ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

مجادر کی ایک یادگار شب

 مجادر کی ایک یادگار شب


(سفرنامہ کی جھلک — ۲۰ اگست ۲۰۲۵، بروز بدھ)


علاقہ پالنپور کے چھاپی حلقے کا کثیر آبادی والا گاؤں مجادر میں نمازِ مغرب و عشاء کی ترتیب تقریباً پندرہ روز قبل ہی طے ہو چکی تھی، اور اس کا ذکر طے ہونے کے فوراً بعد ہی جناب عبدالواحد کڑیوال اور حنیف بھائی سانگرا والے کے درمیان ہو گیا تھا۔


۲۰ اگست کی علی الصبح عبدالواحد صاحب کا فون آیا کہ:

"آج آپ کی مغرب و عشاء مجادر کی ترتیب ہے نہ؟"


یہ سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ میں نے عرض کیا:

"اسی ترتیبِ خاص کے لیے ہی تو دو ہزار کلو میٹر دور بہار، سمستی پور سے حاضری ہوئی ہے۔"


انہوں نے مزید فرمایا کہ عشائیہ کا انتظام میرے ذمے ہے، آپ گاؤں والوں کو منع کر دیں اور میرا نام دے دیں۔ چنانچہ کھانے کا مکمل نظم ہو گیا۔


وقت پر وہاں پہنچ کر ایسا ہی کیا گیا۔ نمازِ مغرب مسجد اقصیٰ میں ادا کی، جہاں امام صاحب نے بغیر درخواست کے ہی بعد نماز اعلانِ تعاون فرما دیا۔ پھر وہاں سے فارغ ہوکر بازار آیا۔ طبیعت نے چائے اور پان کا تقاضا کیا اور ساتھ ہی دواؤں کی بھی ضرورت تھی، لیکن ہر ایک نے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔ بتایا گیا کہ پورے علاقے میں اکثر سفرائے کرام کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور ان کے چائے یا پان کے تقاضے پر کوئی پیسے نہیں لیتا۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جو ہمارے علاقے میں خال خال ہی نظر آتی ہے۔


پھر نمازِ عشاء کے لیے جامع مسجد حاضر ہوا۔ مولانا اسلم صاحب علاد نے خوش دلی سے استقبال کیا۔ ان کی مسکراہٹ معنی خیز ہوا کرتی ہے کیونکہ انہیں تمام سفراء کے مزاج کو سمجھنے اور سنبھالنے کا وسیع تجربہ ہے۔ انہی کی امامت میں نماز ادا کی۔ نماز کے بعد دونوں اصل میزبان آدھمکے۔ ان کے ساتھ دو قابلِ احترام مقامی علما بھی تھے جو گاؤں میں تدریس کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ چنانچہ چاروں صاحبان نے مجھے ہمراہ لیا اور عبدالواحد بھائی کے دولت کدہ پر پہنچے۔


وہاں پرتکلف عشائیہ کا انتظام تھا۔ دورانِ طعام چاروں صاحبان اپنی مادری زبان گجراتی میں باہمی مذاکرہ میں مصروف رہے۔ بندہ نے حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے اس اسوہ پر عمل کیا کہ مہمان جب دسترخوان پر ہو تو سارا ذہن کھانے پر مرکوز رکھے، لہذا گفتگو کے بجائے ذہن کو نعمتوں پر لگائے رکھا۔ الحمدللہ شکم سیر ہوکر فارغ ہوا۔ اس کے بعد آئس کریم کا دور چلا اور ہلکی پھلکی تعلیمی گفتگو بھی ہوئی، جس سے دل خوش ہوا۔


اسی موقع پر نوجوان فاضل، مولانا محسن صاحب (فارغ التحصیل دارالعلوم چھاپی) نے نہایت مسرت بخش اطلاع دی کہ گاؤں میں مکاتبِ دینیہ کے ساتھ ساتھ ایک منظم اور مضبوط نظامِ تعلیم بھی قائم ہے۔ یہ نظام خاص طور پر ان طلبہ کے لیے بنایا گیا ہے جو عصری تعلیم سے وابستہ ہیں۔ ان کے لیے پانچ سالہ عالمیت کا نصاب مرتب کیا گیا ہے، اور الحمدللہ اس کے اب تک کے نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں۔


مولانا نے اپنی کارگزاری کے طور پر بتایا کہ وہ خود اسی نظام میں تدریس کی خدمت انجام دیتے ہیں اور طلبہ کی دلچسپی و لگن دیکھ کر امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں جب یہ نوجوان عصری تعلیم کے بدولت اعلیٰ اداروں اور معزز عہدوں تک پہنچیں گے تو ان کے سینے علومِ شرعیہ کی روشنی سے بھی منور ہوں گے۔ یوں ایک ایسی نئی نسل تیار ہوگی جو دنیاوی اعتبار سے بھی باوقار ہوگی اور دینی اعتبار سے بھی رشتۂ نسبت کو برقرار رکھے گی۔ یہ سن کر دل کو بےحد اطمینان اور قلبی مسرت حاصل ہوئی کہ اس خطے میں دین و دنیا کی حسین امتزاج کے ساتھ ایک کامیاب تجربہ جاری ہے۔


آخر میں تقریباً رات گئے چاروں صاحبان، بطورِ اکرام، مجھے اپنی سواری پر لے کر پالنپور مسجدِ نور پہنچا کر رخصت ہوئے۔ دل سے دعا نکلی کہ اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، اور علماءِ دین سے ان کے دلی لگاؤ کے صدقے ان کی نسلوں میں تا قیامت دین باقی رکھے۔ آمین۔

فغیاس و فعباس: رفاقت یا رقابت کا انتخابی ڈرامہ

 فغیاس و فعباس: رفاقت یا رقابت کا انتخابی ڈرامہ


دنیا نے بڑے بڑے رفیق دیکھے ہیں؛ کوئی خیر کے علَم بردار بنے، کوئی علم و عمل کے جوڑوں میں یاد رکھے گئے۔ مگر کچھ رفاقتیں ایسی بھی ہیں جو تاریخ کے لیے محض وبال کا سامان بنتی ہیں۔ ایسی ہی ایک مثل ہے فغیاس و فعباس—دو ایسے کردار جو اگرچہ الگ الگ وجود رکھتے ہیں، مگر ان کی روحِ شرارت گویا ایک ہی سانچے میں ڈھلی ہے۔


دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت ایک ہی منہج کے ادارے اور اسلامی ماحول میں ہوئی، گویا ایک ہی آغوش نے دونوں کو پرورش دی۔ پھر زندگی نے رخ بدلا اور دونوں نے ایک ہی شعبے کو ذریعۂ معاش بنایا۔ اس میدان میں بھی ان کی شہرت ملی جلی رہی—کچھ اہلِ ادب کے نزدیک یہ شہسوار ہیں، تو کچھ کے نزدیک ناکام کردار۔ کوئی کہتا ہے عارضی ناکامی، اور کوئی اپنے تجزیے میں اسے دائمی قرار دیتا ہے۔


ان کے باہمی تعلق کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے کو شاگرد ماننے پر بضد ہے۔ فغیاس دلیل دیتا ہے: "میرا چڈی، رومال اور ٹوپی دھو کر، بیگ اور تھیلا ڈھوتا کون ہے؟" جبکہ فعباس اپنی قسم کھا کر کہتا ہے: "اصل استاد تو میں ہوں!" اس دلیل پر قاری ششدر ہے کہ ووٹ کس کے حق میں دے۔ یہ صورتحال کچھ ویسی ہی ہے جیسے انتخابی جلسوں میں امیدوار ایک دوسرے پر جھوٹے وعدوں اور پرانی قربانیوں کا پرچہ لہرا کر نعرہ لگاتے ہیں: “ووٹ ہمیں دو، خدمت ہم ہی نے کی ہے!”


اب ووٹ کی بات نکلے تو یاد آتا ہے کہ آج کل بہار (ہند) میں الیکشن کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ وہاں کی اصل صورتحال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے خود 56 لاکھ ووٹ چوری کر لیے ہیں۔ فغیاس و فعباس کے جھگڑے کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے باہمی دعووں میں اور کمیشن کے اس عمل میں خاص فرق نہیں—عمل یکساں، شعبہ الگ! ایک طرف انتخابی منشور کے جھوٹ، دوسری طرف استادی و شاگردی کے کھوکھلے دعوے؛ قاری سوچتا ہے کہ آخر کس امیدوار کو ووٹ دے، جبکہ دونوں کا ریکارڈ ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔ بلکہ یوں لگتا ہے کہ ہر قاری کے لیے ابو مسلم خراسانی کے کردار پر تحقیق سے زیادہ مشکل اسی کردار میں حتمی فیصلہ لینا ہے۔


ان کی روش کبھی یأجوج و مأجوج کی بے قابو طوفانی جبلّت یاد دلاتی ہے، کبھی یہ جوڑی ابو جہل و ابو لہب کی طرح لگتی ہے جو اپنی گمراہی کو بھی شراکت داری میں بانٹتے تھے۔ اور بعض وقت ان کے رویے میں وہی رنگ جھلکتا ہے جو بابل کے ہاروت و ماروت کی آزمائش میں دکھائی دیتا تھا—فتنہ بھی خود چنا، رسوائی بھی خود مول لی۔


آخر میں فیصلہ بہرحال قادرِ مطلق کے دربار میں ہی ہے، ہم سب اسی کی عدالت کے محتاج ہیں۔ مگر دنیاوی سیاست کی طرح یہاں بھی نظام ظاہر پر ہی چلے گا۔ اور ظاہر یہ ہے کہ فغیاس و فعباس فساد کے جڑواں، گمراہی کے بھائی بند اور بربادی کے شریکِ سفر ہیں—خواہ وہ اپنے آپ کو امیدوارِ نجات کہلائیں یا خود ساختہ استادِ اعظم!


ابو مسلم خراسانی سے بھی مشکل! فغیاس و فعباس پر فیصلہ


✍️ بقلم: ممتاز احمد جامعی

مکاتبِ دینیہ اور وقت کا ضیاع

 مکاتبِ دینیہ اور وقت کا ضیاع


بچوں کی عمر اور نصابِ دینیات سے مطابقت


مدارس و مکاتب کا اصل مقصد صرف عبارت خوانی یا دینیات کی چند کتابوں کی تدریس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نئی نسل کو فہم و فراست، موقع و محل کا شعور، حالاتِ حاضرہ کی سوجھ بوجھ اور کم از کم متعلقہ ماخذ تک رجوع کرنے کی صلاحیت دینا نہایت ضروری ہے۔ علم کو محض پڑھانے تک محدود رکھنا کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل کو یقینی بنانا وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ افسوس کہ اکثر اداروں میں اساتذہ ہی نہیں بلکہ ذمہ داران اور مہتممین بھی وقت کی نزاکت کو سمجھنے میں کوتاہی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں معصوم طلبہ اور والدین نقصان اٹھاتے ہیں۔ بعض جگہ تو یہ بھی دیکھا گیا کہ پورے سال طلبہ دارالاقامہ میں مقیم رہے لیکن اسکولی نصاب کے اعتبار سے کسی درجہ میں ان کا اندراج ہی نہیں کیا گیا، جس سے قیمتی وقت ضائع ہوگیا۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینیات کے ساتھ ساتھ اسکولی تعلیم کم از کم دسویں جماعت (10th) تک لازمی اور یقینی بنائی جائے، تاکہ ہر طالب علم کا بنیادی مستقبل محفوظ ہو۔ اس کے بعد طلبہ کو اپنی اہلیت اور رجحان کے مطابق دو راستوں میں اختیار دیا جائے: یا تو وہ کالج کے ذریعے عصری تعلیم کی تکمیل کریں، یا پھر درسِ نظامی کے ذریعے دینی تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں۔ یہ طریقہ نہ صرف طلبہ کا وقت بچائے گا بلکہ والدین کو بھی اطمینان ہوگا اور اداروں کی ساکھ مضبوط ہوگی۔ اگر ہم نے وقت اور تعلیم کی اہمیت کو نظر انداز کیا تو یہ قوم زمانے کے ساتھ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گی۔ اس لیے وقت کی نزاکت کو سمجھنا، نصاب و نظام کو مضبوط بنانا، اور نئی نسل کو بامقصد و بامعرفت تعلیم دینا ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے۔


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی

جیل بھرو تحریک ہی آخری راستہ

 جیل بھرو تحریک ہی آخری راستہ


بھارت میں مسلمانوں کے لیے حالات دن بہ دن سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر اتر پردیش اور آسام میں حکومتیں فرقہ پرستی کی تمام حدیں پار کر چکی ہیں۔ ان صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اقتدار کو انصاف اور خدمت کا ذریعہ بنانے کے بجائے نفرت، جبر اور ظلم کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ اقتدار ایسے جاہل اور غنڈہ صفت ہاتھوں میں ہے جو بنیادی انسانی حقوق کو اپنے سیاسی کھیل کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔


عدلیہ، جو کبھی مظلوم کی آخری امید تھی، آج ریاستی بیانیے کی غلام بن چکی ہے۔ فسادات میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا، بازار اجڑ گئے، عورتوں کی عصمت دری ہوئی، بے قصور نوجوان جیلوں میں سڑتے رہے، مگر نہ قاتل پکڑے گئے نہ مجرم سزا پائے۔ گویا پورا نظام مسلم دشمنی میں اندھا اور بہرا ہو چکا ہے۔


المیہ یہ ہے کہ انسانی حقوق کے کارکن اور ملی تنظیموں کے قائدین بھی اپنی اپنی کمزوریوں اور مصلحتوں کے باعث خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ وہ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں، گویا قسطوں میں مرنے پر راضی ہیں۔


ایسے میں مولانا محمود احمد مدنی کی آواز امید کی کرن ہے، جنہوں نے آسام جا کر ظالموں کے سامنے آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی۔ مگر انفرادی جدوجہد کافی نہیں، وقت اجتماعی اقدام کا تقاضا کر رہا ہے۔


اب وقت ہے فیصلہ کن قدم کا


یہ وقت صرف بیانات اور مذمتی اجلاسوں کا نہیں۔ اب تمام انصاف پسند تنظیموں اور قائدین کو مصلحتیں چھوڑ کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا۔ متفقہ جیل بھرو تحریک اور سول نافرمانی ہی وہ راستہ ہیں جو ظلم کے اس بے قابو سلسلے کو روک سکتے ہیں۔


ورنہ حقیقت یہ ہے کہ آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں پورے ملک میں مورچہ زن ہیں۔ ہر میدان میں مسلمانوں کو معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر مٹانے کی سازش جاری ہے۔ اگر آج بھی ہم نے اجتماعی بیداری نہ دکھائی تو آنے والی نسلوں کے لیے صرف مٹی اور ملال باقی بچے گا۔


✒️ قاری ممتاز احمد جامعی

عدالتیں: عدل یا اقتدار کا ہتھیار؟

 عدالتیں: عدل یا اقتدار کا ہتھیار؟


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا تھا: "عدالتیں حکومت وقت کا بہترین ہتھیار ہوا کرتیں ہیں"۔ یہ جملہ آج کے بھارت میں لمحہ بہ لمحہ اپنی سچائی ثابت کر رہا ہے۔ عدالت کا مقصد انصاف فراہم کرنا ہے، مگر جب وہ حکومت کے سیاسی بیانیے کی خدمت کرنے لگے تو انصاف قتل اور عدل تماشا بن جاتا ہے۔


بھارت میں آج عدلیہ پر سوالیہ نشان بڑھتے جا رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والے طلبہ، صحافی اور ایکٹیوسٹ جیلوں میں ڈال دیے جاتے ہیں، اور عدالتیں ان کی ضمانت تک دینے سے ہچکچاتی ہیں۔ دہلی ہائیکورٹ کی تازہ مثال ہمارے سامنے ہے جہاں شرجیل امام، ڈاکٹر عمر خالد، خالد سیفی، میران حیدر اور گلفشاں فاطمہ جیسے ایکٹیوسٹ برسوں سے جیلوں میں بند ہیں۔ ان پر ’’یو اے پی اے‘‘ جیسے سخت قوانین کے تحت مقدمات قائم ہیں، جبکہ عدالتی فیصلوں میں بار بار ضمانت مسترد کی جا رہی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف پرامن تحریک چلائی تھی، مگر عدالتیں، جو عوامی آزادی کی محافظ ہونی چاہییں، آج حکومت کے بیانیے کو قانونی شکل دینے کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔


یہ صورتحال کوئی نئی نہیں۔ بابری مسجد مقدمہ میں انصاف قربان ہوا، مالیگاؤں بم بلاسٹ کے تمام ملزمان باعزت بری ہو گئے، مگر مسلم نوجوانوں کی رہائی میں دہائیاں لگ گئیں۔ کشمیر آرٹیکل 370 اور سی اے اے کے معاملات میں عدلیہ کھل کر حکومت کے مؤقف کے قریب جا کھڑی ہوئی۔ اور اب شرجیل امام و ساتھیوں کا معاملہ بتا رہا ہے کہ عدالتیں مسلم دشمنی اور حکومتی دباؤ کے سامنے کس طرح بے بس یا مصلحت پسند ہیں۔


مولانا آزادؒ کی بصیرت آج ایک کڑوا سچ ہے۔ عدلیہ عوام کے لیے امید نہیں بلکہ حکومت کے لیے ڈھال بن گئی ہے۔ شرجیل امام اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ بتا رہا ہے کہ عدالتیں طاقتور کے سامنے جھکتی ہیں اور کمزور کے لیے تازیانہ بن جاتی ہیں۔ اگر انصاف کی بحالی کے لیے اجتماعی دباؤ نہ ڈالا گیا تو یہ جمہوریت محض کاغذی رہ جائے گی، اور عدلیہ کا وجود صرف اقتدار کے ہتھیار کے طور پر باقی بچے گا۔ یہی وقت ہے کہ انصاف پسند طبقات، ملی تنظیمیں اور عوام متحد ہو کر سوال اٹھائیں، ورنہ تاریخ یہ گواہی دے گی کہ عدالتیں ظالم کے ساتھ کھڑی تھیں اور مظلوم کو تنہا چھوڑ گئیں۔

اہلِ علم کی رفاقت اور مدرسہ امدادیہ اشرفیہ راجوپٹی سے قلبی وابستگی

 اہلِ علم کی رفاقت اور مدرسہ امدادیہ اشرفیہ راجوپٹی سے قلبی وابستگی


اہلِ علم و بصیرت اور اہل اللہ کی رفاقت سے دل میں دینی جذبہ، ایثار و قربانی اور مجاہدہ کا ولولہ موجزن ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف اگر سفر میں کوئی غافل اور علم و عمل سے عاری شخص مل جائے تو اس کے بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں ہمیشہ صاحبانِ بصیرت کی صحبت نصیب فرمائے۔


پورے چالیس روزہ سفرِ پالنپور کے دوران مختلف تہذیبوں اور معاشروں سے آئے سفرا کرام کی رفاقت نے دل کو ایک سمت مائل کیا تھا، لیکن اچانک ایک معروف و مشہور ادارہ مدرسہ امدادیہ اشرفیہ، راجوپٹی، سیتامڑھی (بہار) کے نمائندہ سے ملاقات ہوئی تو قلب میں ایک خاص شوق اور محبت کی کیفیت جاگ اٹھی، کیوں کہ بندہ کا اس ادارہ سے تقریباً ڈھائی دہائیوں پر مشتمل گہرا تعلق ہے۔


یقیناً تمام دینی اداروں سے دلی وابستگی ہے، اور ہر ادارہ اپنے اپنے علاقے میں اپنی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے، کیونکہ یہی ادارے دین کے حقیقی پاور ہاؤس ہیں جن سے امت مسلمہ کے دینی و شرعی تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ لیکن امدادیہ اشرفیہ راجوپٹی، سیتامڑھی سے ایک غیر معمولی محبت ہے؛ اس لیے کہ بندہ نے اپنی ابتدائی تدریسی خدمات یہیں سے شروع کی تھیں۔


یہاں کے اساتذہ اپنے پاور ہاؤس سے نکلنے والی بجلی کی مانند دور تک روشنی پھیلاتے ہیں۔ اور کیوں نہ ہو؟ یہ ادارہ ملک میں احیاءِ سنت کے مجددِ وقت حضرت تھانویؒ کے سلسلے سے وابستہ ہے۔ بہار میں حالیہ زمانے میں حضرت تھانویؒ کے خلیفۂ اجل حضرتِ ہردوئیؒ کے فیض یافتہ، حضرت مولانا عبد المنان صاحب قاسمی دامت برکاتہم کے روشن کیے ہوئے چراغ کی ضیاء پاشیاں ہی اس ادارے کی پہچان ہیں۔


نمائندۂ محترم کا اسمِ گرامی جناب مولانا محمد احتشام الحق مظاہری صاحب ہے، جو مدرسہ امدادیہ اشرفیہ کے سابق متعلم اور کہنہ مشق استاد ہیں۔ موصوف دیکھنے میں اگرچہ پست قد کے حامل ہیں، لیکن علم و عمل، فہم و فراست اور بصیرت کے اعتبار سے نہایت بلند مقام پر فائز ہیں۔ ان کی مستقل تبسم جیسی انمول صفت، نرم گوئی، نرم خُوئی اور حلم و بردباری سے مزین صفاتِ حمیدہ نے ان کی شخصیت کو اور زیادہ دلآویز بنا دیا ہے۔ سفر کے دوران ان کی رفاقت ایسی محسوس ہوئی جو تمام الجھنوں کو دور کر کے قلب کو سکون عطا کر دے۔


میری دعا ہے کہ اللہ پاک موصوف کو مزید سعادتِ دارین سے نوازے، ادارہ امدادیہ و اشرفیہ کی خدمات کو تا قیامت قائم و دائم رکھے، اس کے اساتذہ و فضلا کے علم و فیض کو قبولیتِ عام عطا فرمائے، اور بقیہ چند ایامِ سفر بھی بخیر و خوبی گزریں۔ آمین۔


             قاری ممتاز احمد جامعی

جنرل سیکرٹری: الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ  

بانی و ناظم: جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور

آئی لو محمد ﷺ پر مقدمات — یوپی حکومت کے جابرانہ عمل کی سخت مذمت"

بھارت میں ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ جیسے پُرامن مذہبی اظہار پر ریاستی کارروائی نے آزادیٔ اظہار، آئینی حقوق اور اقلیتی شناخت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔


بھارت میں ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ جیسے پُرامن مذہبی اظہار پر ریاستی کارروائی نے آزادیٔ اظہار، مذہبی حقوق اور آئینی بالادستی پر ایک سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ کالم ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر، ریاستی ردِعمل اور اقلیتی شہری آزادیوں کے باہمی تعلق کا تحقیقی و تجزیاتی جائزہ پیش کرتا ہے — ایک ایسا سوال جو محض مسلمانوں نہیں بلکہ ہر آئین پسند شہری سے متعلق ہے۔
بھارت کے موجودہ سیاسی ماحول میں بعض واقعات محض وقتی خبریں نہیں رہتے بلکہ وہ ریاست، سماج اور آئین کے باہمی تعلق پر گہرے سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ جیسے سادہ مگر پُرامن مذہبی اظہار پر ریاستی ردِعمل بھی اسی نوعیت کا واقعہ ہے، جسے محض انتظامی کارروائی کہہ کر نظرانداز کرنا فکری بددیانتی کے مترادف ہوگا۔ یہ معاملہ کسی ایک نعرے یا چند نوجوانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس ذہنیت کا آئینہ ہے جو مذہبی شناخت کو بتدریج ایک مشتبہ وجود میں تبدیل کر رہی ہے۔
یہ تاثر اب محض اقلیتی حلقوں تک محدود نہیں رہا کہ موجودہ سیاسی بیانیہ اکثریتی جذبات کو منظم رکھنے کے لیے ریاستی اداروں کے کردار کو وسعت دے رہا ہے۔ ناقدین بارہا نشاندہی کر چکے ہیں کہ تفتیشی ایجنسیاں، پولیس اور حتیٰ کہ بعض اوقات عدالتی عمل بھی سیاسی فضا سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں رہتا کہ کوئی نعرہ کتنا اشتعال انگیز ہے، بلکہ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ ریاست اپنے آئینی حدود میں رہتے ہوئے عمل کر رہی ہے یا نہیں۔
اسی پس منظر میں مولانا توقیر رضا خان کی گرفتاری محض ایک فرد کے خلاف کارروائی نہیں رہتی بلکہ ایک علامتی واقعہ بن جاتی ہے۔ یہ گرفتاری اس احساس کو تقویت دیتی ہے کہ ریاستی حساسیت اب افراد سے زیادہ افکار اور شناختوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ حیرت اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ لاکھوں معتقدین اور وسیع سماجی اثر کے باوجود وہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی سامنے نہ آ سکی جو ایسے مواقع پر فطری طور پر متوقع ہوتی ہے، گویا خوف، مصلحت یا داخلی انتشار نے ردِعمل کی قوت کو منجمد کر دیا ہو۔
یہاں مسلم سماج کے اندر پائے جانے والے تضادات مزید نمایاں ہو جاتے ہیں۔ مولانا ہاشمی میاں جیسے بزرگ علما کا بعض مواقع پر ریاستی ایجنسیوں کو داخلی اختلافات کے حل کے لیے خود مدعو کرنا ایک ایسے اعتماد کی علامت ہے جو زمینی حقائق سے کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاست میں مسئلہ کسی مخصوص جماعت یا مسلک سے نہیں بلکہ اس شناخت سے ہے جو توحید پر مبنی ایسے تصور کو زندہ رکھتی ہے جو ہر نسلی، اساطیری اور اکثریتی تقدس کو سوالیہ نشان بناتا ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو تصادم کسی فرد یا تنظیم سے نہیں بلکہ اس کلمے سے ہے جو تمام مصنوعی معبودوں کی نفی کرتا ہے۔
اسی دوران مولانا محمود مدنی کی جانب سے تفتیشی ایجنسیوں کے پروفیشنلزم پر اعتماد کا اظہار بھی ایک تلخ سوال چھوڑ جاتا ہے۔ اگر یہی ادارے ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ جیسے بینرز پر مقدمات قائم کر رہے ہوں تو پھر یہ پروفیشنلزم کس اصول پر کھڑا ہے؟ ناقدین کے نزدیک یہ طرزِ عمل اس تعصب کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے قانونی دائرے اور انتظامی زبان میں لپیٹ کر قابلِ قبول بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اتر پردیش میں پیش آنے والے واقعات اسی لیے زیادہ تشویش ناک محسوس ہوتے ہیں۔ آئینی طور پر آزادیٔ اظہار اور مذہبی عقیدت کے پُرامن اظہار کو بنیادی حقوق کا درجہ حاصل ہے، مگر جب ان حقوق کو نظمِ عامہ یا مبہم خدشات کے نام پر محدود کیا جائے تو یہ عمل خود آئینی روح کے منافی ہو جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ قانون کی موجودگی کا نہیں، بلکہ اس کے انتخابی اطلاق کا ہے، جو کسی بھی جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھا جاتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایسے مواقع پر سماج کی اجتماعی حساسیت بھی امتحان میں پڑ جاتی ہے۔ اکثریتی طبقے کے وہ حلقے جو خود کو سیکولر اور جمہوری اقدار کا علمبردار کہتے ہیں، اکثر یا تو خاموش رہتے ہیں یا معاملے کو محض ’’انتظامی ضرورت‘‘ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہی خاموشی آہستہ آہستہ ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہے جہاں غیر معمولی اقدامات معمول بن جاتے ہیں، اور معمولی زیادتیاں قابلِ قبول۔
یہاں ہندوتوا کو محض ایک ثقافتی شناخت کہہ کر بحث ختم کرنا مسئلے کو سادہ بنانا ہوگا۔ عملی سطح پر یہ ایک ایسا نظریاتی فریم بنتا جا رہا ہے جو قومیت کو مذہبی اکثریت کے ساتھ مشروط کرتا ہے، اور اختلاف یا تنوع کو وفاداری کے سوال میں بدل دیتا ہے۔ اس تناظر میں مذہبی علامات، نعروں اور شناختوں کو ہدف بنانا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی و سماجی رجحان کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب ریاستیں شہری آزادیوں کو سلامتی کے نام پر محدود کرنے لگتی ہیں تو وہ دراصل اپنے ہی سماجی تانے بانے کو کمزور کرتی ہیں۔ اسپین ہو یا یورپ کی دیگر مثالیں، انجام ہمیشہ وہی رہا جہاں شناخت کو جرم اور عقیدے کو خطرہ بنا دیا گیا۔ بھارت جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں اس راستے پر چلنا نہ صرف اقلیتوں بلکہ خود جمہوری ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہے۔
اس لیے آج ضرورت کسی جذباتی تصادم کی نہیں بلکہ شعوری بیداری کی ہے۔ ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ جیسے جملے اگر جرم بن سکتے ہیں تو کل کوئی بھی پُرامن عقیدہ یا اختلاف ریاستی شک کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہم ایک ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جہاں محبت، عقیدت اور شناخت کو قانون کی کسوٹی پر پرکھا جائے، یا ایک ایسی ریاست جہاں آئین فرد کے حق میں دیوار بن کر کھڑا ہو۔
یہ معاملہ محض مسلمانوں کا نہیں، بلکہ ہر اس شہری کا ہے جو آئین، آزادی اور ریاستی طاقت کی حدود پر یقین رکھتا ہے۔ خاموشی یہاں غیر جانبداری نہیں، بلکہ آنے والے کل کی پیش بندی ہے۔ اگر محبت کا اظہار جرم بن سکتا ہے، اگر عقیدت ریاستی شک کے دائرے میں آ سکتی ہے، اور اگر خاموشی کو دانش مندی سمجھ لیا جائے — تو پھر سوال یہ نہیں کہ آج ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ نشانے پر ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے:
کل کس کی شناخت، کس کا یقین اور کس کی آزادی ریاستی مہر کی محتاج ہوگی؟
✍️ ممتاز احمد جامعی