اسلامی ضابطۂ حیات بمقابلہ دگر مذاہب، زندیقیت اور کذاب و دجالی اقوام
ایپسٹین فائلز، ویکی لیکس اور عالمی اخلاقی دعووں کی منافقت
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ظلم ہوا، بلکہ یہ ہے کہ ظلم کو تمدن، قانون اور عالمی اخلاقیات کے نام پر چھپایا گیا۔ حالیہ بدنامِ زمانہ ایپسٹین فائلز ہوں یا ماضی میں ویکی لیکس اور دیگر خفیہ دستاویزات کے انکشافات—ان سب نے کسی ایک فرد یا واقعے کو نہیں، بلکہ اس پورے عالمی نظام کا نقاب اتارا ہے جو خود کو “مہذب دنیا” کا رہنما کہتا ہے، مگر اندر سے اخلاقی طور پر کھوکھلا ہے۔ اس نظام کی ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ اپنا سیاہ کردار چھپائے ہوئے، دیگر اقوام کو اخلاقیات کا درس دیتا پھرتا ہے۔
اسلام جب انسان کی بات کرتا ہے تو اسے محض معاشی اکائی، ووٹر یا صارف نہیں بناتا، بلکہ امانتِ الٰہی قرار دیتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کا مرکزی نکتہ یہی رہا کہ انسان کی جان، عزت اور حرمت غیر مشروط ہے—خواہ وہ طاقتور ہو یا کمزور، حاکم ہو یا محکوم۔
اس کے برعکس ایپسٹین فائلز اور ویکی لیکس اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ جدید عالمی نظام میں طاقت، اخلاق سے بڑی ہو چکی ہے۔ یہاں جرم کا معیار عمل نہیں بلکہ اثر و رسوخ ہے۔ اگر مجرم طاقتور ہو تو فائل بند، تحقیق محدود اور انصاف مؤخر کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں “مہذب سماج” کا دعویٰ خود اپنے خلاف گواہی بن جاتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں عدل کا معیار کبھی طاقت نہیں رہا۔ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ—سب نے اپنی اپنی قوموں کے طاقتور طبقے کو للکارا، کمزور کی حمایت کی اور واضح کر دیا کہ باطل، اکثریت یا اقتدار سے حق نہیں بن جاتا۔ یہی اصول نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں کامل اور عملی صورت میں جلوہ گر ہوا۔
نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں جو ریاست قائم کی، اس کی بنیاد خوف، خفیہ معاہدوں یا اشرافیہ کے تحفظ پر نہیں بلکہ کھلے عدل اور ہمہ گیر جواب دہی پر تھی۔ وہاں کوئی “ناقابلِ تفتیش” طبقہ موجود نہیں تھا۔ اسی اصول کو واضح کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:
اگر فاطمہؓ بنتِ محمد بھی چوری کرے تو اس پر بھی حد قائم کی جائے گی۔
یہ وہ معیار ہے جسے آج کی نام نہاد عالمی عدالتیں چھونے کی جرأت بھی نہیں کرتیں۔
خلفائے راشدینؓ کے دور میں یہی عدل ایک مکمل نظام کی صورت اختیار کر گیا۔ حضرت عمرؓ کا اپنے آپ کو عدالت میں پیش کرنا، حضرت علیؓ کا ایک عام شہری کے برابر کھڑا ہونا—یہ سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ اسلام میں انصاف شخصیات سے نہیں، اصولوں سے چلتا ہے۔ یہاں جرم نہ چھپایا جاتا ہے اور نہ ہی قرابت یا منصب کی بنیاد پر معاف کیا جاتا ہے۔
اس کے بالمقابل آج کے عالمی ادارے—چاہے وہ اقوامِ متحدہ ہوں یا عالمی عدالتیں—اکثر انتخابی اخلاقیات پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں۔ کمزور ممالک پر انسانی حقوق کے نام پر دباؤ، مگر طاقتور اقوام اور ان کے بااثر افراد پر معنی خیز خاموشی۔ ایپسٹین فائلز اسی دوہرے معیار کی ایک زندہ اور شرمناک مثال ہیں۔
اسلام جس صالح معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے، اس میں سب سے پہلی ترجیح کمزور کی حفاظت ہے۔ بچے، عورتیں، یتیم اور مظلوم—یہ سب ریاست کی ذمہ داری ہوتے ہیں، نہ کہ طاقتوروں کی تفریح یا نظامی غفلت کا شکار۔ جس معاشرے میں کمزور محفوظ نہ ہو، وہ اسلام کی نظر میں فاسد ہے، چاہے وہ خود کو کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ کہے۔
ایپسٹین کیس نے یہ حقیقت بھی بے نقاب کر دی کہ جب میڈیا، سیاست اور سرمایہ ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ کر لیں تو سچ دب جاتا ہے۔ اسلام نے اسی خطرے کے سدباب کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اجتماعی فریضہ قرار دیا، تاکہ طاقتور کے خلاف بھی حق کی آواز بلند کی جا سکے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ایپسٹین مجرم تھا یا نہیں—اصل سوال یہ ہے کہ اسے اور اس جیسے دیگر افراد کو برسوں تک تحفظ کس نے دیا؟ اور عالمی ضمیر کو جاگنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ اسلام اس سوال کا جواب نہایت وضاحت سے دیتا ہے:
جب عدل کو مصلحت پر قربان کر دیا جائے تو پورا معاشرہ شریکِ جرم بن جاتا ہے۔
لہٰذا اسلامی ضابطۂ حیات محض عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسانیت کا جامع حفاظتی نظام ہے۔ یہ نظام کسی ایک قوم، نسل یا خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے—بشرطیکہ دنیا اخلاق کو طاقت پر اور اصول کو مفاد پر ترجیح دینے کا حوصلہ پیدا کرے۔
نتیجہ یہی ہے کہ ایپسٹین فائلز کوئی حادثہ نہیں بلکہ آج کی دجالی اقوام کی حقیقی تصویر ہیں؛ وہ خود اس فاسد معیار کو درست قرار دے کر دیگر اقوام کو اسی معیار کا حصہ بننے پر مجبور کرتی ہیں، اور انکار کی صورت میں نت نئے ظلم، جبر اور وارننگز مسلط کرتی ہیں۔
اگر انسانیت نے اسلامی عدل، جواب دہی اور اخلاقی حدود سے سبق نہ لیا تو آنے والی تاریخ ایسے مزید گھناؤنے اور بے رحم نظاموں کی داستانیں لکھتی رہے گی۔
اس میں کیا دو رائے ہے کہ دنیا پر ایک غیر اخلاقی عالمی اشرافیہ نے اپنا کنٹرول ایسے ہی نہیں قائم رکھا؛ کہیں عورتوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کیا گیا، کہیں قتل و تخریب کے لیے، اور ساری دنیا کے ذہنوں کو مفلوج کرنے کے لیے پورنوگرافی کا ایسا جال بچھایا گیا جس کے جنجال میں چھوٹے سے لے کر بڑا، ہر مذہب، تہذیب اور تمدن کا آدمی پھنسا ہوا ہے۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں بھی اسی نوعیت کی چالیں آزمائی گئیں، مگر وہ خیرالقرون تھا—تابعین اور تبع تابعینؒ نے ان فتنوں کو ناکام بنا دیا۔ البتہ آج کے دور میں مسلم امرا و سلاطین اس اخلاقی یلغار کے سامنے خود اپنی کمزوریوں کے باعث بچ نہیں پا رہے۔
✍️ قاری ممتاز احمد جامعی
ممتاز دینی و سماجی موضوعات پر لکھنے والے قلمکار ہیں۔ اسلامی فکر، تہذیبی مباحث اور عالمی حالات کے تناظر میں اسلام کے عادلانہ نظامِ حیات پر ان کی تحریریں قارئین میں خاصی پذیرائی حاصل کرتی ہیں۔
📧 رابطہ:
majaamai@gmail.com

