ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

دعوت، نسبت اور نسبتوں کی سرزمین: پالنپور کا ایک بابرکت سفر

 دعوت، نسبت اور نسبتوں کی سرزمین: پالنپور کا ایک بابرکت سفر


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


ان دنوں بندہ الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت جاری مکاتب و مدارس کی مالی استحکام اور دعوتی بیداری کے مقدس مقصد سے گجرات کے معروف اور دینی تاریخ سے معمور شہر پالنپور کے سفر پر ہے۔ یہ سفر بظاہر چند ملاقاتوں اور تعاون کی ترغیب پر مشتمل تھا، مگر حقیقت میں یہ میرے دل و روح کو تازگی بخشنے والا ایک روحانی انکشاف بن گیا۔


پالنپور نہ صرف گجرات بلکہ برصغیر کی دینی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ کبھی یہاں شیعہ مسلک کے نواب حکمران ہوا کرتے تھے، مگر اسی سرزمین پر سب سے پہلے حضرت پیر محمد مشائخؒ نے توحید و رسالت کی صدائے حق بلند کی۔ پھر کشمیری صوفی بزرگ حضرت مولانا نذیرؒ نے اپنے سفر کو موقوف کر کے یہاں قیام فرمایا اور اس دعوتی انقلاب کی بنیاد رکھی جس نے ایک پورے شہر کی روح بدل دی۔ انہی کی مسند دعوت کو بعد میں حضرت مولانا عمر پالنپوریؒ نے اپنے علم و اخلاص سے عالمگیر پیغام میں تبدیل کر دیا۔


یہ میری سعادت رہی کہ مجھے اس عظیم خطے کی کچھ بزرگ ہستیوں کی زیارت، ملاقات اور یادگاروں سے روحانی انسیت کا موقع ملا۔ ان میں خصوصیت سے:


حضرت مولانا غلام رسول خاموشؒ (سابق مہتمم، دارالعلوم دیوبند)


حضرت مولانا عبد القیومؒ (مجلسِ دعوت الحق، پالنپور)


حضرت مولانا آدم صاحب مجادرؒ


حضرت مولانا اسماعیل سیوانیؒ


حضرت مولانا عبد الرزاقؒ کمالپوری بھاگل


اور علمِ حدیث کے آفتاب، حضرت مفتی سعید احمد پالنپوریؒ — جن کے علمی فیضان سے ایک عالم نے سیرابی حاصل کی۔



پالنپور کے موجودہ علمی و روحانی ماحول میں حضرت مولانا عبد القدوس ندوی دامت برکاتہم کی علمی رفعت، زہد و تقویٰ، اور دل نشین شخصیت کا گہرا اثر محسوس ہوا۔ اسی طرح حضرت مولانا عبد الرشید صاحب بسوی دامت برکاتہم جیسی عبقری ہستیوں کی قربت نے سفر کو مزید نورانی بنا دیا۔


اس بابرکت سفر کی ایک خاص جھلک اس وقت سامنے آئی جب چھاپی میں ظہر کی نماز کے بعد میرے پرانے ہم مقصد، ہم وطن اور مخلص رفیق مولانا عبد المتین مدھوبنی (فارغ دیوبند) سے ملاقات ہوئی۔ چونکہ ہم دونوں ایک ہی مشن کے تحت سرگرمِ سفر تھے، اس لیے مشورہ ہوا کہ آج ہم ساتھ کمالپور چلیں اور وہیں قیام کریں تاکہ دعوتی و تعلیمی تعاون کے امکانات پر گفتگو کی جا سکے۔


شام کو کمالپور کی ہی ذیلی بستی نذیر پورہ کی بری مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد ایک مقامی ساتھی نے بائک پر بیٹھا کر مجھے کمالپور کی جامع مسجد پہنچا دیا، جہاں اتفاقاً آج کا دن "گشت" کا مقرر تھا۔


یہاں اللہ نے مجھے ایک نایاب موقع عنایت فرمایا — مقامی عالم حضرت مولانا اشرف صاحب کمالپوری کا ولولہ انگیز بیان سننے کا۔ موصوف حضرت مولانا عبد الرزاقؒ کے فرزند اور ۱۹۹۵ کے فارغِ دیوبند ہیں۔ ان کا خطاب دعوتِ توحید و رسالت اور سیرتِ نبوی ﷺ پر ایسا پراثر، رواں اور بلیغ تھا کہ پوری مجلس محویت کا مجسمہ بن گئی۔


خاص طور پر نبوت سے قبل نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے واقعات کو اس دلنشیں انداز میں بیان فرمایا کہ ایسا محسوس ہونے لگا گویا ہم ایک تازہ واقعے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، نہ کہ صدیوں پرانی سیرت کا تذکرہ۔

حضور ﷺ کی ولادت، حضرت حلیمہ سعدیہؓ کی گود، عبدالمطلب و ابوطالب کی سرپرستی، اور حضرت خدیجہؓ کے ساتھ تجارتی معاہدہ سے نکاح تک کا بیان ایسا مرتب، متوازن اور جذبات سے لبریز تھا کہ سامعین پلک جھپکنا بھی بھول گئے۔


چونکہ وقت مغرب تا اذانِ عشاء تک محدود تھا، اس لیے مولانا نے نبوت کے بعد والے حصے کو مؤخر کرتے ہوئے مجلس کو دعوتی رخ پر ختم کیا — جیسا کہ گشت کی روح ہے۔


آخر میں صرف اتنا عرض کروں گا:


پالنپور صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ نسبتوں، دعوتوں اور روحانی مجاہدوں کی وہ مبارک سرزمین ہے جو آج بھی دینی بیداری، ایمانی حرارت اور اسلامی تشخص کا علم تھامے ہوئے ہے۔


اللہ تعالیٰ اس علاقے کو سلامت رکھے، اس کی دعوتی فضاؤں کو ثبات عطا فرمائے، اور ہم جیسے راہِ دین کے مسافروں کو ان نسبتوں سے دائمی فیض عطا کرے۔

آمین ثم آمین۔

علاقہ پالنپور — دارالسلام کی خوشبو سے معطر

 علاقہ پالنپور — دارالسلام کی خوشبو سے معطر


پالنپور صدیوں سے علم و دین کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں کے مدارس نے نہ صرف گجرات بلکہ پورے ملک میں قرآن و سنت کی روشنی عام کی ہے۔ ان میں سرفہرست اور ام المدارس کا درجہ رکھنے والا مدرسہ اسلامیہ عربیہ مجلسِ دعوت الحق، پالنپور ہے، جو کئی دہائیوں سے علمی و دینی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ دارالعلوم چھاپی، جامعہ نذیریہ کاکوسی اور دیگر ادارے علاقے کی دینی غیرت اور علمی روایت کے مضبوط ستون ہیں۔ مذہبی اجتماعات، اذان کی گونج، اور علما کی مجلسیں یہاں کے معاشرتی دھڑکن میں شامل ہیں، جنہوں نے شہر کو ایک منفرد روحانی شناخت دی ہے۔


اس سال کا سفر تین اگست 2025 سے شروع ہوا، اور ارادہ یہ تھا کہ بستی بستی جا کر نماز ادا کی جائے، اور ساتھ ساتھ دینی اداروں کے لیے تعاون کی راہیں ہموار کی جائیں۔ یہ سفر محض سیاحت نہ تھا، بلکہ ایک ماہ پر محیط ایک مسلسل دینی ذمہ داری کا سلسلہ تھا، جس میں مقاصد کا مرکز اور محور پالنپور کا دینی ماحول اور یہاں کے علما و دینی اداروں سے تعلق قائم رکھنا تھا۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی پالنپور میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلے جن کی خدمت میں حاضری ہوئی، وہ مولانا عارف کھریاسنوی (بسو والے) تھے۔ گویا میرے لیے پالنپور میں داخل ہونے کا پہلا زینہ یہی درِ ملاقات ہوتا ہے۔ وہ بردبار، حلیم اور متین طبیعت کے مالک ہیں۔ صوبہ بہار کے مدارس کو اس علاقے میں مالی تعاون فراہم کرنے کے لیے تصدیق نامہ جاری کرنے کی ذمہ داری ان کے سپرد ہے، جو وہ نہایت اصول پسندی اور دیانتداری سے ادا کرتے ہیں۔ ان کی بردباری کا یہ عالم ہے کہ اگر کوئی بے اصولی سے پیش آئے تو بھی وہ مسکرا کر اپنے حسنِ خلق سے جواب دیتے ہیں، اور اپنے اخلاقی وقار سے ماحول کو خوشگوار بنا دیتے ہیں۔


یہاں کے مذہبی دعوتی مجالس اور معاشرت میں اسلامی شعائر کو دیکھ کر دل بے اختیار اپنے علاقے کے ماحول سے موازنہ کرنے لگتا ہے۔ پالنپور کے مسلم معاشرے میں دینی اعمال و اخلاق کا ایسا رنگ ہے کہ اکثر یہ داعیہ پیدا ہوتا ہے کہ کاش میرا علاقہ بھی اسی کے مثل ہوتا۔ حالیہ دنوں میں متعدد کہنہ مشق اساتذہ، نطما، اہلِ ثروت اور مخیر حضرات سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور ان کی دعائیں سمیٹنے کا موقع ملا۔ ان میں خاص طور پر حضرت مولانا عبدالرشید صاحب، مہتمم دارالعلوم چھاپی، جو صوفی صفت بزرگ اور عالمِ دین ہیں۔ جمعہ کی نماز سے قبل ان سے مختصر ملاقات ہوئی۔ مولانا اسامہ بن عبدالرشید، مدرس فتح گڑھ، ایک خوش طبع اور ملنسار شخصیت کے مالک ہیں۔ مولانا سعید اور مولانا سفیان، مدرسین دارالعلوم چھاپی، نے اپنے اخلاص اور شفقت سے یادگار لمحات دیے۔ مولانا الیاس صاحب ماہی اور مولانا محمد بن مولانا ہارون صاحب سے بھی ملاقات رہی۔


مولانا ہارون صاحب ایک کامیاب ہیروں کے تاجر ہیں، مگر حقیقت میں اصل ہیرے تو ان کے صاحبزادے ہیں، جو اپنے والد کے تمام نیک اوصاف سے مزین ہیں۔ اس سال اگرچہ مصروفیات کی وجہ سے مولانا ہارون سے طویل ملاقات ممکن نہ ہو سکی، مگر اپنے حسنِ اخلاق اور حسنِ تدبیر سے انہوں نے پرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا، جو ان کے ذوقِ مہمان نوازی کا آئینہ دار تھا۔


یہ سفر اب بھی جاری ہے، اور بستی بستی جا کر ایک ایک فرض نماز ادا کرنے، مقاصدِ سفر کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور یہاں کے علما و صلحا کے خلوص و نیک نیتی کو قریب سے دیکھنے کا سلسلہ بدستور چل رہا ہے۔ ہر ملاقات ایک نیا جذبہ، ہر دعا ایک نئی توانائی اور ہر دن اس اطمینان کا سبب ہے کہ قدم دارالسلام کی مٹی پر ہیں۔


تحریر۔ قاری ممتاز احمد جامعی 

جنرل سکریٹری الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ سمستی پور بہار

بابِ ملاقات — پالنپور کے قیمتی چہرے

 بابِ ملاقات — پالنپور کے قیمتی چہرے


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


شہر پالنپور کے مکمل ایک ماہ کا مسلسل سفر وہ روحانی و بابرکت تیسرے باب کا چل رہا ہے جس میں شریعت میں فقہی مسئلہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنے حقوق میں نرمی کر چار رکعات والی نماز میں تخفیف فرما دی، لیکن اس سرزمین پر جہاں بھی قدم رکھا جائے، دل کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ نفلی نماز میں اضافہ ہو۔ مگر چونکہ سفر ایک خاص مقصد اور مقامی اصول کے پابند ہے، اس لیے اسی نظام کے ساتھ آگے بڑھنا ہی بہتر ہے، ورنہ مقامی اصول توڑ کر بدنظمی کے مرتکب ہو کر سفر میں الجھن پیدا کرنا بالکل مناسب نہیں۔

ویسے بھی اصول، نظم و ضبط، اور پوری ملت کو اسلامی معاشرے میں ضم کرنے کی اصل محنت کے سبب ہی یہ سفر ہے۔


خیر، بندہ نے مغرب کی نماز ادا کرنے کے لیے شہر پالنپور سے متصل سانگرا گاؤں کا انتخاب کیا۔ اس کے لیے مسجد نور کے امام العصر حضرت مولانا عرفان منصوری سے رہنمائی کی درخواست کی۔ ماشاءاللہ، مولانا نے دعوت کے ایک مخلص ساتھی، آٹو والے کو ساتھ روانہ کر دیا۔ "امام العصر" کا لقب انہیں بندہ نے ہی دیا، کیونکہ زیادہ بے تکلفی مسجد نور میں انہی سے ہے اور تمام تر سفر کا آخری سرا واپسی میں مسجد نور ہی ہوتا ہے۔

یہاں کے دوسرے مدرس حضرت مولانا عطا الرحمان جامپوری، حضرت مولانا عبد الرشید، اور مسجد کے متولی یونس بھائی سندھی (جن کو "مرفوع القلم" کا لاحقہ لگا ہوا ہے)، نیز دعوت کے ذمہ دار متولی شفیع بھائی — جو منکسرالمزاج اور ہمہ وقت اللہ کی مخلوق کو اللہ کی معرفت دلانے میں کوشاں رہتے ہیں — سب سے محبت و انسیت ہے۔

ان کے ایک عزیز حافظ عبد القدوس صاحب بھی بڑی محبت رکھتے ہیں۔ ماشاءاللہ، حافظ صاحب ایک مسجد کے امام بھی ہیں اور مجلس دعوت الحق میں دفتری امور کی خدمات انجام دیتے ہیں۔


منتخب رہبر مجھے لے کر آٹو میں سانگرا مسجد پہنچے۔ یہاں پرانے لوگوں اور رونق میں کچھ کمی محسوس ہوئی۔ وہ دن یاد آ گیا جب مسجد چھوٹی اور پرانے بزرگ عالم دین حضرت مولانا اسماعیل سانگرا حیات تھے۔ ان کے وصال کے بعد جب بھی گیا، اس پررونق ماحول میں کمی محسوس ہوئی۔ نمازیوں کی تعداد بھی، باعتبار آبادی، کم نظر آئی۔ یہاں اتفاق سے پرانے مخلص دوست خالد بھائی سے ملاقات ہوئی۔


بعد مغرب، رہبر نے علی گڑھ عشاء کے لیے پہنچایا، جہاں پہلے سے منتظر تھے ہدایت اللہ بھائی کڑیوال، جو دو روز قبل ہی عمرہ کے مبارک سفر سے لوٹے تھے۔ ان کے گھر پر ملاقات اور رات کے کھانے سے فراغت کے بعد پرانے دوست مولانا وصی اللہ صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن عشاء کا وقت قریب تھا، اس لیے مسجد پہنچ گئے۔ عشاء کے بعد مسجد نور واپس آ گئے۔


اگلے روز چھاپی و اطراف کا دورہ طے تھا۔ وہاں عبد الواحد بھائی کڑیوال اور حنیف بھائی سانگرا والے سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ یہ دونوں شخصیات مثالی مشترکہ معاشی نظام رکھتی ہیں اور چھاپی و اطراف کے اکثر کاروباری لوگوں کے مالی حساب کتاب اور آڈٹ رپورٹ کی خدمات انجام دیتے ہیں، اس وجہ سے عام و خاص میں مقبول ہیں۔

اس موقع پر ایک خاص میزبان، حضرت مولانا محمد صاحب امام مدنی مسجد چھاپی ہائی وے بھی اپنی محبت و تواضع کے ساتھ شریک رہے، جن کی خوش اخلاقی اور دینی جذبہ اس ملاقات کو مزید بابرکت بنا گیا۔


اس مبارک اور بابرکت سفر کی یہ قسط اگرچہ اپنے ایک مرحلے پر پہنچ چکی ہے، مگر دل میں اب بھی کچھ مقامات اور عزیز احباب سے ملاقات کی تڑپ باقی ہے۔ خاص طور پر یہ خواہش ہے کہ اگلی منزل میں یونس بھائی سانگرہ والے، چھاپی، حضرت مولانا شبیر احمد قاسمی — کرنالہ والے، کرشنپورہ، مولانا اسحاق صاحب — کالیڑہ والے، کرشنپورہ، اور مدرسہ حنفیہ، کرشنپورہ کے دیگر مخلص مدرسین کی زیارت ہو۔

اسی طرح حضرت مولانا شفیق صاحب امام و خطیب مسجد علی گنج پورہ، یاسین بھائی — امبیتھا والے، شعبہ گجرات پولیس میں خدمات انجام دینے والے، حضرت مولانا مجیب صاحب مولیپوری استاد حدیث مدرسہ سلم العلوم، کالیڑہ، اور جناب محمد طیب باقی صاحب — وسنگر سے ملاقات کا شرف حاصل ہو۔

یہ سب حضرات اپنی علمی، دعوتی اور خدمتِ دین کی مساعی میں نمایاں ہیں اور ان سے ملنے کی تمنا قلب میں موجزن ہے۔


اللہ پاک سے دعا ہے کہ اس سفر کو ہر پریشانی اور رکاوٹ سے محفوظ فرما کر تمام مقاصد کے ساتھ مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہر ملاقات کو خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

آزادی کے سوداگر، انصاف کے قاتل

 آزادی کے سوداگر، انصاف کے قاتل


بھارت کی آزادی کوئی تحفہ نہیں تھی، یہ دو صدیوں سے زائد قربانیوں کا نتیجہ تھی۔ سید احمد شہیدؒ، شاہ ولی اللہؒ کے خانوادے، مولانا فضلِ حق خیرآبادیؒ، مفتی محمود گنگوہیؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ، اور ہزاروں علما و مجاہدین نے سولی، قید اور شہادت کے راستے آزادی کی بنیاد رکھی۔ کچھ کو توپ کے دہانے پر باندھ کر اڑا دیا گیا، کچھ کو سور کی کھال میں بھر کر جلایا گیا، اور لاکھوں موحدین کا خون اس مٹی میں جذب ہوا۔


مگر 1947 کے بعد کی تاریخ بھی خون سے رنگین ہے۔ ہاشم پورہ، بھاگلپور، میرٹھ، مظفرنگر، دہلی، گجرات 2002 — ہر جگہ مسلم نوجوان قتل ہوئے، عورتوں کی عصمت دری ہوئی، حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کر معصوم بچوں کو تلوار کی نوک پر لہرایا گیا۔ بازاروں میں بھیڑ نے انصاف کا گلا گھونٹا، اور جیلوں نے بے قصور جوانیوں کو نگل لیا۔


آج عدلیہ، جو مظلوم کی آخری امید تھی، ریاستی بیانیے کا سایہ بن چکی ہے۔ ممبئی لوکل ٹرین دھماکوں میں پھانسی پانے والے 12 مسلم بے قصور 19 برس بعد بری ہوئے، اور مالیگاوں بم دھماکے کے تمام ملزمان بھی باعزت رہا کر دیے گئے — فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے کیس میں مسلم نوجوانوں کی جوانی سلاخوں میں سڑ گئی، اور دوسرے میں ہندوتوا دہشت گرد کھلے آسمان تلے جشن مناتے رہے۔ شاہد اعظمی جیسے وکیل، جو اس ناانصافی کے خلاف ڈٹ گئے، اسی نظام نے خاموش کرا دیے — قاتل کبھی نہ ملے، کیونکہ شاید وہ نظام کے اندر ہی تھے۔


یہ وہی ملک ہے جہاں کروڑوں روپیہ دے کر مجرموں کی جان بچائی جاتی ہے، مگر بے قصور قیدیوں کے لیے زرِ ضمانت تک میسر نہیں۔ میڈیا نفرت بیچتا ہے، ایجنسیاں ظلم ڈھاتی ہیں، اور اکثریتی خاموشی شریکِ جرم بن جاتی ہے۔


اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جس قوم کے نظریاتی رہنما مہاتما گاندھی جیسے ہندوتوا پرست قاتل ہوں، جو اپنے مفاد کے لیے اپنی ہی برادری کو نہ چھوڑیں، وہ مخالف موحدین کو کب برداشت کریں گے؟ بول البقر (گائے کا پیشاب) پینے والے نظریے کے ہاتھوں اس وقت اس ملک کا مقدر لکھا جا رہا ہے، اور یہ موحدین کے لیے ایک المیہ ہے۔


آزادی کے دن مبارک ہوں — مگر یہ یاد رہے کہ جس آزادی کے لیے موحدین نے جان دی، آج اس پر ہندوتوا کی زنجیریں ہیں۔ اور تاریخ جب سچ لکھے گی، تو اس جمہوریت کے ہر قاتل کو نام لے کر لعنت بھیجے گی، اور اصل ذمہ داران کو آنے والی نسلوں کے سامنے بے نقاب کرے گی۔


قاری ممتاز احمد جامعی

قدیم شہر وڈنگر سے گزر اور مولی پور کی پررونق فضا میں یک شب قیام

 قدیم شہر وڈنگر سے گزر اور مولی پور کی پررونق فضا میں یک شب قیام


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


سفر کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے ہم کل ایک ایسے شہر میں داخل ہوئے جسے حال ہی میں دنیا بھر میں شہرت ملی ہے۔ یہ پہلے سے میرے علم میں تھا کہ اس شہر کا نام بڑی تیزی سے عروج پا رہا ہے، اور ہر خاص و عام میں اس کی نسبت ایک مشہور زمانہ شخصیت — پھیکو جملہ باز — کی وجہ سے زبان زد خاص و عام ہے۔ بعض اہلِ علم کے یہاں یہ لفظ بدل بھی جاتا ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ آج یہ شہر اسی نام سے پہچانا جاتا ہے۔


ویسے تو ہر سال اس شہر سے میرا گزر ہوتا رہا، لیکن کل ایک اہم انکشاف ہوا کہ یہ شہر نیا نہیں بلکہ اطراف کے تمام شہروں سے قدیم ہے، البتہ پٹن شہر کے بعد۔ قبلِ اسلام کے تقریباً پانچ سو سال پرانا یہ شہر، جو ضلع مہسانہ کے تحت ہے، وسنگر کے قریب وڈنگر اپنی قدامت اور تاریخی پس منظر کے باوجود عروج کو ایک متشدد اور فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے شخص کی وجہ سے ہی پہنچا۔ یہ تاریخ کا ایک عجیب المیہ اور باعثِ افسوس ہے کہ صدیوں پر محیط علمی و تہذیبی ورثہ پس منظر میں چلا گیا، اور آج اس کی پہچان ایک وقتی اور منفی نسبت کے سہارے قائم ہے۔


یہ تاریخی پہلو مقامی معمر بزرگ — جو فاضلِ دیوبند بھی تھے — کی زبانی معلوم ہوا۔ وہاں سے میرا اگلا پڑاؤ مومن قوم کی بستی مولی پور میں ہوا۔ یہاں پہلے سے منتظر تھے حضرت مولانا مجیب الرحمن صاحب قاسمی (استادِ حدیث، مدرسہ سلم العلوم، کالیڑہ) کہ جن کا آبائی وطن یہی مولی پور ہے۔ بعد نمازِ عشاء اپنے ادارے کے تعاون کے اعلان کا موقع بھی ملا۔ الحمدللہ، اس بستی کے سب سے قدیم بزرگ استاد، حضرت مولانا عبد الصمد صاحب نے نہایت دلجوئی فرمائی۔ معلوم ہوا کہ وہ اس قدر قدیم استاد ہیں کہ تیسری پیڑھی کے بھی ابھی تک فعال استاد شمار ہوتے ہیں۔ یہ حالِ زمانہ میں ایک عجیب و نادر چیز ہے۔


یہ بات بھی باعثِ رشک ہے کہ اس علاقے کے کئی علما کرام نے اپنی ابتدائی عمر سے لے کر آخر دم تک ایک ہی بستی میں علم و تدریس کی خدمت انجام دی۔ یہ نہ صرف قابلِ تقلید ہے بلکہ آئندہ کے نوجوان فضلا کے لیے بھی ایک اہم نکتہ ہے۔ یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ "فضلا" کا مفہوم اور اصطلاح وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے۔ شاید اسی لیے ماضی میں علما کے نزدیک فضلا کی تعریف کچھ اور تھی اور آج کے دور میں اس کے معنی مختلف ہیں۔


اسی گفتگو کے دوران تعاونِ مدارس کا موضوع بھی آیا۔ یہاں کے انداز اور اطرافِ پالنپور کے رویے میں خاص فرق پایا جاتا ہے۔ وہاں کے بستی کے ذمہ داران اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے ایک مخصوص طریقہ اختیار کرتے ہیں، جب کہ اطرافِ پالنپور کے مشہور گاؤں جیسے بھاگل اور مجادر میں مدارس کو مختلف جہتوں سے ہر مسجد میں ہر سفیر کے لیے موقع دیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مولی پور کی اس روش کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ بستی دیگر مومن قوم کی بستیوں سے خاصی دوری پر واقع ہے اور یہاں کے ذمہ داران کا باقی علاقوں کے ذمہ داران کے ساتھ اس موضوع پر مذاکرات نہ ہوتے ہوں۔


یہاں قیام کے بعد اپنے مخلص قدیم دوست جناب حاجی طیب باقی صاحب کے ہاں وسنگر جانا ہوا۔ جناب طیب باقی صاحب اسم بامسمیٰ ہیں۔ ان کے نام کی وجہ تسمیہ بھی بڑی تاریخی ہے۔ ایک موقع پر انہوں نے خود بتایا کہ ان کے شہر میں مشہور داعی اسلام اور مہتممِ دارالعلوم دیوبند، حضرت قاری طیب صاحب رحمہ اللہ کی آمد ہوئی۔ اسی دن ان کی ولادت ہوئی، تو والدین نے عقیدت کے ساتھ نام طیب رکھا۔ اللہ پاک نے نام کی نسبت سے ہی ان میں صفاتِ حمیدہ عطا فرما دیں۔


اللہ پاک سے دعا ہے کہ یہ سفر خیر و عافیت کے ساتھ جاری رہے، ہر منزل کو کامیابی اور برکت کا ذریعہ بنائے، اور ہر ملاقات کو دین و ایمان کی تازگی عطا کرنے والی بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

مجادر کی ایک یادگار شب

 مجادر کی ایک یادگار شب


(سفرنامہ کی جھلک — ۲۰ اگست ۲۰۲۵، بروز بدھ)


علاقہ پالنپور کے چھاپی حلقے کا کثیر آبادی والا گاؤں مجادر میں نمازِ مغرب و عشاء کی ترتیب تقریباً پندرہ روز قبل ہی طے ہو چکی تھی، اور اس کا ذکر طے ہونے کے فوراً بعد ہی جناب عبدالواحد کڑیوال اور حنیف بھائی سانگرا والے کے درمیان ہو گیا تھا۔


۲۰ اگست کی علی الصبح عبدالواحد صاحب کا فون آیا کہ:

"آج آپ کی مغرب و عشاء مجادر کی ترتیب ہے نہ؟"


یہ سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ میں نے عرض کیا:

"اسی ترتیبِ خاص کے لیے ہی تو دو ہزار کلو میٹر دور بہار، سمستی پور سے حاضری ہوئی ہے۔"


انہوں نے مزید فرمایا کہ عشائیہ کا انتظام میرے ذمے ہے، آپ گاؤں والوں کو منع کر دیں اور میرا نام دے دیں۔ چنانچہ کھانے کا مکمل نظم ہو گیا۔


وقت پر وہاں پہنچ کر ایسا ہی کیا گیا۔ نمازِ مغرب مسجد اقصیٰ میں ادا کی، جہاں امام صاحب نے بغیر درخواست کے ہی بعد نماز اعلانِ تعاون فرما دیا۔ پھر وہاں سے فارغ ہوکر بازار آیا۔ طبیعت نے چائے اور پان کا تقاضا کیا اور ساتھ ہی دواؤں کی بھی ضرورت تھی، لیکن ہر ایک نے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔ بتایا گیا کہ پورے علاقے میں اکثر سفرائے کرام کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور ان کے چائے یا پان کے تقاضے پر کوئی پیسے نہیں لیتا۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جو ہمارے علاقے میں خال خال ہی نظر آتی ہے۔


پھر نمازِ عشاء کے لیے جامع مسجد حاضر ہوا۔ مولانا اسلم صاحب علاد نے خوش دلی سے استقبال کیا۔ ان کی مسکراہٹ معنی خیز ہوا کرتی ہے کیونکہ انہیں تمام سفراء کے مزاج کو سمجھنے اور سنبھالنے کا وسیع تجربہ ہے۔ انہی کی امامت میں نماز ادا کی۔ نماز کے بعد دونوں اصل میزبان آدھمکے۔ ان کے ساتھ دو قابلِ احترام مقامی علما بھی تھے جو گاؤں میں تدریس کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ چنانچہ چاروں صاحبان نے مجھے ہمراہ لیا اور عبدالواحد بھائی کے دولت کدہ پر پہنچے۔


وہاں پرتکلف عشائیہ کا انتظام تھا۔ دورانِ طعام چاروں صاحبان اپنی مادری زبان گجراتی میں باہمی مذاکرہ میں مصروف رہے۔ بندہ نے حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے اس اسوہ پر عمل کیا کہ مہمان جب دسترخوان پر ہو تو سارا ذہن کھانے پر مرکوز رکھے، لہذا گفتگو کے بجائے ذہن کو نعمتوں پر لگائے رکھا۔ الحمدللہ شکم سیر ہوکر فارغ ہوا۔ اس کے بعد آئس کریم کا دور چلا اور ہلکی پھلکی تعلیمی گفتگو بھی ہوئی، جس سے دل خوش ہوا۔


اسی موقع پر نوجوان فاضل، مولانا محسن صاحب (فارغ التحصیل دارالعلوم چھاپی) نے نہایت مسرت بخش اطلاع دی کہ گاؤں میں مکاتبِ دینیہ کے ساتھ ساتھ ایک منظم اور مضبوط نظامِ تعلیم بھی قائم ہے۔ یہ نظام خاص طور پر ان طلبہ کے لیے بنایا گیا ہے جو عصری تعلیم سے وابستہ ہیں۔ ان کے لیے پانچ سالہ عالمیت کا نصاب مرتب کیا گیا ہے، اور الحمدللہ اس کے اب تک کے نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں۔


مولانا نے اپنی کارگزاری کے طور پر بتایا کہ وہ خود اسی نظام میں تدریس کی خدمت انجام دیتے ہیں اور طلبہ کی دلچسپی و لگن دیکھ کر امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں جب یہ نوجوان عصری تعلیم کے بدولت اعلیٰ اداروں اور معزز عہدوں تک پہنچیں گے تو ان کے سینے علومِ شرعیہ کی روشنی سے بھی منور ہوں گے۔ یوں ایک ایسی نئی نسل تیار ہوگی جو دنیاوی اعتبار سے بھی باوقار ہوگی اور دینی اعتبار سے بھی رشتۂ نسبت کو برقرار رکھے گی۔ یہ سن کر دل کو بےحد اطمینان اور قلبی مسرت حاصل ہوئی کہ اس خطے میں دین و دنیا کی حسین امتزاج کے ساتھ ایک کامیاب تجربہ جاری ہے۔


آخر میں تقریباً رات گئے چاروں صاحبان، بطورِ اکرام، مجھے اپنی سواری پر لے کر پالنپور مسجدِ نور پہنچا کر رخصت ہوئے۔ دل سے دعا نکلی کہ اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، اور علماءِ دین سے ان کے دلی لگاؤ کے صدقے ان کی نسلوں میں تا قیامت دین باقی رکھے۔ آمین۔

فغیاس و فعباس: رفاقت یا رقابت کا انتخابی ڈرامہ

 فغیاس و فعباس: رفاقت یا رقابت کا انتخابی ڈرامہ


دنیا نے بڑے بڑے رفیق دیکھے ہیں؛ کوئی خیر کے علَم بردار بنے، کوئی علم و عمل کے جوڑوں میں یاد رکھے گئے۔ مگر کچھ رفاقتیں ایسی بھی ہیں جو تاریخ کے لیے محض وبال کا سامان بنتی ہیں۔ ایسی ہی ایک مثل ہے فغیاس و فعباس—دو ایسے کردار جو اگرچہ الگ الگ وجود رکھتے ہیں، مگر ان کی روحِ شرارت گویا ایک ہی سانچے میں ڈھلی ہے۔


دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت ایک ہی منہج کے ادارے اور اسلامی ماحول میں ہوئی، گویا ایک ہی آغوش نے دونوں کو پرورش دی۔ پھر زندگی نے رخ بدلا اور دونوں نے ایک ہی شعبے کو ذریعۂ معاش بنایا۔ اس میدان میں بھی ان کی شہرت ملی جلی رہی—کچھ اہلِ ادب کے نزدیک یہ شہسوار ہیں، تو کچھ کے نزدیک ناکام کردار۔ کوئی کہتا ہے عارضی ناکامی، اور کوئی اپنے تجزیے میں اسے دائمی قرار دیتا ہے۔


ان کے باہمی تعلق کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے کو شاگرد ماننے پر بضد ہے۔ فغیاس دلیل دیتا ہے: "میرا چڈی، رومال اور ٹوپی دھو کر، بیگ اور تھیلا ڈھوتا کون ہے؟" جبکہ فعباس اپنی قسم کھا کر کہتا ہے: "اصل استاد تو میں ہوں!" اس دلیل پر قاری ششدر ہے کہ ووٹ کس کے حق میں دے۔ یہ صورتحال کچھ ویسی ہی ہے جیسے انتخابی جلسوں میں امیدوار ایک دوسرے پر جھوٹے وعدوں اور پرانی قربانیوں کا پرچہ لہرا کر نعرہ لگاتے ہیں: “ووٹ ہمیں دو، خدمت ہم ہی نے کی ہے!”


اب ووٹ کی بات نکلے تو یاد آتا ہے کہ آج کل بہار (ہند) میں الیکشن کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ وہاں کی اصل صورتحال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے خود 56 لاکھ ووٹ چوری کر لیے ہیں۔ فغیاس و فعباس کے جھگڑے کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے باہمی دعووں میں اور کمیشن کے اس عمل میں خاص فرق نہیں—عمل یکساں، شعبہ الگ! ایک طرف انتخابی منشور کے جھوٹ، دوسری طرف استادی و شاگردی کے کھوکھلے دعوے؛ قاری سوچتا ہے کہ آخر کس امیدوار کو ووٹ دے، جبکہ دونوں کا ریکارڈ ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔ بلکہ یوں لگتا ہے کہ ہر قاری کے لیے ابو مسلم خراسانی کے کردار پر تحقیق سے زیادہ مشکل اسی کردار میں حتمی فیصلہ لینا ہے۔


ان کی روش کبھی یأجوج و مأجوج کی بے قابو طوفانی جبلّت یاد دلاتی ہے، کبھی یہ جوڑی ابو جہل و ابو لہب کی طرح لگتی ہے جو اپنی گمراہی کو بھی شراکت داری میں بانٹتے تھے۔ اور بعض وقت ان کے رویے میں وہی رنگ جھلکتا ہے جو بابل کے ہاروت و ماروت کی آزمائش میں دکھائی دیتا تھا—فتنہ بھی خود چنا، رسوائی بھی خود مول لی۔


آخر میں فیصلہ بہرحال قادرِ مطلق کے دربار میں ہی ہے، ہم سب اسی کی عدالت کے محتاج ہیں۔ مگر دنیاوی سیاست کی طرح یہاں بھی نظام ظاہر پر ہی چلے گا۔ اور ظاہر یہ ہے کہ فغیاس و فعباس فساد کے جڑواں، گمراہی کے بھائی بند اور بربادی کے شریکِ سفر ہیں—خواہ وہ اپنے آپ کو امیدوارِ نجات کہلائیں یا خود ساختہ استادِ اعظم!


ابو مسلم خراسانی سے بھی مشکل! فغیاس و فعباس پر فیصلہ


✍️ بقلم: ممتاز احمد جامعی