ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

ترجمانی سے پہلے آئینہ: جب سچائی گرفتار ہو، علم مجرم ہو،

 ترجمانی سے پہلے آئینہ: جب سچائی گرفتار ہو، علم مجرم ہو، اور ناموسِ رسالتؐ پامال ہو!

✍️ قاری ممتاز احمد جامعی


پروفیسر علی خان محمودآباد کی گرفتاری صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہندوستان میں تعلیمی آزادی، اظہارِ رائے، تحقیق اور اساتذہ کے وقار پر ایک کاری ضرب ہے۔ اشوکا یونیورسٹی جیسے باوقار ادارے کے معروف محقق، مورخ اور استاد کو اس بنا پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے بین الاقوامی سیاست پر ایک علمی تجزیہ پیش کیا، جس میں نہ کوئی اشتعال تھا، نہ ناپسندیدہ زبان، اور نہ ہی کوئی ملک دشمنی۔


یہ وہی علی خان ہیں جو کیمبرج کے فارغ التحصیل ہیں، جنہوں نے قوم کو فہم، تحقیق اور مکالمے کا سبق دیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب ان پر افتخار کرنا چاہیے تھا، ان کی گرفتاری کے وقت اشوکا یونیورسٹی نے محض یہ بیان دے کر جان چھڑا لی کہ "ان کے خیالات ذاتی ہیں"۔ کیا یہ ادارہ اسی دن کے لیے بنا تھا؟ کہ استاد جب ظلم کی زد میں آئے، تو دیوار بننے کے بجائے خاموش تماشائی بن جائے؟


اساتذہ کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر ان کا وقار پامال کیا جائے، ان کی زبان بند کی جائے، اور اختلافِ رائے پر انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے، تو یہ کسی ایک فرد کا زوال نہیں بلکہ سماج کی فکری خودکشی ہے۔


ایسے نازک موقع پر جب بھارت کا 59 رکنی سرکاری وفد دنیا کے 32 ممالک میں جا رہا ہے، اور اس میں 11 مسلم نمائندے شامل کیے گئے ہیں، تو یہ فطری توقع ہے کہ وہ نمائندگی صرف بیرون ملک بھارت کے چہرے کی نہ کریں، بلکہ اندرون ملک پیش آنے والے کچھ غیرسنجیدہ و تکلیف دہ واقعات کی بابت بھی حکومت تک نرم لہجے میں اپنا نقطۂ نظر رکھیں۔

مثلاً پروفیسر علی خان محمودآباد کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ، یا کسی سابق خاتون فوجی افسر پر ایک حکومتی شخصیت کے نامناسب تبصرے جیسے معاملات، بھارت کی اس روادار شبیہ کے منافی ہیں جسے ہم عالمی برادری کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔


تاہم سب سے اہم اور حساس پہلو، جو ہر باشعور مسلمان کے دل کو چھلنی کر دیتا ہے، وہ ناموسِ رسالت ﷺ کا مسئلہ ہے۔ آئے دن حکومت سے قربت حاصل کرنے یا سستی شہرت کی خاطر بعض انسان نما ناپاک عناصر اسلامی شعائر، قرآن و سنت، اور بالخصوص رسولِ اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف فتنہ، اشتعال اور مسلمانوں کو مشتعل کر کے انہیں مجرم بنانا ہوتا ہے، جب کہ حکومت ان پر نرمی اختیار کرتی ہے۔


یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جس حکومت کو عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے مسلم چہروں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہی حکومت اندرونِ ملک ایسے شرپسندوں پر نرمی کیوں برتتی ہے جو ملک کے امن کو سبوتاژ کرتے ہیں؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ کیا ناموسِ رسالت ﷺ پر ایمان رکھنے والے شہریوں کا کوئی تحفظ نہیں؟ کیا ان کی دل آزاری کوئی جرم نہیں؟


لہٰذا یہ تمام 11 مسلم نمائندے، جو بیرونِ ملک بھارت کا چہرہ پیش کرنے جا رہے ہیں، ان کی شرعی و قومی ذمے داری ہے کہ وہ باہر جا کر ملک کا دفاع ضرور کریں، لیکن روانگی سے پہلے حکومت سے گزارش کریں کہ وہ اندرون ملک مسلمانوں کے ایمان، وجود، اور وقار کی بھی حفاظت کرے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب استاد کی عزت ہو، خواتین کا احترام ہو، اختلاف کی گنجائش ہو، اور ناموسِ رسالت ﷺ پر حملہ کسی بھی صورت میں برداشت نہ کیا جائے۔


ورنہ ترجمانی کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، اگر وہ آواز جو باہر سنائی دے، اپنے ہی وطن میں دبا دی جائے۔


امارت شرعیہ: منصب کی جنگ یا امت کی امانت؟

 امارت شرعیہ: منصب کی جنگ یا امت کی امانت؟

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ… ایک ایسا دینی، اجتماعی اور سماجی ادارہ جو برصغیر میں اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے۔ لیکن گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے یہ ادارہ انتشار، باہمی چپقلش اور قیادت کے ٹکراؤ کا شکار ہے۔ یہ صورتِ حال صرف ایک ادارے کا بحران نہیں، بلکہ امت مسلمہ کی وحدت، اعتماد اور شعور کی پستی کا کھلا اعلان ہے۔


کیا واقعی ہم اس درجہ گر چکے ہیں کہ عہدہ، کرسی اور شہرت کے لیے ملت کے اجتماعی وقار اور اعتماد کو قربان کر دیا جائے؟ کیا ادارہ کا نام، اس کی تاریخ، اس کی خدمات اور اس کا امتیاز اس قابل نہ تھا کہ ہم ذاتی انا اور مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچتے؟


حالیہ دنوں دو بڑے جلسے ہوئے—ایک میں مولانا شبلی قاسمی اور مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب منظر پر تھے، دوسرے میں انجینئر فیصل ولی رحمانی صاحب۔ دونوں اطراف کے حمایتی حضرات، علما، مفکرین اور نمائندگان جمع ہوئے۔ دعویٰ یہی کہ امارت کی بقا اور اتحاد کا پیغام دینا ہے۔ لیکن اہل نظر سمجھتے ہیں کہ یہ اجتماعات “اتحاد” کے نام پر “اقتدار” کی مشق ہیں۔


سب سے دل خراش منظر یہ تھا کہ مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی جیسے بزرگ، جنہوں نے طویل مدت سے امارت کی خدمت کی ہے، محض نمائشی اتحاد کی خاطر عمر میں چھوٹے اور علمی اعتبار سے کم تر فرد کے پیچھے کھڑے دکھائی دیے۔

کیا اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے؟ کہ کبار علما و مشائخ کو چھوٹوں کی اقتدا میں صرف مصلحتِ وقتی یا دکھاوے کے لیے کھڑا کر دیا جائے؟

اگر یہی حبِ جاہ نہیں، تو پھر اور کیا ہے؟


یہ وقت کسی ایک فریق کو نیچا دکھانے کا نہیں، بلکہ امت کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑنے کا وقت ہے۔

اگر واقعی دونوں گروہ اقتدار کے بھوکے نہیں، جیسا کہ وہ بار بار اعلان کرتے ہیں، تو سوال یہ ہے:


امت کے وسیع تر مفاد میں اور امارت شرعیہ جیسے ادارے کے وقار کی حفاظت کی خاطر، دونوں فریق ایک ساتھ دستبردار کیوں نہیں ہوتے؟ کیوں نہ کسی تیسری اہل، متفق علیہ شخصیت کو میدان دیا جائے؟


کیا واقعی ملتِ اسلامیہ کی مائیں بانجھ ہو چکی ہیں کہ ان دونوں شخصیات کے علاوہ کوئی باوقار، دیانت دار، علم و فراست سے متصف، غیر جانبدار اور متفق علیہ شخصیت دستیاب نہیں؟


اگر جواب “نہیں” ہے—اور یقینا نہیں ہے—تو پھر سادہ الفاظ میں کہنا پڑے گا کہ یہ سب عہدوں کے لالچی ہیں، اور ملت کی بھلائی محض نعرہ ہے، مقصد کرسی ہے!


ہم امت کے وہ افراد ہیں جو امارت شرعیہ کو اپنے ایمان، اپنے تشخص، اپنے اتحاد کی علامت سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ:


کیا کوئی اجتماعی، آزاد، شفاف مشاورتی اجلاس ممکن نہیں جہاں مخلص، درد مند، غیر جانبدار علما و دانشور اس بحران کا حل نکالیں؟


کیا کوئی معیاری قیادت ان دو انتہاؤں کے علاوہ بھی ممکن نہیں؟


کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اداروں کو افراد سے بلند تر مانیں اور امت کو فرد کے سائے سے نکال کر اصول کے سائے میں لے آئیں؟


ہم سادہ مسلمان، ادارے کے خیرخواہ، طلبہ، والدین، مخلص علما، سب یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ:


امارت شرعیہ کسی فرد کی جاگیر نہیں! یہ امت کی امانت ہے، اور اس کی قیادت انہی کے سپرد ہونی چاہیے جو واقعی امانت دار ہوں۔

امارتِ شرعیہ: امت کی امانت، یا اقتدار کی جاگیر؟

 امارتِ شرعیہ: امت کی امانت، یا اقتدار کی جاگیر؟

(ایک کھلا خط بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کے علما و مشائخ کے نام)

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


امارتِ شرعیہ، بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کا وہ باوقار، دینی، ملی اور سماجی ادارہ ہے، جس نے ان خطوں میں شریعت کی روشنی، سماجی قیادت، تعلیمی رہنمائی اور ملی مرکزیت کا کام انجام دیا ہے۔ یہ ادارہ محض ایک تنظیم نہیں، ایک تحریک ہے، ایک تاریخ ہے، ایک اعتماد ہے—جسے حضرت مولانا ابو المحاسن سجادؒ جیسے عبقری بزرگ نے خونِ جگر سے سینچا، اور بعد میں مولانا منت اللہ رحمانیؒ، قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ، مولانا نظام الدینؒ، اور آخر میں مولانا ولی رحمانیؒ جیسے باکمال اہلِ علم و عمل نے امت کی کشتی کو گردابوں سے نکالا۔


لیکن آج!

یہی امارت... اقتدار کی رسہ کشی، ادارے پر قبضے اور ذاتی مفاد پرستی کا میدان بن چکی ہے۔ امت کے جذبات، ادارے کا وقار، امارت کا اعتماد—سب کچھ گروہی انا کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔


حالیہ جلسے اور "اربابِ حل و عقد" کے بیانات، جن میں "اتحاد" کی بات تو کی گئی، لیکن حقیقت میں وہ صرف اقتدار کی مشقیں اور الزامات کا تبادلہ زیادہ محسوس ہوئے۔

ایک گروپ نے دوسرے پر مالی غبن، خرد برد، عہدے کے ذریعے سرکاری مراعات کے ذاتی مفاد میں حصول اور ادارے کے وسائل کے ناجائز استعمال جیسے سنگین الزامات عائد کیے، جبکہ جواب میں دوسرا گروہ خود کو وارثِ شرعی، امینِ ملت اور عوامی تائید کا نمائندہ ثابت کرنے میں مصروف رہا۔


ایسا لگتا ہے جیسے دونوں گروہ امارت کو امت کی امانت نہیں بلکہ اپنی سیاسی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں۔

ورنہ اگر وہ واقعی مخلص ہوتے، تو سوال یہ ہے:


کیا وہ ملت کی امانت کو اپنی ذات پر ترجیح دے سکتے تھے؟


کیا وہ دونوں بیک وقت پیچھے ہٹ کر امت کو نئی راہ دکھانے کے لیے تیار ہوتے؟


کیا وہ اس عظیم ادارے کے وقار کو گروہی انا سے بلند سمجھتے?


آج ہم بہار، جھارکھنڈ، بنگال، اڑیسہ کے تمام

اکابر علما، مشائخِ عظام، مدارسِ اسلامیہ کے مہتممین، شیوخ الحدیث، بزرگ مفتیانِ کرام اور ملی رہنماؤں سے درد مندانہ، لیکن واضح اپیل کرتے ہیں:


اب خاموشی جرم ہے!

اگر آپ واقعی امارت کو حضرت سجادؒ، حضرت منت اللہؒ، حضرت ولیؒ کی امانت سمجھتے ہیں، تو اب آپ کو سامنے آنا ہوگا!

اب صرف “دعا کریں” کافی نہیں، اب کردار ادا کرنے کا وقت ہے۔


ہم پوچھتے ہیں:


کیا واقعی امت کی مائیں بانجھ ہو چکی ہیں کہ ان دو انتہاؤں کے سوا کوئی صالح، باوقار، دیانت دار، غیر جانبدار قیادت ممکن نہیں؟


کیا وقت نہیں آ گیا کہ دونوں گروہ بیک وقت دستبردار ہو کر میدان کسی تیسرے اہل، متفق علیہ شخص کے لیے خالی کریں؟


کیا ہم اداروں کو افراد کے سائے سے نکال کر اصول کے سائے میں لانے کا حوصلہ نہیں رکھتے؟


ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک آزاد، غیر جانب دار، وسیع البنیاد مشاورتی اجلاس بلایا جائے،

جس میں صرف وہ علما، مشائخ، اکابر اور نمائندہ اربابِ مدارس شریک ہوں جو کسی بھی فریق سے وابستہ نہ ہوں، اور جن کی دیانت و غیر جانب داری مسلم ہو۔

یہ اجلاس ہی آئندہ کے لائحۂ عمل، کسی نئی متفق علیہ قیادت اور ادارے کے آئینی استحکام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔


ورنہ اگر ہم خاموش رہے، تو تاریخ ہمارے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گی جو قومی و ملی غفلت کے مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔


امارت شرعیہ کسی فرد کی جاگیر نہیں،

یہ امت کی امانت ہے،

اور امانت، صرف اہل کے سپرد ہونی چاہیے۔


والسلام

قاری ممتاز احمد جامعی

(خادمِ دین و ملت)

امارت شرعیہ: منصب کی جنگ نہیں، ملت کی امانت ہے

 دردمندانہ اپیل


بعنوان:


امارت شرعیہ: منصب کی جنگ نہیں، ملت کی امانت ہے!


(ایک غیر جانب دار اصلاحی آواز)


جب ادارے افراد سے بڑے ہوں اور اصول شخصیتوں سے بلند تر — تب قومیں بنتی ہیں، اور تاریخ فخر کرتی ہے۔


لیکن جب فرد ادارے پر غالب آ جائے، جب ذاتی مفاد اصول پر بھاری ہو جائے، اور جب جماعتیں اپنے حصار میں ملت کو قید کرنے لگیں — تب امت انتشار کی دہلیز پر پہنچتی ہے۔


ایسا ہی ایک نازک لمحہ، آج امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ کے حوالے سے امت مسلمہ کے سامنے ہے۔


قضیہ نامرضیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کا دائرہ مسلسل ایک تشویشناک صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دونوں دعوے دارانِ "امیر شریعت" اپنے اپنے حلقے سے نکل کر اثر و رسوخ کے بل پر عوام الناس سے رجوع، ہنگامی دورے اور بیعت و تائید کے اجتماعات کر رہے ہیں، گویا ملت ایک دوسرگوں کشمکش کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔


یہ کوئی معمولی ادارہ نہیں، کہ جسے فقط کسی نشست، کسی عہدہ یا کسی شخصیت سے تعبیر کر دیا جائے۔


یہ ایک خواب کا تسلسل ہے — جو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ، مولانا محمد علی مونگیریؒ، مولانا منت اللہ رحمانیؒ، اور حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ جیسے رجال کی قربانیوں سے پروان چڑھا۔


یہ اس قوم کا اجتماعی ضمیر ہے — جو آئینِ ہند کے دائرے میں رہ کر دینی، ملی، تعلیمی، اور سماجی خودمختاری کا شعور رکھتی ہے۔


مگر آج جب ہم اپنے بزرگوں کی چھوڑی ہوئی اس امانت پر نظر ڈالتے ہیں، تو دل کانپ اٹھتا ہے۔


کرسی کی کشمکش، گروہی صف بندی، امارت کی تقسیم — یہ سب کچھ وہ زخم ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایک ادارہ، بلکہ پوری ملت کے وقار کو مجروح کیا ہے۔


حالیہ ایّام میں منعقد دونوں عظیم الشان جلسے، بظاہر اتحاد کے نام پر منعقد ہوئے — مگر باطن میں ایک ناقابلِ انکار حقیقت چھپی ہے:

امت دو رُخوں میں تقسیم ہو رہی ہے، اور ہم سب اس المیے کے خاموش گواہ بنے کھڑے ہیں۔


مفتیانِ کرام، فضلا، حفاظ، دانشوران قوم و ملت، ادارہ جاتی ذمے داران — سب کو ایک لائن میں کھڑا کر کے گروہی وفاداری کی فصیلیں بلند کی جا رہی ہیں۔


یہ وقت فتح و شکست کے اعلانات کا نہیں،

یہ وقت جیتنے یا ہرانے کا نہیں —

بلکہ یہ وہ گھڑی ہے جب ملت کے ذی شعور افراد، غیر جانب دار ادارے، مخلص علما و دانشور آگے آئیں، اور یہ کہیں:


> "ہمیں نہ تمہاری جیت سے غرض ہے، نہ اس کی ہار سے؛

ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ امت ہار رہی ہے!"


ہماری دردمندانہ اپیل ہے کہ:


1. دونوں موجودہ دعوے دار گروہ اعلانیہ اور بلاتاخیر دستبردار ہوں؛


2. ایک مشترکہ عبوری شوریٰ تشکیل دی جائے، جس میں کسی فریق کا غلبہ نہ ہو؛


3. اس شوریٰ کے زیرِ نگرانی، واضح، شرعی، آئینی، اور شفاف نظام کے مطابق نئے امیر کے انتخاب کی راہ ہموار ہو؛


4. اس نئے امیر کا انتخاب انسان نہیں، اصول کرے؛ اور پسند نہیں، ملت کی امانت کرے۔


ہم جیسے لوگ، جنہوں نے ہمیشہ امارت شرعیہ کے فیصلوں کو احترام دیا ہے، اور اس کے وجود کو دین کی اجتماعی علامت سمجھا ہے — آج یہ سوال کرتے ہیں:


📌 کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اداروں کو افراد سے بلند تر مانیں؟


📌 کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم کسی تیسرے باوقار، دیانت دار، متفق علیہ فرد کو موقع دیں؟


📌 کیا قوم کی مائیں صرف دو ہی افراد کو چننے پر قادر ہیں؟


📌 کیا واقعی ہم اصول، دیانت، اور شفاف قیادت کے خواب سے دستبردار ہو چکے ہیں؟


ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ:


📌 شخصیات کے ہجوم سے نکل کر اصولوں کا پرچم اٹھائیں؛


📌 ماضی پر رونے کے بجائے حال کو سنواریں؛


📌 اور اس ادارے کو آنے والی نسلوں کے اعتماد کے قابل بنا دیں۔


اگر ہم نے یہ موقع بھی کھو دیا —

تو یاد رکھئے!


کرسی بچ جائے گی، افراد جی لیں گے،

لیکن امت ہار جائے گی…!


جانب: قاری ممتاز احمد جامعی


کھیل کا جشن یا عقل کا ماتم؟ — ایک فکری تجزیہ

 کھیل کا جشن یا عقل کا ماتم؟ — ایک فکری تجزیہ


 پس منظر


بنگلور میں IPL ٹیم RCB کی جیت پر ایک جذباتی اور بے قابو ہجوم نے سڑکوں پر جشن منایا۔

دھوم دھڑاکے، نعرے، ڈھول، اور دیوانگی میں ڈوبی عوامی ریل کا انجام یہ ہوا کہ 10 قیمتی جانیں تلف ہو گئیں۔

ایک لمحے کو رک کر سوچیں:

یہ کس چیز کا جشن تھا؟

ایک کمرشل کھیل میں ایک ٹیم کی فتح؟

یا عقل، شعور، اور ایمان کی موت پر اجتماعی خاموشی؟

 کرکٹ: کھیل یا نئی نسل کا بت؟

یہ اب محض کھیل نہیں رہا،

بلکہ نفسیاتی غلامی، تجارتی جال، اور دینی بے حسی کا مجموعہ بن چکا ہے۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا:

ایک چھکے پر پوری قوم اچھلتی ہے،

لیکن مسجد کی اذان پر کوئی کان نہیں دھرتا؛

ایک بال کے لیے پوری رات جاگتے ہیں،

مگر قرآن سننے کے لیے پانچ منٹ بھی نکالنا مشکل؛

بچے کھلاڑیوں کے نام یاد رکھتے ہیں،

مگر اصحابِ بدر یا خلفائے راشدین کے نام پوچھیں تو نظریں جھک جاتی ہیں۔

 اخلاقی و دینی زوال

کھیل کے نام پر نمازیں قضا ہوتی ہیں

تعلیمی نظام پر کھیل کی دیوانگی حاوی ہے

میڈیا اور اشتہارات میں مرد و زن کی بے حیائی فروغ پا رہی ہے

نوجوان نسل کی سوچ کرکٹ کے ریٹائرمنٹ، سنچری، اور کیپٹنسی تک محدود ہو چکی ہے

ایسے میں اگر کوئی کہے کہ "کرکٹ قوم کا فخر ہے"، تو یہ نہیں بلکہ قومی المیہ ہے۔

 حضرت مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ کا فکری مشاہدہ

یہ بات صرف جذبات یا رائے نہیں، بلکہ علمی اور فقہی بصیرت کا بھی تقاضا ہے۔

حضرت مفتی عبد الرحیم لاجپوریؒ (مصنف فتاویٰ رحیمیہ)

اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک اہم شرعی استفتا تیار کروا رہے تھے — موضوع تھا:

"کرکٹ کا شرعی حکم اور اس کے دینی اثرات"

انہوں نے فقہ کے ماہر علما سے فرمایا:

> "اس استفتا میں یہ نکتہ ضرور شامل کریں کہ:

بعض لوگ کرکٹ دیکھنے میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ جب نماز کا وقت ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو سوچتے ہیں:

’ایک بال اور دیکھ لوں، شاید چھکا لگ جائے’

اور یوں فرض نماز قضا ہو جاتی ہے۔

ایسے عمل کا شرعی حکم بیان کیا جائے۔"

حضرت مفتیؒ نے اس بات کو ایک فتنہ قرار دیا تھا،

مگر افسوس! حضرت کی عمر نے وفا نہ کی،

اور بعد کے مفتیان میں وہ جرأت، فکر اور امت کا درد باقی نہ رہا۔

یوں ایک عظیم علمی رہنمائی امت سے محروم ہو گئی۔

 قوم کی ترجیحات کا المیہ

علمائے حق کے بیانات پر کوئی کان نہیں دھرتا

لیکن کمنٹیٹرز کی چیخ پر پوری قوم ہل جاتی ہے

اصلاحی جلسے خالی، مگر کھیلوں کی جگہ بھری ہوئی

جنہوں نے قوم کے لیے جان دی، ان کے مزار اجنبی

جنہوں نے بیٹ گھمایا، ان کی تصویریں دیواروں پر

ایسی قوم کے لیے "آ بیل مجھے مار" محاورہ نہیں، زندہ حقیقت بن چکا ہے۔

ہم کھیل کے خلاف نہیں،

غفلت، ترجیحات کی خرابی، اور دینی خسارے کے خلاف ہیں۔

> کیا کھیل دیکھنا فرض نماز سے بڑھ کر ہے؟

کیا ایک چھکا دین کے ایک حرف سے قیمتی ہو گیا؟

کیا ہمارا دین اتنا سستا ہو گیا ہے کہ ایک اسکرین پر قربان ہو جائے؟

اگر نہیں — تو اب وقت ہے کہ:

ہم تماشائی بننا چھوڑیں، رہبر بنیں

بچوں کو کھلاڑیوں کے بجائے صحابہ کا فین بنائیں

کھیل کے تماشے کو دین پر قربان نہ کریں

اور سب سے بڑھ کر، کرکٹ پر ایمان نہ لائیں — ایمان کو بچائیں

یہ مضمون نہ نفرت ہے، نہ حسد،

یہ ایک دردمند دل کی فریاد ہے — جو چاہتا ہے کہ امت ہوش میں آئے۔

کرکٹ دیکھنا حرام نہیں،

لیکن کرکٹ میں ڈوب کر دین، نماز، اور عقل کو دفن کرنا یقینا فتنہ ہے۔

 "کھیل زندگی کا حصہ ہو، تو خوبصورت ہے؛

لیکن اگر زندگی کھیل بن جائے — تو تباہی ہے۔"

اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں سے بچائے،

امت کو فہم، توازن اور ترجیحات کی درست سمت عطا فرمائے۔

آمین۔

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی 

نیا بھارت یا بے رحم بھارت؟

 ✍️ نیا بھارت یا بے رحم بھارت؟


2014 کے بعد انسانیت پر حملے، اور اخلاقی تباہی کی داستان


2014 میں جب اقتدار بدلا، تو صرف حکومت نہیں بدلی — ملک کی روح، اقدار، اور انسانی حرمت کے تصورات بھی بدلتے چلے گئے۔ "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کے نعرے کے پیچھے جو چہرہ چھپا تھا، اس نے دھیرے دھیرے ظلم، ناانصافی، اور بےحسی کو نیا قومی مزاج بنا دیا۔

🟥 1. عورت کی عصمت — نعرے میں تحفظ، عمل میں پامالی!

بیتے برسوں میں جنسی جرائم کی جو لہر چلی ہے، وہ صرف بدنظمی نہیں بلکہ منظم جرم کا دھڑلّا ہے۔

اناؤ، کٹھوعہ، ہتھرس، بلقیس بانو — یہ سب محض فائلوں کے کیس نہیں، بلکہ اس قوم کی بیٹیوں کے زخم ہیں، جن پر اقتدار نے نمک چھڑکا۔

اب اتراکھنڈ کے ہریدوار میں بی جے پی مہیلا مورچہ کی سابق صدر نے اپنی 13 سالہ بیٹی کی عزت کو بازار میں بیچنے کا مکروہ دھندہ کیا۔ یہ جرم نہیں، انسانیت کے منہ پر تھپڑ ہے۔

کیا یہ وہی “بیٹی بچاؤ” ہے جس کی دہائی دی جاتی ہے؟ اگر ماں جیسا مقدس رشتہ بھی سیاست کی دلدل میں ڈوب جائے، تو باقی رشتے کہاں محفوظ رہیں گے؟

🟥 2. گائے کے نام پر انسان کا خون — مذہب یا حیوانیت؟

2015 میں اخلاق احمد کو مارا گیا،

پھر پہلو خان، راکبر خان، تبریز انصاری...

قتل کا ہتھیار اب چھری یا بندوق نہیں، بلکہ افواہ، جے شری رام، اور گائے کا نام بن چکا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں گائے کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے، وہیں اس "ماں" کے تحفظ کے نام پر ہزاروں ماؤں کے بیٹے مارے گئے۔

کیا یہی "رام راج" ہے؟ کیا بھگوان رام کی تعلیمات اسی نفرت کی اجازت دیتی ہیں؟ مذہب کو اتنی سفاکی سے استعمال کرنا، خود مذہب کے ساتھ ظلم ہے۔

🟥 3. ہجوم کا انصاف — عدالتوں کے منہ پر طمانچہ

موب لنچنگ ایک دو واقعے نہیں، بلکہ نیا غیر سرکاری انصاف کا ماڈل بن چکا ہے۔

پولیس اکثر خاموش تماشائی بنی نظر آتی ہے، ویڈیو بنانے والے ہی مجرم بن جاتے ہیں، اور متاثرہ خاندان زندگی بھر انصاف کی دہائی دیتا ہے۔

🟥 4. راہنما کی نجی زندگی — قومی قیادت کا اخلاقی آئینہ

جب ایک ملک کا سربراہ اپنی بیوی کو لاوارث چھوڑ دے، تو وہ عورتوں کے تحفظ پر کیا بولے گا؟

یہ اس کی نجی زندگی نہیں، ایک اخلاقی نمونہ ہے — جو اگر بوسیدہ ہے، تو سارا نظام بوسیدہ ہو جاتا ہے۔

ازدواجی رشتہ محض قانونی معاہدہ نہیں، ایک تمدنی اکائی، ایک اخلاقی عہد ہے۔ اگر اسی کا وقار پامال ہو تو "پرم پراؤں" اور "سنکلپ" کے نعرے محض کھوکھلے الفاظ بن جاتے ہیں۔

📢 نتیجہ:

ان سب واقعات کو الگ الگ نہ دیکھا جائے۔

یہ سب ایک ذہنیت، ایک نظام، اور ایک ایجنڈے کی کڑیاں ہیں — جو انسان سے زیادہ عقیدے، قانون سے زیادہ نفرت، اور ضمیر سے زیادہ ووٹ بینک کو اہمیت دیتا ہے۔

🕊️ اختتامی جملہ:

یہ تحریر انسانیت کے تحفظ کی ایک آواز ہے — تاکہ سچائی زندہ رہے، اور ظلم کو بے نقاب کیا جا سکے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی جائے۔


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی 

عید الاضحی گزر چکی ہے… مگر قربانی کا پیغام باقی ہے!


📌 عید الاضحی گزر چکی ہے… مگر قربانی کا پیغام باقی ہے!


عید الاضحی گزرنے کو ہے — مگر سوال یہ ہے:


کیا ہم قربانی کا جانور خریدے تھے ؟ یا اپنی غیرت، دین، اور تہذیب کی قربانی دیئے تھے؟


جب کوئی قوم اپنے تہواروں سے بے زار ہو جائے اور اغیار کے جشن اسے زیادہ خوبصورت لگنے لگیں…

جب قربانی کی رات نیو ایئر نائٹ بن جائے، اور عید کا دن صرف پوسٹ، سیلفی اور شو آف کی دوڑ بن جائے…

تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔


قربانی کا مطلب صرف خون بہانا نہیں —

بلکہ دل نرم کرنا، غریبوں کو دینا، اور شعور جگانا ہے۔


مگر آج کے دور میں:


جانور کا خون تو بہا،

مگر دل کا تقویٰ کہاں گیا؟


گوشت کاٹ دیا،

مگر رشتہ دار بھوکے رہ گئے۔


سجی ٹرے تو بنی،

مگر پڑوسی بیوہ کا چولہا ٹھنڈا رہا۔


یہ قربانی نہیں، یہ رسم کا بے روح مجسمہ ہے!


📌 جب مسلم نسل غیروں کی نقالی میں فخر محسوس کرے...


فرینڈشپ ڈے پر تعلقات سجیں،

مگر صحابہؓ کی صحبت اجنبی ہو جائے؛


ہولی کے رنگ اپنائیں،

مگر تحجد کے آنسو بوجھ بن جائیں؛


دیوالی کے دیئے روشن کریں،

مگر قبر کی تاریکی کا خوف مٹ جائے؛


راکھی بندھوانا فخر بن جائے،

اور محرمات کا تقدس بے معنی ہو جائے؛


ویلنٹائن پر محبت کا ناٹک ہو،

مگر والدین کی قدم بوسی بوجھ لگے؛


تو سمجھو یہ قوم اسلامی روح سے خالی ہو چکی ہے — اور صرف جسمانی وجود کے بل پر جی رہی ہے۔


📖 قرآن کا پیغام:


> "وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ"

"اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔"

(آلِ عمران: 139)


قربانی کی اصل روح یہ ہے کہ ہم نفس، دکھاوے، دنیا پرستی، اور غفلت کو ذبح کریں،

اپنے اندر خشیت، اخلاص، تقویٰ اور ایثار کو زندہ کریں۔


اگر ہم غیروں کے طریقے، رنگ، جشن، اور تہذیب کو اپنا کر خود کو "روشن خیال" سمجھنے لگیں —

تو ہم خود کو اندھیروں کے قریب کر رہے ہیں، اور ہدایت سے دور جا رہے ہیں۔


📌 عید سے پہلے ایک بار خود سے پوچھو:

کیا میری قربانی… اللہ کے لیے ہے؟

یا لوگوں کو دکھانے کے لیے؟


✍️ قلم: قاری ممتاز احمد جامعی