بدھ، 31 دسمبر، 2025

لبرل شائستگی، میڈیا ٹرائل اور مفتی شمائل ندوی: ایک فکری و اخلاقی احتساب

لبرل شائستگی، میڈیا ٹرائل اور مفتی شمائل ندوی: ایک فکری و اخلاقی احتساب
Hybrid Opening | لبرل اخلاقیات اور مذہبی کردار کشی کا تضاد
ڈبیٹ کے اسٹیج پر جاوید اختر کا یہ جملہ—
“میرے اچھے ہونے سے زیادہ مشکل مذہبی لوگوں کا اچھا ہونا ہے”—
اور اس کے جواب میں مفتی شمائل ندوی کی مدلل، متوازن اور علمی گفتگو؛ پھر اختتام پر ماڈریٹر کے اعلان کے بعد جاوید اختر کا سامعین سے یہ کہنا کہ
“اب ہم مفتی صاحب کے ساتھ کھانا کھائیں گے”—
یہ سب کچھ بظاہر شائستگی، رواداری اور مثبت مکالمے کی ایک دلکش تصویر پیش کرتا ہے۔
مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا لبرل اور ایتھیسٹ حلقوں میں “اچھا ہونا” محض اسٹیج کی حد تک ایک اداکاری ہے؟ کیا اچھا ہونا یہ ہے کہ سامنے بیٹھ کر کھانا کھا لیا جائے، لیکن پسِ پردہ اسی فریق کے خلاف میڈیا ٹرائل، کردار کشی، سیاق و سباق سے کاٹی گئی ویڈیوز اور گودی میڈیا کے ذریعے منظم بدنامی کی مہم چلنے دی جائے؟ اگر یہ مباحثہ واقعی اکیڈمک، علمی اور پرامن تھا تو پھر فرقہ پرست عناصر اور زرد صحافت کو یہ اخلاقی جواز کس نے فراہم کیا؟ اور اگر مفتی شمائل ندوی کے کسی بیان میں پہلے ہی کوئی قابلِ مواخذہ بات موجود تھی تو وہ ان کی مقبولیت کے بعد ہی کیوں دریافت ہوئی—اس سے پہلے کیوں نہیں؟
مفتی شمائل ندوی کے ڈبیٹ کے بعد فتنوں کی یلغار
مفتی شمائل ندوی کے حالیہ ڈبیٹ کے بعد گویا فتنوں کا دروازہ کھل گیا ہے۔ وہ تمام فرقہ پرست اور شرپسند عناصر جو مدتوں تاک میں بیٹھے تھے، اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ یہ بھی کوئی ساجد رشیدی یا انصار رضا طرز کا مولوی ہوگا، جو حصولِ شہرت کے شوق میں جاوید اختر جیسے منجھے ہوئے اور آزمودہ مباحث سے الجھ پڑا ہے۔ جاوید اختر، جو اس سے قبل انجنا اوم کشیپ، طارق فتح اور سادھو گرو جیسے افراد کو بھی دن میں تارے دکھا چکے ہیں، ان کے سامنے یہ نوخیز عالم کہاں ٹھہر پائے گا؟ اور یوں اسلام پر طنز، تمسخر اور استہزا کا ایک نیا میدان ہاتھ آئے گا۔
لیکن نتیجہ ان تمام اندازوں کے بالکل برعکس نکلا۔ مفتی شمائل ندوی نے جس سنجیدگی، شائستگی اور وقار کے ساتھ گفتگو کی، اس نے اتنے بڑے اور حساس ڈبیٹ کے باوجود میڈیا کو کوئی سنسنی خیز مسالا فراہم نہیں کیا۔
سیاق و سباق سے کٹی ویڈیوز اور منظم کردار کشی
چونکہ اس مباحثے سے اسلام کو نیچا دکھانے یا تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ نہ آیا، اس لیے اب سیاق و سباق سے کاٹی گئی پرانی ویڈیوز کو بنیاد بنا کر مفتی شمائل ندوی کی گھیرابندی شروع کر دی گئی۔ ہندوتوا وادی، لبرل و ایتھیسٹ حلقے، بعض بریلوی، کچھ غیر مقلدین اور گودی میڈیا—سب ایک صف میں آ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کی اپنی تکلیف اور اپنا ایجنڈا ہے۔
حالاں کہ یہ ڈبیٹ “اللہ” کے وجود پر نہیں بلکہ “God” کے وجود پر تھا—جو ہر مذہب کی بنیاد اور اساس ہے—مگر ہندوتوا وادیوں کو اسلام پر طنز کا موقع نہ ملا، ایتھیزم منطقی بنیادوں پر مؤثر کارکردگی نہ دکھا سکا، بعض متشدد سلفیوں نے عقیدے میں کج فہمی تلاش کر لی، اور بریلوی حلقوں کو—جیسا کہ روایت ہے—ہر وہ کوشش ناگوار گزری جس سے اسلام کی سربلندی کا پہلو نکلتا ہو۔
لیکن دلچسپ اور افسوسناک بات یہ ہے کہ میڈیا ٹرائل اور کردار کشی کی ابتداء دراصل ایک محدود، مگر متعفن حلقے سے ہوئی۔ ڈاکٹر شجاعت علی قادری، جو بریلوی فکر و نہج کے علمبردار ہیں، نے X پر ایک ٹوئیٹ کے ذریعے مباحثے کے بعد تنقید کا آغاز کیا۔ اس ٹوئیٹ کو ری ٹوئیٹ کرتے ہوئے ایک کانگریس لیڈر—جو دراصل آر ایس ایس کا نمائندہ ہے—کانگریس کے پلیٹ فارم سے یہ لکھتا ہے کہ مفتی شمائل ندوی کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ایک ایسا منظم میڈیا ٹرائل شروع ہوا جس میں سماجی اور فکری ماحول تقریباً کینسر زدہ محسوس ہونے لگا، اور منفی رویے ایک طرح سے اجتماعی تعفن کی صورت منہ کھولنے لگے، جس نے مفتی صاحب کی سچائی اور علمی کردار کو نشانہ بنایا۔
اپنوں کی خاموشی اور داخلی انتشار
نتیجتاً مفتی شمائل ندوی کے خلاف اشتعال انگیزی کی ایک منظم مہم چل پڑی۔ ایسے نازک اور حساس موقع پر تو کم از کم اپنوں کو آگے آنا چاہیے تھا، حوصلہ دینا چاہیے تھا، غیر مشروط حمایت کرنی چاہیے تھی؛ مگر افسوس کہ ہم خود ہی آپس میں دست و گریباں ہو گئے۔ یہ المیہ محض شخصی نہیں بلکہ فکری اور ادارہ جاتی ہے۔
دیوبند و ندوہ: مشترکات کے باوجود تصادم
یہ کتنی افسوس ناک حقیقت ہے کہ دو ایسے ادارے، جن کا خدا و رسول ایک، دین و فکر ایک، ملت و مذہب ایک، مشرب و مسلک میں بنیادی اتحاد، اور نصاب میں فقہ و حدیث جیسی کتب مشترک ہیں—وہ محض فنونِ آلیہ کے چند اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔ دیوبند کے بعض فضلاء ندوی فضلاء کو “ہیولی” اور “صورتِ جسمیہ” نہ جاننے کا طعنہ دیں، اور ندوی حلقوں سے دیوبندی فضلاء کو محض “مناظرہ باز” کہہ کر ڈی گریڈ کرنے کی کوشش کی جائے—یہ روش علمی اختلاف نہیں بلکہ فکری تنگ نظری کی علامت ہے۔
تضادِ فکر: باہر محبت، اندر نفرت
ہم ان لوگوں سے محبت، امن اور بھائی چارے کی امید رکھتے ہیں جن سے ہمارے دین، مذہب، خدا اور رسول میں کوئی بنیادی اشتراک نہیں؛ لیکن جن کے ساتھ سو میں سے ننانوے امور میں اتحاد ہے، ان سے ایک اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ یہ طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ کھلے فرقہ پرستوں سے بھی زیادہ خطرناک فرقہ پرست ہیں—کیونکہ وہ اتحاد کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔
نوخیزی، بے احتیاطی اور اخلاقی ذمہ داری
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ مفتی شمائل ندوی سے بعض مقامات پر بے احتیاطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ وہ نوخیز ہیں، ابھی ابتدائے سفر میں ہیں، اور یہ فطری امر ہے۔ مگر یہ نہ اس وقت کا تقاضا ہے کہ ان لغزشوں کو اچھالا جائے، نہ عوامی محاسبہ کیا جائے۔ یہ وقت ان کا حوصلہ بڑھانے، ان کے ساتھ کھڑے ہونے اور غیر مشروط حمایت کا ہے۔
البتہ جن اہلِ علم یا احباب کا ان سے ذاتی تعلق ہے، وہ خلوص کے ساتھ نجی طور پر رہنمائی کر سکتے ہیں—خصوصاً اس تناظر میں کہ وہ ایک امریکی استاد کے شاگرد ہیں، خود امریکی شہری نہیں۔
Powerful Conclusion | اصل امتحان شائستگی نہیں، دیانت ہے
اصل سوال یہ نہیں کہ کون اسٹیج پر کتنا شائستہ تھا، یا کس نے کس کے ساتھ کھانا کھایا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اسٹیج سے اترنے کے بعد کون سچ کے ساتھ کھڑا رہا، اور کون خاموشی کے پردے میں ناانصافی کا شریک بنا۔ اگر علمی مکالمہ واقعی مثبت، پرامن اور اکیڈمک تھا، تو پھر اس کے بعد چلنے والی کردار کشی، میڈیا ٹرائل اور فرقہ پرستانہ زہر آلود مہم پر جاوید اختر (شریکِ مباحثہ) اور سوربھ دیویدی (ماڈریٹر) کی خاموشی خود ایک اخلاقی جرم ہے۔
مفتی شمائل ندوی کا معاملہ کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ یہ اس اجتماعی رویّے کا امتحان ہے جس میں ہم باہر والوں سے اخلاقیات کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر اندر اپنے ہی لوگوں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر ہم نے اس موقع پر بھی انصاف، دیانت اور فکری بالغ نظری کا ثبوت نہ دیا، تو یاد رکھیے—نقصان کسی ایک 
عالم کا نہیں ہوگا، بلکہ پوری امت کے فکری وقار کا ہوگا۔

قاری ممتاز احمد جامعی 
majaamai@gmail.com 

بدھ، 17 دسمبر، 2025

ریاست، عورت اور آئین: جب اقتدار خود وقار کا منکر بن جائے


Bihar CM Nitish Kumar Pulls Woman Doctor’s Hijab (YouTube)

An analytical column examining constitutional morality in India through women’s dignity, religious freedom, minority rights, and the limits of state power, based on a recent public incident.

ریاست، عورت اور آئین: جب اقتدار خود وقار کا منکر بن جائے

تمہید: مسئلہ ایک ویڈیو نہیں، ایک ذہنیت ہے

پٹنہ کی ایک سرکاری تقریب میں بہار کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے حجاب کو زبردستی ہٹانے کا منظر اگر محض ایک لمحاتی بدتمیزی سمجھ لیا جائے تو یہ خود فریبی ہوگی۔ یہ واقعہ اس ریاستی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں عورت کے جسم، مذہبی شناخت اور ذاتی وقار کو اقتدار کے تابع سمجھ لیا جاتا ہے۔

یہ سوال اب کسی فرد کی نفسیات تک محدود نہیں رہا بلکہ آئینی اخلاقیات (Constitutional Morality) سے جڑ چکا ہے—وہ اخلاقیات جنہیں ہندوستانی آئین نے جمہوریت کی بنیاد بنایا ہے۔

آئینی دائرہ: ریاست کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟

بھارتی آئین واضح طور پر یہ طے کرتا ہے کہ ریاست شہری کے جسم، لباس اور مذہبی شناخت پر جبر نہیں کر سکتی:

آرٹیکل 14: قانون کی نظر میں مساوات

آرٹیکل 15: جنس اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت

آرٹیکل 19: اظہارِ ذات اور طرزِ زندگی کی آزادی

آرٹیکل 21: شخصی وقار اور نجی زندگی کا حق

آرٹیکل 25: مذہبی آزادی

ان دفعات کا مجموعی مفہوم یہ ہے کہ ریاست شہری کے ذاتی انتخاب میں اس وقت تک مداخلت نہیں کر سکتی جب تک وہ انتخاب کسی دوسرے شہری کے بنیادی حقوق کو مجروح نہ کرے۔

کسی خاتون کے لباس میں زبردستی مداخلت نہ صرف اس کی شخصی آزادی کی نفی ہے بلکہ یہ ریاستی طاقت کے غلط استعمال کی واضح مثال بھی ہے—خصوصاً جب یہ عمل ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز فرد کی جانب سے ہو۔

تحقیر کا منظرنامہ: ویڈیو کیا ظاہر کرتی ہے؟

ویڈیو کا باریک مطالعہ تین بنیادی حقائق کو بے نقاب کرتا ہے:

1. بلا اجازت جسمانی قربت اور ذاتی دائرے میں مداخلت

2. پس منظر میں ہنسی اور خاموش تماشائی—یعنی اجتماعی بے حسی

3. عورت کے مذہبی انتخاب کو غیر متعلق سمجھنے کا رویہ

یہ عناصر مل کر بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ محض ایک ذاتی لغزش نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کا اظہار ہے جو ریاست کو عورت کے جسم اور شناخت پر بالادست تصور کرتی ہے۔

ایک وسیع تر تسلسل: انفرادی واقعہ نہیں، ریاستی رویہ

یہ واقعہ ایک بڑے اور مسلسل مسئلے کا حصہ ہے، جس کی جھلک ان معاملات میں بھی نظر آتی ہے:

بلقیس بانو کیس میں مجرموں کے ساتھ نرمی

کتھوعہ میں آصفہ کے مقدمے میں طاقتور عناصر کا اثر

ہاتھرس میں متاثرہ خاندان کے وقار کی پامالی

اتر پردیش میں اخلاقی لنچنگ سے متعلق مقدمات کی واپسی

یہ تمام مثالیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جب ریاست نظریاتی طور پر جانبدار ہو جائے تو انصاف کمزور اور انسانی وقار غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔

مسئلہ قوم کا نہیں، نظریاتی ریاست کا ہے

اس پورے پس منظر میں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ناگزیر ہے: مسئلہ کسی مذہب یا قوم کا نہیں بلکہ ایک ایسے نظریاتی ریاستی رویے کا ہے جو اکثریت کے نام پر کمزور طبقات کے حقوق کو ثانوی بنا دیتا ہے۔

جب عورت کے وقار کو اصلاح کے نام پر پامال کیا جائے، مذہبی شناخت کو پسماندگی سے جوڑا جائے اور انصاف کو اکثریتی جذبات کے تابع کر دیا جائے تو یہ آئینی جمہوریت نہیں بلکہ طاقت کی حکمرانی بن جاتی ہے۔

نتیجہ: آئین بطور آئینہ

یہ تحریر کسی طبقے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ آئین کو آئینہ بنا کر ریاستی رویے کو پرکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

جمہوریت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اکثریت کیا چاہتی ہے بلکہ یہ ہے کہ کمزور کے وقار، عورت کی آزادی اور اقلیت کے آئینی حقوق کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔ اگر ریاست اس ذمہ داری سے انحراف کرے تو تاریخ، عالمی ضمیر اور خود آئینی اصول اس کا احتساب کرتے ہیں۔


By: Qari Mumtaz Ahmad Jamaee

Email: majaamai@gmail.com


اتوار، 7 دسمبر، 2025

اسلامی عدل کا درخشاں ورثہ اور آج کے فیصلوں کا زوال


اسلامی عدل کا درخشاں ورثہ اور آج کے فیصلوں کا زوال

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی

انسانی تاریخ کے بڑے بڑے ابواب اس بات کے گواہ ہیں کہ جب بھی کسی قوم نے ترقی کی بلندیاں چھوئیں، اس کی بنیاد طاقت، لشکر یا دولت نہیں بلکہ عدل و انصاف رہا۔ اور جب بھی قومیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں، ان کے زوال کا نقطۂ آغاز عدالت کا ڈھے جانا ہی تھا۔ اسلامی تاریخ بالخصوص عدل کی اس روایت سے منور ہے جس کی مثالیں نہ صرف دلوں کو گرماتی ہیں بلکہ جدید دنیا کے لیے بھی رہنمائی کا مینار ہیں۔

حالیہ دنوں میں افغانستان کے امیر الاسلام شیخ بیت اللہ اخوندزادہ صاحب (حفظہ اللہ) کا ایک عمل سامنے آیا جس نے اسی سنہرے ورثے کی یاد دلادی۔ انہوں نے ملک کے تمام گورنروں کو مقررہ وقت پر بلاکر خود دو گھنٹے کی تاخیر سے آمد اختیار کی۔ لوگوں نے ادب سے دریافت کیا تو جواب دیا کہ میں چاہتا تھا تم یہ محسوس کرو کہ رعایا کو انتظار کروانا کتنی تکلیف دہ بات ہے۔ پھر کھانا سب کے ساتھ پیش ہوا مگر انہوں نے الگ پلیٹ منگوائی، کہ بیت المال صرف ضرورت مند کے لیے ہے، میرے پاس ذاتی رقم موجود ہے۔ یہ طرزِ عمل خود اسلامی سیاسی اخلاقیات کی قدیم روایت ہے جہاں منصب اور بیت المال کے درمیان واضح تفریق لازم سمجھی جاتی تھی۔

یہ بات ہمیں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے طرزِ حکومت کی طرف لے جاتی ہے، جنہیں امام ذہبی، ابن کثیر اور طبری جیسے مؤرخین نے ”خامس الخلفاء الراشدین“ یا ”عمر ثانی“ کے لقب سے یاد کیا۔ تاریخ ابن کثیر میں مذکور ہے کہ جب سرکاری امور انجام دیتے تو بیت المال کا چراغ روشن رکھتے، مگر جیسے ہی ذاتی گفتگو شروع ہوتی فوراً چراغ بجھا دیتے اور اپنا ذاتی چراغ جلا لیتے۔ فرمایا کرتے تھے کہ عوام کے مال پر میرا کوئی ذاتی حق نہیں۔ یہی نہیں، ان کے دور میں زکات لینے والوں کا فقدان اس حد تک پہنچ گیا کہ خراج کی مد میں جمع مال خرچ کرنے کو مستحق نہیں ملتے تھے—یہ امام مالک کے تلامذہ کی روایت سے ثابت ہے (المدوّنة الکبری وغیرہ)۔

اسی روایت کا تسلسل ہمیں ہندوستان کی مسلم تاریخ میں بھی ملتا ہے۔ اورنگزیب عالمگیر، جنہیں مغل مؤرخ خافی خان، سیّد گلاب، اور معاصر غیر مسلم مؤرخین بھی تقویٰ، دیانت اور عدل میں فریدِ روزگار لکھتے ہیں، کے زمانے کا ایک مشہور واقعہ "ماخذ: مصنفِ عالمگیرنامہ، اور بعض مقامی بنارسی تواریخ" میں مذکور ملتا ہے۔ ایک سرکاری افسر نے بنارس کے ایک پنڈت کی بیٹی پر ناپاک ارادہ ظاہر کیا۔ لڑکی نے والد کو تسلی دی اور دہلی پہنچ کر جمعہ کے بعد مسجد کے دروازے پر اس صف میں کھڑی ہو گئی جہاں عالمگیر ضرورت مندوں کی مدد کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔ اس نے اپنا دکھ بیان کیا تو بادشاہ نے فرمایا: بیٹی فکر نہ کرو، اگر ڈولی اٹھے گی تو تمہاری نہیں اس کی۔ روایت کے مطابق بادشاہ نے بھیس بدلا، رات میں بنارس پہنچے، پنڈت کے گھر چھپے، اور لڑکی کی جگہ خود کو ڈولی میں بٹھا کر اس فاسق افسر کے گھر بھیجا۔ دروازہ بند ہوتے ہی بادشاہ نے عدل کا وہ نافذ کیا جو اس وقت ریاستی شریعت کے عین مطابق تھا۔ روایتوں میں اس افسر کو برطرفی اور سخت سزا دیے جانے کا ذکر آتا ہے۔ یہ واقعہ بلاشبہ اس عدل کی نمائندگی کرتا ہے جو حکومت کو خوفِ خدا سے مضبوط کرتا تھا نہ کہ شخصی طاقت سے۔

اسلام کا عدل ان تین واقعات تک محدود نہیں بلکہ پوری تاریخ میں اس کی لامحدود مثالیں بکھری پڑی ہیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ کے وہ فیصلے جنہیں ابن جوزی اور امام طبری نے نقل کیا ہے کہ جب قبطی غلام نے گورنرِ مصر کے بیٹے کی زیادتی کی شکایت کی تو سیدنا عمرؓ نے غلام کو فرمایا: انت صفعت ابن الأکرمین فاضربہ—"تم نے سب سے معزز باپ کے بیٹے کو مارا ہے، تو اب اسے مارنے کا پورا حق رکھتے ہو"۔ عدل کی یہ شان آج بھی عالمی قانون کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

اسی طرح سیدنا علیؓ اور ایک یہودی کے درمیان زرہ کا مقدمہ "کتاب الخراج" اور "سنن دارقطنی" میں مذکور ہے۔ قاضی شریح نے دلیل کا مطالبہ کیا، جو امیرالمؤمنین علیؓ کے پاس نہ تھا، چنانچہ فیصلہ ان کے خلاف آیا۔ عدل کا یہ معیار جب یہودی نے دیکھا تو اس کا ضمیر پکار اٹھا: یہ عدل انسانوں کا نہیں ہو سکتا اور وہ اسلام لے آیا۔

اسلامی عدل کی یہ نسل در نسل جاری روایت اس امر کی دلیل ہے کہ ریاستیں قانون کی قوت سے نہیں، انصاف کی روح سے قائم رہتی ہیں۔ جہاں قاضی آزاد ہو، حکمران جواب دہ ہو، اور کمزور پر ہاتھ اٹھانا جرمِ اعظم ہو—وہاں معاشرے پھلتے پھولتے ہیں۔

لیکن آج… جب ہم اپنے ہندوستانی عدالتی ماحول کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں، حالیہ فیصلوں کی صورت میں جو منظر سامنے آتا ہے وہ نہ صرف انسانیت کو زخمی کرتا ہے بلکہ تاریخ کے اس آئینے میں ہمیں اپنا چہرہ بھی دھندلا دکھائی دیتا ہے۔ جب عدالت عوام کی امیدوں کے بجائے طاقت کے دباؤ کا شکار ہو جائے تو یہ کسی ایک فیصلے کا نقصان نہیں ہوتا، یہ اعتماد کے ٹوٹنے کا وہ لمحہ ہوتا ہے جو پوری قوم کی بنیاد ہلا دیتا ہے۔

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ یک آواز ہو کر کہہ رہی ہے کہ عدل ہی ریاست کا ستون ہے۔ جہاں عدل قائم رہے وہاں قومیں محفوظ رہتی ہیں؛ اور جہاں عدل مٹ جائے وہاں دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے فیصلوں، نظاموں، اداروں اور معاشروں کو انہی روشن مثالوں کی روشنی میں پرکھیں—کیونکہ عدل کا چراغ بجھ جائے تو ظلم کی تاریکی کبھی اکیلی نہیں آتی، بلکہ پوری نسلوں کو اپنے سائے میں نگل لیتی ہے۔

پیر، 1 دسمبر، 2025

نور سے اندھیرے تک: نسلوں کے بدلنے کی وہ خاموش حقیقت جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں

 نور سے اندھیرے تک: نسلوں کے بدلنے کی وہ خاموش حقیقت جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں

مرتب: قاری ممتاز احمد جامعی

Email: majaamai@gmail.com


نسلوں کا سفر انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ ایمان وراثت میں منتقل نہیں ہوتا؛ اسے حفاظت، تربیت اور صالح ماحول کے سائے میں پروان چڑھانا پڑتا ہے۔ تاریخ میں ایسے کئی خاندان ملتے ہیں جن کے سفر کی ابتدا نور، علم اور دینداری سے ہوئی، مگر چند ہی نسلوں بعد وہ فکری اندھیروں میں گم ہوگئے۔ یہ معاملہ محض ایک نظری بحث نہیں؛ اس کی زندہ مثالیں ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔ جاوید اختر کا خانوادہ اسی حقیقت کا بین ثبوت ہے—وہ خاندان جس کی بنیاد علمِ دین، جہادِ آزادی اور اسلامی غیرت کے ستونوں پر رکھی گئی تھی۔ ان کے پردادا مولانا فضلِ حق خیرآبادیؒ وہ عظیم مجاہد اور بلند پایہ عالم تھے جنہوں نے 1857 میں انگریز کے خلاف تاریخی فتویٰ صادر کیا اور جنہیں برصغیر میں “شیخ الاسلام” کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی علمی قد آور شخصیت، استقامت اور خدمات ہماری دینی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ جاوید اختر کے دادا مضطر خیرآبادی بھی شعر و ادب کے باوقار نام اور دینی و تہذیبی وقار کے حامل تھے۔ ان کے والد جانثار اختر ممتاز شاعر تھے، مگر رفتہ رفتہ سوشلسٹ فکر کے زیرِ اثر مذہبی وابستگی کمزور پڑتی چلی گئی۔ اور یہی فکری زوال چند دہائیوں میں ایسے نقطے تک جا پہنچا کہ انہی نسلوں کے وارث جاوید اختر نے خدا کے وجود ہی کا انکار اپنا فکری تشخص بنا لیا۔ یہ پوری داستان اس حقیقت کی بڑی دلیل ہے کہ نسلوں کی فکری سمت بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

اسی طرح تسلیمہ نسرین کا پس منظر بھی اسلامی اخلاق اور مشرقی اقدار سے خالی نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں مذہب سے لاتعلقی کا کوئی تصور نہ تھا۔ ان کے والد ڈاکٹر رفیق الاسلام باوقار، تعلیم یافتہ اور با شعور انسان تھے جن کے گھر میں قرآن کی تلاوت، تہذیبی شائستگی اور خاندانی اقدار کی فضا موجود تھی۔ مگر ذہنی بغاوت، مغربی فکر کی یلغار، شہرت کی خواہش اور مذہب بیزار حلقوں کی حوصلہ افزائی نے انہیں اپنی بنیادی شناخت سے دور کر دیا—یہاں تک کہ مذہب پر حملہ ان کے اظہار کا انداز بن گیا۔

سلمان رشدی کا خاندانی ماحول بھی اسلام اور تہذیبی ادب سے ناآشنا نہ تھا۔ ان کے والد انوار رشدی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ، تہذیبی سلیقے اور ادبی ذوق رکھنے والے شخص تھے۔ گھر میں مشرقی آداب اور مذہبی احترام موجود تھا۔ مگر مغربی علمی دنیا کی چکاچوند، اس کے فکری جال اور نظریاتی غلامی نے انہیں ایسی تحریر لکھنے کی طرف دھکیل دیا جس نے پوری مسلم دنیا کے دل زخمی کیے۔

یہ تینوں مثالیں اس ناقابلِ انکار حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ اگر نسلوں کو دین کی روشنی اور ایمان کی نرم آنچ مہیا نہ کی جائے، اگر ان کے ذہن، فکر اور اخلاق کے نگہبان موجود نہ ہوں، اگر گھر کا ماحول ایمان کا محافظ نہ ہو—تو چند نسلوں کے اندر ایک خاندان کی فکری بنیادیں مکمل طور پر ڈھل سکتی ہیں۔ اسلام کسی شاعر، ادیب، مفکر یا خاندان کا محتاج نہیں۔ اللہ کی ربوبیت اور دینِ حق کی شان کسی ایک فرد یا خاندان کے انکار سے نہ کبھی کم ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ خسارہ تو اسی شخص اور اس کی نسلوں کا ہے جو اپنے ہاتھوں اپنی آخرت کا چراغ بجھا بیٹھے۔

اسی پس منظر میں 20 دسمبر 2025 کو دہلی میں ہونے والا مکالمہ “Does God Exist?” غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک جانب جاوید اختر ہیں—جن کے فکری ڈھانچے کی بنیاد خدا کے انکار پر قائم ہے، اور دوسری جانب مفتی شمائل ندوی—جو وحی، عقلِ سلیم اور علمی استدلال کی روشنی میں خدا کے وجود کا مضبوط مقدمہ پیش کرنے والے محقق و عالم ہیں۔ یہ محض دو شخصیات کی بحث نہیں؛ یہ دو نظریات کا ٹکراؤ ہے: ایک طرف الحاد، شک اور مادیت کی تاریکی؛ دوسری طرف ایمان، فطرت، وحی اور عقل کا نور۔

یہ زمانہ ہمیں مسلسل یاد دہانی کرا رہا ہے کہ اپنی نسلوں کی حفاظت کیجیے۔ انہیں قرآن و سنت سے جوڑیے، صالح ماحول دیجئے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت دلوں میں بٹھائیے۔ اگر تربیت کا چراغ بجھ گیا اور گھر کا ماحول ایمان کا نگہبان نہ رہا تو وہی حالات دہرائے جائیں گے—چند نسلوں میں ایمان کمزور پڑتا جائے گا، اور لوگ وہاں پہنچ جائیں گے جہاں خدا کے انکار پر فخر کیا جاتا ہے۔

اس لیے غور کیجیے… سوچئے… اپنے گھرانے کے مستقبل کی ذمہ داری سنبھالیے۔ ایمان کی حفاظت علم، تربیت اور نیک ماحول سے ہوتی ہے۔ ورنہ نسلوں کا بدل جانا وقت کا محتاج نہیں ہوتا۔