ہندوستان میں معمول بنتی جا رہی ناانصافی: ایک آئینی و اخلاقی تجزیہ
جب کسی معاشرے میں ناانصافی بار بار دہرائی جائے اور اس پر سوال اٹھانا غیر معمولی سمجھا جانے لگے، تو وہ ناانصافی آہستہ آہستہ معمول بن جاتی ہے۔ ہندوستان کے موجودہ حالات میں یہ مضمون اسی حقیقت کو آئینی اور اخلاقی زاویے سے پرکھتا ہے، جہاں انصاف، قانون اور سماجی ردِعمل کے درمیان بڑھتا ہوا خلا سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ جملہ کسی سیاسی اشتعال یا وقتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں، بلکہ ہندوستانی ریاست کے حالیہ اخلاقی، آئینی اور ادارہ جاتی سفر کا نچوڑ ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں تشدد نے شرم کھو دی، امتیاز نے معمول کا لباس پہن لیا، اور انصاف آہستہ آہستہ فیصلوں کے بوجھ تلے دب گیا۔ جو کچھ کل تک ناقابلِ تصور تھا، آج ٹی وی مباحث میں “قابلِ فہم” بنایا جا رہا ہے۔ اور جو آج قابلِ فہم ہے، وہ کل انتظامی عمل اور ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ یہ محض سماجی انحراف نہیں ہے، بلکہ آئینی اقدار سے تدریجی دوری کا اعلان ہے۔
یہ تبدیلی کسی ایک دن میں نہیں آئی۔ یہ ایک واضح، منظم اور مسلسل عمل ہے—پہلے زبان بدلی، پھر لہجہ بدلا، اس کے بعد رویّے بدلے، اور آخرکار قانون کی تعبیر بدل دی گئی۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں ریاست آئین کے الفاظ کو برقرار رکھتے ہوئے، اس کی روح سے فاصلہ اختیار کر لیتی ہے۔ قانون باقی رہتا ہے، مگر اس کا اطلاق مساوی نہیں رہتا؛ ضابطے موجود ہوتے ہیں، مگر ان کی سمت شناخت طے کرنے لگتی ہے۔
اس تسلسل کا پہلا بڑا سنگِ میل عدلیہ کے دائرے میں نمایاں ہوا، جب بابری مسجد فیصلے کے ایک اہم سابق جج کا یہ بیان سامنے آیا کہ فیصلہ لکھنے سے پہلے میں نے بھگوان کے سامنے آستھا سے رجوع کیا۔ ایک سیکولر، جمہوری ریاست میں—جہاں انصاف کا پیمانہ آئین، قانون اور شہادت ہوتی ہے—یہ جملہ محض ذاتی عقیدے کا اظہار نہیں رہتا، بلکہ اقلیت کے لیے ایک بنیادی آئینی سوال بن جاتا ہے۔ اگر عدالتی فیصلہ آئینی دلیل کے بجائے ماورائے آئین عقیدے سے اخلاقی یا ذہنی تقویت پانے لگے، تو عدالت کی غیر جانبداری کہاں ٹھہرتی ہے؟ یہی وہ لمحہ تھا جب فیصلے تو ملے، مگر انصاف کی زبان بدلتی محسوس ہوئی۔ یہ تبدیلی محض ایک کیس تک محدود نہیں رہی، بلکہ عدالتی مزاج کے بارے میں ایک گہرا اضطراب پیدا کر گئی۔
اسی تناظر میں حالیہ برسوں میں عدلیہ کے بعض فیصلوں میں ایسے نکات اور حوالہ جاتی اسلوب سامنے آئے ہیں جن میں منوسمرتی جیسے متنازعہ مذہبی متن کو بالواسطہ یا صراحتاً اصولی بنیاد کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی ذات میں ذات پات، عدم مساوات اور انسانی وقار کے منافی تصورات موجود رہے ہیں، اور جسے خود ہندوستانی آئینی فکر نے کبھی قانونی سرچشمہ تسلیم نہیں کیا۔ ایسے میں جب آئینِ ہند کی جگہ کسی مخصوص مذہبی و تہذیبی متن کی روح فیصلوں کے اندر سرایت کرتی دکھائی دے، تو یہ محض ایک قانونی تعبیر نہیں رہتی بلکہ مستقبل کے ریاستی مزاج کا اشارہ بن جاتی ہے۔ یہ رجحان اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ آئینی بالادستی (Supremacy of Constitution — آئین کی بالادستی) کے بجائے ایک خاص نظریاتی نظام—جسے ہندوتوا کہا جاتا ہے—عدالتی فکر پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں انصاف کا معیار آئین نہیں بلکہ اکثریتی نظریہ بن جائے، جو کسی بھی کثیر مذہبی اور جمہوری معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
اسی بدلے ہوئے عدالتی مزاج کے سائے میں موب لنچنگ نے جنم لیا—پھر پھیلی، پھر معمول بنا دی گئی۔ اخلاق، تبریز، پہلو خان، جنید—یہ سب صرف نام نہیں، بلکہ اس حقیقت کی علامت ہیں کہ اب اقلیت کا قتل اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑتا بھی نہیں۔ ویڈیوز موجود ہیں، گواہ موجود ہیں، عالمی میڈیا موجود ہے، مگر انصاف یا تو آتا ہی نہیں، یا اس قدر تاخیر سے آتا ہے کہ مجرم سزا کے بجائے نظام کی نرمی سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں عدالت نے سنبھل واقعہ کے ایک سال بعد ایک مسلم نوجوان کی پولیس گولی سے شہادت پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا، مگر متعلقہ انتظامیہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انکوائری مکمل ہو چکی ہے اور ایف آئی آر کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ واقعہ عدلیہ کے حکم کی عملداری اور انتظامیہ کے رویے کے درمیان اس واضح تضاد کو بے نقاب کرتا ہے جو اب معمول بنتا جا رہا ہے۔
اسی پس منظر میں 20 جنوری 2026 کو الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 14 عدالتی افسران کے تبادلے محض ایک انتظامی کارروائی نہیں لگتے۔ سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وِبھانشو سدھیر—جنہوں نے 9 جنوری 2026 کو پولیس افسران، بشمول اے ایس پی انوج چودھری، کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا—کو چند ہی دنوں بعد سنبھل سے ہٹا کر سلطانپور میں سینیئر سول جج کے عہدے پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ پولیس نے عدالتی حکم پر عمل ہی نہیں کیا۔ اس کے برعکس، چندوسی کے سینیئر سول جج آدتیہ کمار سنگھ—جن کے سابقہ عدالتی احکامات پہلے ہی فرقہ وارانہ نوعیت کے تنازعات سے وابستہ رہے—کو نہ صرف ترقی دی گئی بلکہ انہیں سنبھل کا نیا چیف جوڈیشل مجسٹریٹ بھی مقرر کر دیا گیا۔
یہ ترتیبِ واقعات—ایک طرف ریاستی طاقت کے خلاف قدم اٹھانے والے جج کی فوری منتقلی، اور دوسری طرف متنازعہ عدالتی طرزِ فکر کے حامل جج کی ترقی کے ساتھ ایک حساس ضلع میں تعیناتی—محض اتفاق نہیں لگتی۔ یہ عدالتی غیرجانبداری، ادارہ جاتی دباؤ اور قانون کی حکمرانی کے مساوی اطلاق سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہ محض انصاف میں تاخیر نہیں، بلکہ ایک مخصوص طبقے کے خون کی قانونی وقعت گھٹنے کا عملی اعلان ہے۔ یہاں عدالت کی خاموشی خود ایک بیانیہ بن جاتی ہے—اور خاموشی، جب طاقت کے سامنے ہو، تو غیر جانبداری نہیں رہتی۔
اسی بیانیے کو انتظامیہ نے عملی شکل دی—بلڈوزر کارروائیوں کے ذریعے۔ وہ عمل جو کبھی نوٹس، سماعت، ثبوت اور عدالتی فیصلے سے مشروط تھا، اب پولیس کی پریس بریفنگ پر مکمل ہو جاتا ہے۔ نہ جرم ثابت، نہ سزا طے—صرف شناخت کافی ہے۔ گھروں کا ملبہ اب ثبوت نہیں، بلکہ پیغام ہے: قانون سزا نہیں دے رہا، طاقت اپنی موجودگی جتا رہی ہے۔ یہ عمل قانون کی حکمرانی (Rule of Law — قانون کی بالادستی) کے بجائے طاقت کی حکمرانی کی علامت ہے، جہاں سزا جرم کے بعد نہیں بلکہ الزام کے ساتھ نافذ ہو جاتی ہے۔ اور عدلیہ؟ وہ یا تو خاموش رہتی ہے، یا بعد میں رسمی جملوں کے ذریعے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے—جو آئینی اعتماد کو مزید کمزور کرتی ہے۔
اسی ماحول میں قومی سلامتی کے بیانیے میں وہ زبان داخل ہوئی جس نے تشدد کو نظریاتی جواز فراہم کیا۔ اجیت ڈوبھال کی جانب سے ہندو نوجوانوں کو “تاریخ سے سیکھ کر بدلہ لینے” کا مشورہ—خواہ کسی بھی سیاق میں دیا گیا ہو—ریاستی اشارہ بن جاتا ہے۔ جب اقتدار کے مرکز سے “بدلہ” جیسی لغت مانوس ہو جائے، تو سڑک پر ہونے والا تشدد محض حادثہ نہیں رہتا، بلکہ ایک فکری اور عملی تسلسل بن جاتا ہے۔ یہ زبان تشدد کو استثنا نہیں، بلکہ قومی فریضہ بنا کر پیش کرتی ہے۔
یہی تسلسل موہن بھاگوت کے اس اعلان میں مزید واضح، سخت اور بھیانک صورت اختیار کر لیتا ہے کہ بھارت ہندوتو راشٹر بن کر رہے گا۔ یہ محض ایک نظریاتی خواہش نہیں، بلکہ مستقبل کے اس نقشے کا اعلان ہے جس میں آئین ثانوی، شہریت مشروط، اور اقلیت مستقل سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ یہ مستقبل کسی ایک دن نافذ نہیں ہوگا—یہ قدم بہ قدم، عدالتی فیصلوں، انتظامی خاموشیوں، اور سماجی رعایتوں کے ذریعے آئے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے ناقابلِ قبول پہلے قابلِ بحث بنا، پھر معمول، اور آخرکار پالیسی۔
اس پورے منظرنامے میں صحافت کا کردار سب سے زیادہ فیصلہ کن—اور سب سے زیادہ دوغلا—نظر آتا ہے۔ میڈیا اب محض خبر رساں ادارہ نہیں رہا، بلکہ بیانیہ ساز (Narrative Builder — رائے و فہم کی تشکیل کرنے والا ذریعہ) اور سماجی اجازت نامہ تیار کرنے والا ایک طاقتور آلہ بن چکا ہے۔ جب ہندو لڑکی اور مسلم لڑکا اپنی مرضی سے شادی کریں، تو اسے “لو جہاد” بنا کر پورے مسلم سماج کو شک کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے؛ ٹاک شوز، سرخیاں اور مہمات ماحول کو اس حد تک زہر آلود کرتی ہیں کہ تشدد کے لیے سماجی قبولیت پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن جب معاملہ الٹ ہو—مسلم لڑکی اور ہندو لڑکا—تو وہی میڈیا اسے “پیار کی جیت” اور “گنگا جمنی تہذیب” قرار دیتا ہے۔ یہ دوغلا معیار نفرت کو معمول بناتا ہے، تشدد سے پہلے ذہنی ہمواری پیدا کرتا ہے، اور قانون کے یکساں اطلاق کی راہ مسدود کر دیتا ہے۔
اسی دوغلے پن کے بیچ بعض انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیانات—جو مختلف مواقع پر رپورٹ ہوئے—نفرت کو ہوا دیتے ہیں اور تشدد کی اخلاقی سرحدیں مٹا دیتے ہیں۔ یہاں سوال نعروں یا وقتی اشتعال کا نہیں، بلکہ جوابدہی کا ہے: ایسی زبان کو معمول بنانے والوں کا محاسبہ کہاں ہے؟ اور اگر محاسبہ نہیں، تو پھر یہ زبان جرم سے پہلے ریاستی رضامندی کیوں نہ سمجھی جائے؟
اس کا سب سے گہرا اور خاموش اثر جیلوں میں نظر آتا ہے۔ بغیر ٹرائل گرفتار مسلم نوجوان برسوں سے ضمانت کے منتظر ہیں، جبکہ دوسری طرف سنگین سزاؤں کے حامل قیدیوں کو پیرول، ضمانت اور دیگر مراعات حاصل ہیں۔ یہاں جرم بول نہیں رہا—شناخت بول رہی ہے۔ ضمانت، جو کبھی اصول تھی، اب مخصوص طبقے کے لیے نایاب استثنا بن چکی ہے۔ جب ضمانت اصول کے بجائے شناخت سے مشروط ہو جائے، تو یہ محض ایک طبقے کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پورے عدالتی نظام کی ساکھ پر ایک سنگین سوال بن جاتا ہے۔
یہ سب الگ الگ حادثات نہیں۔ یہ ایک واضح پیٹرن ہے۔ عدلیہ کی مطابقت، انتظامیہ کی جارحیت، مقننہ کی خاموشی، اور صحافت کی بیانیاتی جانبداری—سب مل کر وہ فضا بناتے ہیں جس میں ناقابلِ قبول قابلِ بحث بنتا ہے، اور قابلِ بحث ریاستی پالیسی میں ڈھل جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب جمہوریت اپنے اندر سے کھوکھلی ہونے لگتی ہے، اور آئین محض ایک رسمی دستاویز بن کر رہ جاتا ہے۔
ایسے میں مسلم ملی، سماجی اور سیاسی ذمہ داران کے لیے یہ ایک سنجیدہ، شاید آخری نوٹس ہے۔ جتنا دیر سے اس بدلتی ہوئی حقیقت کا ادراک کیا جائے گا، اتنی ہی قیمت مہنگی ہوگی۔ یہ وقت رسمی بیانات، وقتی احتجاج یا کاغذی قراردادوں کا نہیں۔ یہ وقت اجتماعی فہم، طویل المدت حکمتِ عملی، قانونی شعور اور اخلاقی وضاحت کا ہے—کیونکہ تاریخ انتظار نہیں کرتی، وہ قیمت وصول کرتی ہے۔
آخر میں یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ تحریر نہ کسی عدالت کی توہین ہے، نہ کسی ادارے یا قوم پر الزام۔ یہ آئینی وعدوں اور زمینی حقیقت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی ایک ایماندارانہ تشخیص ہے۔ جمہوریت میں ایسی تشخیص بغاوت نہیں، بلکہ شہری اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر یہ تحریر تلخ لگے، تو وجہ الفاظ نہیں—حقیقت ہے۔
کیونکہ تاریخ گواہ ہے: جب ناقابلِ قبول کو قابلِ بحث بنا دیا جائے، تو خاموشی کبھی کبھی مجبوری ہوتی ہے— مگر بھول جانا ہمیشہ خودکشی ہوتی ہے۔
تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی
Email: majaamai@gmail.com
یہ مضمون ہندوستان میں آئینی، عدالتی، انتظامی اور صحافتی بیانیے کے باہمی تعامل کا ایک سنجیدہ تجزیہ پیش کرتا ہے، جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ناقابلِ قبول رویّے بتدریج معمول اور پھر ریاستی پالیسی میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
Mashallah
جواب دیںحذف کریں