جمعہ، 28 نومبر، 2025

فسطائیت کی زد میں… جامعہ اشاعت العلوم

 فسطائیت کی زد میں… جامعہ اشاعت العلوم


 قاری ممتاز احمد جامعی 

majaamai@gmail.com

جامعہ اشاعت العلوم کا ذکر آتے ہی ذہن میں ایک ایسے روشن چراغ کی تصویر ابھرتی ہے جس نے برسوں سے علم، خدمت اور انسانی وقار کی شمعیں جلائے رکھیں۔ لیکن آج اس چراغ پر سیاسی یلغار کا سایہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ قومیں جب اپنی تاریخ کے تاریک ترین دور سے گزرتی ہیں تو ظلم کی کئی شکلیں سامنے آتی ہیں—کبھی انسانی حقوق پر شب خون، کبھی آئین کی روح کا گلا گھونٹنا، کبھی اقلیتوں کو حاشیے پر دھکیلنا، اور کبھی اُن تعلیمی مراکز کو نشانہ بنانا جو دراصل کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ آج بھارت کا ماحول اسی گھٹن اور اسی بے چینی سے بوجھل ہے، اور اسی بوجھ کے نیچے وہ ادارے بھی کراہ رہے ہیں جنہوں نے دہائیوں تک سماج کے کمزور طبقات کو امید، تحفظ اور شعور فراہم کیا۔

انہی عظیم اداروں میں سے ایک، جامعہ اشاعت العلوم اکل کُوا، اس وقت ایک ایسی یلغار کا سامنا کر رہا ہے جس کی نہ بنیاد ہے، نہ جواز، نہ اخلاقی وزن۔ یہ بات کسی بھی صاحبِ شعور کے لیے ناقابلِ برداشت ہے کہ ایک ایسا مرکز، جو چالیس پچاس سال سے زائد عرصے سے قوم اور انسانیت کی خاموش مگر عظیم خدمات سرانجام دیتا آیا، اسے آج سیاسی چنگیزیت کے نرغے میں لے لیا جائے۔ یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ ایسے اداروں پر حملے ہمیشہ سیاسی ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ظلم کے مقابلے میں باشعور نسل تیار کرتے ہیں، اور باشعوری ہمیشہ فسطائیت کے لیے خطرہ ہوتی ہے۔

جامعہ کا سفر ایک چھوٹی سی جھونپڑی اور چند طلبہ سے شروع ہوا تھا، لیکن چند دہائیوں میں یہ ایک ایسے تعلیمی شہر میں تبدیل ہو گیا جس نے دینی تعلیم، عصری تعلیم، میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبے، یتیم خانے، ہاسٹل، فلاحی مراکز اور انتظامی ڈھانچے کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو نئی سمت دی۔ یہ محض ایک مدرسہ نہیں تھا؛ یہ مسلمانوں کے تعلیمی وجود کی علامت بن چکا تھا۔ اس نے ہندوستانی سماج کو یہ پیغام دیا کہ مسلمان محروم نہیں—بلکہ مستقبل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ عظیم سفر حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ کی قیادت اور بصیرت کا نتیجہ تھا۔ وہ ایسے باوقار، باصلاحیت اور بے خوف قائد تھے جنہوں نے علم کے راستے کو خدمت، انسانیت اور اصول کے ساتھ جوڑا۔ وہ ایک ایسا مضبوط ستون تھے کہ جن کے دور میں کسی سیاسی طاقت، کسی آر ایس ایس ذہنیت یا کسی حکومتی ایجنسی کو یہ ہمت نہ تھی کہ ادارے پر میلی نگاہ ڈال سکے۔ ان کی دیانت، نظم، شفافیت اور جرأت خود ایک ڈھال بنی رہتی تھی۔ یہ انہی کا جذبہ اور انہی کی بنیادیں تھیں جنہوں نے اس ادارے کو ریاستی و سماجی سطح پر اعتماد کا سرچشمہ بنا دیا۔

مولانا کے انتقال کے بعد ادارہ ان کے صاحبزادے مولانا حذیفہ وستانوی کے زیرِ نظم ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ کام وہی اصول، وہی ترتیب، وہی شفافیت اور وہی انتظامی ڈھانچہ کے ساتھ جاری ہے جو حضرت وستانویؒ نے قائم کیا تھا۔ اس لیے کسی بھی طرح کی کارروائی، تفتیش یا الزامت کو انتظامی کمزوری یا بدعنوانی کے ساتھ جوڑنا سراسر ظلم ہے۔ یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ یہاں نظم و ضبط موجود ہے، حساب کتاب موجود ہے، شفافیت موجود ہے—پھر بھی نشانہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں، اور اسی میں چھپا ہے اصل سیاسی کھیل۔

سوال یہ ہے کہ ایک ایسا ادارہ جو مذہبی نہیں، سیاسی نہیں، ٹکراؤ کا مرکز نہیں، بلکہ خالص تعلیمی اور فلاحی کردار ادا کر رہا ہے—آخر اسے نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ ایک ایسا ادارہ جو غریب بچوں کو تعلیم دے رہا ہے، یتیموں کو سہارا دے رہا ہے، قبائلی بچوں کو عزت دے رہا ہے، سماج کے پسماندہ طبقات کو اٹھا رہا ہے—وہ کس جرم کی سزا کاٹ رہا ہے؟ اس کا جواب ایک ہی ہے: خوف۔ وہ طاقتیں جو اقلیتوں، دلتوں، غریبوں، قبائلیوں اور کمزور طبقات کو تعلیم یافتہ نہیں دیکھنا چاہتیں، وہ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں علم کی روشنی ظلم کے ایوانوں میں دراڑیں نہ ڈال دے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں کو سب سے پہلے نشانہ بنایا جاتا ہے، کیونکہ ظالم جانتا ہے کہ تعلیم یافتہ قوم کبھی غلام نہیں رہتی۔

یہ تفتیشیں، یہ کارروائیاں، یہ پروپیگنڈے—یہ سب دراصل اسی بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد اقلیتوں کو ذہنی، سماجی اور تعلیمی طور پر کمزور رکھنا ہے۔ آج جب آئین لہولہان ہے، جمہوریت کمزور پڑ چکی ہے، دلت مسلمان مسلسل نشانے پر ہیں، تب ایسے اداروں پر یلغار کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی ہے۔ ظلم کے ایوان چاہتے ہیں کہ یہ چراغ بجھ جائیں، یہ تعلیمی پرچم سر نہ اٹھا سکیں، اور قوم ایک بار پھر پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیل دی جائے۔

لیکن یہ بھی تاریخ کا اٹل اصول ہے کہ علم کے چراغ بجھائے نہیں جا سکتے۔ ظلم کی گرم ہوا انہیں کچھ دیر کے لیے لرزا ضرور سکتی ہے مگر بجھا نہیں سکتی۔ اور جامعہ اشاعت العلوم جیسا ادارہ، جو خدمت، اخلاق، شفافیت اور اصولوں پر قائم ہے، اسے کسی بھی سیاسی یلغار سے دبایا نہیں جا سکتا۔

آج جب ہم حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ کو یاد کرتے ہیں تو دل گواہی دیتا ہے کہ وہ ہوتے تو کوئی طاقت اس ادارے پر ہاتھ نہ ڈال سکتی۔ لیکن ان کی غیر موجودگی میں بھی یہ ادارہ کمزور نہیں—صرف ہم کمزور ہیں، بکھرے ہوئے ہیں، منتشر ہیں۔ اور یہی وقت ہے کہ ہم یہ طے کر لیں کہ علم کے چراغ کے ساتھ کھڑے رہنا ہے، ظلم کے مقابلے میں خاموش نہیں رہنا۔

کیونکہ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے:

ادارے باقی رہتے ہیں… ظلم باقی نہیں رہتا۔


اتوار، 16 نومبر، 2025

اتنی بد احتیاطی" کا پس منظر — ودود ساجد کی تحریر پر ایک حقیقت پسندانہ اور مدلل تبصرہ


اتنی بد احتیاطی" کا پس منظر — ودود ساجد کی تحریر پر ایک حقیقت پسندانہ اور مدلل تبصرہ


ودود ساجد صاحب کی تحریر بظاہر مسلمان نوجوانوں کو احتیاط اور سمجھ داری کا مشورہ دیتی ہے، اور یہ مشورہ اپنی جگہ بجا بھی ہے۔ لیکن اس مشورے کے پیچھے چھپے بڑے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ آخر ایک ایسے ملک میں جہاں ریاستی طاقت، حکومتی ادارے، پولیس، اور اکثریتی سیاست کی پوری مشینری برسوں سے اقلیتوں کے خلاف کارفرما ہو—صرف کمزور طبقے کو ہی بداحتیاطی کا سبق کیوں دیا جاتا ہے؟ مسئلہ نوجوانوں کی جذباتی پوسٹس کا نہیں، مسئلہ اس وسیع تر ریاستی رویے کا ہے جو آزاد بھارت کی پوری تاریخ میں بار بار دہرایا گیا۔


یہ دھارا آج کا نہیں، دہائیوں پر محیط ہے۔ 1987 کا ہاشم پورہ آج بھی گواہی دیتا ہے کہ کس طرح ریاستی وردی میں ملبوس اہلکاروں نے مسلمانوں کو لائن میں کھڑا کرکے گولیوں سے بھون دیا۔ میرٹھ، مرادآباد، علی گڑھ, ممبئی، سورت، بھاگلپور اور پھر 2002 کا گجرات—یہ سب واقعات اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہاں "بداحتیاطی" ہمیشہ کمزور کے کھاتے میں ڈالی گئی، مگر ظلم اور زیادتی کا بوجھ کبھی طاقتور پر نہیں ڈالا گیا۔ مظفر نگر 2013 ہو یا دہلی 2020—ریاست کی خاموشی اور انتظامیہ کی شراکت داری کا نقشہ بار بار دہرا نظر آتا ہے۔


ودود ساجد کے مضمون میں جن واقعات کا حوالہ ہے، وہ اس رویے کو اور نمایاں کرتے ہیں۔ آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا یہ کہنا کہ وہ مسلمانوں کی ہر پوسٹ دیکھ رہے ہیں اور سب کے اسکرین شاٹس محفوظ کیے جا رہے ہیں، ایک جمہوری ریاست میں خوف پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ کیا وزیراعلیٰ کا کام شہریوں کی سوشل میڈیا نگرانی ہے؟ یا یہ کام ریاستی ایجنسیوں کے اختیار میں ہوتا ہے؟ یہ حقیقت بتاتی ہے کہ ریاستی طاقت کو امن و قانون کی خاطر نہیں، بلکہ ایک مخصوص طبقے کی زبان بند کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔


اسی تناظر میں سلچر آسام کا واقعہ بھی سامنے آتا ہے جہاں ایک سبکدوش اسکول پرنسپل کو محض "الیکشن اسٹنٹ" لکھنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ جرم نہیں تھا—یہ ریاستی عدم برداشت تھی۔ دیوبند کے ہندو انسپکٹر کو “آتنک واد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا” کہنے پر لائن حاضر کر دینا اس بات کی علامت ہے کہ اس ملک میں انصاف پسندی بھی سزا بن جاتی ہے۔ پھر مہاراشٹر میں ایک عمر رسیدہ ٹیچر کو ”جے شری رام“ نہ بولنے پر تذلیل کرتے ہوئے گھٹنوں کے بل جھکایا گیا—یہ صرف بداخلاقی نہیں بلکہ ایک تہذیبی پیغام ہے کہ اقلیت کو سر جھکا کر ہی جینا ہوگا۔


ان واقعات کے درمیان یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ اعلان کہ "ہم جنوری–فروری میں مئی–جون جیسی گرمی لے آئیں گے" سیاسی زبان سے زیادہ دھمکی کی زبان ہے۔ یہ وہ جملے ہیں جو ایک عام نوجوان کو نہیں، بلکہ ایک ریاستی سربراہ کو زیب دیتے ہیں، مگر تعجب یہ ہے کہ احتیاط کے لیکچر ہمیشہ کمزور کو ملتے ہیں اور طاقتور کو کبھی نہیں۔


اویسی نے کشمیر میں انکاونٹر کے بعد پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا تھا کہ اگر لاکھوں لوگ کسی مقتول کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کی گورننس ہی لوگوں کے دل جیتنے میں ناکام ہے۔ یہی سوال آج پورے بھارت پر لاگو ہوتا ہے کہ جب ریاست انصاف نہیں دے گی تو بداعتمادیاں تو بڑھیں گی ہی۔


یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں کو اصول پر چلتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری کب قبول کرے گی؟ جب پورا نظام اکثریتی سیاست کے ہاتھوں یرغمال ہو، جب میڈیا نفرت بیچے، جب ایجنسیاں مخصوص زاویے سے کام کریں، جب ہر مثبت آواز کو سزا ملے، تو صرف اقلیت سے احتیاط کا مطالبہ حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔


حقیقت یہی ہے کہ آج کے بھارت میں اقلیت مجرم نہیں—بلکہ مسلسل نشانے پر رہنے والی مظلوم اکائی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو بچانے، اپنے گھروں کو محفوظ رکھنے، اور اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ طاقت کے سرچشمے اسے دبانے کے لیے متحد اور سرگرم ہیں۔ ایسے میں ودود ساجد کا مشورہ اپنی جگہ مگر پوری تصویر صرف اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب ریاست کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے، کیونکہ بداحتیاطی اگر کہیں سب سے زیادہ خطرناک ہے تو وہ ریاستی سطح پر ہے، نہ کہ ایک نوجوان کے موبائل اسکرین پر۔


اور اصل سوال یہی ہے کہ آخر کب تک اقلیتوں کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہے گا؟ کب تک نوجوانوں کی زبان بند کی جائے گی اور کب تک طاقتوروں کے خطرناک بیانات پر خاموشی اختیار کی جائے گی؟ جب تک یہ سوال زندہ ہے، تب تک احتیاط کے ساتھ ساتھ اجتماعی بیداری، تاریخی شعور، اور منظم فکری جدوجہد کی ضرورت باقی رہے گی۔


✍️ قاری ممتاز احمد جامعی


بدھ، 5 نومبر، 2025

انڈیا الائنس اور اویسی کی عدم شمولیت — سیاسی خوف یا فکری کمزوری؟

 انڈیا الائنس اور اویسی کی عدم شمولیت — سیاسی خوف یا فکری کمزوری؟
✍️ قلم: قاری ممتاز احمد جامعی
📧 majaamai@gmail.com

ہندوستانی سیاست میں اتحاد، مفاد اور نظریات کا ملاپ ہمیشہ ایک پیچیدہ معاملہ رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں انڈیا گٹھ بندھن (INDIA Alliance) کے قیام کے بعد یہ سوال شدت سے ابھرا ہے کہ اگر یہ اتحاد واقعی جمہوریت اور سیکولرزم کا علمبردار ہے، تو پھر اویسی جیسی آئینی اور عوامی آواز کو اس سے باہر کیوں رکھا گیا؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انڈیا الائنس میں شامل بڑی جماعتیں، خصوصاً کانگریس، آر جے ڈی، مکیش سہنی کی پارٹی، اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اگر اویسی کو اتحاد میں شامل کیا گیا تو بی جے پی اور آر ایس ایس اس پر “اقلیت نواز سیاست” کا الزام لگا کر ہندو ووٹوں کو متحد کر لیں گی۔ یہی خوف ان جماعتوں کی سب سے بڑی کمزوری بن چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر بی جے پی کا پروپیگنڈہ ہی آپ کے فیصلوں کو طے کرے تو پھر آپ بی جے پی سے مختلف کب ہیں؟ سیکولرزم اگر واقعی اصول ہے تو اسے “ہندو ردِعمل کے خوف” سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ماضی میں اویسی خاندان اور ان کی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کانگریس حکومتوں کے ساتھ اندرونی سطح پر شاملِ اقتدار رہی ہے۔ وہی کانگریس، جو کبھی انہیں “جمہوری پارٹنر” مانتی تھی، آج انہیں “سیاسی اچھوت” سمجھتی ہے۔ یہ تضاد دراصل نظریاتی نہیں بلکہ وقتی مفاد اور خوف پر مبنی رویے کی علامت ہے۔ اگر کل اویسی کی موجودگی سیکولرزم کے منافی نہ تھی، تو آج وہ اچانک کیوں بن گئی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب انڈیا الائنس کے کسی رہنما کے پاس نہیں۔

عملی سیاست میں ضروری نہیں کہ ہر جماعت تحریری طور پر اتحاد میں شامل ہو۔ اگر انڈیا الائنس واقعی فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کے لیے مخلص ہوتا، تو کم از کم اخلاقی و انتخابی سمجھوتے کی بنیاد پر اویسی کو ان کے اثر والے علاقوں — مثلاً سیمانچل، کشن گنج، ارریہ، کٹیہار — کی چند سیٹوں پر آزادانہ لڑنے دیا جاتا، اور بقیہ حلقوں میں باہمی حمایت و مہم کے ذریعے ایک مضبوط مشترکہ حکمتِ عملی تیار کی جاتی۔ اس سے عوام میں یہ تاثر قائم ہوتا کہ اتحاد واقعی سب کو ساتھ لے کر چلنے کا حوصلہ رکھتا ہے، نہ کہ محض “مسلمان ووٹ لینے” کے لیے دکھاوے کی سیاست کر رہا ہے۔

اویسی کو اکثر “ووٹ کٹر” کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ آئینی حقوق، تعلیمی انصاف، اور اقلیتوں کی نمائندگی کے سوالات اٹھاتے آئے ہیں۔ اگر انڈیا الائنس انہیں نظرانداز کرتا ہے، تو دراصل یہ اویسی کے اثر و فکر کی قبولیت ہے، جسے وہ زبان سے تسلیم کرنے سے جھجھکتے ہیں۔ اویسی کی سیاست مذہب نہیں، بلکہ آئین کے اس جملے “We the People of India” کی عملی تعبیر ہے۔ انہیں اتحاد سے باہر رکھنا دراصل آئینی سیاست کی سب سے مضبوط مسلم آواز کو خاموش کرنے کے مترادف ہے۔

تاہم اویسی پر یہ الزام بھی درست ہے کہ ان کے بعض بیانات اور طرزِ تقریر میں تضاد پایا جاتا ہے۔ وہ حیدرآباد یا سیمانچل جیسے اپنے مضبوط علاقوں میں جب تیز لہجے میں تقریر کرتے ہیں تو یہ نہیں سوچتے کہ ملک کے دوسرے حصوں میں، جہاں کمزور مسلمان ہندوتوا اکثریت کے درمیان رہتے ہیں، ان کے الفاظ کا کیا اثر ہوگا۔ ایک پرانی اور تجربہ کار سیاسی جماعت سے یہ تیز رفتاری اور بے احتیاطی ناقابلِ فہم ہے۔ ان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی تقاریر کے اثرات پر غور کریں، کیونکہ بعض اوقات ایک درست بات بھی غلط موقع یا غیر مناسب لہجے میں کہی جائے تو نقصان دہ بن جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ انڈیا الائنس کی قیادت جمہوریت کی بقا کے لیے سرگرم ہے یا محض اقتدار کے لیے ایک نیا چہرہ تیار کر رہی ہے؟ اگر نیت واقعی خالص ہوتی تو اویسی جیسے رہنما کو کم از کم مشترکہ پلیٹ فارم پر مدعو کیا جاتا، تاکہ ملک کے سامنے یہ پیغام جائے کہ یہ اتحاد محض بی جے پی کا متبادل نہیں بلکہ فکری سطح پر ایک بہتر راستہ ہے۔ مگر یہاں بھی سیاسی خودغرضی اور خوف غالب آ گیا — سیکولرزم صرف نعرہ رہا، جبکہ عملی سیاست پر ہندوتوا کے ردِعمل کا سایہ چھایا رہا۔

نتیجہ یہ ہے کہ اویسی کو الگ رکھ کر انڈیا الائنس نے اپنی “شمولیت” (Inclusiveness) کی بنیاد کمزور کر دی ہے۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر سیاسی حساب سے فائدہ مند لگ سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہی کمزوری اس کے زوال کا سبب بنے گی۔ کیونکہ جو اتحاد خوف، مفاد اور تاثر کے دباؤ پر کھڑا ہو، وہ کبھی قوم اور ضمیر دونوں کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔

آخر میں سوال باقی رہ جاتا ہے —
کیا انڈیا الائنس واقعی بی جے پی کا متبادل بننا چاہتا ہے،
یا وہ صرف بی جے پی کے خوف سے چلنے والا ایک نیا چہرہ ہے؟

منگل، 4 نومبر، 2025

بہار الیکشن 2025: جمہوریت کا امتحان اور عوام کی بے حسی

بہار الیکشن 2025: جمہوریت کا امتحان اور عوام کی بے حسی

قلم: قاری ممتاز احمد جامعی
📧 majaamai@gmail.com

بہار میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں اب صرف دو روز باقی ہیں، اور دوسرا مرحلہ 11 نومبر کو ہوگا۔ سیاسی فضا میں جوش ہے، لیکن ہوش کا فقدان نمایاں ہے۔
ایک طبقہ مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی کے دلدل میں جکڑا ہوا این ڈی اے کے ساتھ ہے۔ دوسرا طبقہ اگرچہ خود کو سیکولر مزاج کہتا ہے، مگر حالیہ نقل و حرکت سے اس کے جھکاؤ میں بھی ہندوتوا کی پرچھائیں صاف دکھائی دیتی ہے۔ تیسرا حلقہ، جس میں اویسی یا آزاد امیدواروں کے حامی شامل ہیں، انتشار کا شکار ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد تعلیم، روزگار اور سیاسی شعور سے محروم ہے۔ وہ جمہوریت کے اصل مفہوم — عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے — کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ خود اپنے اعمال سے اس پستی میں گرتا جا رہا ہے۔ کیونکہ جمہوری نظام میں طاقت کا اصل محور عوام ہی ہوتے ہیں۔

ایسے میں باشعور، تعلیم یافتہ اور اخلاقی ذمہ داری کا احساس رکھنے والا طبقہ، جو تعداد میں نہایت قلیل ہے، ایک سخت امتحان سے گزر رہا ہے۔ وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں — نظام درہم برہم ہے، انصاف بے وزن، اور عوامی شعور منجمد۔ مگر جمہوری دائرے میں وہ بے بس ہیں۔

حال ہی میں ایک معتبر صحافی سوربھ شکلا (سابق اینکر NDTV، بانی The Red Mic) نے مکامہ، بہار میں چند نوجوانوں سے انٹرویو کے دوران یہ افسوسناک منظر پیش کیا کہ بیروزگاری، بدعنوانی اور جہالت کے باوجود نوجوان اپنے حال میں مست ہیں۔ اس گفتگو نے واضح کر دیا کہ سماج کا زوال صرف حکومت کی ناکامی نہیں، بلکہ عوامی بے حسی اور فکری دیوالیہ پن کا نتیجہ ہے۔

فرقہ پرست ہندوتوا نظریہ اپنی مرکزی طاقت اور نتیش کمار کے تعاون سے بہار کے اقتدار پر کم و بیش بیس سال تک قابض رہا، مگر نہ بنیادی حقوق میں کوئی حقیقی پیش رفت ہوئی، نہ صوبے کی ترقی میں کوئی واضح پہل۔
مرکزی سطح پر بھی ان کے عزائم عوامی ترقی کے بجائے مذہبی تفرقے، نفرت، اور ہندو مسلم فتنہ و فساد کے فروغ پر مبنی رہے ہیں۔
ان کے سیاسی خواب اور آئندہ عزائم بھی خون اور تقسیم سے لبریز دکھائی دیتے ہیں۔

ایسے میں ایک باشعور شہری کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ امیدوار کی ذات یا ذاتی زندگی پر نہیں بلکہ اس کے نظریے اور جماعتی پس منظر پر ووٹ دے۔
اگر بہار کے عوام واقعی امن، تعلیم، انصاف اور ترقی چاہتے ہیں، تو انہیں فرقہ پرست جماعتوں کے بجائے سیکولر امیدواروں کو ووٹ دینا ہوگا — تاکہ جمہوریت کے نام پر نفرت کا کاروبار کرنے والوں کے مکروہ عزائم کو روکا جا سکے۔