MUMTAZ AHMED JAMAEE ایک فکری و معلوماتی بلاگ ہے جو دینی و اسلامی نظریات، بھارتی سیاسی و سماجی حالات، اور تہذیبی مباحث کو صحافتی زاویے سے پیش کرتا ہے۔ یہاں ہر تحریر علم، تحقیق اور اعتدال پر مبنی ہے — مقصد ہے قارئین میں فکری بیداری، مثبت سوچ اور ذمہ دارانہ شعور کو فروغ دینا۔
بدھ، 31 دسمبر، 2025
لبرل شائستگی، میڈیا ٹرائل اور مفتی شمائل ندوی: ایک فکری و اخلاقی احتساب
بدھ، 17 دسمبر، 2025
ریاست، عورت اور آئین: جب اقتدار خود وقار کا منکر بن جائے
Bihar CM Nitish Kumar Pulls Woman Doctor’s Hijab (YouTube)
An analytical column examining constitutional morality in India through women’s dignity, religious freedom, minority rights, and the limits of state power, based on a recent public incident.
ریاست، عورت اور آئین: جب اقتدار خود وقار کا منکر بن جائے
تمہید: مسئلہ ایک ویڈیو نہیں، ایک ذہنیت ہے
پٹنہ کی ایک سرکاری تقریب میں بہار کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے حجاب کو زبردستی ہٹانے کا منظر اگر محض ایک لمحاتی بدتمیزی سمجھ لیا جائے تو یہ خود فریبی ہوگی۔ یہ واقعہ اس ریاستی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں عورت کے جسم، مذہبی شناخت اور ذاتی وقار کو اقتدار کے تابع سمجھ لیا جاتا ہے۔
یہ سوال اب کسی فرد کی نفسیات تک محدود نہیں رہا بلکہ آئینی اخلاقیات (Constitutional Morality) سے جڑ چکا ہے—وہ اخلاقیات جنہیں ہندوستانی آئین نے جمہوریت کی بنیاد بنایا ہے۔
آئینی دائرہ: ریاست کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟
بھارتی آئین واضح طور پر یہ طے کرتا ہے کہ ریاست شہری کے جسم، لباس اور مذہبی شناخت پر جبر نہیں کر سکتی:
آرٹیکل 14: قانون کی نظر میں مساوات
آرٹیکل 15: جنس اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت
آرٹیکل 19: اظہارِ ذات اور طرزِ زندگی کی آزادی
آرٹیکل 21: شخصی وقار اور نجی زندگی کا حق
آرٹیکل 25: مذہبی آزادی
ان دفعات کا مجموعی مفہوم یہ ہے کہ ریاست شہری کے ذاتی انتخاب میں اس وقت تک مداخلت نہیں کر سکتی جب تک وہ انتخاب کسی دوسرے شہری کے بنیادی حقوق کو مجروح نہ کرے۔
کسی خاتون کے لباس میں زبردستی مداخلت نہ صرف اس کی شخصی آزادی کی نفی ہے بلکہ یہ ریاستی طاقت کے غلط استعمال کی واضح مثال بھی ہے—خصوصاً جب یہ عمل ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز فرد کی جانب سے ہو۔
تحقیر کا منظرنامہ: ویڈیو کیا ظاہر کرتی ہے؟
ویڈیو کا باریک مطالعہ تین بنیادی حقائق کو بے نقاب کرتا ہے:
1. بلا اجازت جسمانی قربت اور ذاتی دائرے میں مداخلت
2. پس منظر میں ہنسی اور خاموش تماشائی—یعنی اجتماعی بے حسی
3. عورت کے مذہبی انتخاب کو غیر متعلق سمجھنے کا رویہ
یہ عناصر مل کر بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ محض ایک ذاتی لغزش نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کا اظہار ہے جو ریاست کو عورت کے جسم اور شناخت پر بالادست تصور کرتی ہے۔
ایک وسیع تر تسلسل: انفرادی واقعہ نہیں، ریاستی رویہ
یہ واقعہ ایک بڑے اور مسلسل مسئلے کا حصہ ہے، جس کی جھلک ان معاملات میں بھی نظر آتی ہے:
بلقیس بانو کیس میں مجرموں کے ساتھ نرمی
کتھوعہ میں آصفہ کے مقدمے میں طاقتور عناصر کا اثر
ہاتھرس میں متاثرہ خاندان کے وقار کی پامالی
اتر پردیش میں اخلاقی لنچنگ سے متعلق مقدمات کی واپسی
یہ تمام مثالیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جب ریاست نظریاتی طور پر جانبدار ہو جائے تو انصاف کمزور اور انسانی وقار غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔
مسئلہ قوم کا نہیں، نظریاتی ریاست کا ہے
اس پورے پس منظر میں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ناگزیر ہے: مسئلہ کسی مذہب یا قوم کا نہیں بلکہ ایک ایسے نظریاتی ریاستی رویے کا ہے جو اکثریت کے نام پر کمزور طبقات کے حقوق کو ثانوی بنا دیتا ہے۔
جب عورت کے وقار کو اصلاح کے نام پر پامال کیا جائے، مذہبی شناخت کو پسماندگی سے جوڑا جائے اور انصاف کو اکثریتی جذبات کے تابع کر دیا جائے تو یہ آئینی جمہوریت نہیں بلکہ طاقت کی حکمرانی بن جاتی ہے۔
نتیجہ: آئین بطور آئینہ
یہ تحریر کسی طبقے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ آئین کو آئینہ بنا کر ریاستی رویے کو پرکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
جمہوریت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اکثریت کیا چاہتی ہے بلکہ یہ ہے کہ کمزور کے وقار، عورت کی آزادی اور اقلیت کے آئینی حقوق کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔ اگر ریاست اس ذمہ داری سے انحراف کرے تو تاریخ، عالمی ضمیر اور خود آئینی اصول اس کا احتساب کرتے ہیں۔
By: Qari Mumtaz Ahmad Jamaee
Email: majaamai@gmail.com
اتوار، 7 دسمبر، 2025
اسلامی عدل کا درخشاں ورثہ اور آج کے فیصلوں کا زوال
پیر، 1 دسمبر، 2025
نور سے اندھیرے تک: نسلوں کے بدلنے کی وہ خاموش حقیقت جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں
نور سے اندھیرے تک: نسلوں کے بدلنے کی وہ خاموش حقیقت جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں
مرتب: قاری ممتاز احمد جامعی
Email: majaamai@gmail.com
نسلوں کا سفر انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ ایمان وراثت میں منتقل نہیں ہوتا؛ اسے حفاظت، تربیت اور صالح ماحول کے سائے میں پروان چڑھانا پڑتا ہے۔ تاریخ میں ایسے کئی خاندان ملتے ہیں جن کے سفر کی ابتدا نور، علم اور دینداری سے ہوئی، مگر چند ہی نسلوں بعد وہ فکری اندھیروں میں گم ہوگئے۔ یہ معاملہ محض ایک نظری بحث نہیں؛ اس کی زندہ مثالیں ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔ جاوید اختر کا خانوادہ اسی حقیقت کا بین ثبوت ہے—وہ خاندان جس کی بنیاد علمِ دین، جہادِ آزادی اور اسلامی غیرت کے ستونوں پر رکھی گئی تھی۔ ان کے پردادا مولانا فضلِ حق خیرآبادیؒ وہ عظیم مجاہد اور بلند پایہ عالم تھے جنہوں نے 1857 میں انگریز کے خلاف تاریخی فتویٰ صادر کیا اور جنہیں برصغیر میں “شیخ الاسلام” کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی علمی قد آور شخصیت، استقامت اور خدمات ہماری دینی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ جاوید اختر کے دادا مضطر خیرآبادی بھی شعر و ادب کے باوقار نام اور دینی و تہذیبی وقار کے حامل تھے۔ ان کے والد جانثار اختر ممتاز شاعر تھے، مگر رفتہ رفتہ سوشلسٹ فکر کے زیرِ اثر مذہبی وابستگی کمزور پڑتی چلی گئی۔ اور یہی فکری زوال چند دہائیوں میں ایسے نقطے تک جا پہنچا کہ انہی نسلوں کے وارث جاوید اختر نے خدا کے وجود ہی کا انکار اپنا فکری تشخص بنا لیا۔ یہ پوری داستان اس حقیقت کی بڑی دلیل ہے کہ نسلوں کی فکری سمت بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
اسی طرح تسلیمہ نسرین کا پس منظر بھی اسلامی اخلاق اور مشرقی اقدار سے خالی نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں مذہب سے لاتعلقی کا کوئی تصور نہ تھا۔ ان کے والد ڈاکٹر رفیق الاسلام باوقار، تعلیم یافتہ اور با شعور انسان تھے جن کے گھر میں قرآن کی تلاوت، تہذیبی شائستگی اور خاندانی اقدار کی فضا موجود تھی۔ مگر ذہنی بغاوت، مغربی فکر کی یلغار، شہرت کی خواہش اور مذہب بیزار حلقوں کی حوصلہ افزائی نے انہیں اپنی بنیادی شناخت سے دور کر دیا—یہاں تک کہ مذہب پر حملہ ان کے اظہار کا انداز بن گیا۔
سلمان رشدی کا خاندانی ماحول بھی اسلام اور تہذیبی ادب سے ناآشنا نہ تھا۔ ان کے والد انوار رشدی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ، تہذیبی سلیقے اور ادبی ذوق رکھنے والے شخص تھے۔ گھر میں مشرقی آداب اور مذہبی احترام موجود تھا۔ مگر مغربی علمی دنیا کی چکاچوند، اس کے فکری جال اور نظریاتی غلامی نے انہیں ایسی تحریر لکھنے کی طرف دھکیل دیا جس نے پوری مسلم دنیا کے دل زخمی کیے۔
یہ تینوں مثالیں اس ناقابلِ انکار حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ اگر نسلوں کو دین کی روشنی اور ایمان کی نرم آنچ مہیا نہ کی جائے، اگر ان کے ذہن، فکر اور اخلاق کے نگہبان موجود نہ ہوں، اگر گھر کا ماحول ایمان کا محافظ نہ ہو—تو چند نسلوں کے اندر ایک خاندان کی فکری بنیادیں مکمل طور پر ڈھل سکتی ہیں۔ اسلام کسی شاعر، ادیب، مفکر یا خاندان کا محتاج نہیں۔ اللہ کی ربوبیت اور دینِ حق کی شان کسی ایک فرد یا خاندان کے انکار سے نہ کبھی کم ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ خسارہ تو اسی شخص اور اس کی نسلوں کا ہے جو اپنے ہاتھوں اپنی آخرت کا چراغ بجھا بیٹھے۔
اسی پس منظر میں 20 دسمبر 2025 کو دہلی میں ہونے والا مکالمہ “Does God Exist?” غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک جانب جاوید اختر ہیں—جن کے فکری ڈھانچے کی بنیاد خدا کے انکار پر قائم ہے، اور دوسری جانب مفتی شمائل ندوی—جو وحی، عقلِ سلیم اور علمی استدلال کی روشنی میں خدا کے وجود کا مضبوط مقدمہ پیش کرنے والے محقق و عالم ہیں۔ یہ محض دو شخصیات کی بحث نہیں؛ یہ دو نظریات کا ٹکراؤ ہے: ایک طرف الحاد، شک اور مادیت کی تاریکی؛ دوسری طرف ایمان، فطرت، وحی اور عقل کا نور۔
یہ زمانہ ہمیں مسلسل یاد دہانی کرا رہا ہے کہ اپنی نسلوں کی حفاظت کیجیے۔ انہیں قرآن و سنت سے جوڑیے، صالح ماحول دیجئے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت دلوں میں بٹھائیے۔ اگر تربیت کا چراغ بجھ گیا اور گھر کا ماحول ایمان کا نگہبان نہ رہا تو وہی حالات دہرائے جائیں گے—چند نسلوں میں ایمان کمزور پڑتا جائے گا، اور لوگ وہاں پہنچ جائیں گے جہاں خدا کے انکار پر فخر کیا جاتا ہے۔
اس لیے غور کیجیے… سوچئے… اپنے گھرانے کے مستقبل کی ذمہ داری سنبھالیے۔ ایمان کی حفاظت علم، تربیت اور نیک ماحول سے ہوتی ہے۔ ورنہ نسلوں کا بدل جانا وقت کا محتاج نہیں ہوتا۔
