہ جب ریاست انصاف نہیں دے گی تو بداعتمادیاں تو بڑھیں گی ہی۔
یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں کو اصول پر چلتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری کب قبول کرے گی؟ جب پورا نظام اکثریتی سیاست کے ہاتھوں یرغمال ہو، جب میڈیا نفرت بیچے، جب ایجنسیاں مخصوص زاویے سے کام کریں، جب ہر مثبت آواز کو سزا ملے، تو صرف اقلیت سے احتیاط کا مطالبہ حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ آج کے بھارت میں اقلیت مجرم نہیں—بلکہ مسلسل نشانے پر رہنے والی مظلوم اکائی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو بچانے، اپنے گھروں کو محفوظ رکھنے، اور اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ طاقت کے سرچشمے اسے دبانے کے لیے متحد اور سرگرم ہیں۔ ایسے میں ودود ساجد کا مشورہ اپنی جگہ مگر پوری تصویر صرف اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب ریاست کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے، کیونکہ بداحتیاطی اگر کہیں سب سے زیادہ خطرناک ہے تو وہ ریاستی سطح پر ہے، نہ کہ ایک نوجوان کے موبائل اسکرین پر۔
اور اصل سوال یہی ہے کہ آخر کب تک اقلیتوں کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہے گا؟ کب تک نوجوانوں کی زبان بند کی جائے گی اور کب تک طاقتوروں کے خطرناک بیانات پر خاموشی اختیار کی جائے گی؟ جب تک یہ سوال زندہ ہے، تب تک احتیاط کے ساتھ ساتھ اجتماعی بیداری، تاریخی شعور، اور منظم فکری جدوجہد کی ضرورت باقی رہے گی۔
✍️ قاری ممتاز احمد جامعی
بدھ، 5 نومبر، 2025
انڈیا الائنس اور اویسی کی عدم شمولیت — سیاسی خوف یا فکری کمزوری؟
منگل، 4 نومبر، 2025
بہار الیکشن 2025: جمہوریت کا امتحان اور عوام کی بے حسی
جمعرات، 30 اکتوبر، 2025
میتھلی ٹھاکر اور نسوانی وقار کی سیاست
میتھلی ٹھاکر اور نسوانی وقار کی سیاست
قلم: قاری ممتاز احمد جامعی
majaamai@gmail.com
گزشتہ دنوں ایک سوال میڈیا اور عوامی حلقوں میں بڑے زور و شور سے گردش کر رہا ہے —
"سیاست میں آنے کے بعد میتھلی ٹھاکر کا مستقبل کیا ہوگا؟"
یہ سوال محض سیاسی تجسس نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی اندیشہ بھی ہے۔
کیونکہ جب فنکار اپنی خالص تخلیقی دنیا سے نکل کر اقتدار کی گلیوں میں قدم رکھتا ہے تو اکثر فن کی صداقت، اخلاق کی نرمی، اور عوامی اعتماد سیاست کی گرد میں دب جاتے ہیں۔
یہی احساس اس مضمون کو لکھنے کا اصل محرک ہے — کہ میتھلی ٹھاکر جیسے ایک شفاف فنکارانہ وجود کو سیاست کی حرارت میں جلنے سے پہلے آئینہ دکھایا جائے۔
میتھلی ٹھاکر — دربھنگہ کی ایک باصلاحیت، کم سن، اور خوش آہنگ گلوکارہ — جنہوں نے اپنی نرم دھنوں، متوازن لب و لہجے اور تہذیبی خلوص سے بہار کی لوک روایت کو نئی زندگی بخشی۔ وہ میتھلی، بھوجپوری اور ہندی لوک گیتوں کے ذریعے نہ صرف دربھنگہ بلکہ پورے بھارت میں مقبول ہوئیں، اور نئ نسل کے لیے اپنی مادری زبان و ثقافت سے جڑنے کی ایک روشن مثال بن گئیں۔
لیکن جب اسی میتھلی ٹھاکر نے سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے آر ایس ایس و بی جے پی کے پلیٹ فارم سے ودھان پریشد کی امیدواری قبول کی، تو ان کے چاہنے والوں کے درمیان ایک گہری فکری بحث چھڑ گئی۔
کیوں کہ وہ جماعت جس نے “سنسکرتی” اور “ناری شکتی” کے نام پر قوم کو نعرے دیے، اسی کے اندر عورتوں کی عزت و وقار بارہا پامال ہوا۔
گزشتہ برسوں میں بی جے پی اور اس سے وابستہ رہنماؤں کے خلاف جنسی ہراسانی، بدسلوکی اور طاقت کے ناجائز استعمال کے متعدد سنگین واقعات منظرِ عام پر آئے۔
سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر پر دو درجن سے زائد خواتین صحافیوں نے دورانِ ملازمت جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ بالآخر عدالت نے متاثرہ خاتون کے حق میں فیصلہ دیا اور اکبر کو وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔
اتر پردیش میں کُلدیپ سنگھ سینگر، جو بی جے پی کے سابق ایم ایل اے تھے، ایک نابالغ لڑکی سے زیادتی کے جرم میں عدالت سے عمر قید کی سزا پا چکے ہیں۔
اسی طرح بی جے پی کے رکن پارلیمان بِرج بھوشن شرن سنگھ پر متعدد خاتون پہلوانوں نے جنسی استحصال کے سنگین الزامات لگائے، جن پر عدالتی چارچ شیٹ دائر ہو چکی ہے۔
ہتھرس کے لرزہ خیز واقعے میں مظلوم دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ عصمت دری اور قتل کے بعد بی جے پی کے مقامی رہنماؤں اور پولیس کے رویّے نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا۔
یہ تمام واقعات ایک ایسی تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طاقت اور مذہبی قوم پرستی کے امتزاج نے عورت کی عزت کو نعرہ تو بنا دیا، مگر عمل میں اس کے وقار کو سب سے زیادہ مجروح کیا۔
ایسے سیاسی ماحول میں میتھلی ٹھاکر جیسی باعزت اور فنکارانہ پہچان رکھنے والی خاتون کا بی جے پی سے وابستہ ہونا محض سیاسی قدم نہیں بلکہ ایک اخلاقی آزمائش ہے۔
فن و ثقافت کی دنیا میں ان کا مقام اس لیے نمایاں تھا کہ وہ “مقامی روایت اور نسوانی شرافت” کی ترجمان تھیں، مگر اب ان کی شناخت ایک ایسی جماعت کے سیاسی رنگ میں رنگنے جا رہی ہے جس کے ماضی پر عورتوں کی تذلیل کے داغ ثبت ہیں۔
فنکار کا سب سے بڑا سرمایا اس کا وقار اور عوامی اعتماد ہوتا ہے۔
اگر وہ سیاسی طاقت کے سائے میں اپنی آواز کو مصلحت کے خول میں چھپا لے، تو وہ صرف اپنی ذات نہیں، بلکہ پوری تہذیبی روایت کا نقصان کرتی ہے۔
میتھلی ٹھاکر کے لیے اصل کامیابی یہ نہ ہوگی کہ وہ ایوانِ اقتدار تک پہنچ جائیں، بلکہ یہ ہوگی کہ وہ اپنی اس فنّی اور اخلاقی شناخت کو برقرار رکھ سکیں جس نے انہیں عوام کے دلوں میں زندہ رکھا۔
سیاسی میدان میں ان کا یہ قدم یقینی طور پر ایک موڑ ہے — مگر اس موڑ پر انہیں فیصلہ خود کرنا ہوگا کہ وہ “بی جے پی امیدوار” بن کر یاد کی جائیں گی یا “میتھلی گائیکی کی تہذیبی روح” کے طور پر۔
ان کے لیے میرا مخلصانہ پیغام یہ ہے کہ وہ اپنی آواز، فن، اور نسوانی وقار کو کسی سیاسی مفاد کے تابع نہ کریں۔
اقتدار کی گلیاں وقتی ہوتی ہیں، مگر عوامی دلوں کی گونج ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
اگر وہ اپنی فطری سادگی اور فنکارانہ دیانت کو محفوظ رکھ سکیں تو وہ سیاست نہیں، قوم و تہذیب کی بیٹی کے طور پر ہمیشہ یاد کی جائیں گی۔
منگل، 28 اکتوبر، 2025
**بہار کے انتخاب اور جمہوریت کی روح:سیاسی شعور، انصاف پسند طبقہ، اور اقلیتوں کا حقیقی تحفظ**
قائدین کی منافقت اور عوام کا اعتماد کا بحران — امت کی سیاسی و اخلاقی پسپائی کا اصل سبب
قائدین کی منافقت اور عوام کا اعتماد کا بحران — امت کی سیاسی و اخلاقی پسپائی کا اصل سبب
یوں تو بندہ جب سے باشعور ہوا تبھی سے ہندی فلم انڈسٹری اور بھارتی سیاسی پارٹیوں (چند افراد کو چھوڑ کر) کے متعلق ایک واضح نظریہ رکھتا ہے کہ یہ طبقہ زیادہ تر لامذہب، زندیق اور جدید اصطلاح میں ’’لبرل ایتھیسٹ‘‘ مزاج رکھتا ہے۔ اسلام سے ان کا تعلق صرف اتنا ہی ہوتا ہے کہ ان کے نام کے ساتھ کوئی مسلمان پہچان والا لاحقہ جڑا ہوتا ہے، ورنہ عقائد و اسلامی شعائر سے یہ لوگ نابلد ہوتے ہیں۔ ہاں، کبھی کبھی یہی مسلم نام ان کے لیے مصیبت کا سبب بھی بن جاتا ہے، جب ہندوتوا نظریے کے شدت پسند ان سے ٹکرا جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند برس قبل مشہور اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے کو NCB کے ذریعے گرفتار کیا گیا، یا ایڈووکیٹ مجید میمن جیسے معتدل مسلم چہروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بھارت مختلف تہذیبوں اور تمدنی تنوع کا مرکز ہے، اور اس میں شک نہیں کہ آزادی سے قبل یہ تنوع ایک اخلاقی توازن کے ساتھ موجود تھا، مگر آزادی کے بعد کے حالات نے بہت کچھ بدل دیا۔ ’’گنگا جمنی تہذیب‘‘ جیسا لفظ اگرچہ بظاہر ہم آہنگی اور باہمی احترام کا مظہر ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسی نظریے کے نام پر اسلام کی خالص شناخت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔ سیاسی مفاد پرستی اور فلمی ثقافت کے امتزاج نے مسلم معاشرت کی جڑیں کمزور کر دیں۔ عقائد، سیرتِ نبوی ﷺ اور دینی شعائر کا مذاق بننے لگا۔ آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، ملک بھر میں ’’چھٹ پوجا‘‘ منائی جا رہی ہے، اور سوشل میڈیا پر ایک مسلم ایم ایل اے (سمستی پور، بہار) کو دیکھا گیا کہ وہ سر پر پوجا کا سامان رکھ کر گھاٹ پر جا رہے ہیں، پانی میں اتر کر ’’ڈوبتے سورج‘‘ کو سلام کر رہے ہیں۔ یہ مناظر صرف مذہبی انحطاط نہیں بلکہ فکری خودکشی ہیں۔
سیاسی منافقت کا یہ زہر دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ قائدین جب اقتدار کے دربار میں پہنچتے ہیں تو ان کے لیے ایمان، اصول اور نظریہ سب کچھ ثانوی بن جاتا ہے۔ جب موقع آتا ہے، تو ذاتی مفاد کے لیے کفریہ کلمات زبان سے نکلنے میں لمحہ نہیں لگتا۔ چند سال قبل امارتِ شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ کے صدر مفتی سہیل ندوی قاسمی صاحب نے حالات کے بگاڑ پر ایک تاریخی فتویٰ دیا تھا، جب چمپارن کے ایک مسلم ایم ایل اے خورشید عرف فیروز نے عوامی جلسے میں ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ مفتی صاحب نے اس عمل کو کفر قرار دیا، مگر بعد میں خاندانی دباؤ میں آکر وہی شخص رجوع کے لیے امارت پہنچا۔ یہ وہی دوغلا پن ہے جو سیاست کے جسم میں خون بن کر دوڑ رہا ہے۔
اسی طرح جے ڈی یو کے لیڈر سلیم پرویز، جو اس وقت بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے چیئرمین بھی ہیں، نے وقف بل کے موقع پر امارتِ شرعیہ جیسے باوقار دینی ادارے کے خلاف زبان درازی کی، حالانکہ انہی اداروں کی قربت سے وہ پہچان حاصل کر پائے تھے۔ موجودہ ایم ایل سی خالد انور، جو کبھی امارتِ شرعیہ کے پلیٹ فارم سے ابھرے، وہ بھی وقف بل کی حمایت میں حکومت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے، جبکہ امارت نے امت کے مفاد میں اس کی مخالفت کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ امت کے نمائندہ بن کر منتخب ہوئے تھے، تو پھر ضمیر کہاں چلا گیا؟
ڈاکٹر فرید امان اللہ، جوائنٹ سیکرٹری ادارہ شرعیہ، کی طرف سے حالیہ دنوں کسی ’’سیکولر‘‘ پارٹی کی تائید کی خبر سامنے آئی ہے۔ اگر یہ تائید ادارے کی جانب سے ہے تو یہ ایک خطرناک اور منافقانہ رویہ ہے، کیونکہ اسی ادارے کے دوسرے ذمہ دار غلام رسول بلیاوی ایک کھلی فرقہ پرست پارٹی سے وابستہ ہیں۔ امت کے لیے یہ دوہرا معیار سب سے بڑا زہر ہے۔ ایک طرف ملی قیادت کا دعویٰ، دوسری طرف دشمنِ ملت جماعتوں کے ساتھ نرم رویہ—یہ وہی مزاج ہے جو امت کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مخلص نے اپنے ضمیر کی آواز پر سیاست میں قربانی دی، امت کو اخلاقی طاقت ملی۔ پہلا واقعہ 1996ء میں پیش آیا جب اٹل بہاری واجپائی کی سربراہی میں مرکز میں بی جے پی کی حکومت بنی، مگر صرف 13 دن میں گر گئی، کیونکہ نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ سیف الدین سوز نے اپنی پارٹی لائن سے اختلاف کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا۔ اسی طرح آندھرا پردیش کی تیلگو دیشم پارٹی کے رکن اسمبلی بشیر احمد نے فرقہ پرست حکومت کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس سے صوبائی حکومت گر گئی۔ یہ تھے وہ لوگ جنہوں نے اقتدار نہیں، ایمان کی حفاظت کو ترجیح دی۔
آج امت ایسے ضمیروں کی تلاش میں ہے جو کسی مفاد یا منصب کے سامنے جھک نہ جائیں۔ مگر افسوس کہ قائدین کی اکثریت نے خود کو اقتدار کی غلامی میں بیچ دیا ہے۔ عوام کا اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ لوگ اب اپنے قائدین کی بات پر یقین نہیں کرتے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہر تقریر کے پیچھے کوئی معاہدہ، کوئی لالچ، یا کوئی سیاسی گٹھ جوڑ چھپا ہوتا ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ عوام کی بیداری وقتی جوش میں سمٹ کر رہ گئی ہے، اور قائدین کی منافقت دائمی عادت بن چکی ہے۔ جب تک امت اپنے نمائندوں کا محاسبہ نہیں کرے گی، ان سے جواب نہیں مانگے گی، تب تک یہ زوال جاری رہے گا۔ امت کی سیاسی، اخلاقی اور فکری پسپائی کا اصل سبب یہی دوغلا پن ہے—قائدین کا مفاد پرستی میں ڈوبا ضمیر اور عوام کا خاموش تماشائی بن جانا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ امت ایک نئے سیاسی اخلاق کی بنیاد رکھے، جس میں ایمان، اصول، دیانت اور جواب دہی مرکزی حیثیت رکھتے ہوں۔ اگر اب بھی ہم نے اس بحران کو سمجھنے میں تاخیر کی، تو شاید ہماری نسلیں صرف تاریخ میں یہ لکھیں گی کہ ’’کبھی ہم ایک امت تھے، مگر منافقت نے ہمیں بکھیر دیا۔‘‘
قاری ممتاز احمد جامعی
📧 majaamai@gmail.com
اتوار، 26 اکتوبر، 2025
سیاسی منافقین کی فہرست میں بدنما کردار: جگدمبیکا پال
ووٹ: ایک شرعی گواہی — اور ذمہ دارانہ انتخاب کی ضرورت
انصاف کے نام پر ظلم — عدالت کی آنکھوں پر اکثریت کی پٹی
جمعرات، 23 اکتوبر، 2025
مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کا تجربہ: قیام، حکومت، زوال اور آج کا سبق
اتوار، 19 اکتوبر، 2025
اسلامی سیاست کے دعوے داروں میں سچائی اور وقار کی کمی — ایک فکری المیہ
ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025
وقف قانون ترمیم 2025 اور عدالتی خاموشی تشویش ناک
وقف ترمیمی بل – حالیہ عدالتی کارروائی اور ہماری ذمہ داری
میرے دور کے رہنمائے وطن – سچ کا نوحہ، ظلم کا بیانیہ
دہشت گردی اور بھارتی سیاست: حملے، مواقع اور پس پردہ محرکات
تعزیت حضرت مولانا غلام محمد وستانوی ؒ
جناب مولانا حذیفہ وستانوی صاحب دامت برکاتهم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بصد ادب و احترام!
حضرت مولانا غلام محمد وستانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کی خبر دل و روح کو ہلا دینے والی ہے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرتؒ کا شمار اُن برگزیدہ علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن کریم کی خدمت، اشاعتِ دین، اور مدارس و مکاتب کے قیام و استحکام میں صرف کر دی۔ وہ ہزاروں علماء، قراء، طلبہ، اور عوام الناس کے لیے ایک مربی، محسن، اور مشعلِ راہ تھے۔ ان کی علمی گہرائی، اخلاص، سادگی، اور امت کے لیے فکر مندی، ہمارے جیسے کم علموں کے لیے ہمیشہ ایک مثالی نمونہ رہے گی۔
ان کا وصال صرف ایک خانوادے یا ایک ادارے کا نہیں، بلکہ امت کا عظیم خسارہ ہے۔ جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور اور الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ہم آپ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت حضرتؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کی باقیاتِ صالحات کو آپ کے ذریعہ مزید ترقی عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور حضرتؒ کی علمی و روحانی وراثت کو زندہ و تابندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
والسلام
قاری ممتاز احمد جامعی
بانی و ناظم، جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور
جنرل سیکریٹری، الامداد ایجوکیشنل
اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ
قاری محمد اقبال شہید: ایک سوالیہ نشان، ایک دستک
قاری محمد اقبال شہید: ایک سوالیہ نشان، ایک دستک
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب لشکرِ طیبہ کا ایک خطرناک دہشت گرد مارا گیا، جسے پلوامہ حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی کہا گیا۔ بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ وہ کوئی اور نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے ایک نیک سیرت عالمِ دین قاری محمد اقبال تھے، جو مقامی مدرسے سے وابستہ تھے اور معروف دینی خدمات انجام دے رہے تھے۔
یہ واقعہ کئی آئینی و انسانی سوالات کو جنم دیتا ہے:
1. کیا میڈیا نے اتنا سنگین الزام بغیر دفاعی اداروں کی منظوری یا معلومات کے نشر کیا؟
2. اگر میڈیا کو دفاعی اداروں سے یہ معلومات فراہم کی گئیں، تو کیا ان کی تحقیق محض شبہ یا شباہت پر مبنی تھی؟
3. کیا محض ایک مسلمان ہونا اور مدرسے سے منسلک ہونا "دہشت گرد" قرار پانے کے لیے کافی ہے؟
4. ریاست نے قاری اقبال کے اہلِ خانہ سے رجوع کیوں نہیں کیا؟
5. کیا اتنے سنگین میڈیا دعوے پر کوئی عدالتی یا تفتیشی کارروائی ہوگی؟
یہ محض میڈیا کی لغزش نہیں، بلکہ اس فضا کی علامت ہے جہاں مسلمان شناخت، ظاہری وضع قطع، اور دینی وابستگی محض ایک "شبہ" کی بنیاد بن جاتے ہیں۔
قاری اقبال شہید کا خون ہم سے مطالبہ کرتا ہے:
ریاستی ادارے اور میڈیا اس کی حقیقت واضح کریں۔
اہلِ خانہ سے معذرت اور تحقیق کے بعد انصاف ہو۔
ایسے الزامات کو عدالتی طریقہ کار کے بغیر نشر نہ کیا جائے۔
یہ تحریر نہ اشتعال انگیزی ہے نہ الزام تراشی۔ یہ ایک شہری کی وہ دستک ہے جو آئین، عدل، اور انسانیت کے دروازے پر سوال لیے کھڑی ہے — کیا سچ کا حق اب بھی باقی ہے؟
ترجمانی سے پہلے آئینہ: جب سچائی گرفتار ہو، علم مجرم ہو،
ترجمانی سے پہلے آئینہ: جب سچائی گرفتار ہو، علم مجرم ہو، اور ناموسِ رسالتؐ پامال ہو!
✍️ قاری ممتاز احمد جامعی
پروفیسر علی خان محمودآباد کی گرفتاری صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہندوستان میں تعلیمی آزادی، اظہارِ رائے، تحقیق اور اساتذہ کے وقار پر ایک کاری ضرب ہے۔ اشوکا یونیورسٹی جیسے باوقار ادارے کے معروف محقق، مورخ اور استاد کو اس بنا پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے بین الاقوامی سیاست پر ایک علمی تجزیہ پیش کیا، جس میں نہ کوئی اشتعال تھا، نہ ناپسندیدہ زبان، اور نہ ہی کوئی ملک دشمنی۔
یہ وہی علی خان ہیں جو کیمبرج کے فارغ التحصیل ہیں، جنہوں نے قوم کو فہم، تحقیق اور مکالمے کا سبق دیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب ان پر افتخار کرنا چاہیے تھا، ان کی گرفتاری کے وقت اشوکا یونیورسٹی نے محض یہ بیان دے کر جان چھڑا لی کہ "ان کے خیالات ذاتی ہیں"۔ کیا یہ ادارہ اسی دن کے لیے بنا تھا؟ کہ استاد جب ظلم کی زد میں آئے، تو دیوار بننے کے بجائے خاموش تماشائی بن جائے؟
اساتذہ کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر ان کا وقار پامال کیا جائے، ان کی زبان بند کی جائے، اور اختلافِ رائے پر انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے، تو یہ کسی ایک فرد کا زوال نہیں بلکہ سماج کی فکری خودکشی ہے۔
ایسے نازک موقع پر جب بھارت کا 59 رکنی سرکاری وفد دنیا کے 32 ممالک میں جا رہا ہے، اور اس میں 11 مسلم نمائندے شامل کیے گئے ہیں، تو یہ فطری توقع ہے کہ وہ نمائندگی صرف بیرون ملک بھارت کے چہرے کی نہ کریں، بلکہ اندرون ملک پیش آنے والے کچھ غیرسنجیدہ و تکلیف دہ واقعات کی بابت بھی حکومت تک نرم لہجے میں اپنا نقطۂ نظر رکھیں۔
مثلاً پروفیسر علی خان محمودآباد کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ، یا کسی سابق خاتون فوجی افسر پر ایک حکومتی شخصیت کے نامناسب تبصرے جیسے معاملات، بھارت کی اس روادار شبیہ کے منافی ہیں جسے ہم عالمی برادری کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم سب سے اہم اور حساس پہلو، جو ہر باشعور مسلمان کے دل کو چھلنی کر دیتا ہے، وہ ناموسِ رسالت ﷺ کا مسئلہ ہے۔ آئے دن حکومت سے قربت حاصل کرنے یا سستی شہرت کی خاطر بعض انسان نما ناپاک عناصر اسلامی شعائر، قرآن و سنت، اور بالخصوص رسولِ اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف فتنہ، اشتعال اور مسلمانوں کو مشتعل کر کے انہیں مجرم بنانا ہوتا ہے، جب کہ حکومت ان پر نرمی اختیار کرتی ہے۔
یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جس حکومت کو عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے مسلم چہروں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہی حکومت اندرونِ ملک ایسے شرپسندوں پر نرمی کیوں برتتی ہے جو ملک کے امن کو سبوتاژ کرتے ہیں؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ کیا ناموسِ رسالت ﷺ پر ایمان رکھنے والے شہریوں کا کوئی تحفظ نہیں؟ کیا ان کی دل آزاری کوئی جرم نہیں؟
لہٰذا یہ تمام 11 مسلم نمائندے، جو بیرونِ ملک بھارت کا چہرہ پیش کرنے جا رہے ہیں، ان کی شرعی و قومی ذمے داری ہے کہ وہ باہر جا کر ملک کا دفاع ضرور کریں، لیکن روانگی سے پہلے حکومت سے گزارش کریں کہ وہ اندرون ملک مسلمانوں کے ایمان، وجود، اور وقار کی بھی حفاظت کرے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب استاد کی عزت ہو، خواتین کا احترام ہو، اختلاف کی گنجائش ہو، اور ناموسِ رسالت ﷺ پر حملہ کسی بھی صورت میں برداشت نہ کیا جائے۔
ورنہ ترجمانی کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، اگر وہ آواز جو باہر سنائی دے، اپنے ہی وطن میں دبا دی جائے۔
امارت شرعیہ: منصب کی جنگ یا امت کی امانت؟
امارت شرعیہ: منصب کی جنگ یا امت کی امانت؟
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ… ایک ایسا دینی، اجتماعی اور سماجی ادارہ جو برصغیر میں اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے۔ لیکن گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے یہ ادارہ انتشار، باہمی چپقلش اور قیادت کے ٹکراؤ کا شکار ہے۔ یہ صورتِ حال صرف ایک ادارے کا بحران نہیں، بلکہ امت مسلمہ کی وحدت، اعتماد اور شعور کی پستی کا کھلا اعلان ہے۔
کیا واقعی ہم اس درجہ گر چکے ہیں کہ عہدہ، کرسی اور شہرت کے لیے ملت کے اجتماعی وقار اور اعتماد کو قربان کر دیا جائے؟ کیا ادارہ کا نام، اس کی تاریخ، اس کی خدمات اور اس کا امتیاز اس قابل نہ تھا کہ ہم ذاتی انا اور مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچتے؟
حالیہ دنوں دو بڑے جلسے ہوئے—ایک میں مولانا شبلی قاسمی اور مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب منظر پر تھے، دوسرے میں انجینئر فیصل ولی رحمانی صاحب۔ دونوں اطراف کے حمایتی حضرات، علما، مفکرین اور نمائندگان جمع ہوئے۔ دعویٰ یہی کہ امارت کی بقا اور اتحاد کا پیغام دینا ہے۔ لیکن اہل نظر سمجھتے ہیں کہ یہ اجتماعات “اتحاد” کے نام پر “اقتدار” کی مشق ہیں۔
سب سے دل خراش منظر یہ تھا کہ مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی جیسے بزرگ، جنہوں نے طویل مدت سے امارت کی خدمت کی ہے، محض نمائشی اتحاد کی خاطر عمر میں چھوٹے اور علمی اعتبار سے کم تر فرد کے پیچھے کھڑے دکھائی دیے۔
کیا اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے؟ کہ کبار علما و مشائخ کو چھوٹوں کی اقتدا میں صرف مصلحتِ وقتی یا دکھاوے کے لیے کھڑا کر دیا جائے؟
اگر یہی حبِ جاہ نہیں، تو پھر اور کیا ہے؟
یہ وقت کسی ایک فریق کو نیچا دکھانے کا نہیں، بلکہ امت کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑنے کا وقت ہے۔
اگر واقعی دونوں گروہ اقتدار کے بھوکے نہیں، جیسا کہ وہ بار بار اعلان کرتے ہیں، تو سوال یہ ہے:
امت کے وسیع تر مفاد میں اور امارت شرعیہ جیسے ادارے کے وقار کی حفاظت کی خاطر، دونوں فریق ایک ساتھ دستبردار کیوں نہیں ہوتے؟ کیوں نہ کسی تیسری اہل، متفق علیہ شخصیت کو میدان دیا جائے؟
کیا واقعی ملتِ اسلامیہ کی مائیں بانجھ ہو چکی ہیں کہ ان دونوں شخصیات کے علاوہ کوئی باوقار، دیانت دار، علم و فراست سے متصف، غیر جانبدار اور متفق علیہ شخصیت دستیاب نہیں؟
اگر جواب “نہیں” ہے—اور یقینا نہیں ہے—تو پھر سادہ الفاظ میں کہنا پڑے گا کہ یہ سب عہدوں کے لالچی ہیں، اور ملت کی بھلائی محض نعرہ ہے، مقصد کرسی ہے!
ہم امت کے وہ افراد ہیں جو امارت شرعیہ کو اپنے ایمان، اپنے تشخص، اپنے اتحاد کی علامت سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ:
کیا کوئی اجتماعی، آزاد، شفاف مشاورتی اجلاس ممکن نہیں جہاں مخلص، درد مند، غیر جانبدار علما و دانشور اس بحران کا حل نکالیں؟
کیا کوئی معیاری قیادت ان دو انتہاؤں کے علاوہ بھی ممکن نہیں؟
کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اداروں کو افراد سے بلند تر مانیں اور امت کو فرد کے سائے سے نکال کر اصول کے سائے میں لے آئیں؟
ہم سادہ مسلمان، ادارے کے خیرخواہ، طلبہ، والدین، مخلص علما، سب یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ:
امارت شرعیہ کسی فرد کی جاگیر نہیں! یہ امت کی امانت ہے، اور اس کی قیادت انہی کے سپرد ہونی چاہیے جو واقعی امانت دار ہوں۔
امارتِ شرعیہ: امت کی امانت، یا اقتدار کی جاگیر؟
امارتِ شرعیہ: امت کی امانت، یا اقتدار کی جاگیر؟
(ایک کھلا خط بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کے علما و مشائخ کے نام)
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
امارتِ شرعیہ، بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کا وہ باوقار، دینی، ملی اور سماجی ادارہ ہے، جس نے ان خطوں میں شریعت کی روشنی، سماجی قیادت، تعلیمی رہنمائی اور ملی مرکزیت کا کام انجام دیا ہے۔ یہ ادارہ محض ایک تنظیم نہیں، ایک تحریک ہے، ایک تاریخ ہے، ایک اعتماد ہے—جسے حضرت مولانا ابو المحاسن سجادؒ جیسے عبقری بزرگ نے خونِ جگر سے سینچا، اور بعد میں مولانا منت اللہ رحمانیؒ، قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ، مولانا نظام الدینؒ، اور آخر میں مولانا ولی رحمانیؒ جیسے باکمال اہلِ علم و عمل نے امت کی کشتی کو گردابوں سے نکالا۔
لیکن آج!
یہی امارت... اقتدار کی رسہ کشی، ادارے پر قبضے اور ذاتی مفاد پرستی کا میدان بن چکی ہے۔ امت کے جذبات، ادارے کا وقار، امارت کا اعتماد—سب کچھ گروہی انا کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
حالیہ جلسے اور "اربابِ حل و عقد" کے بیانات، جن میں "اتحاد" کی بات تو کی گئی، لیکن حقیقت میں وہ صرف اقتدار کی مشقیں اور الزامات کا تبادلہ زیادہ محسوس ہوئے۔
ایک گروپ نے دوسرے پر مالی غبن، خرد برد، عہدے کے ذریعے سرکاری مراعات کے ذاتی مفاد میں حصول اور ادارے کے وسائل کے ناجائز استعمال جیسے سنگین الزامات عائد کیے، جبکہ جواب میں دوسرا گروہ خود کو وارثِ شرعی، امینِ ملت اور عوامی تائید کا نمائندہ ثابت کرنے میں مصروف رہا۔
ایسا لگتا ہے جیسے دونوں گروہ امارت کو امت کی امانت نہیں بلکہ اپنی سیاسی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں۔
ورنہ اگر وہ واقعی مخلص ہوتے، تو سوال یہ ہے:
کیا وہ ملت کی امانت کو اپنی ذات پر ترجیح دے سکتے تھے؟
کیا وہ دونوں بیک وقت پیچھے ہٹ کر امت کو نئی راہ دکھانے کے لیے تیار ہوتے؟
کیا وہ اس عظیم ادارے کے وقار کو گروہی انا سے بلند سمجھتے?
آج ہم بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کے تمام
اکابر علما، مشائخِ عظام، مدارسِ اسلامیہ کے مہتممین، شیوخ الحدیث، بزرگ مفتیانِ کرام اور ملی رہنماؤں سے درد مندانہ، لیکن واضح اپیل کرتے ہیں:
اب خاموشی جرم ہے!
اگر آپ واقعی امارت کو حضرت سجادؒ، حضرت منت اللہؒ، حضرت ولیؒ کی امانت سمجھتے ہیں، تو اب آپ کو سامنے آنا ہوگا!
اب صرف “دعا کریں” کافی نہیں، اب کردار ادا کرنے کا وقت ہے۔
ہم پوچھتے ہیں:
کیا واقعی امت کی مائیں بانجھ ہو چکی ہیں کہ ان دو انتہاؤں کے سوا کوئی صالح، باوقار، دیانت دار، غیر جانبدار قیادت ممکن نہیں؟
کیا وقت نہیں آ گیا کہ دونوں گروہ بیک وقت دستبردار ہو کر میدان کسی تیسرے اہل، متفق علیہ شخص کے لیے خالی کریں؟
کیا ہم اداروں کو افراد کے سائے سے نکال کر اصول کے سائے میں لانے کا حوصلہ نہیں رکھتے؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک آزاد، غیر جانب دار، وسیع البنیاد مشاورتی اجلاس بلایا جائے،
جس میں صرف وہ علما، مشائخ، اکابر اور نمائندہ اربابِ مدارس شریک ہوں جو کسی بھی فریق سے وابستہ نہ ہوں، اور جن کی دیانت و غیر جانب داری مسلم ہو۔
یہ اجلاس ہی آئندہ کے لائحۂ عمل، کسی نئی متفق علیہ قیادت اور ادارے کے آئینی استحکام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
ورنہ اگر ہم خاموش رہے، تو تاریخ ہمارے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گی جو قومی و ملی غفلت کے مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
امارت شرعیہ کسی فرد کی جاگیر نہیں،
یہ امت کی امانت ہے،
اور امانت، صرف اہل کے سپرد ہونی چاہیے۔
والسلام
قاری ممتاز احمد جامعی
(خادمِ دین و ملت)
امارت شرعیہ: منصب کی جنگ نہیں، ملت کی امانت ہے
دردمندانہ اپیل
بعنوان:
امارت شرعیہ: منصب کی جنگ نہیں، ملت کی امانت ہے!
(ایک غیر جانب دار اصلاحی آواز)
جب ادارے افراد سے بڑے ہوں اور اصول شخصیتوں سے بلند تر — تب قومیں بنتی ہیں، اور تاریخ فخر کرتی ہے۔
لیکن جب فرد ادارے پر غالب آ جائے، جب ذاتی مفاد اصول پر بھاری ہو جائے، اور جب جماعتیں اپنے حصار میں ملت کو قید کرنے لگیں — تب امت انتشار کی دہلیز پر پہنچتی ہے۔
ایسا ہی ایک نازک لمحہ، آج امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ کے حوالے سے امت مسلمہ کے سامنے ہے۔
قضیہ نامرضیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کا دائرہ مسلسل ایک تشویشناک صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دونوں دعوے دارانِ "امیر شریعت" اپنے اپنے حلقے سے نکل کر اثر و رسوخ کے بل پر عوام الناس سے رجوع، ہنگامی دورے اور بیعت و تائید کے اجتماعات کر رہے ہیں، گویا ملت ایک دوسرگوں کشمکش کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔
یہ کوئی معمولی ادارہ نہیں، کہ جسے فقط کسی نشست، کسی عہدہ یا کسی شخصیت سے تعبیر کر دیا جائے۔
یہ ایک خواب کا تسلسل ہے — جو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ، مولانا محمد علی مونگیریؒ، مولانا منت اللہ رحمانیؒ، اور حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ جیسے رجال کی قربانیوں سے پروان چڑھا۔
یہ اس قوم کا اجتماعی ضمیر ہے — جو آئینِ ہند کے دائرے میں رہ کر دینی، ملی، تعلیمی، اور سماجی خودمختاری کا شعور رکھتی ہے۔
مگر آج جب ہم اپنے بزرگوں کی چھوڑی ہوئی اس امانت پر نظر ڈالتے ہیں، تو دل کانپ اٹھتا ہے۔
کرسی کی کشمکش، گروہی صف بندی، امارت کی تقسیم — یہ سب کچھ وہ زخم ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایک ادارہ، بلکہ پوری ملت کے وقار کو مجروح کیا ہے۔
حالیہ ایّام میں منعقد دونوں عظیم الشان جلسے، بظاہر اتحاد کے نام پر منعقد ہوئے — مگر باطن میں ایک ناقابلِ انکار حقیقت چھپی ہے:
امت دو رُخوں میں تقسیم ہو رہی ہے، اور ہم سب اس المیے کے خاموش گواہ بنے کھڑے ہیں۔
مفتیانِ کرام، فضلا، حفاظ، دانشوران قوم و ملت، ادارہ جاتی ذمے داران — سب کو ایک لائن میں کھڑا کر کے گروہی وفاداری کی فصیلیں بلند کی جا رہی ہیں۔
یہ وقت فتح و شکست کے اعلانات کا نہیں،
یہ وقت جیتنے یا ہرانے کا نہیں —
بلکہ یہ وہ گھڑی ہے جب ملت کے ذی شعور افراد، غیر جانب دار ادارے، مخلص علما و دانشور آگے آئیں، اور یہ کہیں:
> "ہمیں نہ تمہاری جیت سے غرض ہے، نہ اس کی ہار سے؛
ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ امت ہار رہی ہے!"
ہماری دردمندانہ اپیل ہے کہ:
1. دونوں موجودہ دعوے دار گروہ اعلانیہ اور بلاتاخیر دستبردار ہوں؛
2. ایک مشترکہ عبوری شوریٰ تشکیل دی جائے، جس میں کسی فریق کا غلبہ نہ ہو؛
3. اس شوریٰ کے زیرِ نگرانی، واضح، شرعی، آئینی، اور شفاف نظام کے مطابق نئے امیر کے انتخاب کی راہ ہموار ہو؛
4. اس نئے امیر کا انتخاب انسان نہیں، اصول کرے؛ اور پسند نہیں، ملت کی امانت کرے۔
ہم جیسے لوگ، جنہوں نے ہمیشہ امارت شرعیہ کے فیصلوں کو احترام دیا ہے، اور اس کے وجود کو دین کی اجتماعی علامت سمجھا ہے — آج یہ سوال کرتے ہیں:
📌 کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اداروں کو افراد سے بلند تر مانیں؟
📌 کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم کسی تیسرے باوقار، دیانت دار، متفق علیہ فرد کو موقع دیں؟
📌 کیا قوم کی مائیں صرف دو ہی افراد کو چننے پر قادر ہیں؟
📌 کیا واقعی ہم اصول، دیانت، اور شفاف قیادت کے خواب سے دستبردار ہو چکے ہیں؟
ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ:
📌 شخصیات کے ہجوم سے نکل کر اصولوں کا پرچم اٹھائیں؛
📌 ماضی پر رونے کے بجائے حال کو سنواریں؛
📌 اور اس ادارے کو آنے والی نسلوں کے اعتماد کے قابل بنا دیں۔
اگر ہم نے یہ موقع بھی کھو دیا —
تو یاد رکھئے!
کرسی بچ جائے گی، افراد جی لیں گے،
لیکن امت ہار جائے گی…!
جانب: قاری ممتاز احمد جامعی
کھیل کا جشن یا عقل کا ماتم؟ — ایک فکری تجزیہ
کھیل کا جشن یا عقل کا ماتم؟ — ایک فکری تجزیہ
پس منظر
بنگلور میں IPL ٹیم RCB کی جیت پر ایک جذباتی اور بے قابو ہجوم نے سڑکوں پر جشن منایا۔
دھوم دھڑاکے، نعرے، ڈھول، اور دیوانگی میں ڈوبی عوامی ریل کا انجام یہ ہوا کہ 10 قیمتی جانیں تلف ہو گئیں۔
ایک لمحے کو رک کر سوچیں:
یہ کس چیز کا جشن تھا؟
ایک کمرشل کھیل میں ایک ٹیم کی فتح؟
یا عقل، شعور، اور ایمان کی موت پر اجتماعی خاموشی؟
کرکٹ: کھیل یا نئی نسل کا بت؟
یہ اب محض کھیل نہیں رہا،
بلکہ نفسیاتی غلامی، تجارتی جال، اور دینی بے حسی کا مجموعہ بن چکا ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا:
ایک چھکے پر پوری قوم اچھلتی ہے،
لیکن مسجد کی اذان پر کوئی کان نہیں دھرتا؛
ایک بال کے لیے پوری رات جاگتے ہیں،
مگر قرآن سننے کے لیے پانچ منٹ بھی نکالنا مشکل؛
بچے کھلاڑیوں کے نام یاد رکھتے ہیں،
مگر اصحابِ بدر یا خلفائے راشدین کے نام پوچھیں تو نظریں جھک جاتی ہیں۔
اخلاقی و دینی زوال
کھیل کے نام پر نمازیں قضا ہوتی ہیں
تعلیمی نظام پر کھیل کی دیوانگی حاوی ہے
میڈیا اور اشتہارات میں مرد و زن کی بے حیائی فروغ پا رہی ہے
نوجوان نسل کی سوچ کرکٹ کے ریٹائرمنٹ، سنچری، اور کیپٹنسی تک محدود ہو چکی ہے
ایسے میں اگر کوئی کہے کہ "کرکٹ قوم کا فخر ہے"، تو یہ نہیں بلکہ قومی المیہ ہے۔
حضرت مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ کا فکری مشاہدہ
یہ بات صرف جذبات یا رائے نہیں، بلکہ علمی اور فقہی بصیرت کا بھی تقاضا ہے۔
حضرت مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ (مصنف فتاویٰ رحیمیہ)
اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک اہم شرعی استفتا تیار کروا رہے تھے — موضوع تھا:
"کرکٹ کا شرعی حکم اور اس کے دینی اثرات"
انہوں نے فقہ کے ماہر علما سے فرمایا:
> "اس استفتا میں یہ نکتہ ضرور شامل کریں کہ:
بعض لوگ کرکٹ دیکھنے میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ جب نماز کا وقت ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو سوچتے ہیں:
’ایک بال اور دیکھ لوں، شاید چھکا لگ جائے’
اور یوں فرض نماز قضا ہو جاتی ہے۔
ایسے عمل کا شرعی حکم بیان کیا جائے۔"
حضرت مفتیؒ نے اس بات کو ایک فتنہ قرار دیا تھا،
مگر افسوس! حضرت کی عمر نے وفا نہ کی،
اور بعد کے مفتیان میں وہ جرأت، فکر اور امت کا درد باقی نہ رہا۔
یوں ایک عظیم علمی رہنمائی امت سے محروم ہو گئی۔
قوم کی ترجیحات کا المیہ
علمائے حق کے بیانات پر کوئی کان نہیں دھرتا
لیکن کمنٹیٹرز کی چیخ پر پوری قوم ہل جاتی ہے
اصلاحی جلسے خالی، مگر کھیلوں کی جگہ بھری ہوئی
جنہوں نے قوم کے لیے جان دی، ان کے مزار اجنبی
جنہوں نے بیٹ گھمایا، ان کی تصویریں دیواروں پر
ایسی قوم کے لیے "آ بیل مجھے مار" محاورہ نہیں، زندہ حقیقت بن چکا ہے۔
ہم کھیل کے خلاف نہیں،
غفلت، ترجیحات کی خرابی، اور دینی خسارے کے خلاف ہیں۔
> کیا کھیل دیکھنا فرض نماز سے بڑھ کر ہے؟
کیا ایک چھکا دین کے ایک حرف سے قیمتی ہو گیا؟
کیا ہمارا دین اتنا سستا ہو گیا ہے کہ ایک اسکرین پر قربان ہو جائے؟
اگر نہیں — تو اب وقت ہے کہ:
ہم تماشائی بننا چھوڑیں، رہبر بنیں
بچوں کو کھلاڑیوں کے بجائے صحابہ کا فین بنائیں
کھیل کے تماشے کو دین پر قربان نہ کریں
اور سب سے بڑھ کر، کرکٹ پر ایمان نہ لائیں — ایمان کو بچائیں
یہ مضمون نہ نفرت ہے، نہ حسد،
یہ ایک دردمند دل کی فریاد ہے — جو چاہتا ہے کہ امت ہوش میں آئے۔
کرکٹ دیکھنا حرام نہیں،
لیکن کرکٹ میں ڈوب کر دین، نماز، اور عقل کو دفن کرنا یقینا فتنہ ہے۔
"کھیل زندگی کا حصہ ہو، تو خوبصورت ہے؛
لیکن اگر زندگی کھیل بن جائے — تو تباہی ہے۔"
اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں سے بچائے،
امت کو فہم، توازن اور ترجیحات کی درست سمت عطا فرمائے۔
آمین۔
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
نیا بھارت یا بے رحم بھارت؟
✍️ نیا بھارت یا بے رحم بھارت؟
2014 کے بعد انسانیت پر حملے، اور اخلاقی تباہی کی داستان
2014 میں جب اقتدار بدلا، تو صرف حکومت نہیں بدلی — ملک کی روح، اقدار، اور انسانی حرمت کے تصورات بھی بدلتے چلے گئے۔ "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کے نعرے کے پیچھے جو چہرہ چھپا تھا، اس نے دھیرے دھیرے ظلم، ناانصافی، اور بےحسی کو نیا قومی مزاج بنا دیا۔
🟥 1. عورت کی عصمت — نعرے میں تحفظ، عمل میں پامالی!
بیتے برسوں میں جنسی جرائم کی جو لہر چلی ہے، وہ صرف بدنظمی نہیں بلکہ منظم جرم کا دھڑلّا ہے۔
اناؤ، کٹھوعہ، ہتھرس، بلقیس بانو — یہ سب محض فائلوں کے کیس نہیں، بلکہ اس قوم کی بیٹیوں کے زخم ہیں، جن پر اقتدار نے نمک چھڑکا۔
اب اتراکھنڈ کے ہریدوار میں بی جے پی مہیلا مورچہ کی سابق صدر نے اپنی 13 سالہ بیٹی کی عزت کو بازار میں بیچنے کا مکروہ دھندہ کیا۔ یہ جرم نہیں، انسانیت کے منہ پر تھپڑ ہے۔
کیا یہ وہی “بیٹی بچاؤ” ہے جس کی دہائی دی جاتی ہے؟ اگر ماں جیسا مقدس رشتہ بھی سیاست کی دلدل میں ڈوب جائے، تو باقی رشتے کہاں محفوظ رہیں گے؟
🟥 2. گائے کے نام پر انسان کا خون — مذہب یا حیوانیت؟
2015 میں اخلاق احمد کو مارا گیا،
پھر پہلو خان، راکبر خان، تبریز انصاری...
قتل کا ہتھیار اب چھری یا بندوق نہیں، بلکہ افواہ، جے شری رام، اور گائے کا نام بن چکا ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں گائے کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے، وہیں اس "ماں" کے تحفظ کے نام پر ہزاروں ماؤں کے بیٹے مارے گئے۔
کیا یہی "رام راج" ہے؟ کیا بھگوان رام کی تعلیمات اسی نفرت کی اجازت دیتی ہیں؟ مذہب کو اتنی سفاکی سے استعمال کرنا، خود مذہب کے ساتھ ظلم ہے۔
🟥 3. ہجوم کا انصاف — عدالتوں کے منہ پر طمانچہ
موب لنچنگ ایک دو واقعے نہیں، بلکہ نیا غیر سرکاری انصاف کا ماڈل بن چکا ہے۔
پولیس اکثر خاموش تماشائی بنی نظر آتی ہے، ویڈیو بنانے والے ہی مجرم بن جاتے ہیں، اور متاثرہ خاندان زندگی بھر انصاف کی دہائی دیتا ہے۔
🟥 4. راہنما کی نجی زندگی — قومی قیادت کا اخلاقی آئینہ
جب ایک ملک کا سربراہ اپنی بیوی کو لاوارث چھوڑ دے، تو وہ عورتوں کے تحفظ پر کیا بولے گا؟
یہ اس کی نجی زندگی نہیں، ایک اخلاقی نمونہ ہے — جو اگر بوسیدہ ہے، تو سارا نظام بوسیدہ ہو جاتا ہے۔
ازدواجی رشتہ محض قانونی معاہدہ نہیں، ایک تمدنی اکائی، ایک اخلاقی عہد ہے۔ اگر اسی کا وقار پامال ہو تو "پرم پراؤں" اور "سنکلپ" کے نعرے محض کھوکھلے الفاظ بن جاتے ہیں۔
📢 نتیجہ:
ان سب واقعات کو الگ الگ نہ دیکھا جائے۔
یہ سب ایک ذہنیت، ایک نظام، اور ایک ایجنڈے کی کڑیاں ہیں — جو انسان سے زیادہ عقیدے، قانون سے زیادہ نفرت، اور ضمیر سے زیادہ ووٹ بینک کو اہمیت دیتا ہے۔
🕊️ اختتامی جملہ:
یہ تحریر انسانیت کے تحفظ کی ایک آواز ہے — تاکہ سچائی زندہ رہے، اور ظلم کو بے نقاب کیا جا سکے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی جائے۔
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
عید الاضحی گزر چکی ہے… مگر قربانی کا پیغام باقی ہے!
📌 عید الاضحی گزر چکی ہے… مگر قربانی کا پیغام باقی ہے!
عید الاضحی گزرنے کو ہے — مگر سوال یہ ہے:
کیا ہم قربانی کا جانور خریدے تھے ؟ یا اپنی غیرت، دین، اور تہذیب کی قربانی دیئے تھے؟
جب کوئی قوم اپنے تہواروں سے بے زار ہو جائے اور اغیار کے جشن اسے زیادہ خوبصورت لگنے لگیں…
جب قربانی کی رات نیو ایئر نائٹ بن جائے، اور عید کا دن صرف پوسٹ، سیلفی اور شو آف کی دوڑ بن جائے…
تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔
قربانی کا مطلب صرف خون بہانا نہیں —
بلکہ دل نرم کرنا، غریبوں کو دینا، اور شعور جگانا ہے۔
مگر آج کے دور میں:
جانور کا خون تو بہا،
مگر دل کا تقویٰ کہاں گیا؟
گوشت کاٹ دیا،
مگر رشتہ دار بھوکے رہ گئے۔
سجی ٹرے تو بنی،
مگر پڑوسی بیوہ کا چولہا ٹھنڈا رہا۔
یہ قربانی نہیں، یہ رسم کا بے روح مجسمہ ہے!
📌 جب مسلم نسل غیروں کی نقالی میں فخر محسوس کرے...
فرینڈشپ ڈے پر تعلقات سجیں،
مگر صحابہؓ کی صحبت اجنبی ہو جائے؛
ہولی کے رنگ اپنائیں،
مگر تحجد کے آنسو بوجھ بن جائیں؛
دیوالی کے دیئے روشن کریں،
مگر قبر کی تاریکی کا خوف مٹ جائے؛
راکھی بندھوانا فخر بن جائے،
اور محرمات کا تقدس بے معنی ہو جائے؛
ویلنٹائن پر محبت کا ناٹک ہو،
مگر والدین کی قدم بوسی بوجھ لگے؛
تو سمجھو یہ قوم اسلامی روح سے خالی ہو چکی ہے — اور صرف جسمانی وجود کے بل پر جی رہی ہے۔
📖 قرآن کا پیغام:
> "وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ"
"اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔"
(آلِ عمران: 139)
قربانی کی اصل روح یہ ہے کہ ہم نفس، دکھاوے، دنیا پرستی، اور غفلت کو ذبح کریں،
اپنے اندر خشیت، اخلاص، تقویٰ اور ایثار کو زندہ کریں۔
اگر ہم غیروں کے طریقے، رنگ، جشن، اور تہذیب کو اپنا کر خود کو "روشن خیال" سمجھنے لگیں —
تو ہم خود کو اندھیروں کے قریب کر رہے ہیں، اور ہدایت سے دور جا رہے ہیں۔
📌 عید سے پہلے ایک بار خود سے پوچھو:
کیا میری قربانی… اللہ کے لیے ہے؟
یا لوگوں کو دکھانے کے لیے؟
✍️ قلم: قاری ممتاز احمد جامعی



