جمعرات، 30 اکتوبر، 2025

میتھلی ٹھاکر اور نسوانی وقار کی سیاست

 میتھلی ٹھاکر اور نسوانی وقار کی سیاست


قلم: قاری ممتاز احمد جامعی

majaamai@gmail.com 

گزشتہ دنوں ایک سوال میڈیا اور عوامی حلقوں میں بڑے زور و شور سے گردش کر رہا ہے —

"سیاست میں آنے کے بعد میتھلی ٹھاکر کا مستقبل کیا ہوگا؟"

یہ سوال محض سیاسی تجسس نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی اندیشہ بھی ہے۔

کیونکہ جب فنکار اپنی خالص تخلیقی دنیا سے نکل کر اقتدار کی گلیوں میں قدم رکھتا ہے تو اکثر فن کی صداقت، اخلاق کی نرمی، اور عوامی اعتماد سیاست کی گرد میں دب جاتے ہیں۔

یہی احساس اس مضمون کو لکھنے کا اصل محرک ہے — کہ میتھلی ٹھاکر جیسے ایک شفاف فنکارانہ وجود کو سیاست کی حرارت میں جلنے سے پہلے آئینہ دکھایا جائے۔


میتھلی ٹھاکر — دربھنگہ کی ایک باصلاحیت، کم سن، اور خوش آہنگ گلوکارہ — جنہوں نے اپنی نرم دھنوں، متوازن لب و لہجے اور تہذیبی خلوص سے بہار کی لوک روایت کو نئی زندگی بخشی۔ وہ میتھلی، بھوجپوری اور ہندی لوک گیتوں کے ذریعے نہ صرف دربھنگہ بلکہ پورے بھارت میں مقبول ہوئیں، اور نئ نسل کے لیے اپنی مادری زبان و ثقافت سے جڑنے کی ایک روشن مثال بن گئیں۔


لیکن جب اسی میتھلی ٹھاکر نے سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے آر ایس ایس و بی جے پی کے پلیٹ فارم سے ودھان پریشد کی امیدواری قبول کی، تو ان کے چاہنے والوں کے درمیان ایک گہری فکری بحث چھڑ گئی۔

کیوں کہ وہ جماعت جس نے “سنسکرتی” اور “ناری شکتی” کے نام پر قوم کو نعرے دیے، اسی کے اندر عورتوں کی عزت و وقار بارہا پامال ہوا۔


گزشتہ برسوں میں بی جے پی اور اس سے وابستہ رہنماؤں کے خلاف جنسی ہراسانی، بدسلوکی اور طاقت کے ناجائز استعمال کے متعدد سنگین واقعات منظرِ عام پر آئے۔

سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر پر دو درجن سے زائد خواتین صحافیوں نے دورانِ ملازمت جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ بالآخر عدالت نے متاثرہ خاتون کے حق میں فیصلہ دیا اور اکبر کو وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔

اتر پردیش میں کُلدیپ سنگھ سینگر، جو بی جے پی کے سابق ایم ایل اے تھے، ایک نابالغ لڑکی سے زیادتی کے جرم میں عدالت سے عمر قید کی سزا پا چکے ہیں۔

اسی طرح بی جے پی کے رکن پارلیمان بِرج بھوشن شرن سنگھ پر متعدد خاتون پہلوانوں نے جنسی استحصال کے سنگین الزامات لگائے، جن پر عدالتی چارچ شیٹ دائر ہو چکی ہے۔

ہتھرس کے لرزہ خیز واقعے میں مظلوم دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ عصمت دری اور قتل کے بعد بی جے پی کے مقامی رہنماؤں اور پولیس کے رویّے نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا۔

یہ تمام واقعات ایک ایسی تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طاقت اور مذہبی قوم پرستی کے امتزاج نے عورت کی عزت کو نعرہ تو بنا دیا، مگر عمل میں اس کے وقار کو سب سے زیادہ مجروح کیا۔


ایسے سیاسی ماحول میں میتھلی ٹھاکر جیسی باعزت اور فنکارانہ پہچان رکھنے والی خاتون کا بی جے پی سے وابستہ ہونا محض سیاسی قدم نہیں بلکہ ایک اخلاقی آزمائش ہے۔

فن و ثقافت کی دنیا میں ان کا مقام اس لیے نمایاں تھا کہ وہ “مقامی روایت اور نسوانی شرافت” کی ترجمان تھیں، مگر اب ان کی شناخت ایک ایسی جماعت کے سیاسی رنگ میں رنگنے جا رہی ہے جس کے ماضی پر عورتوں کی تذلیل کے داغ ثبت ہیں۔


فنکار کا سب سے بڑا سرمایا اس کا وقار اور عوامی اعتماد ہوتا ہے۔

اگر وہ سیاسی طاقت کے سائے میں اپنی آواز کو مصلحت کے خول میں چھپا لے، تو وہ صرف اپنی ذات نہیں، بلکہ پوری تہذیبی روایت کا نقصان کرتی ہے۔

میتھلی ٹھاکر کے لیے اصل کامیابی یہ نہ ہوگی کہ وہ ایوانِ اقتدار تک پہنچ جائیں، بلکہ یہ ہوگی کہ وہ اپنی اس فنّی اور اخلاقی شناخت کو برقرار رکھ سکیں جس نے انہیں عوام کے دلوں میں زندہ رکھا۔


سیاسی میدان میں ان کا یہ قدم یقینی طور پر ایک موڑ ہے — مگر اس موڑ پر انہیں فیصلہ خود کرنا ہوگا کہ وہ “بی جے پی امیدوار” بن کر یاد کی جائیں گی یا “میتھلی گائیکی کی تہذیبی روح” کے طور پر۔

ان کے لیے میرا مخلصانہ پیغام یہ ہے کہ وہ اپنی آواز، فن، اور نسوانی وقار کو کسی سیاسی مفاد کے تابع نہ کریں۔

اقتدار کی گلیاں وقتی ہوتی ہیں، مگر عوامی دلوں کی گونج ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

اگر وہ اپنی فطری سادگی اور فنکارانہ دیانت کو محفوظ رکھ سکیں تو وہ سیاست نہیں، قوم و تہذیب کی بیٹی کے طور پر ہمیشہ یاد کی جائیں گی۔



منگل، 28 اکتوبر، 2025

**بہار کے انتخاب اور جمہوریت کی روح:سیاسی شعور، انصاف پسند طبقہ، اور اقلیتوں کا حقیقی تحفظ**

**بہار کے انتخاب اور جمہوریت کی روح:

سیاسی شعور، انصاف پسند طبقہ، اور اقلیتوں کا حقیقی تحفظ**
✍️ قاری ممتاز احمد جامعی
majaamai@gmail.com 

گزشتہ دنوں معروف مفکر و دانشور مولانا عبد الحمید نعمانی کا ایک بصیرت افروز مضمون روزنامہ انقلاب میں شائع ہوا جس میں انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان — “سیاسی اسلام نے سناتن آستھا پر کاری ضرب لگائی ہے” — کے پس منظر میں بھارتی سیاست کے بدلتے مزاج کا گہرائی سے تجزیہ کیا۔
نعمانی صاحب نے بجا فرمایا کہ بہار کا اسمبلی انتخاب اس وقت ہندوستان میں سوشلسٹ سیاست کا آخری قلعہ ہے۔ اگر یہ قلعہ منہدم ہو گیا تو ملک کی سیاست ایک خطرناک سمت اختیار کر لے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اقتدار کی تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی نہیں ہوتی، بلکہ پورے نظام کی سمت بدل دیتی ہے۔ آج کے حالات میں "مسلم وزیر اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ" کا نعرہ کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتا، کیونکہ سیاسی طاقت کے تمام محور ایک خاص نظریاتی طبقے کے قبضے میں ہیں۔

انہوں نے بہار کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ 18/19 مسلم ارکانِ اسمبلی ہونے کے باوجود حالات میں کوئی بنیادی فرق نہیں آیا، البتہ اسامہ شہاب کی کامیابی اگر یقینی ہو جائے تو سیوان کے شہاب الدین دور کی ایک نئی بازگشت پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر بہار کے مسلمانوں، خصوصاً سیمانچل کے عوام کو جذباتی نعروں کے بجائے سیاسی شعور سے کام لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ سرکار میں بی جے پی کے بڑھتے غلبے کے بعد “گھس پیٹھ” جیسے ایشوز کو پھر سے انتخابی ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔

یہ تجزیہ حقیقتاً موجودہ منظرنامے کا آئینہ دار ہے۔ میں خود اسی رائے سے متفق ہوں کہ ایک سیکولر جمہوری ملک میں اقلیتوں کے مسائل کلیدی عہدوں یا نمائندگی سے حل نہیں ہوتے۔
یہ عہدے ہمیشہ اکثریتی فرقہ کے ریڈار پر رہتے ہیں، اور جب چاہا، قانونی موشگافیوں کا سہارا لے کر ان عہدہ داروں کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔
ہمارے سامنے زندہ مثالیں ہیں — اعظم خان سے لے کر عتیق احمد، شہاب الدین سے اشرف تک — جن کی سیاسی یا سماجی حیثیت کو “قانون” کے نام پر مٹا دیا گیا۔

درحقیقت مسلمانوں کے حقوق کو جس عہدے سے محفوظ سمجھنے کی غلطی ہو رہی ہے، وہ تاریخ کا سب سے بڑا فریب ہے۔
افسر ہو یا ملازم، یا سیاسی گلیاروں کا بادشاہ — سبھی کو وقت آنے پر کسی نہ کسی بہانے ٹھکانے لگا دیا گیا، کبھی فرضی انکاؤنٹر سے، کبھی فریبِ قانون سے۔
یہ سلسلہ صرف بڑے ناموں تک محدود نہیں؛ ابھی حال ہی میں سمستی پور کلکٹریٹ میں ایک مسلم ملازم کو اس کے سینیئر افسر نے ڈاڑھی پکڑ کر نوچ مارا، اور انصاف کے بجائے خاموشی مسلط کر دی گئی۔
ایسا لگتا ہے جیسے پورا طبقہ اپنی ہی حفاظت میں ڈرا سہما، مظلوم بن کر جینے پر مجبور ہے۔
جب انسان اپنی ذات کے تحفظ میں خوف زدہ ہو تو وہ قوم کے مفاد کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
پھر کہاں کا “قائد”، کہاں کا “وزیر”، اور کہاں کے “حقوق”!
سوال یہ ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جہاں مسلمان محض ۲ فیصد ہیں، وہاں کون سا قائد ہے؟
پھر بھی وہاں کے مسلمان قانون، عزت اور امن کے ساتھ کیوں جی رہے ہیں؟
وجہ یہی ہے کہ وہاں کے نظام میں انسان کی پہچان مذہب نہیں، بلکہ صلاحیت، قانون، اور مساوات ہے — جو سچی جمہوریت کی بنیاد ہے۔

دوسری طرف جب ہم دنیا کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یورپ، امریکہ، اور دیگر غیر ایشیائی ممالک میں مسلمان محض ۲ فیصد ہونے کے باوجود قانونی تحفظ، تخصص، اور سماجی احترام کے ساتھ ترقی کر رہے ہیں۔
وجہ صاف ہے: وہاں کے ادارے اب بھی جمہوریت کی اصل روح — مساوات و انصاف — کو کچھ حد تک محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔
مگر بھارت میں آر ایس ایس نے اس جمہوریت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا۔
اس نے اپنے نظریاتی کارکنوں کو پولیس، عدلیہ، میڈیا، اور تعلیم سمیت ہر ادارے میں داخل کر کے ریاست کو ایک مخصوص فسطائی ذہنیت کے تابع بنا دیا ہے۔

ایسے حالات میں اگر مسلم سماج صرف اپنے نمائندوں پر بھروسہ کرے، تو یہ سیاسی غفلت کے سوا کچھ نہیں۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اکثریتی طبقے کے اندر سے ہی انصاف پسند، سیکولر، اور انسان دوست عناصر کو ابھارا جائے۔
کیونکہ نظام کو بدلنے کی طاقت اسی طبقے میں ہے — وہی طبقہ جو آر ایس ایس کے فکری زہر کے مقابلے میں جمہوریت، مساوات، اور انسانی احترام کی بنیادوں کو ازسرِنو مضبوط کر سکتا ہے۔

تاریخ کے صفحات ہمارے سامنے ہیں: اسپین کے مسلمانوں نے جب سیاسی و فکری بیداری کھو دی تو ان کی عظیم تہذیب صفحۂ تاریخ سے مٹ گئی، اور میانمار کے مسلمانوں کو عالمی جمہوریتوں کی موجودگی میں بھی کوئی تحفظ نہیں ملا۔
اگر بھارتی مسلمان اب بھی محض وعدوں اور نمائشی عہدوں سے مطمئن رہے تو تاریخ خود کو دہرانے میں دیر نہیں لگائے گی۔

لہٰذا بہار کے باشعور ووٹروں، خصوصاً مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا کہ
یہ انتخاب صرف ایک حکومت کے بننے یا گرنے کا نہیں، بلکہ جمہوریت کی روح کو بچانے کا سوال ہے۔
اب فیصلہ یہ ہے کہ ہم نعرے کے پیچھے چلیں گے یا شعور کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

قائدین کی منافقت اور عوام کا اعتماد کا بحران — امت کی سیاسی و اخلاقی پسپائی کا اصل سبب

 قائدین کی منافقت اور عوام کا اعتماد کا بحران — امت کی سیاسی و اخلاقی پسپائی کا اصل سبب

یوں تو بندہ جب سے باشعور ہوا تبھی سے ہندی فلم انڈسٹری اور بھارتی سیاسی پارٹیوں (چند افراد کو چھوڑ کر) کے متعلق ایک واضح نظریہ رکھتا ہے کہ یہ طبقہ زیادہ تر لامذہب، زندیق اور جدید اصطلاح میں ’’لبرل ایتھیسٹ‘‘ مزاج رکھتا ہے۔ اسلام سے ان کا تعلق صرف اتنا ہی ہوتا ہے کہ ان کے نام کے ساتھ کوئی مسلمان پہچان والا لاحقہ جڑا ہوتا ہے، ورنہ عقائد و اسلامی شعائر سے یہ لوگ نابلد ہوتے ہیں۔ ہاں، کبھی کبھی یہی مسلم نام ان کے لیے مصیبت کا سبب بھی بن جاتا ہے، جب ہندوتوا نظریے کے شدت پسند ان سے ٹکرا جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند برس قبل مشہور اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے کو NCB کے ذریعے گرفتار کیا گیا، یا ایڈووکیٹ مجید میمن جیسے معتدل مسلم چہروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

بھارت مختلف تہذیبوں اور تمدنی تنوع کا مرکز ہے، اور اس میں شک نہیں کہ آزادی سے قبل یہ تنوع ایک اخلاقی توازن کے ساتھ موجود تھا، مگر آزادی کے بعد کے حالات نے بہت کچھ بدل دیا۔ ’’گنگا جمنی تہذیب‘‘ جیسا لفظ اگرچہ بظاہر ہم آہنگی اور باہمی احترام کا مظہر ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسی نظریے کے نام پر اسلام کی خالص شناخت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔ سیاسی مفاد پرستی اور فلمی ثقافت کے امتزاج نے مسلم معاشرت کی جڑیں کمزور کر دیں۔ عقائد، سیرتِ نبوی ﷺ اور دینی شعائر کا مذاق بننے لگا۔ آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، ملک بھر میں ’’چھٹ پوجا‘‘ منائی جا رہی ہے، اور سوشل میڈیا پر ایک مسلم ایم ایل اے (سمستی پور، بہار) کو دیکھا گیا کہ وہ سر پر پوجا کا سامان رکھ کر گھاٹ پر جا رہے ہیں، پانی میں اتر کر ’’ڈوبتے سورج‘‘ کو سلام کر رہے ہیں۔ یہ مناظر صرف مذہبی انحطاط نہیں بلکہ فکری خودکشی ہیں۔

سیاسی منافقت کا یہ زہر دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ قائدین جب اقتدار کے دربار میں پہنچتے ہیں تو ان کے لیے ایمان، اصول اور نظریہ سب کچھ ثانوی بن جاتا ہے۔ جب موقع آتا ہے، تو ذاتی مفاد کے لیے کفریہ کلمات زبان سے نکلنے میں لمحہ نہیں لگتا۔ چند سال قبل امارتِ شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ کے صدر مفتی سہیل ندوی قاسمی صاحب نے حالات کے بگاڑ پر ایک تاریخی فتویٰ دیا تھا، جب چمپارن کے ایک مسلم ایم ایل اے خورشید عرف فیروز نے عوامی جلسے میں ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ مفتی صاحب نے اس عمل کو کفر قرار دیا، مگر بعد میں خاندانی دباؤ میں آکر وہی شخص رجوع کے لیے امارت پہنچا۔ یہ وہی دوغلا پن ہے جو سیاست کے جسم میں خون بن کر دوڑ رہا ہے۔

اسی طرح جے ڈی یو کے لیڈر سلیم پرویز، جو اس وقت بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے چیئرمین بھی ہیں، نے وقف بل کے موقع پر امارتِ شرعیہ جیسے باوقار دینی ادارے کے خلاف زبان درازی کی، حالانکہ انہی اداروں کی قربت سے وہ پہچان حاصل کر پائے تھے۔ موجودہ ایم ایل سی خالد انور، جو کبھی امارتِ شرعیہ کے پلیٹ فارم سے ابھرے، وہ بھی وقف بل کی حمایت میں حکومت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے، جبکہ امارت نے امت کے مفاد میں اس کی مخالفت کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ امت کے نمائندہ بن کر منتخب ہوئے تھے، تو پھر ضمیر کہاں چلا گیا؟

ڈاکٹر فرید امان اللہ، جوائنٹ سیکرٹری ادارہ شرعیہ، کی طرف سے حالیہ دنوں کسی ’’سیکولر‘‘ پارٹی کی تائید کی خبر سامنے آئی ہے۔ اگر یہ تائید ادارے کی جانب سے ہے تو یہ ایک خطرناک اور منافقانہ رویہ ہے، کیونکہ اسی ادارے کے دوسرے ذمہ دار غلام رسول بلیاوی ایک کھلی فرقہ پرست پارٹی سے وابستہ ہیں۔ امت کے لیے یہ دوہرا معیار سب سے بڑا زہر ہے۔ ایک طرف ملی قیادت کا دعویٰ، دوسری طرف دشمنِ ملت جماعتوں کے ساتھ نرم رویہ—یہ وہی مزاج ہے جو امت کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مخلص نے اپنے ضمیر کی آواز پر سیاست میں قربانی دی، امت کو اخلاقی طاقت ملی۔ پہلا واقعہ 1996ء میں پیش آیا جب اٹل بہاری واجپائی کی سربراہی میں مرکز میں بی جے پی کی حکومت بنی، مگر صرف 13 دن میں گر گئی، کیونکہ نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ سیف الدین سوز نے اپنی پارٹی لائن سے اختلاف کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا۔ اسی طرح آندھرا پردیش کی تیلگو دیشم پارٹی کے رکن اسمبلی بشیر احمد نے فرقہ پرست حکومت کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس سے صوبائی حکومت گر گئی۔ یہ تھے وہ لوگ جنہوں نے اقتدار نہیں، ایمان کی حفاظت کو ترجیح دی۔

آج امت ایسے ضمیروں کی تلاش میں ہے جو کسی مفاد یا منصب کے سامنے جھک نہ جائیں۔ مگر افسوس کہ قائدین کی اکثریت نے خود کو اقتدار کی غلامی میں بیچ دیا ہے۔ عوام کا اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ لوگ اب اپنے قائدین کی بات پر یقین نہیں کرتے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہر تقریر کے پیچھے کوئی معاہدہ، کوئی لالچ، یا کوئی سیاسی گٹھ جوڑ چھپا ہوتا ہے۔

اصل المیہ یہ ہے کہ عوام کی بیداری وقتی جوش میں سمٹ کر رہ گئی ہے، اور قائدین کی منافقت دائمی عادت بن چکی ہے۔ جب تک امت اپنے نمائندوں کا محاسبہ نہیں کرے گی، ان سے جواب نہیں مانگے گی، تب تک یہ زوال جاری رہے گا۔ امت کی سیاسی، اخلاقی اور فکری پسپائی کا اصل سبب یہی دوغلا پن ہے—قائدین کا مفاد پرستی میں ڈوبا ضمیر اور عوام کا خاموش تماشائی بن جانا۔

وقت کا تقاضا ہے کہ امت ایک نئے سیاسی اخلاق کی بنیاد رکھے، جس میں ایمان، اصول، دیانت اور جواب دہی مرکزی حیثیت رکھتے ہوں۔ اگر اب بھی ہم نے اس بحران کو سمجھنے میں تاخیر کی، تو شاید ہماری نسلیں صرف تاریخ میں یہ لکھیں گی کہ ’’کبھی ہم ایک امت تھے، مگر منافقت نے ہمیں بکھیر دیا۔‘‘


قاری ممتاز احمد جامعی

📧 majaamai@gmail.com




اتوار، 26 اکتوبر، 2025

سیاسی منافقین کی فہرست میں بدنما کردار: جگدمبیکا پال

سیاسی منافقین کی فہرست میں بدنما کردار: جگدمبیکا پال

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی

تاریخ شاہد ہے کہ مفاد پرست سیاستدانوں نے سیکولرازم کی آڑ میں اقلیتوں، بالخصوص مسلم امہ کو بارہا دھوکہ دیا ہے۔ جگدمبیکا پال اس سیاسی منافقت کی ایک شرمناک مثال ہے، جس نے برسوں مسلمانوں کے اعتماد اور ووٹ سے فائدہ اٹھا کر جب اقتدار کی سیڑھی مکمل چڑھ لی تو اپنا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔

سیاسی آغاز اور سیکولر لبادہ

جگدمبیکا پال کا تعلق اترپردیش کے ضلع سدھارتھ نگر سے ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کانگریس جیسی نام نہاد سیکولر پارٹی سے کیا اور ایک لمبے عرصے تک اسی بینر تلے عوامی نمائندگی کا کردار ادا کیا۔ ان کے حلقۂ انتخاب ڈومریا گنج میں مسلمانوں کی قابلِ ذکر آبادی ہے، جنہوں نے کئی بار انہیں کامیاب بنایا۔ پال صاحب نے مسلم ووٹرز کے جذبات سے کھیلتے ہوئے ہم آہنگی، ترقی اور سیکولرازم کے دعوے کیے، اور خود کو "سب کا نمائندہ" ظاہر کیا۔

2014: وفاداری کی تبدیلی یا منافقت کی تکمیل؟

2014 میں جب بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز میں برسرِ اقتدار آئی، تو جگدمبیکا پال نے بھی سیاسی ہوا کا رخ پہچانتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ان کی سیاسی سچائی واضح ہونے لگی۔ اب وہ اس پارٹی کے ترجمان اور نمائندہ بن چکے تھے، جو ہندوتوا نظریات کی علمبردار ہے، اور جو کھلے عام اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے دینی، تعلیمی اور ثقافتی تشخص پر حملے کر رہی ہے۔

وقف ترمیمی بل 25: ایک سازش کا انکشاف

مسلمانوں کی اجتماعی اور شرعی املاک یعنی وقف کے نظام پر حملہ اس سازش کا تازہ ترین باب ہے۔ جگدمبیکا پال کو پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سوشیل جسٹس کا چیئرمین بنایا گیا، اور ان کی زیرِ نگرانی "وقف (ترمیمی) بل 25" پر رپورٹ تیار کی گئی۔ اس رپورٹ میں:

غیر مسلم افراد کو وقف بورڈ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی

وقف املاک پر سرکاری کنٹرول کو مزید وسعت دی گئی

شریعت کے مطابق وقف کی خود مختاری پر کاری ضرب لگائی گئی

یہ رپورٹ 21 مارچ 2025 کو لوک سبھا میں پیش کی گئی، حالانکہ دو مسلم ممبران پارلیمنٹ نے اس پر اختلافی نوٹ دیا تھا
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب جگدمبیکا پال نے مسلم قوم کے حقوق پر وار کیا۔ بلکہ بی جے پی میں شمولیت کے بعد وہ متواتر ایسے اقدامات میں شریک رہے جن میں مسلم مسائل کے لیے کوئی ہمدردی نظر نہیں آئی۔

قوم کے لیے پیغام: سیاستدانوں کو ان کے ماضی سے پہچانو

یہ وقت ہے کہ مسلم امہ ہوشیار ہو جائے۔ ہمیں چمکتے ہوئے نعرے، وقتی وعدے، یا ظاہری مسکراہٹوں پر نہیں، بلکہ کردار، ماضی، اور نظریاتی وابستگی پر اعتبار کرنا چاہیے۔ جگدمبیکا پال جیسے چہرے وہی ہیں جو سیکولرازم کے پردے میں چھپ کر قوم کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، اور پھر اُسی قوم کے دینی و دستوری حقوق پر شب خون مارتے ہیں۔

اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے چہروں کو پہچانیں، ان کے ماضی کو یاد رکھیں، اور آئندہ کسی بھی موقع پر نہ صرف جگدمبیکا پال، بلکہ اس کی سیاسی نسل اور نظریاتی وارثین کو نمائندگی کا کوئی موقع نہ دیں۔

> جگدمبیکا پال ایک سیاسی موقع پرست اور منافق چہرہ ہے، جس نے سیکولر ہونے کا نقاب پہن کر مسلمانوں کو دھوکہ دیا، اور آج وقف جیسے دینی ادارے پر حملہ آور ہو کر اپنے اندرونی تعصب اور نظریاتی بغض کو ظاہر کر دیا ہے۔ اس سے سبق لیتے ہوئے پوری ملت کو شعور، بیداری، اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

ووٹ: ایک شرعی گواہی — اور ذمہ دارانہ انتخاب کی ضرورت

 ووٹ: ایک شرعی گواہی — اور ذمہ دارانہ انتخاب کی ضرورت 

 قاری ممتاز احمد جامعی
 majaamai@gmail.com

جمہوریت میں ووٹ دینا محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ شرعی لحاظ سے ایک قسم کی گواہی (شہادت) ہے۔ اسلامی شریعت میں شہادت کا مفہوم صرف عدالت میں گواہی دینے تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جس سے حق و باطل میں فیصلہ ہو، اسے بھی گواہی کہا گیا ہے۔

حضرت مفتی محمد شفیعؒ رحمہ اللہ نے معارف القرآن (تفسیر سورۃ المائدہ: آیت 8) میں واضح فرمایا ہے:

> “اسلامی اصول شہادت کے مطابق ووٹ بھی ایک قسم کی گواہی ہے، کیونکہ اس کے ذریعہ کسی شخص یا جماعت کو اقتدار کی گواہی دی جاتی ہے۔ اگر یہ گواہی جانبداری، تعصب یا مفاد پرستی کے تحت دی جائے تو یہ جھوٹی شہادت کے حکم میں داخل ہوگی، جو کبیرہ گناہ ہے۔”
(معارف القرآن، جلد 3، صفحہ 58-60 کے ملاحظات کے مطابق خلاصہ)

یعنی ووٹ دینا صرف دنیاوی فیصلہ نہیں بلکہ دینی ذمہ داری اور شرعی امانت ہے۔ اگر ووٹ کے نتیجے میں کوئی ظالم، فاسق یا فرقہ پرست طاقت حاصل کر لے اور وہ کمزوروں پر ظلم کرے، تو اس ظلم میں ووٹ دینے والا بھی شریک سمجھا جائے گا، خواہ وہ کتنا ہی عبادت گزار کیوں نہ ہو۔

حالیہ انتخابی اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق، پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے کل اراکین کی تعداد تقریباً 4,850 ہے۔ ان میں سے تقریباً 1,994 (41٪) نے اپنے خلاف درج شدہ مقدمات کی تفصیل ظاہر کی ہے — جن میں 1,283 (26٪) سنگین نوعیت کے اور 711 (15٪) نسبتاً ہلکی نوعیت کے مقدمات شامل ہیں۔

یہ اعداد و شمار صرف وہ مقدمات ظاہر کرتے ہیں جو انتخابی حلف ناموں یا عدالتوں میں ریکارڈ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے معاملات میں ایف آئی آر درج ہی نہیں کی جاتی، خصوصاً جب متاثرہ فرد کمزور یا غیر مؤثر حیثیت رکھتا ہو، یا جب سیاسی دباؤ پولیس کے راستے میں حائل ہو۔ اسی تناظر میں یہ قیاس ممکن ہے کہ اصل شرح ظاہر کردہ 41٪ سے کہیں زیادہ — ممکنہ طور پر 45٪ تا 50٪ کے درمیان — ہو سکتی ہے۔

یہ بات فقہی اور اخلاقی لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ جب اقتدار کے مناصب پر ایسے افراد پہنچیں جن کے دامن پر مجرمانہ الزامات ہوں تو ووٹ دینے والوں کی شرعی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا ووٹ دیتے وقت تحقیق، دیانت اور زمینی حقیقتوں کا گہرا مطالعہ لازم ہے۔

 موجودہ حالات میں ووٹ دینے کا صحیح شرعی و عملی طریقہ

ملک کے موجودہ حالات، خصوصاً صوبہ بہار میں جہاں فرقہ واریت اور اقتدار کی سیاست نے عوامی اعتماد کو کمزور کیا ہے، ووٹ دینے سے پہلے ہر شہری — بالخصوص اہلِ ایمان — کو غور و فکر کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔

ذیل میں تین ترجیحات بیان کی جاتی ہیں:

1️⃣ پہلا درجہ: مضبوط آزاد امیدوار (Independent Candidate)
اگر آپ کے حلقے میں کوئی دیانت دار، تعلیم یافتہ اور خدمت گزار آزاد امیدوار موجود ہو، جس پر اعتماد کیا جا سکے کہ وہ کسی فرقہ پرست جماعت کی حمایت نہیں کرے گا، تو ایسے امیدوار کو ووٹ دینا شرعی و اخلاقی لحاظ سے بہتر ہے۔ عوام اس سے تحریری عہد یا اخباری بیان لیں کہ وہ کسی ظالمانہ حکومت کا حصہ نہیں بنے گا۔

2️⃣ دوسرا درجہ: قابلِ بھروسہ سیکولر امیدوار
اگر آزاد امیدوار کمزور ہو یا جیتنے کے امکانات نہ ہوں، تو ایسے سیکولر امیدوار کو ووٹ دینا بہتر ہے جس کا ماضی صاف ہو، جو عوامی مفاد کا حامی ہو، اور جس پر فرقہ واریت یا بدعنوانی کے الزامات نہ ہوں۔ ایسے امیدوار سے بھی تحریری وعدہ لیا جا سکتا ہے کہ وہ اقلیتوں، غریبوں اور مظلوموں کے حقوق کا تحفظ کرے گا۔

3️⃣ تیسرا درجہ: استثنائی صورت میں فرقہ پرست امیدوار
اگر متبادل امیدوار کمزور ہوں اور فرقہ پرست جماعت کا امیدوار شخصی طور پر نیک، شفاف اور علاقائی امن کے لیے سنجیدہ ہو، تو صرف تحریری عہد و بیان کی صورت میں ووٹ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ درجہ نہایت احتیاط کا متقاضی ہے۔
اسلامی سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عدل و اصلاح ہے۔ ووٹ دینے سے پہلے یاد رکھیں کہ یہ عمل اللہ کی عدالت میں گواہی کے مترادف ہے۔ ووٹ صرف اسی کو دیا جائے جو:

1. عوامی اعتماد کا اہل ہو۔

2. ظلم سے پاک سوچ رکھتا ہو۔

3. کمزوروں اور اقلیتوں کی عزت و سلامتی کا ضامن ہو۔

جو لوگ بغیر تحقیق کے صرف پارٹی یا ذات برادری کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں، وہ دراصل شہادتِ زور (جھوٹی گواہی) کے مرتکب ہو سکتے ہیں، جس کی قرآن و سنت میں سخت ممانعت آئی ہے۔

ووٹ امانت ہے، جذبات نہیں۔ اس کے ذریعے آپ صرف کسی امیدوار کو نہیں، بلکہ اپنے ضمیر، اپنی امت اور اپنی آخرت کو بھی گواہی دے رہے ہیں۔ لہٰذا ووٹ دینے سے پہلے غور کیجیے — کہ کہیں آپ کی یہ گواہی ظلم، جھوٹ اور فرقہ پرستی کے پلڑے میں نہ جا پڑے۔

انصاف کے نام پر ظلم — عدالت کی آنکھوں پر اکثریت کی پٹی

انصاف کے نام پر ظلم
عدالت کی آنکھوں پر اکثریت کی پٹی
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
آج بھارت میں انصاف مذہب دیکھ کر دیا جاتا ہے،
ایجنسیوں کے فیصلے قانون سے نہیں، عقیدے سے لکھے جاتے ہیں۔
یہ وقت ہے جاگنے کا —
ورنہ کل بولنے کی آزادی بھی جرم ہوگی۔
بھارت کی عدلیہ آج جس موڑ پر کھڑی ہے، وہاں انصاف ایک مقدس اصول کم اور سیاسی نعرہ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ فیصلے آئین اور قانون کی بنیاد پر نہیں بلکہ اکثریتی مزاج کو بھانپ کر سنائے جا رہے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب آئین کی روح زخمی ہوتی ہے اور اقلیتوں کا عدالتی نظام سے اعتماد لرزنے لگتا ہے۔
ایک مظلوم وکیل کی فریاد، ایک محبِ وطن سماجی رہنما کے آنسو، اور ایک بوڑھے استاد کی خاموشی — سب ایک ہی انجام پر پہنچتے ہیں:
“عدالت نے مہر لگا دی۔”
عدلیہ: انصاف سے تشہیر تک
عدالت کا دروازہ اب انصاف کے متلاشی کے لیے کم اور تشہیر کے شائق کے لیے زیادہ کھلتا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کے کمروں میں قانون کی دفعات سے زیادہ نفرت کے پیراگراف محفوظ ہیں۔
کسی مسلمان کا نام دیکھ کر فائل کا رنگ بدل جاتا ہے،
مقدمے کا لہجہ سخت ہو جاتا ہے،
اور فیصلہ پہلے ذہن میں، بعد میں کاغذ پر آتا ہے۔
یہاں جرم وہ نہیں جو تم نے کیا،
بلکہ وہ ہے جو تمہارا مذہب سمجھا گیا۔
ایجنسیاں اور ریاستی جبر
بھارتی ایجنسیاں آج قانون کی محافظ نہیں رہیں بلکہ اقتدار کی نگہبان بن چکی ہیں۔ وہ ظلم کے تماشے میں منصف نہیں بلکہ اداکار کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
کبھی کسی تعلیمی ادارے کے بانی کو “زمین ہتھیانے والا” کہا جاتا ہے،
کبھی کسی سماجی کارکن کو “دہشت گرد” بنا دیا جاتا ہے۔
تعلیم، خدمت اور علم سے وابستگی کو جرم بنا دیا گیا ہے۔
ریاست کے ہاتھ میں بندوق نہیں،
بلکہ FIR، نوٹس اور گرفتاری کا اختیار ہے —
اور یہی جدید ریاستی دہشت گردی کی پہچان بن چکا ہے۔
جب آئین خاموش ہو جائے
اب عدالت کے الفاظ میں آئین کی زبان نہیں بلکہ اکثریت کے جذبات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ فیصلہ وہی معتبر مانا جاتا ہے جو تالی بجانے والوں کو پسند آئے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انصاف تاخیر سے نہیں بلکہ تعصب سے مارا جاتا ہے۔
اور جب انصاف تعصب کے تابع ہو جائے تو ظلم آئینی لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔
خاموش اکثریت — شریکِ جرم
اکثریتی عوام محض خاموش نہیں بلکہ شریکِ جرم ہیں۔
ان کی خاموشی ظلم کو دوام دیتی ہے،
ان کا ووٹ ظالم کو تخت پر بٹھاتا ہے۔
قومیں تلوار سے نہیں گرتیں،
بلکہ انصاف کے قتل پر تالیاں بجانے والوں سے تباہ ہوتی ہیں۔
یہ خاموشی ہی سب سے بڑا شور ہے جو مظلوم کے دل کو چیرتا رہتا ہے۔
یہ صرف ایک کہانی نہیں
یہ کہانی کسی ایک اعظم خان، کسی ایک وکیل یا کسی ایک مسلمان کی نہیں۔
یہ ہر اُس شخص کی کہانی ہے جس نے قلم پکڑا اور نظام نے اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈال دی۔
یہ ہر اُس ذہن کی فریاد ہے جس نے تعلیم کو طاقت بنایا اور اقتدار نے اسے جرم بنا دیا۔
یہ ہر اُس شہری کی چیخ ہے جو آئین پر ایمان رکھتا تھا،
مگر عدالت نے اس ایمان کو کمزور کر دیا۔
بہار الیکشن اور ووٹ کی ذمہ داری
جب بہار کے انتخابات قریب ہیں تو ہر باضمیر شہری — خصوصاً مسلمان — یہ سوچنے پر مجبور ہے:
کیا ووٹ دینا صرف کسی پارٹی کو ہے؟
یا اپنے مستقبل، وقار اور آزادی کو؟
جس قوم کے ووٹ سے ظالم مضبوط ہوں،
وہ قوم اپنی زنجیر خود تیار کرتی ہے۔
اس بار ووٹ دینے سے پہلے:
اس وکیل کی آنکھوں کے آنسو یاد رکھنا،
اس بزرگ رہنما کی خاموشی یاد رکھنا
جو تعلیم کی بات کرنے کی سزا کاٹ رہا ہے۔
یہ ووٹ محض تمہارا حق نہیں —
یہ تمہاری گواہی ہے۔
اگر تم نے خاموشی کو ووٹ دیا،
تو کل تمہارے بچوں کی چیخوں کو بھی کوئی عدالت نہیں سنے گی۔
آخری سطر
جب انصاف کے کمرے میں ایمان نہیں بلکہ اکثریت کا دباؤ بولتا ہے،
تو عدالتیں عبادت گاہ نہیں رہتیں —
بلکہ ظلم پر مہر لگانے والے دفتر بن جاتی ہیں۔
اور جب انصاف مذہب دیکھ کر دیا جائے،
تو یاد رکھو:
آئین نہیں بچتا — انسانیت مرتی ہے۔
 
#انصاف_کے_نام_پر_ظلم
#عدالت_کی_آنکھوں_پر_اکثریت_کی_پٹی
#عدلیہ
#آئینی_حقوق
#اقلیتوں_کا_تحفظ
#BiharElection2025
#VoiceOfJustice
#قاری_ممتاز_احمد_جامعی
majaamai@gmail.com 

جمعرات، 23 اکتوبر، 2025

مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کا تجربہ: قیام، حکومت، زوال اور آج کا سبق


مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کا تجربہ: قیام، حکومت، زوال اور آج کا سبق

مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی نے 1930 کی دہائی کے وسط میں اُبھرتے مسلم سیاسی شعور کی نمائندگی کی۔ اس جماعت کی بنیاد اُس تناظر میں پڑی جب بہار کے مسلمانوں نے محسوس کیا کہ نہ تو All India Muslim League کی سیاست اُن کی علاقائی شناخت اور مسائل کا مکمل ازالہ کر رہی تھی، اور نہ ہی Indian National Congress کی جماعت انہیں ایک مؤثر پلیٹ فارم دے رہی تھی۔ مولانا ابوالمحاسن سجادؒ نے اس خلا کو دیکھتے ہوئے اس جماعت کو قائم کیا، تاکہ مسلمان طبقے کو آزاد، خود مختار اور اصولی سیاسی نمائندگی مل سکے۔

مولانا ابوالمحاسن سجادؒ کی ذاتی زندگی اور علمی خدمات اس تحریک کی بنیاد رہیں۔ مختلف ماخذ کے مطابق ان کی پیدائش کا سال 1880ء بتایا گیا ہے اور وفات کی تاریخ 23 نومبر 1940ء درج ہے۔ وہ بہار کے نالندا ضلع کے پنہسا گاؤں کے رہنے والے تھے۔ تاہم، امارتِ شرعیہ پٹنہ بہار کے مخصوص رجسٹری یا آرکائیو دستاویز کی تلاش میں کوئی واضح آن لائن ماخذ دستیاب نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دستاویزات مقامی آرکائیو میں محفوظ ہیں۔

1937ء میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت صوبائی انتخابات ہوئے جن میں مسلم نشستوں کی تعداد تقریباً 40 تھی۔ مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی نے ان نشستوں میں سے تقریباً 20 پر کامیابی حاصل کی اور اس طرح وہ مسلم نمائندگی کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بن گئی۔ اس جماعت نے بہار میں ایک مختصر مدت کی حکومت قائم کی جس کی قیادت سید محمد یونس نے کی۔ یہ حکومت اپریل 1937ء میں قائم ہوئی اور جولائی 1937ء تک جاری رہی۔

تاہم، اس حکومت کی مدت طویل نہ رہ سکی، اور پارٹی جلد اپنی سیاسی مؤثریت کھو بیٹھی۔ اس کے زوال کے اسباب متعدد ہیں: پارٹی کی سیاسی تنہائی، کانگریس اور مسلم لیگ کے دباؤ، اور تنظیمی و قیادی کمزوری۔ مولانا سجادؒ کی 1940ء میں وفات کے بعد جماعت کا قیام عملی طور پر ختم ہو گیا اور اس کی تنظیم مسلسل ضعف کا شکار رہی۔

آج کے سیاسی تناظر میں یہ تجربہ ایک اہم سبق کی حیثیت رکھتا ہے کہ اگر مذہبی یا علاقائی جماعتیں صرف نعرے بازی، جذباتیت یا وقتی کامیابی پر یقین کر لیں، اور تنظیمی ڈھانچہ، قیادی سرگرمی اور مستقل نظریہ نہ رکھیں، تو وہ جلد ختم ہو سکتی ہیں۔ اس اعتبار سے آج All India Majlis-e-Ittehad-ul-Muslimeen (AIMIM) اور دیگر مسلم سیاسی تنظیموں کے لیے یہ امر سبق آموز ہے کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمی، جماعتی ساخت اور قیادت کو مضبوط رکھیں، بصورتِ دیگر اُن کا بھی وہی انجام ہوسکتا ہے جو مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کا ہوا۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ریکارڈ کے مطابق “Muslim Independent Party” کا نام اب بھی بطور “Registered but Inactive” درج ہے، یعنی قانونی طور پر رجسٹرڈ ہے مگر فعالیت نہیں دکھا رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعینہ وہ جماعت دوبارہ فعال ہو سکتی ہے، مگر عملی اعتبار سے اُس نے اپنی سیاسی سرگرمیاں ختم کر رکھی ہیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اس تجربے سے سیکھے اور عملی تنظیم و فکر کو متحرک رکھے۔


(نوٹ): اس مضمون کا مقصد کسی جماعت یا شخصیت کی نفی نہیں بلکہ تاریخی تناظر میں وہ حقیقت واضح کرنا ہے جس سے موجودہ مسلم قیادت سبق حاصل کر سکتی ہے۔

 قاری ممتاز احمد جامعی
✉️ majaamai@gmail.com



حوالہ فہرست (References)

1. Election Commission of India – List of Registered (Inactive) Political Parties, accessed October 2025.

2. Abul Mahasin Muhammad Sajjad, Wikipedia (verified citations).

3. Syed Muhammad Yunus (Premier of Bihar), Bihar State Archives, Historical Records, 1937–1939.

4. Tārīkh-e-Amārat-e-Shar‘iyyah, Patna (compiled references).

5. Naumanī, Manzūr. Hayāt-e-Maulānā Abul Mahāsin Sajjad, Lucknow, 1955.

6. Indian Provincial Elections 1937: Statistical and Historical Report, Government of India Archives.