ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

مدارس پر تنقید: دانشوروں کے تعصب کی زہرآلود داستان

  مدارس پر تنقید: دانشوروں کے تعصب کی زہرآلود داستان

عجب و غریب صورتِ حال ہے!


آج کل ہمارے اہلِ دانش کا ایک مخصوص طبقہ "خلقیہ" کی تلاش کے بہانے، صدف کی مہک کو محسوس کرنے سے پہلے ہی، اس کے خلاف اعلانِ جنگ میں مصروف ہے۔ ایسی بے صبری اور جھنجھلاہٹ کہ گویا مدارس اور اہلِ مدارس ہی اس امت کے تمام زوالات کا سرچشمہ ہوں۔

حیرت ہے کہ یہ وہی امت ہے جس کا ۷۵ فیصد حصہ قبل و بعدِ آزادی مدارس اور ان کے وابستگان کو اپنے دین و ایمان کی بقا کے لیے استعمال کرتا رہا ہے—اپنے بچوں کے کان میں اذان کہلوانی ہو یا والدین کے جنازے کی نماز، نکاح کا معاملہ ہو یا ایصالِ ثواب کی مجالس—ہر موقع پر مدرسے والا ہی یاد آتا ہے۔

اور جب وہی مدرسے والا علمی اداروں میں جائے، معاشرے میں اپنی فکری نمائندگی کرے، تو یہی دانشور طبقہ اسے "نوکری کی لالچ میں آیا ہوا جاہل ملّا" کہنے لگتا ہے! کیا یہ تضاد نہیں؟ کیا یہ ناانصافی نہیں؟

ان حضرات کو شاید اندازہ نہیں کہ آج بھی امت مسلمہ کے صرف ۲۵ فیصد افراد ہی مدارس و مکاتب سے حقیقی وابستگی رکھتے ہیں۔ باقی ۷۵ فیصد کا اصل میدان خود وہ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں، این جی اوز، اور ادارے ہیں جہاں یہ تمام "دانشور" خود موجود ہیں۔ کیا انہوں نے کبھی وہاں کی اصلاح کے لیے ایسا شدید غصہ، ایسی زہریلی تنقید، اور ایسا سماجی بائیکاٹ کیا؟

نہیں! کیونکہ وہاں نوکری خطرے میں پڑتی ہے، ترقی رک جاتی ہے، فنڈنگ بند ہو جاتی ہے۔

مدارس پر تنقید ایک آسان نشانہ ہے، بے ضرر سا ہدف، جس پر تیر چلا کر خود کو جرأت مند اور بااصول ظاہر کیا جا سکتا ہے، حالانکہ اس میں نہ اصول بچتے ہیں نہ جرأت۔

مدارس نے، ہر دور میں، امت کی روحانی و فکری پیاس بجھائی ہے۔ وہ صرف اذان، نماز اور نکاح تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے ایسے رجال پیدا کیے جنہوں نے ملک کی تحریکِ آزادی سے لے کر اسلامی تشخص کی بقا تک، ہر محاذ پر قربانیاں دیں۔ اور آج بھی وہی مدارس، دین کا قلعہ بنے کھڑے ہیں، محدود وسائل، ہزاروں رکاوٹوں اور ہر قسم کی الزام تراشی کے باوجود۔

ہم مانتے ہیں کہ مدارس میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے، اور اہلِ مدارس خود اس کا شعور رکھتے ہیں۔ ہم نے بھی ان کی اصلاح کے لیے صدائے حق بلند کی ہے۔ لیکن یہ تنقید، تنقیص اور تحقیر کی صورت اختیار کرے، تو وہ علم نہیں، انتقام بن جاتی ہے۔

آخر میں، ہم ان "دانشوروں" اور "پروفیسر صاحبان" سے ادباً گزارش کرتے ہیں کہ روزی روٹی کا وعدہ ربِ کائنات نے کر رکھا ہے، تو اپنی علمی بصیرت کو اہلِ مدارس پر تیزاب پھینکنے میں ضائع نہ کریں۔ اس امت کی اجتماعی فلاح، اتحاد، اور ترقی میں اپنی توانائیاں صرف کریں تاکہ عنداللہ مقبول بنیں، نہ کہ صرف عندالناس مودی و یوگی کے ایجنڈے پر تالیاں بجوانے والے "ملعون" بن کر رہ جائیں۔


 قاری ممتاز احمد جامعی


ہوائ حادثہ یا سیاسی ہتھکنڈہ؟ — معصوم جانوں کا حساب کون دے گا؟

hawai-hadsa-ya-siyasi-hathkanda-2025

جون 2025 میں احمدآباد کے قریب پیش آنے والا ہولناک فضائی حادثہ، جس میں 241 سے زائد مسافر اور شہری جان سے گئے، محض کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک سنگین نظامی ناکامی، حفاظتی غفلت اور ممکنہ سیاسی اثرات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اسی تاریخی تسلسل میں اجیت پوار کا بارامتی کے قریب پیش آنے والا فضائی حادثہ مہاراشٹر کی ترقی پسند سیاست کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان بن کر سامنے آیا، جس نے جمہوری سیاست میں حادثات کی ٹائمنگ اور پس منظر پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔

جون 2025 میں احمدآباد کے قریب پیش آنے والا ہولناک فضائی حادثہ، جس میں 241 سے زائد مسافر اور شہری جان سے گئے، محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ایک پیچیدہ نظامی ناکامی کا مظہر بھی تھا۔ حادثات دنیا بھر میں رونما ہوتے ہیں، لیکن ہر حادثہ محض اتفاق نہیں ہوتا، خاص طور پر جب اس کے اثرات اجتماعی، سیاسی اور سماجی سطح پر دیرپا ہوں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تجارتی مسافر طیارہ ٹیک آف کے چند ہی لمحوں بعد حادثے کا شکار ہوا اور شہری آبادی کے قریب ایک عمارت اور ہاسٹل کے اطراف جا گرا۔ نتیجتاً نہ صرف مسافر اور عملہ بلکہ زمینی سطح پر موجود عام شہری بھی لقمۂ اجل بنے۔ یہی پہلو اس سانحے کو ایک معمول کے فضائی حادثے سے کہیں زیادہ سنگین بنا دیتا ہے، کیونکہ شہری علاقوں میں پرواز، حفاظتی دائرہ، رسک اسسمنٹ، اور ایمرجنسی ردِّ عمل جیسے بنیادی سوالات خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔

اس حادثے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اس میں گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ اس نے قومی سطح پر یہ بحث چھیڑ دی کہ اہم عوامی شخصیات کے سفر، ان کے لیے طے شدہ حفاظتی پروٹوکول، اور پرواز سے قبل خطرات کے تجزیے واقعی معیار کے مطابق تھے یا نہیں۔

وجے روپانی، جو ایک وقت مودی کے قریبی تھے اور بعد میں کنارہ کش ہو گئے، کچھ حساس سیاسی سرگرمیوں میں بھی شامل تھے۔ وہ سورت کے 2,500 کروڑ کے لینڈ اسکینڈل کو اجاگر کرنے والے رہنماؤں میں شامل تھے، جس میں "Silent Zone" Fraud اور سرکاری زمین کی جعلی فروخت شامل تھی۔ مرکزی کردار انانت پٹیل پہلے ہی گرفتار ہو چکے تھے اور سورت کی بیوروکریسی لرز رہی تھی۔ اس تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ ہوائی حادثہ محض ایک حادثہ تھا، یا کسی بڑے سیاسی اور نظامی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے؟

👥 ہمارا درد وجے روپانی سے نہیں—ہمارا درد ان 240+ مظلوم انسانوں سے ہے جو یا تو سیاست کی جنگ میں مارے گئے، یا نظام کی لاپرواہی، یا کسی اور کی سازش کا شکار بنے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام ہر شہری کے لیے یکساں طور پر محفوظ ہے؟

یہ سوال بھارت کی سیاسی اور فضائی تاریخ میں کئی بار سامنے آیا ہے۔ اہم سیاسی شخصیات کے فضائی حادثات اور دیگر سانحات اکثر ایک معمہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ تاریخی واقعات کی مکمل کرونولوجیکل ترتیب کچھ یوں ہے:

1975: سمستی پور میں ریلوے پل کے افتتاح کے موقع پر بم دھماکے میں ریلوے وزیر ڈاکٹر للت نارائن مشرا شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں وفات پا گئے۔

1980: سنجے گاندھی کا طیارہ حادثہ، جس پر سرکاری انکوائری ہوئی، لیکن حفاظتی انتظامات اور سوالات طویل عرصے تک زیر بحث رہے۔

12 مارچ 2000: سابق وزیر ریلوے اور سوشلسٹ مفکر مدھو دندوتے کا فضائی حادثہ، جس نے عوامی شعور میں سوالیہ نشان چھوڑا۔

2002: لوک سبھا کے اسپیکر جی ایم سی بلایوگی کا ہیلی کاپٹر حادثہ۔

2003: گجرات کے وزیر ہرین پاندیہ کا بہیمانہ قتل (سیاسی پس منظر سے متعلق)۔

2014: مرکزی وزیر گوپی ناتھ منڈے کا سڑک حادثہ اور جج بی ایچ لویا کی پراسرار موت۔

8 دسمبر 2021: بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور اعلیٰ افسران کا تمل ناڈو میں فوجی ہیلی کاپٹر حادثہ۔

جون 2025: احمدآباد فضائی حادثہ، جس میں وجے روپانی سمیت 241+ مسافر اور شہری جان بحق ہوئے۔

اسی تاریخی تسلسل میں اجیت پوار کا حادثہ بھی مہاراشٹر کی سیاست میں ایک دردناک موڑ ہے۔ اجیت پوار کا بارامتی فضائی حادثہ، جس وقت وہ مہاراشٹر کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ پر تھے، ان کی سیاسی سمت، ممکنہ واپسی اور بدلتے اتحادوں کی بازگشت زوروں پر تھی۔ گزشتہ دنوں سیاسی گلیاروں میں یہ چہ مگوئیاں زور پکڑ رہی تھیں کہ اجیت پوار ایک بار پھر شرد پوار کے پاس واپس جا سکتے ہیں اور شرد پوار کوئی نئی حکمت عملی یا سیاسی کھیل کر سکتے تھے۔ ان افواہوں کا کوئی حل سامنے آنے سے قبل ہی اجیت پوار اس حادثے کا شکار ہوگئے۔

یہ حادثہ نہ صرف ان کے سیاسی کیرئیر کے عروج پر پیش آیا بلکہ مہاراشٹر کی عوام اور جمہوری سیاست کے لیے ایک خالی جگہ چھوڑ گیا۔ اجیت پوار ہمیشہ نفرت، دنگے اور فساد کی سیاست سے دور رہے اور اپنی پوری زندگی ترقی پسند اور عوامی مفاد پر مبنی سیاست کرنے میں گزاری۔ اگرچہ بھاجپا نے انہیں سخت دباؤ میں رکھا اور پالیسیوں یا اتحادی تعلقات پر اثر ڈالنے کی کوشش کی، اجیت پوار نے کبھی بھی بھاجپا کی زبان نہیں اپنائی اور مہاراشٹر میں نتیش رانے کی مخالفت کھل کر کی، جس سے نتیش رانے کے سیاسی اثرات کمزور ہوتے رہے۔

جاننے والے جانتے ہیں کہ اجیت پوار کے پاس اگر کوئی بھی شخص اپنا کام لے کر آتا اور وہ عوامی مفاد میں ہوتا، تو وہ بلا تفریق مذہب اور ذات اس کا کام کروانے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔ گزشتہ برس گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بھی اسی طرح ایئر انڈیا جہاز کی تباہی میں جاں بحق ہوئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی حادثاتی موتیں کبھی کبھی سیاسی اور نظامی خلا پیدا کر دیتی ہیں۔ اجیت پوار کے ساتھ پیش آنے والا یہ دردناک سانحہ مہاراشٹر کی ترقی پسند سیاست کا بڑا نقصان ہے، اور ایک ایسا خلا چھوڑ گیا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ میں ان کے اہل خانہ اور پسماندگان کے دکھ میں شریک ہوں اور اس نازک و غمناک موقع پر ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔

حادثے کی تفتیش صرف تکنیکی پہلو تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ بلیک باکس، انجن اور ایویونکس ڈیٹا، فلائٹ پلان اور ایئر ٹریفک کنٹرول لاگز کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ:

شہری آبادی کے قریب پرواز کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی؟

رسک اسسمنٹ کن اصولوں کے تحت کی گئی؟

موجودہ ایوی ایشن پالیسی کسی بڑے سانحے کو روکنے کے لیے کافی ہے یا نہیں؟

آزاد اور ہمہ جہت تحقیق کے لیے CBI یا NIA جیسے اداروں کی شمولیت ضروری نہیں؟

یہ سوالات کسی سازشی ذہن کی پیداوار نہیں بلکہ ہندوستانی سیاسی اور انتظامی تاریخ کے تجربات سے جنم لیتے ہیں۔ احمدآباد کا یہ حادثہ قیامت صغریٰ سے کم نہیں۔ لمحوں میں ہنستے بستے گھر اُجڑ گئے، خواب بکھر گئے، نسلیں منقطع ہو گئیں۔ کوئی اپنے پورے خاندان کے ساتھ سفر پر نکلا تھا، اور کوئی مستقبل کے سنہرے خواب سجائے منزل کی طرف بڑھ رہا تھا—مگر قدرت کے فیصلے نے پل بھر میں سب کچھ بدل دیا۔ ایسے مواقع پر محض غم کا اظہار کافی نہیں بلکہ اجتماعی خود احتسابی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

آج کا انسان طاقت، دولت اور غرور میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ کمزور اور لاچار انسان اس کے نزدیک مچھر اور مکھی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ وہ ہمسایہ ہونے کا حق بھول جاتا ہے، راستے بند کرتا ہے، عزتِ نفس مجروح کرتا ہے اور پھر خود کو کامیاب سمجھنے لگتا ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت، دولت اور غرور عارضی ہیں، اور انسانیت، انصاف اور جوابدہی میں ہی اصل کامیابی ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:

﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾

فضائی حادثات ہوں یا سیاسی سانحات، یہ ہمیں سبق دیتے ہیں کہ زندگی ناپائیدار ہے، اور ہر انسان کے لیے شفافیت اور اصلاح کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ اگر ہم نے انصاف اور احتساب کو نظرانداز کیا، تو نہ ہمارا نظام معاف کرے گا اور نہ ہماری بے حسی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم سے بچنے، حق ادا کرنے، غرور و تکبر سے دور رہنے، اور زندگی کو انسانیت، انصاف اور سچائی کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

✍️ تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی

📧 ای میل: majaamai@gmail.com

🇵🇰 پاکستان میں اقتدار کی غیر فطری ترتیب: ایک تنقیدی مشاہدہ


🇵🇰 پاکستان میں اقتدار کی غیر فطری ترتیب: ایک تنقیدی مشاہدہ

دنیا کے اکثر مہذب ممالک میں ریاستی نظم و نسق اور سفارتی پروٹوکول کا ایک بنیادی اصول ہے کہ ہر عہدہ دار صرف اپنے ہم منصب سے سرکاری ملاقات کرتا ہے — یعنی صدر کا صدر سے، وزیرِاعظم کا وزیرِاعظم سے، اور فوجی سربراہ کا کسی دفاعی یا عسکری ہم منصب سے۔ لیکن پاکستان میں یہ روایت اکثر و بیشتر پامال کی جاتی ہے۔ یہاں ریاستی طاقت کا مرکز عوامی نمائندوں، پارلیمنٹ یا آئینی صدر کی بجائے، چند عسکری شخصیات کے ہاتھ میں دکھائی دیتا ہے — گویا جمہوریت محض ایک رسمی لبادہ ہے، اور فیصلے پردے کے پیچھے کہیں اور ہوتے ہیں۔

حالیہ مثال امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں دعوت دے کر ملاقات کرنا ہے — جب کہ نہ تو پاکستانی صدر، اور نہ ہی وزیرِاعظم کو اس سطح پر کوئی اہمیت دی گئی۔ یہ محض سفارتی واقعہ نہیں، بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور حکومتی ڈھانچے میں فوج کی بالادستی کا عملی اظہار ہے۔ ایسے مناظر دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان میں اصل طاقت کا مرکز آئین نہیں، بلکہ وردی ہے — اور یہی تاثر پاکستان کے وقار اور استحکام دونوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

یہی غیر متوازن اختیارات کا نظام ہے جو پاکستان کو اکثر اندرونی انتشار کا شکار بناتا ہے۔ کبھی عدلیہ سے تصادم، کبھی مقننہ سے محاذ آرائی، اور کبھی سول حکومت کو پس منظر میں دھکیلنے کی روش — سب اسی مزاج کی پیداوار ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ موقع ملتے ہی یہی عسکری قیادت آمریت کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے، اور یوں ریاستی ادارے باہم ٹکرا کر کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ درحقیقت، یہی روش پاکستان کی بدنصیبی کا مستقل عنوان بن چکی ہے — ایک ایسی حقیقت جسے نہ چھپایا جا سکتا ہے، نہ جھٹلایا جا سکتا ہے۔

یہ تبصرہ کسی ملک، قوم یا ادارے کی مخالفت نہیں، بلکہ ایک اصولی نکتہ نظر ہے — جو دنیا کے ہر جمہوری مزاج رکھنے والے شہری کو اپنانا چاہیے۔

ہم بھارتی شہری کی حیثیت سے اچھی طرح محسوس کرتے ہیں کہ جمہوریت کا حسن اسی میں ہے کہ عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ اور فوج — سب اپنی آئینی حدود میں رہیں۔ اگر کسی ایک ادارے کو بے لگام اختیار دے دیا جائے، تو جمہوریت کا توازن بگڑ جاتا ہے — اور قومیں شخصیات کے سہارے کمزور، جب کہ اداروں کے ذریعے مضبوط بنتی ہیں۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں — آج خود ہمارے ملک میں بھی عدلیہ میں حکومتی مداخلت، میڈیا کی جانبداری، اور اختلافِ رائے کو کچلنے کی روش ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ لہٰذا، اس تجزیے کا مقصد محض تنقید نہیں، بلکہ ایک مشترکہ فکری بیداری پیدا کرنا ہے — تاکہ ہم سب اپنی اپنی ریاستوں کو انصاف، شفافیت اور عوامی طاقت کی حقیقی علامت بنا سکیں۔

قاری ممتاز احمد جامعی

امت مسلمہ، باضمیر اقوام، اور عالمی ضمیر کے نام ایک غیرت مند اپیل

  امت مسلمہ، باضمیر اقوام، اور عالمی ضمیر کے نام ایک غیرت مند اپیل


دنیا ایک بار پھر ظلم، جارحیت، اور سامراجی سازشوں کی زد میں ہے۔ امریکہ و اسرائیل کا اتحاد مشرقِ وسطیٰ سے لے کر افریقی ساحل، ایشیا کے دروازوں اور خلیجی درّوں تک خون کی ندیاں بہا رہا ہے۔ بیروت سے تہران، غزہ سے صنعا، دمشق سے کابل تک ہر جگہ جنگی جنون کا عذاب ہے۔ ایسے میں خاموشی جرم اور تقسیم خودکشی بن چکی ہے۔


📢 اب صرف بیانات نہیں، بلکہ خالص خلوص، مزاحمتی عمل، اور حکمتِ عملی کی بنیاد پر ایک مؤثر عالمی اتحاد کی فوری ضرورت ہے۔


مگر اس اتحاد کی بنیاد صرف نعرہ، نام یا کسی نئے "عالمی فورم" کی نمائش نہ ہو، جیسا کہ ہم نے ماضی میں OIC اور عرب لیگ جیسے اداروں میں دیکھ لیا:


 "نشستند، گفتند، خوردند، برخاستند"

بیٹھے، بولے، کھایا پیا اور چلے گئے۔


🔻 ایسا اتحاد تب ہی فائدہ مند ہو سکتا ہے، جب وہ درج ذیل 5 بنیادی نکات پر قائم ہو:


✅ 1. نظریاتی اتحاد:

بنیاد صرف نسل، زبان یا حکومت نہ ہو، بلکہ ظلم کے خلاف بے باک مزاحمت، انصاف اور انسانی غیرت ہو — چاہے مظلوم فلسطینی ہو یا کشمیری، افغانی ہو یا یمنی، برمی ہو یا چیچن، ایغور۔


✅ 2. سفارتی ہمت و جُرأت:

اقوام متحدہ، OIC، اور دیگر اداروں میں رسمی بیانات کے بجائے مؤثر قراردادیں، عالمی دباؤ، اور ویٹو پاور کی منافقانہ سیاست کے خلاف عالمی بیداری مہم چلائی جائے۔


✅ 3. دفاعی ہم آہنگی و تعاون:

ایک ایسا نظام بنایا جائے جس میں عسکری معلومات، ٹیکنالوجی، وسائل، اور انٹیلی جنس شیئرنگ ہو — تاکہ ایران، حزب اللہ، حماس، انصار اللہ جیسے مزاحمتی گروہ اکیلے نہ رہ جائیں۔


✅ 4. میڈیا و بیانیے کی جنگ:

ایک آزاد، طاقتور، اور سچ بولنے والا عالمی مزاحمتی میڈیا نیٹ ورک قائم کیا جائے — تاکہ مغرب کے پروپیگنڈہ کو توڑا جا سکے اور مظلوموں کی حقیقی آواز دنیا تک پہنچے۔


✅ 5. معاشی حکمتِ عملی و خود کفالت:

مغربی سرمایہ دارانہ شکنجے سے نکلنے کے لیے تجارتی بائیکاٹ، اپنی کرنسی و نظامِ معیشت کی بنیاد، اور باہمی امداد پر مشتمل معاشی سسٹم قائم ہو۔

 اگر ہم نے اب بھی تاخیر کی، تو تاریخ ہمیں بے عمل، بے حس، اور مغلوب قوم کے طور پر یاد رکھے گی۔

اور اگر ہم متحد ہوئے — خلوص، حکمت اور قربانی کے ساتھ — تو یہی لمحہ تاریخ کے دھارے کو موڑ دے گا۔

 امت کو اب نئی تنظیموں کے نام نہیں، نیا عزم، نیا کردار، اور نیا عمل چاہیے۔

ورنہ یاد رکھئے:

> آج غزہ جل رہا ہے، کل بیروت ہوگا، پرسوں دمشق، اور شاید اگلا نشانہ ہم ہوں!

تحریر۔ قاری ممتاز احمد جامعی

مدارس و مکاتب: ملتِ اسلامیہ ہی نہیں، ہندوستان کی مشترکہ روحانی وراثت

 مدارس و مکاتب: ملتِ اسلامیہ ہی نہیں، ہندوستان کی مشترکہ روحانی وراثت


(ایک فکری و قومی رہنمائی پر مبنی تحریر)


یہ کوئی اتفاق نہیں کہ جب برصغیر کا معاشرہ غلامی، جہالت اور اخلاقی پستی کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، تب مدارس و مکاتب نے شمعِ علم، روحانیت، تہذیب، اور قربانی روشن کی۔


یہ بھی حقیقت ہے کہ ان اداروں نے صرف قرآن و حدیث کی تعلیم ہی نہیں دی، بلکہ انگریزوں کے خلاف مزاحمت، اردو زبان و ادب کی ترویج، اور معاشرتی اصلاحات میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔


لیکن افسوس!

آج کچھ حلقے ان اداروں کو صرف ایک مخصوص مذہبی طبقے کی علامت سمجھ کر ان کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مدارس صرف مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی اجتماعی وراثت ہیں۔


  تاریخ کی روشن گواہی: صدرِ جمہوریہ کی زبان سے


ڈاکٹر راجندر پرشاد (پہلے صدر جمہوریہ ہند) نے جب دارالعلوم دیوبند کا دورہ کیا، تو اپنے خطاب میں فرمایا:


> "میں بیرون ممالک گیا، وہاں کے تعلیم یافتہ مسلمانوں نے مجھ سے کہا: اگر تمہارے ملک میں دارالعلوم دیوبند جیسا ادارہ ہو تو ہم ہر تعاون کے لیے تیار ہیں۔ وہاں کے مسلمان اس ادارے کو دین، روحانیت اور سچائی کی علامت سمجھتے ہیں۔"

(ماخوذ: دارالعلوم دیوبند میں خطاب)


کیا یہ محض ایک مذہبی ادارہ تھا؟

نہیں، یہ ایک روحانی، تعلیمی اور تہذیبی قلعہ ہے، جس کی تاثیر آج بھی سرحد پار محسوس کی جاتی ہے۔


  مدارس و مکاتب: ضرورتِ وقت، فطری ادارے


جہاں جدید تعلیم صرف دماغ بناتی ہے، وہاں مدرسہ دل و ضمیر کو بھی جگاتا ہے۔


جہاں اسکول صرف معیشت سنوارتے ہیں، وہاں مکتب معاشرت کا توازن بناتا ہے۔


جہاں نظام تعلیم میں "پیداوار" مقصود ہوتی ہے، وہاں مدارس میں سخاوت، صبر، دیانت، اور عبادت کا مزاج پیدا کیا جاتا ہے۔


آج بھی ملک کا ہر عام مسلمان، اپنے بچوں کے کان میں اذان سے لے کر جنازے کی نماز تک کے لیے مدرسے والے کا محتاج ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ مظلوم طبقہ اپنی محنت سے امت کی پیاس بجھاتا رہا ہے، اور اگر کچھ فضلاء جدید میدانوں میں آ جائیں تو انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ کیسی ناانصافی ہے؟


   ہمیں کیا کرنا ہے؟


مدارس کو برا کہنے سے پہلے اپنا ادارہ دیکھو


اہلِ مدارس پر طعنہ دینے سے پہلے اپنی قربانی ناپو


اور سب سے اہم:

اگر اس ملک کو دوبارہ "سونے کی چڑیا" بنانا ہے، تو روحانیت اور اخلاقی تعلیم کے بغیر یہ ممکن نہیں


  آخر میں:


  مدارس، مکتب اور علماء اس ملک کے اخلاقی ورثہ دار ہیں، ان کی قدر کرو، وہ تمہاری نسلوں کو بگاڑ سے بچا سکتے ہیں۔


 ہم اپنی بساط کے مطابق چراغ جلاتے رہیں گے...

کیونکہ ظلمات کے درمیان روشنی کے چند دیپ ہی کافی ہوتے ہیں۔

قاری ممتاز احمد جامعی

سیاست کا زوال: جب ایمان نیلام ہو، اور قیادت مشکوک ہو جائے

 سیاست کا زوال: جب ایمان نیلام ہو، اور قیادت مشکوک ہو جائے


سیاست، اگر اصول و اخلاق کے تابع ہو تو قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ لیکن جب یہی سیاست جھوٹ، مصلحت، اور مفاد پرستی کا شکار ہو جائے، تو یہ صرف کرسی کی تجارت اور ضمیر کی نیلامی بن کر رہ جاتی ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاسی فضا میں یہی منظرنامہ چھایا ہوا ہے — خاص طور پر مسلمانوں کی سیاست اس المیے کا شکار ہے کہ اس میں نہ نظریاتی استقامت ہے، نہ فکری قیادت کا جرات مندانہ وجود۔


ایک زمانہ تھا جب مولانا حسرت موہانی جیسے رہنما بغیر کسی سرکاری مراعات کے صرف خدمتِ ملت کو مقصدِ حیات بنا کر سیاست کے میدان میں اترتے تھے۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ اکثر مسلم سیاستدان قوم کے نام پر ووٹ لیتے ہیں، مگر کامیابی کے بعد نہ اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ اقلیتوں کے تحفظ کی وکالت۔ مذہبی شناخت سے شرمندگی، اور اکثریتی بیانیے سے وفاداری ان کا سیاسی دستور بن چکا ہے۔


افسوسناک بات یہ ہے کہ قوم خود بھی اپنی فکری شناخت سے بے پروا ہو چکی ہے۔ قیادت کے معاملے میں وہ ہمیشہ الجھن کا شکار رہی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے سچ کہا تھا کہ "قیامت آ جائے گی، مگر مسلمان اپنے رہنما پر یقین نہیں کرے گا"۔ یہی وجہ ہے کہ آج اگر کوئی رہنما ملت کے حقوق کی آواز بلند کرتا ہے، تو خود ملت ہی اسے مشکوک، متنازع یا "بی ٹیم" قرار دے دیتی ہے۔


اسدالدین اویسی جیسے سیاسی خطیب، جنہوں نے برسوں سے پارلیمنٹ میں اقلیتوں، دستور، اور مسلم تشخص کی جرات مندانہ وکالت کی، انہیں ملت کی اکثریت نے کبھی قبولِ دل سے نہیں اپنایا۔ کوئی کہتا ہے وہ صرف تلنگانہ کے ہیں، کوئی کہتا ہے ان کے صرف سات ایم ایل اے ہیں، اور کوئی انہیں بی جے پی کا فائدہ پہنچانے والا قرار دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قیادت کی قدر اس کے رُکنوں کی تعداد سے ہوتی ہے، یا اس کی فکر، استقامت اور جرأتِ گفتار سے؟


جب کنہیا کمار، جگنیش میوانی، ہاردک پٹیل جیسے نوجوان سیکولر طبقے سے اٹھتے ہیں تو ان کے لیے میڈیا، عدلیہ اور نظام میں راستہ کھل جاتا ہے۔ مگر جیسے ہی کوئی مسلمان نوجوان بولنے کی جرأت کرتا ہے — چاہے وہ شرجیل امام ہو، عمر خالد ہو یا خالد سیفی — اُسے یا تو جیل بھیج دیا جاتا ہے یا غدار بنا کر بدنام کیا جاتا ہے۔ اس دوہرے معیار نے ملت کے فکری افق کو مزید تاریک کر دیا ہے۔


مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ جب اشرافیہ طبقے کے سیاسی قائدین کے گھروں میں بین المذاہب شادی ہو، تو اُسے "گنگا جمنی تہذیب" اور "انفرادی آزادی" کا جشن کہا جاتا ہے، مگر جب یہی عمل کسی غریب یا عام مسلمان کے گھر ہو، تو اُسے "لو جہاد" کا نام دے کر ہدفِ نفرت بنا دیا جاتا ہے۔ اشوک سنگھل، ایل کے اڈوانی جیسے مسلم مخالف نظریات کے حامل لیڈروں کی اپنی بیٹیوں نے مسلمان مردوں سے رشتہ قائم کیا، لیکن نہ کہیں سنگھی بھڑکے، نہ میڈیا شور مچایا۔ اس کے برعکس کسی مسلم نوجوان کا یہی عمل پورے نظام کو لرزا دیتا ہے۔


یہ تضاد، یہ منافقت، اور یہ اخلاقی دوہرا پن دراصل اس قوم کی فکری کمزوری کا شاخسانہ ہے۔ جب ملت خود اپنے رہنماؤں پر اعتماد نہ کرے، اپنی شناخت پر فخر نہ کرے، اور ہر نئے ابھرتے چہرے کو مشکوک نظروں سے دیکھے، تو پھر زوال اس کا مقدر بن جاتا ہے۔


تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں کو بارہا صرف استعمال کیا گیا، ان کا خون اور ووٹ لیا گیا، مگر وقتِ مصیبت انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ شہاب الدین جیسے دبنگ لیڈر، جنہوں نے لالو پرساد یادو کی سیاست کو سیوان کی گلیوں سے پارلیمنٹ تک پہنچایا، وہ جب جیل میں بیماری و مظلومی کی حالت میں دم توڑتے ہیں تو کوئی لالو، کوئی آر جے ڈی ان کے جنازے پر بھی نہیں آتا۔


اعظم خان، جنہوں نے سماجوادی پارٹی کی بنیادوں میں اپنے لہو کی اینٹ رکھی، آج مقدموں کی زد میں تن تنہا کھڑے ہیں۔ وہ شخص جس نے سیکڑوں تعلیمی ادارے قائم کیے، رامپور کا چہرہ بدل دیا، اسے پارٹی نے خاموشی سے قربان کر دیا۔


احسان جعفری، گجرات کے سابق ایم پی، جنہیں دنگائی ہجوم نے زندہ جلا دیا، دہلی کی پارلیمنٹ نے ان کے لیے ایک سطر بھی مؤثر انداز میں ادا نہ کی۔ ان کی بیوی کی دہائی پر سپریم کورٹ کے دروازے بھی برسوں خاموش رہے۔


یہ نام صرف شخصیات نہیں، بلکہ مثالیں ہیں اس سچ کی کہ مسلمان اگر وفادار ہو بھی جائے تو سسٹم اس کا وفادار کبھی نہیں ہوتا۔


ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانانِ ہند قیادت کے تئیں اپنی نفسیاتی غلامی کو ختم کریں، فکری طور پر آزاد سوچ اپنائیں، اور دینی و اخلاقی بنیاد پر وفادار، باصلاحیت، بے باک رہنماؤں کو مضبوط کریں۔ بصورت دیگر، ملت ایک ایسا ہجوم بن کر رہ جائے گی جو صرف نعرے لگانا جانتی ہے، مگر نہ راستہ چن سکتی ہے، نہ کارواں بنا سکتی ہے۔


یہ مضمون ایک تلخ سچائی کا آئینہ ہے۔ اگر ہم نے آج بھی اپنی قیادت، فکر، اور کردار کا محاسبہ نہ کیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم دین، عقل، اور سیاسی شعور کو بنیاد بنا کر اپنے مستقبل کی تعمیر کریں، اور نعرے بازی سے نکل کر نظریاتی استقلال کی راہ اپنائیں۔


سیاست اگر قرآن و سنت کے زیر سایہ نہ ہو، تو صرف فتنہ ہے — اور ہم اس فتنے میں جل رہے ہیں۔


قاری ممتاز احمد جامعی 

majaamai@gmail.com


دعوت، نسبت اور نسبتوں کی سرزمین: پالنپور کا ایک بابرکت سفر

 دعوت، نسبت اور نسبتوں کی سرزمین: پالنپور کا ایک بابرکت سفر


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی


ان دنوں بندہ الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت جاری مکاتب و مدارس کی مالی استحکام اور دعوتی بیداری کے مقدس مقصد سے گجرات کے معروف اور دینی تاریخ سے معمور شہر پالنپور کے سفر پر ہے۔ یہ سفر بظاہر چند ملاقاتوں اور تعاون کی ترغیب پر مشتمل تھا، مگر حقیقت میں یہ میرے دل و روح کو تازگی بخشنے والا ایک روحانی انکشاف بن گیا۔


پالنپور نہ صرف گجرات بلکہ برصغیر کی دینی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ کبھی یہاں شیعہ مسلک کے نواب حکمران ہوا کرتے تھے، مگر اسی سرزمین پر سب سے پہلے حضرت پیر محمد مشائخؒ نے توحید و رسالت کی صدائے حق بلند کی۔ پھر کشمیری صوفی بزرگ حضرت مولانا نذیرؒ نے اپنے سفر کو موقوف کر کے یہاں قیام فرمایا اور اس دعوتی انقلاب کی بنیاد رکھی جس نے ایک پورے شہر کی روح بدل دی۔ انہی کی مسند دعوت کو بعد میں حضرت مولانا عمر پالنپوریؒ نے اپنے علم و اخلاص سے عالمگیر پیغام میں تبدیل کر دیا۔


یہ میری سعادت رہی کہ مجھے اس عظیم خطے کی کچھ بزرگ ہستیوں کی زیارت، ملاقات اور یادگاروں سے روحانی انسیت کا موقع ملا۔ ان میں خصوصیت سے:


حضرت مولانا غلام رسول خاموشؒ (سابق مہتمم، دارالعلوم دیوبند)


حضرت مولانا عبد القیومؒ (مجلسِ دعوت الحق، پالنپور)


حضرت مولانا آدم صاحب مجادرؒ


حضرت مولانا اسماعیل سیوانیؒ


حضرت مولانا عبد الرزاقؒ کمالپوری بھاگل


اور علمِ حدیث کے آفتاب، حضرت مفتی سعید احمد پالنپوریؒ — جن کے علمی فیضان سے ایک عالم نے سیرابی حاصل کی۔



پالنپور کے موجودہ علمی و روحانی ماحول میں حضرت مولانا عبد القدوس ندوی دامت برکاتہم کی علمی رفعت، زہد و تقویٰ، اور دل نشین شخصیت کا گہرا اثر محسوس ہوا۔ اسی طرح حضرت مولانا عبد الرشید صاحب بسوی دامت برکاتہم جیسی عبقری ہستیوں کی قربت نے سفر کو مزید نورانی بنا دیا۔


اس بابرکت سفر کی ایک خاص جھلک اس وقت سامنے آئی جب چھاپی میں ظہر کی نماز کے بعد میرے پرانے ہم مقصد، ہم وطن اور مخلص رفیق مولانا عبد المتین مدھوبنی (فارغ دیوبند) سے ملاقات ہوئی۔ چونکہ ہم دونوں ایک ہی مشن کے تحت سرگرمِ سفر تھے، اس لیے مشورہ ہوا کہ آج ہم ساتھ کمالپور چلیں اور وہیں قیام کریں تاکہ دعوتی و تعلیمی تعاون کے امکانات پر گفتگو کی جا سکے۔


شام کو کمالپور کی ہی ذیلی بستی نذیر پورہ کی بری مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد ایک مقامی ساتھی نے بائک پر بیٹھا کر مجھے کمالپور کی جامع مسجد پہنچا دیا، جہاں اتفاقاً آج کا دن "گشت" کا مقرر تھا۔


یہاں اللہ نے مجھے ایک نایاب موقع عنایت فرمایا — مقامی عالم حضرت مولانا اشرف صاحب کمالپوری کا ولولہ انگیز بیان سننے کا۔ موصوف حضرت مولانا عبد الرزاقؒ کے فرزند اور ۱۹۹۵ کے فارغِ دیوبند ہیں۔ ان کا خطاب دعوتِ توحید و رسالت اور سیرتِ نبوی ﷺ پر ایسا پراثر، رواں اور بلیغ تھا کہ پوری مجلس محویت کا مجسمہ بن گئی۔


خاص طور پر نبوت سے قبل نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے واقعات کو اس دلنشیں انداز میں بیان فرمایا کہ ایسا محسوس ہونے لگا گویا ہم ایک تازہ واقعے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، نہ کہ صدیوں پرانی سیرت کا تذکرہ۔

حضور ﷺ کی ولادت، حضرت حلیمہ سعدیہؓ کی گود، عبدالمطلب و ابوطالب کی سرپرستی، اور حضرت خدیجہؓ کے ساتھ تجارتی معاہدہ سے نکاح تک کا بیان ایسا مرتب، متوازن اور جذبات سے لبریز تھا کہ سامعین پلک جھپکنا بھی بھول گئے۔


چونکہ وقت مغرب تا اذانِ عشاء تک محدود تھا، اس لیے مولانا نے نبوت کے بعد والے حصے کو مؤخر کرتے ہوئے مجلس کو دعوتی رخ پر ختم کیا — جیسا کہ گشت کی روح ہے۔


آخر میں صرف اتنا عرض کروں گا:


پالنپور صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ نسبتوں، دعوتوں اور روحانی مجاہدوں کی وہ مبارک سرزمین ہے جو آج بھی دینی بیداری، ایمانی حرارت اور اسلامی تشخص کا علم تھامے ہوئے ہے۔


اللہ تعالیٰ اس علاقے کو سلامت رکھے، اس کی دعوتی فضاؤں کو ثبات عطا فرمائے، اور ہم جیسے راہِ دین کے مسافروں کو ان نسبتوں سے دائمی فیض عطا کرے۔

آمین ثم آمین۔