ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

اکھنڈ بھارت کا خواب یا داخلی انہدام؟ — ایک فکری جائزہ

 اکھنڈ بھارت کا خواب یا داخلی انہدام؟ — ایک فکری جائزہ


قلم: قاری ممتاز احمد جامعی


> "کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری، صدیوں رہا ہے دشمنِ دورِ زماں ہمارا۔"

یہ مصرعہ آج کے ہندوستانی حالات پر ایک گہری طنز بھی ہے اور امید کا استعارہ بھی۔


وقت کے ساتھ حکومتیں بدلتی رہیں، مگر اس ملک کی اصل روح — رواداری، عدل، اور گنگا جمنی تہذیب — آج بھی کہیں نہ کہیں سانس لے رہی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اسی روح کو آج اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھے وہ نظریات دبا رہے ہیں جن کا وجود نفرت، بالادستی، اور مذہبی جنون پر کھڑا ہے۔


بی جے پی اور آر ایس ایس کی ہندوتوا پالیسی برسوں سے ایک ہی خواب بیچ رہی ہے: “اکھنڈ بھارت”۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ منوسمرتی جیسے غیر انسانی نظام کی بنیاد پر نہ کوئی قوم متحد رہ سکتی ہے اور نہ ہی کوئی سماج ترقی کر سکتا ہے۔ ستی پرتھا، نیوگ پرتھا، اور دلت و نچلی ذاتوں کی تذلیل اب تاریخ کے تاریک باب ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی گروہ دوبارہ اسی دیو مالائی سماج کو زندہ کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے تو وہ خود اپنی نسلوں کو ماضی کی غلامی کی طرف دھکیل رہا ہے۔


اصل سوال یہ ہے کہ جو لوگ اپنے ہی ملک کی مشترکہ تہذیب، اسلامی آثار، اور مسلم ثقافت کے وجود کو برداشت نہیں کر سکتے، وہ “اکھنڈ بھارت” کے نام پر دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ اگر واقعی انہیں اتحاد کا شوق ہے تو پھر نفرت اور اونچ نیچ کی دیواریں گرا کر اپنے ہی شہریوں سے انصاف کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ نعرہ صرف سیاسی ہتھکنڈہ ہے، جس کے نیچے غریب عوام کی بھوک اور مجبوریوں کا شور دب گیا ہے۔


تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان کو طاقت، وقار اور عروج اس وقت ملا جب یہاں عدل، علم، اور مساوات کا نظام قائم تھا۔ مسلم حکمرانوں نے ایک ہزار برس تک نہ صرف اس سرزمین کو متحد رکھا بلکہ اسے علم و تہذیب کا مرکز بنایا۔ وہی دور تھا جب ہندوستان “سونے کی چڑیا” کہلاتا تھا اور دنیا بھر کے لوگ یہاں آنے کے خواب دیکھتے تھے۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ وہی ملک جس نے دنیا کو امن و علم کا پیغام دیا، اپنے ہی شہریوں کے لیے بے روزگاری، نفرت اور ذلت کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔


ایسے میں جمہوریہ اسلامیہ افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی حفظہ اللہ کا بھارت کا دورہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ دارالعلوم دیوبند اور تاج محل آگرہ کا بھی دورہ کریں گے۔ یہ خبر سن کر وہی انتہا پسند حلقے تلملا اٹھے جنہیں اس سرزمین کے اسلامی ورثے سے ہمیشہ الرجی رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر بھارت اپنی قدیم تہذیب پر فخر کرتا ہے تو اس کے اصل ورثے کو دیکھنے آنے والوں سے نفرت کیوں؟


درحقیقت بھارت کی اصل پہچان اس کی اسلامی تہذیب، گنگا جمنی ثقافت اور صدیوں کی رواداری سے وابستہ ہے۔ دارالعلوم دیوبند، تاج محل، قطب مینار، اور دکن کے آثار — یہ سب وہ ستون ہیں جن پر بھارت کی عالمی شناخت قائم ہے۔ جب بھی کوئی غیر ملکی وفد آتا ہے تو وہ ان ہی مقامات کا رخ کرتا ہے جو علم، عدل اور محبت کے استعارے ہیں۔ یہی ورثہ بھارت کو عالمی سطح پر عزت اور وقار عطا کرتا ہے۔


افسوس کہ آج ملک کی توانائی نفرت میں صرف ہو رہی ہے۔ مذہب کے نام پر سیاست، ذات پات کے نام پر تفریق، اور اکثریت کے نام پر اقلیتوں کی تذلیل — یہ سب مل کر اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ کسان خودکشی پر مجبور ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں، مگر اقتدار کے ایوانوں میں نفرت کے نعروں کا شور ہے۔ ایسے حالات میں وشو گرو بننے کے دعوے خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔


اگر بھارت کو واقعی عظیم بننا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے ہی شہریوں کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا۔ گنگا جمنی تہذیب کو صرف نعرہ نہیں بلکہ قومی اساس بنانا ہوگا۔ نفرت کی دیواروں کے بجائے انصاف، مساوات اور محبت کی بنیادیں پھر سے اٹھانی ہوں گی۔ جب ملک اپنے ہر شہری کو عزت دے گا، تب ہی دنیا اسے عزت دے گی۔


تاریخ کی گواہی یہی ہے کہ جس قوم نے عدل اور اخلاق کو چھوڑا، اس کے دروازے پر زوال نے ضرور دستک دی۔ اگر آج بھی بھارت نے اس سچائی کو نظر انداز کیا تو “اکھنڈ بھارت” کا خواب ایک نئے بٹوارے کی تمہید بن جائے گا۔ خدا کی سنت اٹل ہے — ظلم پر کبھی سلطنت قائم نہیں رہتی۔

قوم پرستی نہیں، مسلکی اندھا تعصب — ملت کی جڑوں میں زہر

 قوم پرستی نہیں، مسلکی اندھا تعصب — ملت کی جڑوں میں زہر


ہندوستان میں مسلکی تعصب پسند عناصر اپنی ہی ملت کے لیے ہمیشہ ناسور بنتے جا رہے ہیں۔ وہ کبھی اپنے ماضی کے ایام پر محاسبہ نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے کیے گئے عمل کی ذمےداری قبول کرتے ہیں، تاکہ مستقبل کے لائحۂ عمل کو اجتماعی اتحاد کے ساتھ وضع کیا جا سکے۔

سوال یہ ہے: کیا تاریخ میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ پوری کمیونٹی کے تمام افراد مل کر اپنی ہی قبر خود کھود لیں؟ یقیناً ایسا ممکن نہیں، مگر وقتی اندھی تقلید اور سیاسی مفاد کی خاطر بعض طبقے اپنی قوم کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنتے چلے آ رہے ہیں۔


میں سوشل میڈیا کے ذریعے ملت کے دو ایسے افراد کو جانتا ہوں جو اپنے معاشرے میں مخلصانہ طور پر منکرات پر نکیر کرتے ہیں — جناب مولانا ذیشان مصباحی اور مولانا ناصر مصباحی رامپوری یہ دونوں حضرات خلوص کے ساتھ اپنی قوم کے مفکر اور خدمت گزار ہیں۔ اپنے علمی و فکری انداز اور تحریر کے اعتبار سے یہ لوگ قابلِ اعتماد ہیں، مگر افسوس کہ اکثر ایسے واضح اور واہیات ویڈیوز کا پوسٹ مارٹم، یعنی تہہ تک جا کر تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے نہیں دکھائی دیتے۔

میں ذاتی طور پر ایسے بیانات پر بلاوجہ ہوا دینا بھی پسند نہیں کرتا، مگر حالات کی سنگینی نے تبصرے پر مجبور کر دیا۔


حالیہ عرصے میں بریلی شہر کی مسلم کمیونٹی کے ہر شعبے کو فرقہ پرست قوتوں نے اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ پوری دنیا میں محترم و باعزت خانوادۂ اعلیٰ حضرت کے چشم و چراغ کو حقارت آمیز انداز میں گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا، اور اس پورے واقعے کے خلاف ملک کی اکثریتی جماعت، یعنی بریلوی مکتبِ فکر کی جانب سے نہ تو کوئی مؤثر احتجاج ہوا اور نہ ہی حالات کی سنگینی کو بروقت محسوس کیا گیا۔

اگر حالات کا صحیح ادراک کیا جاتا تو اس کربناک انجام سے بچاؤ ممکن تھا۔


ایسے ہی حالات میں بعض حلقے بے معنی بحثیں چلا کر توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں — ’’طالبان‘‘ یا ’’دیوبند‘‘ کی لایعنی بحثیں۔

جب اصل مسئلہ اندرونی کمزوری اور فرقہ وارانہ سازشیں ہوں، تو حقائق پسِ منظر میں دب جاتے ہیں۔

کبھی کبھی بے بسی یہ احساس دلاتی ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر یہ جماعت اپنی ذہنی پسماندگی میں کیوں گم ہو گئی ہے۔

بھگوا ہندوتوا کے بعض معتقدین اپنی حفاظت اور روزگار سے منہ موڑ کر صرف اس لیے سرکار کی ہر پالیسی کی حمایت کر دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو ’’ان کی اوقات‘‘ میں رکھا جا رہا ہے۔


بالکل اسی طرح بریلوی مکتبِ فکر کے بعض زوال پذیر عناصر، فرقہ پرست ایجنسیوں کے ہاتھوں کے کھیل بن کر خود اپنے گھر جلوانے کا سبب بن جاتے ہیں۔

مگر ان کے منافقانہ رویے کا یہ عالم ہے کہ وہ بس ’’دیوبندی، وہابی، کافر‘‘ کا شور مچاتے رہتے ہیں، جب کہ اصل زہر اندر ہی اندر پھیل رہا ہوتا ہے۔

اس منظرنامے میں ہم جیسے لوگ، جو اپنی قوم کے درد سے نا آسودہ ہیں، اکثر محض ماتم کے سوا کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتے — مگر اب ماتم اکیلا کفایت نہیں کرتا؛ منظم، بے‌باک اور قانونی راستہ اختیار کرنا اتحاد و اتفاق کے ساتھ لازمی ہے۔


یہ مضمون سماج کو آئینہ دکھانے کی ایک بے‌باک آواز ہے۔

اندرونی فرقہ واریت، سیاسی مفادات اور خاموش اکثریت کی بے عملی نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں صرف زبان سے درد کا اظہار کافی نہیں۔

اب وقت ہے کہ ہم اپنے مخلص علما، متفکرین اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر شواہد اکٹھے کریں، قانونی راہیں کھولیں، اور منظم طور پر اپنے حقوق اور عزتِ انسانی کے لیے آواز اٹھائیں — تاکہ وہ ناسور جو قوم کے اندر پروان چڑھ رہا ہے، اس کا قلع قمع ممکن ہو سکے۔


قلم: قاری ممتاز احمد جامعی

ای میل: majaamai@gmail.com

لکھنوی تہذیب، انتخاب اور صحتِ شہر — ایک ادبی کالم


لکھنوی تہذیب، انتخاب اور صحتِ شہر — ایک ادبی کالم

لکھنؤ محض ایک شہر نہیں، ایک مزاج ہے؛ گفتگو میں نزاکت، اختلاف میں شائستگی، اور طنز میں شکر گھلا ہوا تبسم۔ یہاں سیاست بھی اگر بولتی ہے تو تہذیب کی زبان میں، اور فیصلہ بھی اگر ہوتا ہے تو لطافت کے آئینے میں۔ اسی لکھنوی مزاج کی ایک دلکش، معنی خیز اور فکر انگیز حکایت انتخابی تاریخ کے اوراق میں آج بھی زندہ ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب لکھنؤ میں پہلی مرتبہ میونسپلٹی کے انتخابات ہوئے تو چوڪ کی گلیاں ایک عجیب سی سرگوشی سے بھر گئیں۔ نام تھا دلرُبا جان — اپنے عہد کی معروف تواِئف، محفلوں کی رونق، ناز و ادا کی پہچان، اور شہر کے ذوقِ جمال کی نمائندہ۔ ان کی مقبولیت ایسی کہ کوئی ان کے مقابل آنے کا حوصلہ نہ کرتا تھا۔

انہی دنوں چوڪ میں ایک اور نام پورے احترام سے لیا جاتا تھا: حکیم شمس الدین صاحب۔ دَواخانہ بھی، شہرت بھی، اور مریضوں کا ہجوم بھی۔ دوستوں نے — جو دوستی میں اکثر حد سے بڑھ جاتے ہیں — زبردستی حکیم صاحب کو انتخابی میدان میں اتار دیا۔

مقابلہ بظاہر ناہموار تھا۔ دلرُبا جان کا انتخابی ماحول شباب پر تھا؛ ہر شام محفل، ہر رات رقص، ہر طرف ہجوم۔ ادھر حکیم صاحب کے پاس نہ ساز تھے نہ سر — بس چند دوست اور ایک دکھی دل۔ حکیم صاحب نے خفگی میں کہا:

“تم لوگوں نے تو مجھے پٹوا ہی دیا، اب ہار مقدر ہے!”

دوست مگر لکھنوی ذہانت کے وارث تھے۔ انہوں نے ایک ایسا نعرہ تراشا جس میں شہر کی نفسیات بھی تھی اور طنز کی مٹھاس بھی:

“ہے ہدایت چوڪ کے ہر ووٹرِ شوقین کو،

دل دیجیے دلرُبا کو، ووٹ شمس الدین کو!”

یہ سن کر دلرُبا جان نے بھی جواب میں اپنی نزاکت سے گھلا ہوا نعرہ پیش کیا:

“ہے ہدایت چوڪ کے ہر ووٹرِ شوقین کو،

ووٹ دیجیے دلرُبا کو، نبض شمس الدین کو!”

یوں انتخابی معرکہ صرف ووٹوں کا نہ رہا، ذہنوں اور دلوں کا امتحان بن گیا۔

نتیجہ آیا — اور عین لکھنوی مزاج کے مطابق آیا۔ حکیم شمس الدین صاحب کامیاب ٹھہرے۔ شہر نے دل کسی اور کو دیا، مگر ووٹ وہاں ڈالا جہاں علاج کی امید تھی۔

یہاں لکھنؤ کی تہذیب کا وہ درخشاں پہلو سامنے آتا ہے جس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔ دلرُبا جان خود حکیم صاحب کے دولت کدے پر تشریف لائیں، مسکراتے ہوئے مبارک باد دی اور کہا:

“مجھے ہار کا کوئی ملال نہیں، مگر آپ کی جیت نے ایک حقیقت ثابت کر دی ہے:

لکھنؤ میں مرد کم ہیں، مریض زیادہ!”

ایک دوسری روایت — جو اسی قصے کا عوامی، نیم طنزیہ عکس ہے — یہ بتاتی ہے کہ مقابل ایک معروف رقاصہ (مخنث) تھی، اور نتیجہ محض ایک ووٹ کے فرق سے آیا۔ اس روایت میں ہارنے والی نے کہا:

“آپ کے الیکشن نے پورے شہر کی صحت کا سروے کر دیا —

آدھے لوگ صحت مند ہیں جو میرے ساتھ تھے،

اور آدھے سے ایک زیادہ بیمار، جو آپ کے ساتھ!”

یہ جملے محض لطیفہ نہیں، لکھنؤ کی اجتماعی نفسیات، سیاسی شعور اور تہذیبی شائستگی کا آئینہ ہیں۔ یہاں شکست میں بھی وقار ہے، اور فتح میں بھی خود احتسابی۔

اب ذرا اس آئینے کو آج کے انتخابی منظرنامے کے سامنے رکھ کر دیکھیے — خصوصاً بہار کے انتخابی بخار میں۔ ہر امیدوار خود کو عوام کا “حکیمِ وقت” قرار دے رہا ہے۔ کسی کے منشور میں مہنگائی کا علاج ہے، کسی کے وعدوں میں بے روزگاری کی دوا، اور کسی کی تقریروں میں کرپشن کے خلاف کڑوی گولیاں۔

مگر مریض — یعنی عوام — کا بخار اترنے کا نام نہیں لیتا۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج کا انتخاب بھی ایک سیاسی میڈیکل ٹیسٹ ہے، جہاں ووٹر لاشعوری طور پر یہ بتا رہا ہے کہ وہ خود کو صحت مند سمجھتا ہے یا بیمار۔

لہٰذا جب اگلی بار ووٹ ڈالنے جائیں تو ذرا ٹھہر کر سوچیے — اور یہ سوچ محض انگلی کے ایک دباؤ تک محدود نہ رکھیے، بلکہ اپنے شعور، اپنے ضمیر اور اپنی اجتماعی ذمہ داری تک لے جائیے۔

یہ ووٹ واقعی کسی ایسے حکیم کے حق میں جا رہا ہے جو مرض کی تشخیص بھی جانتا ہو، دوا کی مقدار بھی پہچانتا ہو، اور علاج کے بعد تیمارداری کی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہو؟ یا پھر کسی ایسے رقاصۂ سیاست کے نام، جو جلسوں کی محفل میں دل بہلاتا ہے، نعروں کی تھاپ پر تماشہ دکھاتا ہے، مگر اقتدار میں آتے ہی مریض کو اسٹیج پر تنہا چھوڑ کر غائب ہو جاتا ہے؟

یاد رکھیے، انتخاب محض حکومت چننے کا عمل نہیں ہوتا، یہ قوم کی صحت کا اجتماعی ایکسرے ہوتا ہے۔ یہاں ہر ووٹ یہ اعلان کرتا ہے کہ ووٹر ہوش میں ہے یا جذبات کے نشے میں، باشعور ہے یا محض تماش بین، دردِ وطن رکھتا ہے یا وقتی سرور پر قانع ہے۔

جو قوم ہر بار نعرے کی لے پر رقص دیکھ کر فیصلہ کرے، اس کے حصے میں بعد میں سسکیاں ہی آتی ہیں؛ اور جو قوم تلخ دوا سے نہ گھبرائے، اسی کے نصیب میں شفا لکھی جاتی ہے۔

اس لیے فیصلہ آپ کا ہے — مگر یاد رکھیے، اس فیصلے کا اثر کسی ایک نشست، کسی ایک چہرے یا کسی ایک دورِ حکومت تک محدود نہیں رہتا؛ یہ پورے صوبے کی رگوں میں دوڑتا ہے، آنے والی نسلوں کے خون میں شامل ہوتا ہے، اور تاریخ کے نسخے پر مستقل درج ہو جاتا ہے کہ اس دور کے لوگ مریض تھے یا معالج۔

✍️ قاری ممتاز احمد جامعی

📧 majaamai@gmail.com

— لکھنوی تہذیب کے آئینے میں عصرِ حاضر کا انتخابی نوحہ

نوٹ برائے قاری:

یہ تحریر کسی مستند سرکاری انتخابی ریکارڈ کا دعویٰ نہیں کرتی، بلکہ لکھنؤ کی معروف عوامی روایت، ادبی حکایت اور تہذیبی تمثیل پر مبنی ہے، جس کا مقصد تاریخ بیان کرنا نہیں بلکہ سماجی و سیاسی نفسیات کو آئینے میں دکھانا ہے۔



جمعرات، 16 اکتوبر، 2025

دارالسلام سے دارالایمان تک: ایک فکری زوال کا مطالعہ

 دارالسلام سے دارالایمان تک: ایک فکری زوال کا مطالعہ


تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی

majaamai@gmail.com 

مولانا عبداللہ سالم قمر چترویدی کا “دارالسلام سے دارالایمان” تک کا سفر بظاہر ایک انفرادی فیصلہ معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے پسِ منظر میں ایک گہرا فکری، سیاسی اور ایمانی بحران پوشیدہ ہے۔ اس تبدیلی کی کلی تفصیلات پر تو وہی لوگ بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں جو مقامی سطح پر حالات اور شخصیات سے واقف ہیں، لیکن جزوی اعتبار سے جو کچھ عام ذرائع اور سوشل میڈیا کے توسط سے سامنے آیا، وہ اہلِ اسلام و ایمان کے درمیان طرزِ سیاست میں ایسے تضادات کی نشاندہی کرتا ہے جو ہمالیہ سے بھی بلند اور زیادہ بھاری محسوس ہوتے ہیں۔

ہمارے اکابرین نے بارہا متنبہ کیا ہے کہ بھارت جیسے کثیرالمذاہب اور جمہوری ملک میں مذہبی نعروں کی بنیاد پر سیاسی حقوق حاصل کرنے کی کوشش نہ صرف غیر حکیمانہ بلکہ سیاسی حکمت و بصیرت کے منافی ہے۔ دوسری طرف اکثریتی فرقہ ان تمام اصولوں سے ماورا رہ کر مذہب کو براہِ راست سیاست میں داخل کرتا ہے اور اسی کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔

مولانا ابوالکلام آزادؒ نے ایک موقع پر بڑی بصیرت کے ساتھ فرمایا تھا:

> “ہندوستان کے مسلمان اپنے سیاسی رہنماؤں پر کبھی متفق نہیں ہو سکتے، اور یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔”

(حوالہ: India Wins Freedom، حصہ دوم)

تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ہمارے بیشتر قائدین بھی اپنی جماعتی یا ذاتی ترجیحات سے اوپر اٹھ کر قوم کے مفاد میں خالص مخلص نہیں رہ پاتے۔ اس کی وجوہات تاریخی، نفسیاتی اور سماجی سطح پر غور طلب ہیں۔

اسی پس منظر میں ایک سوال ہمیشہ ذہن میں گونجتا ہے کہ سیاسی جماعتیں مولوی کو ہمیشہ “اچھوت” کیوں سمجھتی ہیں؟ انہیں فیصلہ کن عہدوں پر دیکھنے سے کیوں کتراتی ہیں؟ انہیں اکثر “دری بچھانے” یا “تقریر کرنے” تک ہی محدود کیوں رکھتی ہیں؟

اس کی ایک ہی بنیادی وجہ سمجھ آتی ہے — وہ یہ کہ مولوی اگر صحیح معنوں میں اپنے دینی وقار کے ساتھ سیاسی میدان میں داخل ہو جائے تو سیاسی جماعتوں کے مہمانی و نفسانی مفادات پر کاری ضرب پڑتی ہے۔ کیونکہ مولوی کے لیے اپنی عزتِ نفس اور دینی حیثیت کے پیشِ نظر ملی مفاد سے ہٹ کر چلنا بھارت جیسے مذہبی ملک میں تقریباً ناممکن ہے۔ یہی خوف اکثر پارٹیوں کو مذہبی قیادت سے دور رکھتا ہے۔

اسی تناظر میں ماضی کی ایک مثال عبرت آموز ہے کہ مولانا اجمل آسامی جیسے مخلص و فعال رہنما، جنہوں نے مسلم امہ کے لیے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں، ایک غیر معروف امیدوار کے ہاتھوں بھاری ووٹوں سے شکست کھا گئے۔ یہ صرف انتخابی ناکامی نہیں، بلکہ قوم کی فکری بے سمتی اور جذباتی فیصلوں کی علامت ہے۔

یہ تمام واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ جب تک ہم اصولوں اور اجتماعی حکمت پر مبنی سیاسی بصیرت پیدا نہیں کرتے، نعروں اور شخصیات کے حصار سے نکل کر عمل و اخلاص کو معیار نہیں بناتے — نہ دارالسلام سے دارالایمان کے اس سفر کا مفہوم سمجھا جا سکتا ہے، نہ ملت کی سمت درست ہو سکتی ہے


نوٹ: یہاں “دارالسلام” سے مراد مجلسِ اتحاد المسلمین کا مرکزی دفتر (حیدرآباد) ہے، اور “دارالایمان” سے مراد اسی جماعت کا بہار میں قائم صوبائی صدر دفتر (کشنگنج) ہے۔


بدھ، 15 اکتوبر، 2025

مسلم معاشرہ علم کی روشنی میں یا فحاشی کے اندھیروں میں؟

 دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کے دل سے حیاء، غیرت اور دینی شعور رخصت ہو جائے تو اس کی علمی و تہذیبی ترقی بھی اس کے زوال کو نہیں روک سکتی۔ یہی حال آج کے مسلم معاشرے کا ہے — علم و تعلیم کے نعروں کے باوجود ہم کردار اور عقیدے کے میدان میں شکست خوردہ دکھائی دیتے ہیں۔

تعلیم، جو کبھی تزکیۂ نفس اور تعمیرِ کردار کا ذریعہ تھی، آج فحاشی، عریانیت اور بے راہ روی کے فروغ کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ جدید معاشرہ تعلیم کو محض ظاہری آزادی اور معاشی ترقی کا ذریعہ سمجھ بیٹھا ہے، جب کہ اسلام تعلیم کو اخلاق، حیا اور ایمان کی حفاظت کے ساتھ جوڑتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جسے نظرانداز کر کے ہم اپنے وجود کو خود کھو بیٹھے ہیں۔

آج ہماری بچیاں اور نوجوان لڑکے “آزادی” کے جھوٹے نعروں میں الجھ کر اپنے ایمان، نسب اور عزت کی بنیادوں کو کھو رہے ہیں۔

چند دنوں کی چمک دمک، چند لمحوں کی آزادی اور چند ٹکوں کی چاندی کے بدلے میں عزت، حیا اور ایمان کا سودا ہو رہا ہے۔

یہ محض چند افراد کا نقصان نہیں بلکہ امت کے فکری وجود پر ایک کاری ضرب ہے۔

دنیا اس وقت ایک ایسے تعلیمی ماڈل کو فروغ دے رہی ہے جو آزادی کے نام پر بے راہ روی، فیشن، اور جنسی اباحیت کو ترقی سمجھتا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ مسلم معاشرے کے اندر بھی وہی نظریات در آ رہے ہیں جو خاندان کو برباد اور عورت کی عفت کو پامال کرتے ہیں۔

ہم نے تعلیم کو مقصدِ حیات تو بنا لیا، مگر اس کی روح — تربیتِ نفس اور اطاعتِ خداوندی — کھو دی۔

اسی پس منظر میں طالبان کا حالیہ تاریخی دورۂ ہند قابلِ غور ہے۔

میڈیا نے شور مچایا کہ طالبان “لڑکیوں کی تعلیم کے دشمن” ہیں، مگر جب ان کے وزیر نے اطمینان سے جواب دیا کہ:

> “الحمدللہ، ہمارے ملک میں اس وقت ایک کروڑ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں بچیوں کی تعداد اٹھائیس لاکھ ہے — اسلام تعلیم کے خلاف نہیں، بلکہ بے حیائی کے خلاف ہے۔”

یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسلام تعلیم سے نہیں بلکہ فحاشی سے براءت کرتا ہے۔

اسلام عورت کو تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے، مگر عفت و حیا کے دائرے میں، نہ کہ مخلوط ماحول اور بے پردگی کے ساتھ۔

افسوس کہ بھارت جیسے ملک میں، جہاں اکثریتی طبقہ خود مغربی خاندانی نظام کے انہدام کا شکار ہے، یہی تباہ کن نظریات مسلمانوں میں بھی سرایت کر گئے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں بے غیرتی، تاخیرِ نکاح، بھاری جہیز اور تعلیمی آزادی کے غلط مفہوم نے ایسی فضا بنا دی ہے جہاں لڑکیاں خاندانی تحفظ سے محروم، اور والدین خود بے بس ہیں۔

تعلیم کے نام پر “ترقی” کے جو خواب دکھائے جا رہے ہیں، وہ دراصل تباہی کے دروازے ہیں جن سے ہماری نسلیں کھو رہی ہیں۔

اسلامی معاشرے کی بنیاد ہمیشہ حیا، عفت، عدل اور نکاح کی آسانی پر قائم رہی ہے۔

جب یہ بنیادیں ہل جائیں تو باقی ساری عمارت خود بخود گر جاتی ہے۔

ہم نے اپنی بیٹیوں کو تعلیم تو دی، مگر تربیت نہیں دی؛

ہم نے انہیں آزادی دی، مگر ذمہ داری نہیں سکھائی؛

ہم نے ان کے ہاتھوں میں قلم تو دیا، مگر قرآن کی روشنی چھین لی۔

قرآن کہتا ہے:


> “قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا، وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا”

“کامیاب ہوا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک رکھا، اور ناکام ہوا جس نے اسے آلودہ کیا۔” (الشمس: 9–10)

آج ہماری اصل ضرورت یہی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام، اپنے خاندانی ڈھانچے اور اپنے سماجی رویوں کو تزکیۂ نفس کے اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔

اگر تعلیم سے حیا رخصت ہو جائے، اگر علم سے عمل کا تعلق ٹوٹ جائے، اور اگر ترقی ایمان سے جدا ہو جائے — تو وہ تعلیم نہیں، تباہی ہے۔

اصلاح کا راستہ

1. تعلیم کو تزکیہ کے ساتھ جوڑیں:

مدارس اور اسکولوں میں تربیتِ کردار، اخلاقی نصاب اور اسلامی ماحول کو لازم قرار دیا جائے۔

2. خاندانی نظام کی حفاظت کریں:

والدین اپنی اولاد کی تربیت میں ذاتی دلچسپی لیں، وقت پر نکاح کو آسان بنائیں، جہیز اور نمود و نمائش کے فتنے سے بچیں۔

3. میڈیا کے فتنوں کا شعور دیں:

نوجوانوں کو بتائیں کہ آزادی کے نام پر جو ثقافت پیش کی جا رہی ہے، وہ دراصل ایمان کے زوال کی سیڑھی ہے۔

4. علماء و دانشوروں کا فریضہ:

منبر و محراب سے صرف فتوے نہیں، بلکہ فکری رہنمائی اور سماجی بیداری کے پیغام عام کیے جائیں۔

5. نوجوانوں کا کردار:

وہ اپنی توانائیاں حیا، علم اور کردار کی حفاظت میں صرف کریں — کیونکہ مستقبل انہی کے ہاتھ میں ہے۔

یاد رکھیے! امت کا کھویا ہوا وقار نہ کسی کانفرنس سے لوٹے گا، نہ کسی قرارداد سے —

یہ تب لوٹے گا جب ہم اپنے گھروں میں قرآن کی روشنی، اپنی درسگاہوں میں حیا کی خوشبو،

اور اپنی زندگیوں میں محمد ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو زندہ کریں گے۔

اگر آج ہم نے اپنے معاشرے کو ایمان، حیا اور تربیت کے سانچے میں نہ ڈھالا،

تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

وقت کم ہے، مگر امید باقی ہے —

کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے:

> “اِن تَنصُرُوا اللّٰہَ یَنصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ”

“اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہیں مضبوطی عطا فرمائے گا۔” (محمد: 7)

تحریر  قاری ممتاز احمد جامعی 

majaamai@gmail.com 

منگل، 14 اکتوبر، 2025

طالبان: ایک نظریہ جو سپر پاورز کو بے بس کر گیا ✦

 افغانستان اور طالبان کی مثال کے ذریعے عالمی طاقتوں کی ناکامی، نظریاتی استقلال اور فکری خودمختاری پر ایک سنجیدہ تاریخی و تجزیاتی مطالعہ۔


برصغیر کی موجودہ فکری و سیاسی کشمکش بھی دراصل اسی تاریخی سوال کا نیا نام ہے کہ طاقت اور شناخت کی بنیاد کہاں رکھی جائے۔ یہ سرزمین نہ کبھی یک رنگ رہی ہے، نہ کسی ایک متن یا نظریے میں قید کی جا سکتی ہے۔ اس کی اصل پہچان اس تہذیبی امتزاج میں رہی ہے جسے صدیوں تک گنگا جمنی تہذیب کہا گیا — جہاں اسلامی عدل، علم، رواداری اور اخلاق نے مقامی روایتوں کے ساتھ مل کر ایک زندہ سماج تشکیل دیا۔ جب بھی اس خطے نے اس ورثے کو قبول کیا، اسے وسعت، وقار اور عالمی احترام ملا؛ اور جب شناخت کو تنگ نظری، مذہبی سیاست یا قدیم سماجی جکڑ بندیوں میں محدود کرنے کی کوشش کی گئی، تو نتیجہ داخلی انتشار اور اخلاقی انحطاط کی صورت میں سامنے آیا۔ تاریخ بارہا یہ بتاتی رہی ہے کہ تہذیبیں نعروں سے نہیں، اپنے اخلاقی وزن سے پہچانی جاتی ہیں — اور عالمی قیادت کا خواب وہی دیکھ سکتا ہے جو اپنے ماضی کی وسعت کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کا پیمانہ ہمیشہ توپ و تفنگ، معیشت یا عسکری اتحاد نہیں رہے۔ کئی مواقع پر وہ قوت جو دلوں میں راسخ ہو جائے، جو فکر اور یقین کی صورت اختیار کر لے، دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں کو بھی بے بس کر دیتی ہے۔ افغانستان کی حالیہ تاریخ اسی حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہے، جہاں نہ جدید عسکری سازوسامان تھا، نہ عالمی پشت پناہی، مگر ایمان، عزم اور فکری استقامت نے بالآخر وہ مقام دلایا جس کا تصور بھی بڑی طاقتیں نہیں کر پا رہی تھیں۔ یہ وہی سرزمین ہے جس نے انگریز کو آزمایا، سوویت یونین کو توڑا، اور پھر امریکہ و نیٹو جیسی عسکری و اقتصادی قوتوں کو یہ سبق دیا کہ ہر جنگ میدان میں نہیں جیتی جاتی۔

آج جب طالبان کا ذکر عالمی سفارتی حلقوں، میڈیا اور تجزیاتی نشستوں میں ہوتا ہے تو بات محض ایک عسکری تنظیم کی نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسے نظریے کی ہوتی ہے جو مزاحمت، خودمختاری اور نظریاتی استقلال کی علامت بن چکا ہے۔ امریکہ اور نیٹو نے افغانستان میں دنیا کی سب سے مہنگی جنگ لڑی، دو دہائیاں، اربوں ڈالر، جدید ترین اسلحہ اور ہزاروں جانوں کی قربانی دی، مگر انجام کار کابل سے وہ ہنگامی انخلا ہوا جسے ویتنام کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی عالمی سبکی کہا جاتا ہے۔ یہ محض عسکری شکست نہیں تھی بلکہ اس زعم کا انہدام تھا کہ طاقت کے بل پر ہر قوم کو جھکایا جا سکتا ہے۔

مغرب برسوں تک یہ بیانیہ قائم کرتا رہا کہ اسلامی نظامِ حکومت ایک خواب ہے، ایک ناقابلِ عمل تصور۔ طالبان کی واپسی نے اس فکری غرور کو توڑ دیا۔ مدرسوں میں تعلیم پانے والے نوجوان، جنہیں پسماندہ اور غیر متعلق قرار دیا جاتا تھا، دنیا کی بڑی طاقتوں کو شکست دے کر ریاستی نظم قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کے پاس نہ فضائیہ تھی، نہ جدید ٹیکنالوجی، مگر ان کے پاس ایمان، صبر، غیرتِ ایمانی اور داخلی وحدت تھی — وہ غیر مرئی قوت جو مادّی طاقتوں کے تمام حساب کتاب پر بھاری پڑ گئی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان نے اپنے دورِ اوّل کی خامیوں سے سیکھا۔ سیاسی تجربے کی کمی، سفارتی تنہائی اور میڈیا سے دوری جیسی کمزوریاں اب تجربے اور حکمت میں بدل چکی ہیں۔ آج کے طالبان محض بندوق کے حوالے سے پہچانے جانے والی قوت نہیں رہے، بلکہ وہ سفارت، مکالمہ اور بیانیہ سازی کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں۔ عالمی میڈیا سے بات ہو یا علاقائی طاقتوں سے مذاکرات، اب ایک سنجیدہ، منظم اور مدلل موقف سامنے آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے تو وہ خاموشی کے بجائے دلیل، وضاحت اور حکمت کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔

اسی بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کے وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی حفظہ اللہ کا بھارت کا دورہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ وہی طالبان جن کے نام پر چند برس قبل بھارت میں بات کرنا بھی جرم سمجھا جاتا تھا، آج انہی کے لیے سرکاری سطح پر پرتکریم میزبانی ہو رہی ہے، اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ معاہدات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں حالات خود گواہی دے رہے ہیں کہ دنیا جذبات سے نہیں، حقائق سے فیصلہ کرتی ہے۔

اسی دورے کے دوران دارالعلوم دیوبند میں افغان وفد کا استقبال محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھا، بلکہ اس فکری اور روحانی رشتے کی تجدید تھی جس نے برصغیر کی تاریخ کو بھی سمت دی اور افغانستان کی نظریاتی تشکیل میں بھی کردار ادا کیا۔ جب فرقہ پرست ذہنیت کے حامل ایک نمائندے نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ تاج محل، لال قلعہ اور قطب مینار چھوڑ کر دارالعلوم دیوبند کیوں جا رہے ہیں، تو مولوی امیر خان متقی نے جس وقار، سادگی اور علمی اعتماد کے ساتھ جواب دیا، وہ محض ایک سوال کا جواب نہیں تھا بلکہ ایک تہذیبی اعلان تھا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ دیوبند اس لیے جاتے ہیں کہ وہاں نماز ہے، تعلیم ہے، اساتذہ و طلبہ ہیں، اور ایک روحانی و تعلیمی مرکز ہے جس سے ان کا اور ان کے بڑوں کا گہرا تعلق رہا ہے۔

یہ جواب دراصل اس حقیقت کا اظہار تھا کہ علم و ایمان کی بنیاد پر قائم مراکز وقتی طاقتوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ دارالعلوم دیوبند محض ایک مدرسہ نہیں بلکہ وہ فکری و روحانی قلعہ ہے جہاں سے آزادی کی شمع روشن ہوئی، جہاں علم، عمل، تقویٰ اور بصیرت نے وہ نسل تیار کی جس نے غلامی، فکری مرعوبیت اور تہذیبی احساسِ کمتری کے خلاف مزاحمت کی۔ یہی وہ تہذیبی خودداری ہے جو آج بھی سوالوں کے جواب میں نہیں، بلکہ اپنے وجود میں بولتی ہے۔

افغانستان کا موجودہ نظام ہو یا طالبان کا بیانیہ، اسے صرف عسکری یا سیاسی زاویے سے دیکھنا ایک سطحی مطالعہ ہوگا۔ اس کے پیچھے ایک مخصوص فکری روایت، مذہبی تعبیر اور نظریاتی وابستگی کارفرما ہے جسے وہ اپنی شناخت اور حکمرانی کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ شریعت کی بالادستی، خودمختاری کا تصور اور بیرونی دباؤ کے مقابل فکری استقلال — یہ سب عناصر مل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتے ہیں جو متنازع ضرور ہو سکتا ہے، مگر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

افغانستان کا تجربہ ہمیں بار بار اس بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اقوام کی زندگی میں اصل فیصلہ کن قوت اندر سے جنم لیتی ہے۔ جب ایمان، علم اور تہذیبی شعور ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو وہ قومیں عالمی دباؤ، پابندیوں اور عسکری چیلنجوں کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھتی ہیں۔ طاقت کا اصل سرچشمہ وہی ہوتا ہے جو دل و دماغ کو تسخیر کر لے — اور یہی وہ سبق ہے جو افغانستان کی مثال ہمیں تاریخ کے ہر موڑ پر یاد دلاتی ہے۔

طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں بعض ایسے فیصلے سامنے آئے جو عالمی سماج، بالخصوص مغربی اقوام، کے نزدیک ناقابلِ قبول قرار دیے گئے۔ ان میں بامیان کی بدھ مت مورتیوں کی مسماری کو سب سے زیادہ نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے پر دنیا بھر میں شور اٹھا، اور مہذب دنیا کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ یہ آثار خلیفۂ ثانی حضرت عمرؓ کے دور سے موجود تھے، پھر انہیں مسمار کرنے کا اخلاقی یا تاریخی جواز کیا ہے؟ اس موقع پر طالبان کے نمائندوں کو پاکستانی وفود کے ذریعے یہ اعتراضات منتقل کیے گئے، مگر جواب میں جو موقف سامنے آیا، وہ محض ایک دفاعی بیان نہیں بلکہ خودمختاری، نظریے اور سیاسی شعور کا اعلان تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک اور اپنی قوم کے مفاد، اسلامی اقدار کے دائرے میں، بے حد عزیز ہیں — چاہے وہ عالمی قوتوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزریں۔ ان کا شکوہ یہ بھی تھا کہ عالمی سطح پر ہر فورم پر ان کی ناطقہ بندی کی جا رہی ہے، ان کا موقف سمجھے بغیر فیصلے صادر کیے جا رہے ہیں۔ اور پھر وہ جملہ آیا جو اس پوری بحث کو ایک نئے زاویے پر لے گیا: جب میرا وجود ہی تسلیم نہیں کیا جاتا، تو پھر میں جو کروں، اس پر اعتراض کا حق کس بنیاد پر؟ یہ محض تلخی نہیں تھی، بلکہ اس نظامِ فکر کے خلاف ایک دو ٹوک سوال تھا جو خود تسلیم کرنے سے انکار کرے اور پھر اخلاقی درس بھی دے۔

اسی طرح مومنانہ فہم و فراست اور سیاسی حاضر جوابی کا ایک اور واقعہ اُس وقت سامنے آیا جب قطر کی ثالثی میں امریکہ اور نیٹو گروپ کے ساتھ مذاکرات جاری تھے۔ بظاہر یہ ایک عسکری اور سفارتی گفت و شنید تھی، مگر درحقیقت یہ خودمختاری اور برابری کے تصور کا امتحان تھا۔ مذاکرات کے دوران امریکی نمائندے نے شرائط کے ضمن میں ایک نکتہ شامل کیا کہ طالبان اگر دیگر معاملات پر اختلاف نہ بھی کریں، تو انہیں بگرام ایئر بیس درکار ہوگا۔ یہ مطالبہ دراصل مستقبل میں افغان خودمختاری پر ایک مستقل سایہ ڈالنے کی کوشش تھی۔ اس پر طالبان کی جانب سے جو جواب آیا، وہ سفارتی تاریخ کے ان جملوں میں شمار ہوتا ہے جو مسکرا کر کہے جاتے ہیں مگر دور تک گونجتے ہیں۔ جواب یہ تھا کہ اگر بات صرف ایک ایئر بیس کی ہے تو افغانستان کے تمام ہوائی اڈے آپ کے زیرِ انتظام دے دیے جائیں، بدلے میں ہمیں صرف امریکہ کا ایک ہوائی اڈہ دے دیا جائے — واشنگٹن یا نیویارک میں۔ یہ جملہ کسی اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ طاقت کے عدم توازن کو آئینے میں دکھا دینے والا ایک فکری وار تھا، جس نے یہ واضح کر دیا کہ اصل مسئلہ ایئر بیس نہیں، بلکہ وہ برابری ہے جسے بڑی طاقتیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتیں۔

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی

Email: majaamai@gmail.com

جمعہ، 29 ستمبر، 2017

الامداد ٹرسٹ 28 ستمبر کلیانپور سمستی پور

  28 ستمبر کلیانپور سمستی پور 

الامدادایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے درجنوں افراد کی مالی تعاون 
ہر انسان کے ذمے انکی طاقت وبساط کے مطابق مخلوق کی خدمت ضروری ھے اور ہر انسان کی ذمہ داری ھیکہ وہ اپنے قول وفیل سے مخلوق خدا کی خدمت ودلبستگی کرے اور اسکے لیئے کارخیرکاجذبہ رکھے اور اسے ہر بھلائ کی راہ سے باخبر کرے اور تمام برائیوں سے بچانے کی کوشش کرے یہ باتیں الامدادایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری وناظم جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور قاری ممتاز احمد جامعی نے ٹرسٹ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقہ کے درجنوں افراد کے درمیان مالی تعاون کی تقسیم کے موقع پر کہیں انہوں نے کہاکہ اللہ نے مصیبت زدہ لوگوں کی امداد زیادہ سے زیادہ کرنےکی عوام الناس کو تلقین کی اسی مقصد کے پیش نظر ٹرسٹ کا قیام سمستی پور ضلع ہیڈکواٹر سے بیس 20 کیلومیٹر شمال کی جانب کلیانپور حلقہ کے کرھوا گاوءں میں 2009 ء کو ریاست کے مشہورومعروف علماءکرام کے مشورہ اور مددسے عمل میں آیا جنمین قابل ذکر اسم گرامی حضرت مولانا مفتی ثناءالھدی قاسمی صاحب نائب ناظم امارت شریعہ پٹنہ حضرت مولانا افتخار حسین مدنی صاحب نائب صدر ملی فاونڈیشن دہلی حضرت مولانا ابوقمر قاسمی مدھوبنی مولانا انورحسین سیتامڑھی مولانا زین العابدین قاسمی بیگوسرائے وغیرہ ھیں
یہی وجہ ھیکہ یہ ٹرسٹ پسماندہ طبقہ کے اندر دینی ماحول قائم کرنے کیلئے علاقہ میں دینی مکاتب قائم کررھےھین دین سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ناگہانی آفات کے موقع پر امداد کرنے جیسے فلاحی کاموں میں مشغول ومصروف بے اس سال بہار کے اکثر اضلاع میں سیلاب نے قیامت برپاکیاھے جس وجہ کر علاقہ کے غریب عوام نفسانفسی میں گھرے ھوئے ہیں اس غم کو ہلکاکرنے کیلئے ٹرسٹ نے فکر کی اور صوبہ گجرات کے مشہور عالم دین وسرپرست اعلی جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور جناب حضرت مولانا یوسف قاضی صاحب مدظلہ سے درخواست کی جسے حضرت موصوف نے قبول فرمایا اوراپنی اور اپنے خاندان بانگی فیملی کی طرف سے تعاون فرمایا اللہ تعالی حضرت کو صحت وعافیت عطافرمائے ہم سب انکے اور انکے تمام خویش واقارب کیلئے دعاگو اور شکر گزار ھیں اس موقع پر علاقہ کے کئی مشہور عوامی نمائندے وسماجی ورکر موجود تھے باالخصوص مولانا احسان قاسمی مولانا انصرالاسلام نعمانی امام چکمہسی جناب ابوبکر عرف صوفی و سمیع احمد عرف سنجو چکمہسی ماسٹر امتیاز مولانا فیروز قاسمی جناب مستقیم احمد صاحب وغیرہ ان حضرات نے ٹرسٹ وجامعہ کے بانی قاری ممتاز احمد جامعی کی فکرولگن اور کام کی ستائش کی کے پریشان مفلوک الحال لوگوں کی بروقت تعاون کیا جن میں حافظ محمد یحی بوچی ارریہ  مفتی محمد قمر توحید سمستی پور مولانا یاسین شنکرپور مدھوبنی محمد توقیر صلحا سمستی پور محمد شرف الدین منکولی            سمستی پور وغیرہ