بدھ، 11 مارچ، 2026

ایپسٹین فائلز اور عالمی اخلاقیات کی منافقت — اسلامی عدل کا حقیقی معیار


 اسلامی ضابطۂ حیات بمقابلہ دگر مذاہب، زندیقیت اور کذاب و دجالی اقوام

ایپسٹین فائلز، ویکی لیکس اور عالمی اخلاقی دعووں کی منافقت
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ظلم ہوا، بلکہ یہ ہے کہ ظلم کو تمدن، قانون اور عالمی اخلاقیات کے نام پر چھپایا گیا۔ حالیہ بدنامِ زمانہ ایپسٹین فائلز ہوں یا ماضی میں ویکی لیکس اور دیگر خفیہ دستاویزات کے انکشافات—ان سب نے کسی ایک فرد یا واقعے کو نہیں، بلکہ اس پورے عالمی نظام کا نقاب اتارا ہے جو خود کو “مہذب دنیا” کا رہنما کہتا ہے، مگر اندر سے اخلاقی طور پر کھوکھلا ہے۔ اس نظام کی ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ اپنا سیاہ کردار چھپائے ہوئے، دیگر اقوام کو اخلاقیات کا درس دیتا پھرتا ہے۔
اسلام جب انسان کی بات کرتا ہے تو اسے محض معاشی اکائی، ووٹر یا صارف نہیں بناتا، بلکہ امانتِ الٰہی قرار دیتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کا مرکزی نکتہ یہی رہا کہ انسان کی جان، عزت اور حرمت غیر مشروط ہے—خواہ وہ طاقتور ہو یا کمزور، حاکم ہو یا محکوم۔
اس کے برعکس ایپسٹین فائلز اور ویکی لیکس اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ جدید عالمی نظام میں طاقت، اخلاق سے بڑی ہو چکی ہے۔ یہاں جرم کا معیار عمل نہیں بلکہ اثر و رسوخ ہے۔ اگر مجرم طاقتور ہو تو فائل بند، تحقیق محدود اور انصاف مؤخر کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں “مہذب سماج” کا دعویٰ خود اپنے خلاف گواہی بن جاتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں عدل کا معیار کبھی طاقت نہیں رہا۔ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ—سب نے اپنی اپنی قوموں کے طاقتور طبقے کو للکارا، کمزور کی حمایت کی اور واضح کر دیا کہ باطل، اکثریت یا اقتدار سے حق نہیں بن جاتا۔ یہی اصول نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں کامل اور عملی صورت میں جلوہ گر ہوا۔
نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں جو ریاست قائم کی، اس کی بنیاد خوف، خفیہ معاہدوں یا اشرافیہ کے تحفظ پر نہیں بلکہ کھلے عدل اور ہمہ گیر جواب دہی پر تھی۔ وہاں کوئی “ناقابلِ تفتیش” طبقہ موجود نہیں تھا۔ اسی اصول کو واضح کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:
اگر فاطمہؓ بنتِ محمد بھی چوری کرے تو اس پر بھی حد قائم کی جائے گی۔
یہ وہ معیار ہے جسے آج کی نام نہاد عالمی عدالتیں چھونے کی جرأت بھی نہیں کرتیں۔
خلفائے راشدینؓ کے دور میں یہی عدل ایک مکمل نظام کی صورت اختیار کر گیا۔ حضرت عمرؓ کا اپنے آپ کو عدالت میں پیش کرنا، حضرت علیؓ کا ایک عام شہری کے برابر کھڑا ہونا—یہ سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ اسلام میں انصاف شخصیات سے نہیں، اصولوں سے چلتا ہے۔ یہاں جرم نہ چھپایا جاتا ہے اور نہ ہی قرابت یا منصب کی بنیاد پر معاف کیا جاتا ہے۔
اس کے بالمقابل آج کے عالمی ادارے—چاہے وہ اقوامِ متحدہ ہوں یا عالمی عدالتیں—اکثر انتخابی اخلاقیات پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں۔ کمزور ممالک پر انسانی حقوق کے نام پر دباؤ، مگر طاقتور اقوام اور ان کے بااثر افراد پر معنی خیز خاموشی۔ ایپسٹین فائلز اسی دوہرے معیار کی ایک زندہ اور شرمناک مثال ہیں۔
اسلام جس صالح معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے، اس میں سب سے پہلی ترجیح کمزور کی حفاظت ہے۔ بچے، عورتیں، یتیم اور مظلوم—یہ سب ریاست کی ذمہ داری ہوتے ہیں، نہ کہ طاقتوروں کی تفریح یا نظامی غفلت کا شکار۔ جس معاشرے میں کمزور محفوظ نہ ہو، وہ اسلام کی نظر میں فاسد ہے، چاہے وہ خود کو کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ کہے۔
ایپسٹین کیس نے یہ حقیقت بھی بے نقاب کر دی کہ جب میڈیا، سیاست اور سرمایہ ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ کر لیں تو سچ دب جاتا ہے۔ اسلام نے اسی خطرے کے سدباب کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اجتماعی فریضہ قرار دیا، تاکہ طاقتور کے خلاف بھی حق کی آواز بلند کی جا سکے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ایپسٹین مجرم تھا یا نہیں—اصل سوال یہ ہے کہ اسے اور اس جیسے دیگر افراد کو برسوں تک تحفظ کس نے دیا؟ اور عالمی ضمیر کو جاگنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ اسلام اس سوال کا جواب نہایت وضاحت سے دیتا ہے:
جب عدل کو مصلحت پر قربان کر دیا جائے تو پورا معاشرہ شریکِ جرم بن جاتا ہے۔
لہٰذا اسلامی ضابطۂ حیات محض عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسانیت کا جامع حفاظتی نظام ہے۔ یہ نظام کسی ایک قوم، نسل یا خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے—بشرطیکہ دنیا اخلاق کو طاقت پر اور اصول کو مفاد پر ترجیح دینے کا حوصلہ پیدا کرے۔
نتیجہ یہی ہے کہ ایپسٹین فائلز کوئی حادثہ نہیں بلکہ آج کی دجالی اقوام کی حقیقی تصویر ہیں؛ وہ خود اس فاسد معیار کو درست قرار دے کر دیگر اقوام کو اسی معیار کا حصہ بننے پر مجبور کرتی ہیں، اور انکار کی صورت میں نت نئے ظلم، جبر اور وارننگز مسلط کرتی ہیں۔
اگر انسانیت نے اسلامی عدل، جواب دہی اور اخلاقی حدود سے سبق نہ لیا تو آنے والی تاریخ ایسے مزید گھناؤنے اور بے رحم نظاموں کی داستانیں لکھتی رہے گی۔

اس میں کیا دو رائے ہے کہ دنیا پر ایک غیر اخلاقی عالمی اشرافیہ نے اپنا کنٹرول ایسے ہی نہیں قائم رکھا؛ کہیں عورتوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کیا گیا، کہیں قتل و تخریب کے لیے، اور ساری دنیا کے ذہنوں کو مفلوج کرنے کے لیے پورنوگرافی کا ایسا جال بچھایا گیا جس کے جنجال میں چھوٹے سے لے کر بڑا، ہر مذہب، تہذیب اور تمدن کا آدمی پھنسا ہوا ہے۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں بھی اسی نوعیت کی چالیں آزمائی گئیں، مگر وہ خیرالقرون تھا—تابعین اور تبع تابعینؒ نے ان فتنوں کو ناکام بنا دیا۔ البتہ آج کے دور میں مسلم امرا و سلاطین اس اخلاقی یلغار کے سامنے خود اپنی کمزوریوں کے باعث بچ نہیں پا رہے۔


✍️ قاری ممتاز احمد جامعی

ممتاز دینی و سماجی موضوعات پر لکھنے والے قلمکار ہیں۔ اسلامی فکر، تہذیبی مباحث اور عالمی حالات کے تناظر میں اسلام کے عادلانہ نظامِ حیات پر ان کی تحریریں قارئین میں خاصی پذیرائی حاصل کرتی ہیں۔

📧 رابطہ:

majaamai@gmail.com

ہفتہ، 31 جنوری، 2026

ذمہ داریوں کے درمیان ایک تصویر کی کہانی

وقت، رشتے اور میں

(ایک تصویری کالم)

میرے پہلو میں کھڑا وہ دوست

میری نو جوانی کے ایک مرحلے کی یاد ہے—

مگر یہ کالم

اس تصویر میں موجود دوسرے شخص،

یعنی میرے اپنے وجود کی کہانی ہے۔

یہ تصویر محض ماضی کی یاد نہیں،

یہ وقت کے چہرے پر ثبت ایک سوال ہے—

کہ انسان کب جوان ہوتا ہے

اور کب بوڑھا؟

وقت نے مجھے انچاس برس کے مدّ و جزر سے گزارا،

مگر حیرت یہ ہے کہ بڑھاپا

ابھی دروازہ کھٹکھٹانے کی مہلت بھی نہ پا سکا۔

وجہ سادہ ہے:

ذمہ داریاں فرصت نہیں دیتیں۔

یہ وہ بے بسی ہے

جو آنکھوں میں آنسو بن کر نہیں اترتی،

کندھوں پر بوجھ بن کر بیٹھتی ہے۔

وہ بوجھ

جو مسکرانے کی اجازت نہیں دیتا،

اور آرام کو بھی ایک خواب بنا دیتا ہے۔

ماتحتوں کو کون سمجھائے

کہ یہ وجود بھی عام مٹی سے بنا ہے،

کوئی نوری مخلوق نہیں—

کہ بھوک، تھکن اور خوف

اس کے حصے میں نہ آئیں۔

مفلس ہونا جرم نہیں،

مگر مفلس کا انسان ہونا

اکثر فراموش کر دیا جاتا ہے۔

زندگی کی اس طویل مسافت میں

شریکِ حیات کا کردار

کسی مضبوط ستون سے کم نہیں ہوتا۔

میری زندگی میں

یوں کہنے کو دو ہم سفر آئے—

مگر ہر ساتھ

پورے سفر کی ضمانت نہیں ہوتا۔

ایک— روشن جہاں—

چند برس

زندگی کے آنگن میں روشنی بکھیر کر

بیچ راستے ہی

سفر مختصر کر گئیں۔

وہ مالکِ حقیقی سے جا ملیں،

اور پیچھے

یادوں کا ایسا اجالا چھوڑ گئیں

جو وقت کی گرد سے مدھم نہیں پڑتا۔

دوسری— زینت آفریں—

جو آج اپنی آفرینی سے

زندگی کو ترتیب دے رہی ہیں۔

چہار جانب

انہی کا سلیقہ،

انہی کی محنت،

اور انہی کی زینت ہے۔

مگر انجامِ سفر کا علم

کسی کے پاس نہیں—

وہ پانچ باتیں جن کا علم صرف اللہ کو ہے،

ان میں ایک یہ بھی ہے

کہ ہم دونوں میں سے

کون

کس کا ساتھ

بیچ میں چھوڑتا ہے۔

گھر کی دہلیز پر

ذمہ داریوں کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔

چھ بیٹیاں—

جنہیں دنیا بوجھ کہہ دیتی ہے،

مگر حقیقت میں یہ صبر، دعا

اور آخرت کا وہ ذخیرہ ہیں

جو وقت کے ساتھ بڑھتا ہے۔

دو بیاہی جا چکیں،

تین آج بھی کفالت کے سائے میں ہیں—

اور ہر ایک کے ساتھ

باپ کی خاموش فکر جڑی ہے۔

پانچ بیٹے—

سب اپنی اپنی آزمائش کے مسافر۔

ان میں ایک بائیس سالہ معذور بیٹا، محمد ساریہ،

جس کی جسمانی کمزوری

دل کی مضبوطی کے سامنے ہیچ ہے۔

وہ بیٹا

جو بولے بغیر سکھا دیتا ہے

کہ انسان کی قدر

طاقت سے نہیں، صبر سے ہوتی ہے۔

اور انہی میں

ایک بیٹا اور ایک بیٹی ایسے بھی ہیں

جو خاص معنوں میں ذخیرۂ آخرت ہیں۔

نہ اس لیے کہ وہ بے عیب ہیں،

بلکہ اس لیے کہ ان کی کمزوریوں کے ساتھ پرورش

انسان کو صبر، خود احتسابی، خدمت

اور قربانی کے عملی مرحلوں سے گزارتی ہے۔

وہ بچے

جن کی ذمہ داری انسان کو

خود سے بہتر بننے پر مجبور کرتی ہے—

اور یہی مجبوری

بالآخر آخرت کا سرمایہ بن جاتی ہے۔

ہم چار بھائی تھے،

مگر قدرت نے دو کو

حادثات میں

بے وقت ہم سے جدا کر دیا۔

بھائیوں کے حقوق کو سمجھنے اور نبھانے کا وقت

آیا بھی نہ تھا

کہ تقدیر نے خود

اس باب کو اپنے اختیار میں لے لیا۔

اب اس دنیا میں

میرے سوا صرف ایک بھائی باقی ہے،

لیکن تلخ حقیقت یہ ہے

کہ آج بھی

مجھے وہی سمجھا جاتا ہے

جو کبھی مجرد تھا—

جس کے وسائل

ہمیشہ بھائی کے لیے

ہمہ وقت دستیاب مان لیے گئے۔

یوں یہ رشتہ

رفتہ رفتہ

بھائی چارے سے نکل کر

ایک مسلسل ذمہ داری،

اور بالآخر

اے ٹی ایم مشین میں بدل دیا گیا۔

پانچ بہنوں کی شکایت اپنی جگہ،

مگر سوال

والد کے بعد

بھائی کے بدلتے رویّے پر بھی ہے۔

جو شخص

خود کثیرالاولاد،

ہمہ جہت ذمہ داریوں میں گھرا،

اور بظاہر مضبوط مگر حقیقتاً تنہا ہو،

اس سے مزید بوجھ مانگنا

رشتہ نہیں،

سوچ کی ناانصافی ہے۔

ذمہ داری نبھانے والا

اکثر آسان ہدف سمجھ لیا جاتا ہے—

اور یہی سماجی مغالطہ

انسان کو آہستہ آہستہ

اندر سے توڑ دیتا ہے۔

زندگی میں ہزار خوشیاں اپنی جگہ،

مگر دو برس قبل

والدِ محترم کا سایہ

سر سے اٹھ جانا

ایک ایسا خلا چھوڑ گیا

جو کسی کامیابی سے پُر نہیں ہوتا۔

ہاں، شکر کا پہلو یہ ہے

کہ والدہ کا سایہ

ابھی سر پر ہے—

اور ماں کی دعا

اب بھی زندگی کی سب سے مضبوط ڈھال ہے۔

یہ کالم کسی شکوے کا نوحہ نہیں،

یہ ایک حقیقت کا اعتراف ہے:

کہ انسان

جب ذمہ داری کو عبادت بنا لے

تو اس کی تھکن بھی معنی خیز ہو جاتی ہے۔

یہ تصویر اسی انسان کی ہے—

جو کمزور ہو کر بھی مضبوط ہے،

مفلس ہو کر بھی باوقار،

اور عام مٹی سے بن کر بھی

اپنے کردار سے ممتاز۔

اخلاقی نتیجہ:

رشتے تب عبادت بنتے ہیں جب ان میں انصاف ہو، اور جب انصاف قربان ہو جائے تو قربانی عبادت نہیں، خاموش استحصال بن جاتی ہے۔

قاری ممتاز احمد جامعی 

majaamai@gmail.com 

بدھ، 14 جنوری، 2026

ہندوستان میں معمول بنتی جا رہی ناانصافی: ایک آئینی و اخلاقی تجزیہ

ہندوستان میں معمول بنتی جا رہی ناانصافی: ایک آئینی و اخلاقی تجزیہ

جب کسی معاشرے میں ناانصافی بار بار دہرائی جائے اور اس پر سوال اٹھانا غیر معمولی سمجھا جانے لگے، تو وہ ناانصافی آہستہ آہستہ معمول بن جاتی ہے۔ ہندوستان کے موجودہ حالات میں یہ مضمون اسی حقیقت کو آئینی اور اخلاقی زاویے سے پرکھتا ہے، جہاں انصاف، قانون اور سماجی ردِعمل کے درمیان بڑھتا ہوا خلا سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔

یہ جملہ کسی سیاسی اشتعال یا وقتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں، بلکہ ہندوستانی ریاست کے حالیہ اخلاقی، آئینی اور ادارہ جاتی سفر کا نچوڑ ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں تشدد نے شرم کھو دی، امتیاز نے معمول کا لباس پہن لیا، اور انصاف آہستہ آہستہ فیصلوں کے بوجھ تلے دب گیا۔ جو کچھ کل تک ناقابلِ تصور تھا، آج ٹی وی مباحث میں “قابلِ فہم” بنایا جا رہا ہے۔ اور جو آج قابلِ فہم ہے، وہ کل انتظامی عمل اور ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ یہ محض سماجی انحراف نہیں ہے، بلکہ آئینی اقدار سے تدریجی دوری کا اعلان ہے۔

یہ تبدیلی کسی ایک دن میں نہیں آئی۔ یہ ایک واضح، منظم اور مسلسل عمل ہے—پہلے زبان بدلی، پھر لہجہ بدلا، اس کے بعد رویّے بدلے، اور آخرکار قانون کی تعبیر بدل دی گئی۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں ریاست آئین کے الفاظ کو برقرار رکھتے ہوئے، اس کی روح سے فاصلہ اختیار کر لیتی ہے۔ قانون باقی رہتا ہے، مگر اس کا اطلاق مساوی نہیں رہتا؛ ضابطے موجود ہوتے ہیں، مگر ان کی سمت شناخت طے کرنے لگتی ہے۔

اس تسلسل کا پہلا بڑا سنگِ میل عدلیہ کے دائرے میں نمایاں ہوا، جب بابری مسجد فیصلے کے ایک اہم سابق جج کا یہ بیان سامنے آیا کہ فیصلہ لکھنے سے پہلے میں نے بھگوان کے سامنے آستھا سے رجوع کیا۔ ایک سیکولر، جمہوری ریاست میں—جہاں انصاف کا پیمانہ آئین، قانون اور شہادت ہوتی ہے—یہ جملہ محض ذاتی عقیدے کا اظہار نہیں رہتا، بلکہ اقلیت کے لیے ایک بنیادی آئینی سوال بن جاتا ہے۔ اگر عدالتی فیصلہ آئینی دلیل کے بجائے ماورائے آئین عقیدے سے اخلاقی یا ذہنی تقویت پانے لگے، تو عدالت کی غیر جانبداری کہاں ٹھہرتی ہے؟ یہی وہ لمحہ تھا جب فیصلے تو ملے، مگر انصاف کی زبان بدلتی محسوس ہوئی۔ یہ تبدیلی محض ایک کیس تک محدود نہیں رہی، بلکہ عدالتی مزاج کے بارے میں ایک گہرا اضطراب پیدا کر گئی۔

اسی تناظر میں حالیہ برسوں میں عدلیہ کے بعض فیصلوں میں ایسے نکات اور حوالہ جاتی اسلوب سامنے آئے ہیں جن میں منوسمرتی جیسے متنازعہ مذہبی متن کو بالواسطہ یا صراحتاً اصولی بنیاد کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی ذات میں ذات پات، عدم مساوات اور انسانی وقار کے منافی تصورات موجود رہے ہیں، اور جسے خود ہندوستانی آئینی فکر نے کبھی قانونی سرچشمہ تسلیم نہیں کیا۔ ایسے میں جب آئینِ ہند کی جگہ کسی مخصوص مذہبی و تہذیبی متن کی روح فیصلوں کے اندر سرایت کرتی دکھائی دے، تو یہ محض ایک قانونی تعبیر نہیں رہتی بلکہ مستقبل کے ریاستی مزاج کا اشارہ بن جاتی ہے۔ یہ رجحان اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ آئینی بالادستی (Supremacy of Constitution — آئین کی بالادستی) کے بجائے ایک خاص نظریاتی نظام—جسے ہندوتوا کہا جاتا ہے—عدالتی فکر پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں انصاف کا معیار آئین نہیں بلکہ اکثریتی نظریہ بن جائے، جو کسی بھی کثیر مذہبی اور جمہوری معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

اسی بدلے ہوئے عدالتی مزاج کے سائے میں موب لنچنگ نے جنم لیا—پھر پھیلی، پھر معمول بنا دی گئی۔ اخلاق، تبریز، پہلو خان، جنید—یہ سب صرف نام نہیں، بلکہ اس حقیقت کی علامت ہیں کہ اب اقلیت کا قتل اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑتا بھی نہیں۔ ویڈیوز موجود ہیں، گواہ موجود ہیں، عالمی میڈیا موجود ہے، مگر انصاف یا تو آتا ہی نہیں، یا اس قدر تاخیر سے آتا ہے کہ مجرم سزا کے بجائے نظام کی نرمی سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں عدالت نے سنبھل واقعہ کے ایک سال بعد ایک مسلم نوجوان کی پولیس گولی سے شہادت پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا، مگر متعلقہ انتظامیہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انکوائری مکمل ہو چکی ہے اور ایف آئی آر کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ واقعہ عدلیہ کے حکم کی عملداری اور انتظامیہ کے رویے کے درمیان اس واضح تضاد کو بے نقاب کرتا ہے جو اب معمول بنتا جا رہا ہے۔

اسی پس منظر میں 20 جنوری 2026 کو الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 14 عدالتی افسران کے تبادلے محض ایک انتظامی کارروائی نہیں لگتے۔ سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وِبھانشو سدھیر—جنہوں نے 9 جنوری 2026 کو پولیس افسران، بشمول اے ایس پی انوج چودھری، کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا—کو چند ہی دنوں بعد سنبھل سے ہٹا کر سلطانپور میں سینیئر سول جج کے عہدے پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ پولیس نے عدالتی حکم پر عمل ہی نہیں کیا۔ اس کے برعکس، چندوسی کے سینیئر سول جج آدتیہ کمار سنگھ—جن کے سابقہ عدالتی احکامات پہلے ہی فرقہ وارانہ نوعیت کے تنازعات سے وابستہ رہے—کو نہ صرف ترقی دی گئی بلکہ انہیں سنبھل کا نیا چیف جوڈیشل مجسٹریٹ بھی مقرر کر دیا گیا۔

یہ ترتیبِ واقعات—ایک طرف ریاستی طاقت کے خلاف قدم اٹھانے والے جج کی فوری منتقلی، اور دوسری طرف متنازعہ عدالتی طرزِ فکر کے حامل جج کی ترقی کے ساتھ ایک حساس ضلع میں تعیناتی—محض اتفاق نہیں لگتی۔ یہ عدالتی غیرجانبداری، ادارہ جاتی دباؤ اور قانون کی حکمرانی کے مساوی اطلاق سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہ محض انصاف میں تاخیر نہیں، بلکہ ایک مخصوص طبقے کے خون کی قانونی وقعت گھٹنے کا عملی اعلان ہے۔ یہاں عدالت کی خاموشی خود ایک بیانیہ بن جاتی ہے—اور خاموشی، جب طاقت کے سامنے ہو، تو غیر جانبداری نہیں رہتی۔

اسی بیانیے کو انتظامیہ نے عملی شکل دی—بلڈوزر کارروائیوں کے ذریعے۔ وہ عمل جو کبھی نوٹس، سماعت، ثبوت اور عدالتی فیصلے سے مشروط تھا، اب پولیس کی پریس بریفنگ پر مکمل ہو جاتا ہے۔ نہ جرم ثابت، نہ سزا طے—صرف شناخت کافی ہے۔ گھروں کا ملبہ اب ثبوت نہیں، بلکہ پیغام ہے: قانون سزا نہیں دے رہا، طاقت اپنی موجودگی جتا رہی ہے۔ یہ عمل قانون کی حکمرانی (Rule of Law — قانون کی بالادستی) کے بجائے طاقت کی حکمرانی کی علامت ہے، جہاں سزا جرم کے بعد نہیں بلکہ الزام کے ساتھ نافذ ہو جاتی ہے۔ اور عدلیہ؟ وہ یا تو خاموش رہتی ہے، یا بعد میں رسمی جملوں کے ذریعے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے—جو آئینی اعتماد کو مزید کمزور کرتی ہے۔

اسی ماحول میں قومی سلامتی کے بیانیے میں وہ زبان داخل ہوئی جس نے تشدد کو نظریاتی جواز فراہم کیا۔ اجیت ڈوبھال کی جانب سے ہندو نوجوانوں کو “تاریخ سے سیکھ کر بدلہ لینے” کا مشورہ—خواہ کسی بھی سیاق میں دیا گیا ہو—ریاستی اشارہ بن جاتا ہے۔ جب اقتدار کے مرکز سے “بدلہ” جیسی لغت مانوس ہو جائے، تو سڑک پر ہونے والا تشدد محض حادثہ نہیں رہتا، بلکہ ایک فکری اور عملی تسلسل بن جاتا ہے۔ یہ زبان تشدد کو استثنا نہیں، بلکہ قومی فریضہ بنا کر پیش کرتی ہے۔

یہی تسلسل موہن بھاگوت کے اس اعلان میں مزید واضح، سخت اور بھیانک صورت اختیار کر لیتا ہے کہ بھارت ہندوتو راشٹر بن کر رہے گا۔ یہ محض ایک نظریاتی خواہش نہیں، بلکہ مستقبل کے اس نقشے کا اعلان ہے جس میں آئین ثانوی، شہریت مشروط، اور اقلیت مستقل سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ یہ مستقبل کسی ایک دن نافذ نہیں ہوگا—یہ قدم بہ قدم، عدالتی فیصلوں، انتظامی خاموشیوں، اور سماجی رعایتوں کے ذریعے آئے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے ناقابلِ قبول پہلے قابلِ بحث بنا، پھر معمول، اور آخرکار پالیسی۔

اس پورے منظرنامے میں صحافت کا کردار سب سے زیادہ فیصلہ کن—اور سب سے زیادہ دوغلا—نظر آتا ہے۔ میڈیا اب محض خبر رساں ادارہ نہیں رہا، بلکہ بیانیہ ساز (Narrative Builder — رائے و فہم کی تشکیل کرنے والا ذریعہ) اور سماجی اجازت نامہ تیار کرنے والا ایک طاقتور آلہ بن چکا ہے۔ جب ہندو لڑکی اور مسلم لڑکا اپنی مرضی سے شادی کریں، تو اسے “لو جہاد” بنا کر پورے مسلم سماج کو شک کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے؛ ٹاک شوز، سرخیاں اور مہمات ماحول کو اس حد تک زہر آلود کرتی ہیں کہ تشدد کے لیے سماجی قبولیت پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن جب معاملہ الٹ ہو—مسلم لڑکی اور ہندو لڑکا—تو وہی میڈیا اسے “پیار کی جیت” اور “گنگا جمنی تہذیب” قرار دیتا ہے۔ یہ دوغلا معیار نفرت کو معمول بناتا ہے، تشدد سے پہلے ذہنی ہمواری پیدا کرتا ہے، اور قانون کے یکساں اطلاق کی راہ مسدود کر دیتا ہے۔

اسی دوغلے پن کے بیچ بعض انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیانات—جو مختلف مواقع پر رپورٹ ہوئے—نفرت کو ہوا دیتے ہیں اور تشدد کی اخلاقی سرحدیں مٹا دیتے ہیں۔ یہاں سوال نعروں یا وقتی اشتعال کا نہیں، بلکہ جوابدہی کا ہے: ایسی زبان کو معمول بنانے والوں کا محاسبہ کہاں ہے؟ اور اگر محاسبہ نہیں، تو پھر یہ زبان جرم سے پہلے ریاستی رضامندی کیوں نہ سمجھی جائے؟

اس کا سب سے گہرا اور خاموش اثر جیلوں میں نظر آتا ہے۔ بغیر ٹرائل گرفتار مسلم نوجوان برسوں سے ضمانت کے منتظر ہیں، جبکہ دوسری طرف سنگین سزاؤں کے حامل قیدیوں کو پیرول، ضمانت اور دیگر مراعات حاصل ہیں۔ یہاں جرم بول نہیں رہا—شناخت بول رہی ہے۔ ضمانت، جو کبھی اصول تھی، اب مخصوص طبقے کے لیے نایاب استثنا بن چکی ہے۔ جب ضمانت اصول کے بجائے شناخت سے مشروط ہو جائے، تو یہ محض ایک طبقے کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پورے عدالتی نظام کی ساکھ پر ایک سنگین سوال بن جاتا ہے۔

یہ سب الگ الگ حادثات نہیں۔ یہ ایک واضح پیٹرن ہے۔ عدلیہ کی مطابقت، انتظامیہ کی جارحیت، مقننہ کی خاموشی، اور صحافت کی بیانیاتی جانبداری—سب مل کر وہ فضا بناتے ہیں جس میں ناقابلِ قبول قابلِ بحث بنتا ہے، اور قابلِ بحث ریاستی پالیسی میں ڈھل جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب جمہوریت اپنے اندر سے کھوکھلی ہونے لگتی ہے، اور آئین محض ایک رسمی دستاویز بن کر رہ جاتا ہے۔

ایسے میں مسلم ملی، سماجی اور سیاسی ذمہ داران کے لیے یہ ایک سنجیدہ، شاید آخری نوٹس ہے۔ جتنا دیر سے اس بدلتی ہوئی حقیقت کا ادراک کیا جائے گا، اتنی ہی قیمت مہنگی ہوگی۔ یہ وقت رسمی بیانات، وقتی احتجاج یا کاغذی قراردادوں کا نہیں۔ یہ وقت اجتماعی فہم، طویل المدت حکمتِ عملی، قانونی شعور اور اخلاقی وضاحت کا ہے—کیونکہ تاریخ انتظار نہیں کرتی، وہ قیمت وصول کرتی ہے۔

آخر میں یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ تحریر نہ کسی عدالت کی توہین ہے، نہ کسی ادارے یا قوم پر الزام۔ یہ آئینی وعدوں اور زمینی حقیقت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی ایک ایماندارانہ تشخیص ہے۔ جمہوریت میں ایسی تشخیص بغاوت نہیں، بلکہ شہری اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر یہ تحریر تلخ لگے، تو وجہ الفاظ نہیں—حقیقت ہے۔

کیونکہ تاریخ گواہ ہے: جب ناقابلِ قبول کو قابلِ بحث بنا دیا جائے، تو خاموشی کبھی کبھی مجبوری ہوتی ہے— مگر بھول جانا ہمیشہ خودکشی ہوتی ہے۔

تحریر: قاری ممتاز احمد جامعی

Email: majaamai@gmail.com

یہ مضمون ہندوستان میں آئینی، عدالتی، انتظامی اور صحافتی بیانیے کے باہمی تعامل کا ایک سنجیدہ تجزیہ پیش کرتا ہے، جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ناقابلِ قبول رویّے بتدریج معمول اور پھر ریاستی پالیسی میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

ہفتہ، 10 جنوری، 2026

حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی ایک معتبر علمی شخصیت: تعارف، علمی تشکیل، خدمات اور ذاتی مشاہدہ

 حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی  

ایک معتبر علمی شخصیت: تعارف، علمی تشکیل، خدمات اور ذاتی مشاہدہ

عصرِ حاضر میں جن اہلِ علم نے شہرت، خطابت اور ہنگامہ خیزی کے بجائے خاموشی، دیانت اور فکری توازن کے ساتھ علمِ دین کی خدمت کو اپنا شعار بنایا، حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب دامت برکاتُہم ان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ایسے علماء عموماً اپنے زمانے میں کم اور تاریخ کے صفحات میں زیادہ بولتے ہیں۔ حضرت مفتی صاحب کی علمی زندگی بھی اسی حقیقت کی روشن مثال ہے۔

حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی بن جناب محمد احسان الحق 1961ء میں ضلع سمستی پور (بہار) کے دینی فضا سے وابستہ گاؤں موضع لاد کپسیا میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں ہی میں حاصل کی۔ آپ ایک ایسے علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں جس کا نسبتاً و فکری رشتہ امیرِ شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ علیہ سے رہا ہے۔ والد محترم اور بڑے چچا حضرت امیرِ شریعت رابعؒ سے بیعت یافتہ تھے، بڑے بھائی مولانا طفیل احمد رحمانیؒ جامعہ رحمانی مونگیر سے فراغت کے بعد تدریسی خدمات انجام دے چکے تھے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد بھی اسی علمی ماحول میں پروان چڑھے۔

اسی پس منظر کے تحت آپ کو جامعہ رحمانی، مونگیر بھیجا گیا، جہاں 1972–73ء میں درجۂ عربی اول میں داخلہ لیا اور درجہ عربی ششم تک تعلیم حاصل کی۔ جامعہ رحمانی کے قیام کے دوران جن اکابر اساتذہ سے آپ کو علمی استفادہ کا موقع ملا، انہوں نے آپ کے ذوقِ علم اور فکری توازن کی بنیاد مضبوط کی۔ ان میں مولانا سید شمس الحقؒ (شیخ الحدیث جامعہ رحمانی)، مولانا علامہ اکرام علیؒ (سابق شیخ الحدیث مدرسہ تعلیم الدین ڈابھیل)، مولانا علاء الدین ندویؒ، مولانا حسیب الرحمنؒ (سابق شیخ الحدیث دارالعلوم حیدرآباد)، مولانا فضل الرحمن قاسمیؒ (سابق شیخ الحدیث سبیل السلام حیدرآباد) اور مولانا نور الحق رحمانی قاسمی (موجودہ استاذ المعہد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء، امارتِ شرعیہ پٹنہ) شامل ہیں۔ ان حضرات کی صحبت نے حضرت کے مزاج میں سنجیدگی، ضبط اور فقہی احتیاط کو راسخ کیا۔

اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے بعد ازاں آپ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں عربی ششم سے دورۂ حدیث اور 

تکمیلِ افتاء تک مسلسل چار سال قیام فرمایا۔ دارالعلوم دیوبند میں جن جلیل القدر اکابر سے علمی استفادہ نصیب ہوا، وہ برصغیر کی علمی روایت کے درخشاں نام ہیں: حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ، خطیبُ الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ، مولانا نصیر احمد خانؒ، مولانا انظر شاہ کشمیریؒ، مولانا محمد حسین بہاریؒ، مولانا خورشید عالمؒ، مفتی سعید احمد پالنپوریؒ، مولانا قمر الدینؒ اور مولانا ریاست علی بجنوریؒ۔

بالخصوص افتاء اور عملی مشقِ فتویٰ نویسی کے مرحلے میں حضرت مفتی ظفیرالدینؒ کی خصوصی سرپرستی، رہنمائی اور اعتماد حاصل رہا، جنہوں نے افتاء کے ذوق، اسلوب اور ذمہ داری کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح اس شعبہ کی علمی نوک پلک سنوارنے اور افتائی مزاج کی تربیت میں حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ اور حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحبؒ جیسے اکابر کی علمی توجہ اور فیض بھی شاملِ حال رہا۔ افتاء کے اس مرحلے میں اصول، احتیاط اور جواب دہی کا جو گہرا شعور حاصل ہوا، وہ آپ کی پوری آئندہ علمی زندگی کا بنیادی سرمایہ بنا۔


1983ء میں تکمیلِ افتاء کے بعد حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب کو دارالافتاء سے باقاعدہ عملی وابستگی حاصل ہوئی، جہاں فتویٰ نویسی، اصولِ افتاء کی تطبیق اور عملی مسائل کے حل کا گہرا تجربہ نصیب ہوا۔ اس دور میں افتائی متون کی باقاعدہ قراءت، فقہی مصادر سے براہِ راست استفادہ اور عملی مشق کے ذریعے افتاء کے فنی تقاضوں پر مضبوط گرفت حاصل ہوئی۔ اسی سال امیرِ شریعت رابع رحمہ اللہ علیہ کے حکم سے آپ امارتِ شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ سے منسلک ہوئے اور افتاء کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

امارتِ شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ جیسے قدیم، معتبر اور ملت کے اجتماعی اعتماد کے حامل ادارے میں طویل عرصہ افتاء اور فقہی رہنمائی کی خدمات انجام دینا کسی معمولی ذمہ داری کا نام نہیں۔ وقت کے ساتھ استفتاءات کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، ذمہ داریوں کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا، مگر حضرت نے قریب چار دہائیوں تک صبر، استقامت اور علمی دیانت کے ساتھ اس امانت کو نبھایا۔ افتاء کو انہوں نے کبھی محض منصب یا دفتری ذمہ داری نہیں سمجھا، بلکہ اسے دینی امانت اور جواب دہی کا معاملہ جانا، جس میں احتیاط، توازن اور خوفِ خدا بنیادی اصول رہے۔

تعلیمی اعتبار سے بھی حضرت نے دینی علوم کے ساتھ عصری و جامعاتی تعلیم کو نظرانداز نہیں کیا۔ بہار مدرسہ بورڈ سے فاضل حدیث، فاضل فقہ، فاضل تفسیر، فاضل اردو، فاضل فارسی اور فاضل عربی ادب کے امتحانات پاس کیے، نیز بہار یونیورسٹی مظفرپور سے فارسی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ انہی علمی خدمات اور طویل تجربے کے نتیجے میں آپ امارتِ شرعیہ کے صدر مفتی، معہد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء کے استاذ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن جیسے اہم مناصب پر فائز رہے۔ منصب کی رفعت کے باوجود خاموش خدمت، دعا، انکساری اور علمی دیانت آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف رہے۔

آپ کا تعلق اگرچہ اصلاً ضلع سمستی پور سے ہے، تاہم علمی، ملی اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے باعث پٹنہ کو وطنِ ثانی کا درجہ حاصل رہا۔ پٹنہ—جو کبھی عظیم آباد اور صادق پور کے نام سے جانا گیا—علم و ادب کا قدیم مرکز رہا ہے۔ اگرچہ آج وہ کلاسیکی علمی فضا پوری آب و تاب کے ساتھ محسوس نہیں ہوتی، تاہم ماضی کی بازگشت آج بھی مختلف دینی و ملی اداروں کے ذریعے اپنا وجود منواتی ہے۔

راقم کے لیے حضرت مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب سے ملاقات ایک عرصے سے دل میں موجزن تمنا تھی۔ مختلف مواقع پر فون کے ذریعے دعاؤں اور حوصلہ افزائی سے استفادہ کا موقع ملتا رہا، مگر بالمشافہ حاضری کی سعادت نصیب نہ ہو سکی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ حاضری اگرچہ مختصر رہی، مگر نہایت بابرکت اور اثر انگیز ثابت ہوئی۔ چند دعائیہ کلمات، مختصر گفتگو اور شفقت آمیز توجہ نے یہ احساس تازہ کر دیا کہ اکابر کی اصل میراث الفاظ کی کثرت نہیں بلکہ وہ دعا ہے جو دل سے نکل کر دل تک پہنچتی ہے۔

اسی سفر کے دوران آل انڈیا ملی کونسل کے صوبائی دفتر، پٹنہ میں حاضری کا بھی اتفاق ہوا۔ دفتر میں موجود ذمہ داران و کارکنان سے سابقہ شناسائی نہ تھی، اس کے باوجود جس خلوص، احترام اور خوش دلی سے استقبال کیا گیا، وہ ادارہ جاتی اخلاق اور ملی روایت کا خوشگوار اظہار تھا۔ اجنبیت کا احساس خود بخود کم ہوتا چلا گیا اور یہ بات مزید واضح ہو گئی کہ اداروں کی اصل شناخت عمارتوں یا ناموں سے نہیں بلکہ وہاں کام کرنے والوں کے رویّوں سے ہوتی ہے۔

اسی موقع پر آل انڈیا ملی کونسل کی جانب سے چند مطبوعہ کتابیں—اگرچہ قیمت کے ساتھ—حاصل کرنے کا موقع ملا۔ میرے لیے یہ محض کتابیں نہیں تھیں بلکہ ایک پرانی، مانوس اور دیرینہ محبت کی تجدید تھیں۔ کتابوں سے میرا تعلق ہمیشہ غیر معمولی رہا ہے۔ مطالعے کے ایام میں ذاتی ضروریات پر کتاب کو ترجیح دینا میرے لیے ایک فطری اور شعوری انتخاب رہا ہے۔ الحمدللہ اسی ذوق کے نتیجے میں ایک ذاتی کتب خانہ بھی وجود میں آیا، اگرچہ وسائل کی تنگی کے باعث اس کی مناسب دیکھ بھال ہمیشہ ممکن نہ ہو سکی۔

اس پورے سفر، حاضری اور مشاہدے کی اصل روح حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب دامت برکاتُہم کی ذات سے وابستہ رہی۔ ان کی خاموشی میں وقار، گفتگو میں ٹھہراؤ، اور طرزِ عمل میں شفقت—یہ سب ان کی علمی عمر رسیدگی اور فکری پختگی کی علامت ہیں۔

حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے اُن قدیم اور ممتاز مفتیانِ کرام میں شمار ہوتے ہیں جن کی فقہی بصیرت، اعتدالِ مزاج اور جرأتِ افتاء پر ادارے کے اکابر کو ہمیشہ اعتماد رہا ہے۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت اور تکمیلِ افتاء کے بعد 1983ء میں حضرت امیرِ شریعت رابع رحمہ اللہ علیہ کے حکم سے دارالافتاء امارتِ شرعیہ سے وابستگی اختیار کرنا محض ایک تقرری نہیں بلکہ ایک طویل فقہی امانت کی سپردگی تھی، جسے حضرت نے مسلسل کئی دہائیوں تک پوری دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ نبھایا۔

فقہ و افتاء کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مفتی صاحب کو اصولِ فقہ پر مضبوط گرفت، نصوصِ شرعیہ کی گہری فہم، اور زمانے کے پیچیدہ مسائل کو اعتدال و احتیاط کے ساتھ حل کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ امارتِ شرعیہ کے اکابر—حضرت امیرِ شریعت رابعؒ، حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ، حضرت مولانا نظام الدینؒ (امیرِ شریعت سادس) اور حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانیؒ (امیرِ شریعت سابع)—نے مختلف ادوار میں آپ پر اعتماد کا اظہار فرمایا اور حساس فقہی معاملات میں آپ کی رائے کو وزن دیا گیا۔

حضرت مفتی سہیل احمد قاسمی کا ایک نہایت اہم اور دیرپا علمی کارنامہ "فتاویٰ رحمانی" کی تدوین ہے۔ حضرت امیرِ شریعت رابعؒ کے وہ فتاویٰ جو مختلف رسائل، تحریروں، ہفتہ وار نقیب اور دیگر مطبوعات میں منتشر تھے، انہیں تلاش کر کے یکجا کرنا، ترتیب دینا اور علمی امانت کے ساتھ محفوظ کرنا غیر معمولی محنت اور فقہی شعور کا متقاضی تھا۔ یہ کام محض تدوین نہیں بلکہ امارتِ شرعیہ کی فقہی تاریخ کو محفوظ کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی، جو آج بھی اہلِ علم کے لیے قیمتی سرمایہ ہے۔

حضرت مفتی صاحب کی فقہی زندگی میں ایسے مواقع بھی آئے جہاں محض احتیاط نہیں بلکہ جرأتِ ایمانی کا مظاہرہ مطلوب تھا۔ 1985ء میں عبدالغنی کی گمراہ کن تصنیف "منزلِ حق" کے خلاف حضرت نے مدلل اور واضح فتویٰ تحریر فرمایا، جس میں مشرکانہ، ملحدانہ اور فحش نظریات کی صراحت کے ساتھ نشاندہی کی گئی۔ یہ فتویٰ ستمبر 1985ء کے ہفتہ وار نقیب میں شائع ہوا اور اس نے اہلِ علم و عوام کے لیے حق و باطل کے درمیان ایک واضح لکیر 

کھینچ دی۔


اسی جرأتِ ایمانی، علمی اعتماد اور دینی غیرت کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش مظہر حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب دامت برکاتہم کی فقہی زندگی میں سنہ 1985ء سے لے کر جولائی 2017ء تک پھیلا ہوا وہ مسلسل طرزِ عمل ہے جس میں حق گوئی کو کسی مصلحت، دباؤ یا مداہنت پر ترجیح دی گئی۔ 1985ء میں ضلع نوادہ کے کواکوں قصبہ سے عبدالغنی نامی شخص کی گمراہ کن کتاب “منزلِ حق” منظرِ عام پر آئی، جس میں قرآنِ کریم کی من مانی تعبیر، پوشیدہ معانی کا بے بنیاد دعویٰ، مشرکانہ و ملحدانہ عقائد اور فحش افکار کو اسلام سے منسوب کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو فکری انتشار اور اعتقادی گمراہی کی طرف دھکیلنے کی منظم کوشش کی گئی۔ جب اس خطرناک فتنے کے خلاف اہلِ علم اور ذمہ دارانِ مدارس متحرک ہوئے اور مختلف دارالافتاؤں سے رجوع کیا گیا تو دارالافتاء امارتِ شرعیہ میں بھی یہ معاملہ پیش ہوا، جہاں حضرت مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب نے نہایت مدلل، واضح اور بے لاگ فتویٰ تحریر فرمایا، جو ستمبر 1985ء کے ہفتہ وار نقیب میں شائع ہوا اور بعد ازاں دیگر فتاویٰ کے ساتھ کتابچہ کی صورت میں عام کیا گیا۔ اس فتویٰ میں مذکورہ کتاب کو صراحت کے ساتھ گمراہی، بدعقیدگی اور فحاشی کا مجموعہ قرار دے کر امت کو ایک سنگین فکری یلغار سے بروقت خبردار کیا گیا، اور یوں افتاء کو محض نظری بحث کے بجائے ملت کی عملی حفاظت کا ذریعہ بنایا گیا۔

اسی فکری استقامت، اصولی جرات اور دینی حمیت کا تسلسل جولائی 2017ء میں اس وقت پوری قوت کے ساتھ سامنے آیا جب ایک بااثر مسلم سیاسی شخصیت کے کفریہ کلمات و اعمال کی تحقیق کے بعد حضرت مفتی سہیل احمد قاسمی نے اصولِ شریعت کی روشنی میں بلا خوف و مداہنت اسلام سے خروج اور تجدیدِ ایمان و نکاح کا تاریخی فتویٰ صادر فرمایا۔ یہ فتویٰ وقتی سیاسی مصلحتوں اور سماجی دباؤ سے بالاتر ہو کر دیا گیا، جس کے اثرات نہ صرف بہار بلکہ ملک گیر سطح پر محسوس کیے گئے، میڈیا میں شدید بحث چھڑی، اور بالآخر متعلقہ شخص کو توبہ، استغفار اور تجدیدِ ایمان پر آمادہ ہونا پڑا۔ یہ واقعہ نہ صرف حضرت مفتی صاحب کی فقہی جرات اور دینی حمیت کی روشن علامت ہے بلکہ اس حقیقت کا بھی ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ امارتِ شرعیہ کا افتائی منصب محض ایک رسمی یا دفتری ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی، اعتقادی اور شرعی قیادت کا سنگین فریضہ ہے—اور حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی نے اس فریضے کو ہر دور میں کامل استقامت، علمی دیانت اور امام احمد بن حنبلؒ جیسی بے مثال جرات کے ساتھ نبھایا۔

یہ پورا طرزِ عمل اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب دامت برکاتہم کے نزدیک افتاء محض ایک منصب یا دفتری ذمہ داری نہیں، بلکہ حق کی شہادت، باطل سے برأت اور شریعتِ اسلامی کی حفاظت کا ایک زندہ فریضہ ہے، جسے انہوں نے ہر دور میں کامل استقامت اور علمی دیانت کے ساتھ ادا کیا۔

یہ تحریر کسی وقتی تاثر، شخصی عقیدت یا جذباتی وابستگی کے تحت نہیں، بلکہ ایک منضبط، دستاویزی، حوالہ جاتی اور قابلِ اعتماد تعارف کے طور پر مرتب کی گئی ہے، تاکہ آئندہ جب بھی حضرت مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب دامت برکاتہم کی علمی شخصیت، فقہی خدمات یا فکری مزاج پر کوئی سنجیدہ تحقیقی، تعارفی یا ادارہ جاتی کام کیا جائے، تو یہ مضمون ایک معتبر ماخذ کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

اللہ تعالیٰ حضرت کو صحتِ کاملہ، عافیت اور درازیِ عمر عطا فرمائے، اور ان کے علم، تجربے اور دعاؤں سے ملتِ اسلامیہ کو مزید فیض پہنچاتا رہے۔

آمین یا رب العالمین۔

✍️ مرتب و مؤلف:

قاری ممتاز احمد جامعی  

Email: majaamai@gmail.com


جمعہ، 2 جنوری، 2026

مفتی حسنین قاسمی دامت برکاتہم العالیہ

 مفتی حسنین قاسمی دامت برکاتہم العالیہ

عزم، خدمت اور ادارہ سازی — ایک ہم عصر، جاری اور متحرک علمی و فکری کردار

مفتی حسنین قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت محض حالات کا مقابلہ کرنے والی نہیں، بلکہ بادِ مخالف کے لیے ایک ایسی چٹان کی مانند ہے جس سے ٹکرا کر سخت ترین لہریں بھی اپنی تیزی کھو بیٹھتی ہیں۔ ان کا ظرف اور حوصلہ اس درجے کا ہے کہ اختلاف کی نیت سے سامنے آنے والا بھی ان کے اخلاق، متانت اور وسعتِ قلبی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہوا لوٹتا ہے۔ یہ ان کی قوت نہیں، بلکہ ان کے اخلاق کی فتح ہے؛ یہی وجہ ہے کہ جو بھی اس آہنی عزم سے ٹکراتا ہے، وہ موم صفت ہو کر انہی کو اپنا آئیڈیل ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

راقم کے لیے یہ محض ایک تاثراتی خاکہ نہیں بلکہ ذاتی مشاہدہ ہے۔ متعدد مرتبہ جامعہ عائشہ صدیقہ، نورچک میں حاضری کا موقع ملا، اور ہر بار یہ احساس غالب رہا کہ گویا پہلی مرتبہ اس در پر حاضری ہو رہی ہو۔ اس ادارے کی فضا میں جو اپنائیت، وقار اور خلوص جھلکتا ہے، وہ کسی رسمی تعارف کا محتاج نہیں۔ ایک موقع پر ایسا بھی ہوا کہ حضرت کے ایک معاون—جو راقم سے ناآشنا تھے—نے محض ایک عام مہمان سمجھ کر معمول کے مطابق استقبال کیا، تو حضرت مفتی صاحب نے بلا تردد اور پورے اعتماد کے ساتھ فرمایا:

“یہ قاری ممتاز احمد جامعی صاحب ہیں، جامعہ عائشہ صدیقہ اور اس ادارے پر ان کے کئی احسانات ہیں۔”

یہ جملہ محض تعارف نہیں تھا، بلکہ حضرت کے اس مزاج کی عکاسی تھا جس میں اپنے اور غیر کی کوئی دیوار حائل نہیں۔ اس کے بعد وہی معاون حیرت و ادب کے ملے جلے احساس کے ساتھ جس خلوص سے پیش آئے، وہ اس حقیقت کا عملی مظہر تھا کہ حضرت کا اخلاق دلوں کو مسخر کرنے کی غیر محسوس طاقت رکھتا ہے۔ راقم کے لیے اس لمحے میں رشک کے سوا کوئی اور کیفیت نہ تھی—نہ کسی دعوے کی حاجت، نہ کسی نسبت کے اظہار کی خواہش—بس ایک خاموش اعتراف کہ یہ وہ شخصیت ہے جس کے دسترخوانِ اخلاق پر ہر آنے والا خود کو خاص محسوس کرتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ چھوٹے بڑے، عام و خاص، سبھی نے حضرت مفتی حسنین قاسمی دامت برکاتہم کو اپنا سرپرست اور مخدوم بنانا باعثِ فخر سمجھا۔ یہ مقام نہ منصب سے ملا، نہ شہرت سے—بلکہ اس کردار سے حاصل ہوا جو دلوں کو جوڑتا ہے، اور اس ظرف سے پیدا ہوا جو دوسروں کو اپنا بنا لیتا ہے۔

تمہید

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی محض ذاتی ارتقا کی کہانی نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے عہد کے سوالات کا عملی جواب بن کر ابھرتی ہیں۔ ان کے قدم موسموں کی شدت سے نہیں ڈگمگاتے، حالات کی سنگینی انہیں پسپا نہیں کرتی، اور وسائل کی قلت ان کے حوصلے کو متزلزل نہیں کر پاتی۔ وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر سماج کی ضرورت بنتے ہیں، اور سماج سے آگے بڑھ کر ملت کے لیے سمت کا تعین کرتے ہیں۔ مفتی حسنین قاسمی دامت برکاتہم ایسی ہی ہمہ جہت، خاموش مگر اثر انگیز شخصیت کا نام ہے۔

ان کی جدوجہد کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ جدوجہد علم کو عمل میں، اور درد کو ادارہ میں ڈھالنے کی مسلسل کوشش ہے۔ بے گھر کے لیے چھت، یتیم کے لیے شفقت، بیوہ کے لیے اعتماد، مسکین کے لیے آس اور غریب کی دہلیز تک ضروریاتِ زندگی پہنچانے کا جو جذبہ ان کے شب و روز میں نمایاں ہے، وہ محض وقتی ہمدردی نہیں بلکہ ایک منظم، مستقل اور بامقصد خدمت کا اظہار ہے۔

خاندانی پس منظر اور ابتدائی اثرات

محمد حسنین قاسمی، ولدِ محمد انصار قاسمی مرحوم، 2 نومبر 1974ء کو ضلع مدھوبنی کے گاؤں نورچک (وایا بسفی) میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ سادگی، محنت، قناعت اور دینی وابستگی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ والد مرحوم کی دیانت، سادگی اور محنت نے بچپن ہی سے ذمہ داری کا احساس پیدا کیا، جو آگے چل کر خدمتِ دین و ملت کا محرک بنا۔

ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں میں حاصل کی، جہاں سادہ ماحول کے باوجود علم کی قدر دل میں راسخ ہوئی۔

مدرسہ اسلامیہ محمود العلوم دملہ — تربیت گاہِ اوّل

مدرسہ اسلامیہ محمود العلوم دملہ میں درجۂ فارسی سے عربی پنجم تک تعلیم محض نصابی مرحلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تربیتی دور تھا۔ یہاں قاضی شریعت دملہ اور مہتمم مدرسہ حضرت مفتی اعجاز احمد صاحب قاسمی کی سرپرستی، سابق مہتممین حضرت مولانا محمد ولی الرحمن قاسمیؒ اور حضرت مولانا محمد ابرار احمد قاسمیؒ کی علمی روایت، اور دیگر اساتذہ کی صحبت نے شخصیت کو نکھارا۔

حضرت مولانا محمد شبنم رضا قاسمیؒ، حضرت مولانا محمد انصار قاسمیؒ، حضرت مولانا محمد کفیل قاسمی، حضرت مولانا محمد اظہار الحق مظاہری، حضرت مولانا محمد صلاح الدین قاسمیؒ، حضرت مولانا محمد ابو قمر قاسمی، حضرت مولانا محمد سمیع اللہ قاسمی اور حضرت مولانا محمد عبدالوہابؒ جیسے اساتذہ سے علم کے ساتھ حلم اور کردار کی دولت ملی۔

دارالعلوم دیوبند — فکر کی تکمیل

1990ء میں علم کی پیاس انہیں دارالعلوم دیوبند کی دہلیز تک لے گئی۔ چار برس کے قیام کے بعد جنوری 1994ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔ یہ دور محض نصابی تعلیم کا نہیں بلکہ فکری وسعت، اعتدال اور بصیرت کا دور تھا۔

دارالعلوم دیوبند میں حضرت مولانا نصیر احمد خانؒ، حضرت مولانا شیخ عبد الحق اعظمیؒ، حضرت مولانا ریاست علی ظفر بجنوریؒ، حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ، حضرت مولانا زبیر احمد دیوبندیؒ، حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوریؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ، حضرت مولانا قمر الدین گورکھپوریؒ، حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم، بحر العلوم حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی دامت برکاتہم، اور حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی دامت برکاتہم جیسے اکابر سے استفادہ کا موقع ملا۔


ان اکابر کی صحبت نے انہیں یہ سکھایا کہ علم اگر اعتدال، تحمل اور سماجی شعور سے خالی ہو تو وہ امت کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ یہی دیوبندی مزاج آگے چل کر ان کے ہر فیصلے میں جھلکتا رہا۔


امارتِ شرعیہ پٹنہ — علم سے عمل تک


دورۂ حدیث کے بعد 1994ء میں امارتِ شرعیہ، پھلواری شریف پٹنہ میں افتاء و قضاء کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ یہاں قاضی القضاۃ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کی سرپرستی میسر آئی—ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت جن میں فقہ، عدل، سماجی بصیرت اور ملی قیادت کا حسین امتزاج موجود تھا۔


یہیں مفتی حسنین قاسمی کے اندر یہ احساس راسخ ہوا کہ فقہ صرف کتابی علم نہیں بلکہ سماج کی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ اسی دور میں حضرت مولانا مفتی نسیم مظفرپوریؒ، حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی اور حضرت مولانا مفتی جنید قاسمی سے بھی بھرپور استفادہ ہوا، جس نے ان کی فقہی سوچ کو مزید متوازن بنایا۔


تدریس، قضاء اور داخلی خلش


1996ء سے 2009ء تک مدرسہ اسلامیہ محمود العلوم دملہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ عربی پنجم تک کی کتب کی تدریس، امورِ قضاء کی ذمہ داریاں، اور ادارے کی تعمیر و ترقی میں عملی کردار—یہ سب ان کی مصروفیات کا حصہ رہا۔ مگر اسی دوران ایک داخلی خلش مسلسل دل میں کروٹ لیتی رہی: علاقے میں تعلیمِ نسواں کے لیے کوئی منظم، معیاری اور محفوظ ادارہ موجود نہیں تھا۔


جامعہ عائشہ صدیقہ — خواب کی تعبیر


یہی خلش بالآخر ایک عظیم تعلیمی منصوبے میں تبدیل ہوئی۔ بسفی بلاک، جہاں مدارس کی کثرت تھی مگر بچیوں کے لیے کوئی جامع مرکز نہیں تھا، وہاں 22 اپریل 2007ء کو جامعہ عائشہ صدیقہ کی بنیاد رکھی گئی۔ قاضی شریعت حضرت مولانا قاسم مظفرپوریؒ کی دعا اور حوصلہ افزائی اس سفر کی بنیاد بنی، اور 21 مئی 2008ء کو حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کے دستِ مبارک سے باضابطہ تعلیم کا آغاز ہوا۔


آج یہ ادارہ ابتدائی دینیات سے دورۂ حدیث شریف تک، عصری تعلیم، ہنر مندی، صحافتی تربیت اور آن لائن نظام کے ذریعے تقریباً پانچ سو طالبات کی تربیت کر رہا ہے، جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد طالبات سندِ فضیلت حاصل کر چکی ہیں۔


توسیعی خدمات اور اصلاحِ باطن


اسی تسلسل میں 13 دسمبر 2016ء کو دارالقرآن کا قیام، جامعہ کے احاطے میں مسجدِ عائشہ کی تعمیر، ذاتی زمین وقف کر کے مسجدِ والدین کی بنیاد، اور غریبوں، مسکینوں، سیلاب زدگان کی مستقل امداد—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ سفر محض تقریروں کا نہیں بلکہ عمل کا سفر ہے۔


اصلاحِ باطن کے میدان میں بھی یہی سنجیدگی نمایاں ہے۔ ابتدا میں حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ سے بیعت، اور بعد ازاں حضرت مولانا مفتی احمد خانپوری دامت برکاتہم سے اصلاحی تعلق—یہ سب ظاہر و باطن کے توازن کی علامت ہے۔


یہ تحریر کسی مکمل شدہ سوانح کا بیان نہیں، بلکہ ایک باحیات، ہم عصر اور مسلسل متحرک علمی و دعوتی کردار کے جاری سفر کا ایک معتبر اور زندہ عکس ہے۔ حضرت مولانا مفتی حسنین قاسمی دامت برکاتہم العالیہ اس وقت بھی علم، تربیت، دعوت اور ادارہ سازی کے محاذ پر پوری استقامت کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں، اور ان کی نگرانی میں جاری یہ تعلیمی و فلاحی سلسلہ روز بروز وسعت اختیار کر رہا ہے۔

ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کچھ شخصیات تاریخ کے اختتام پر نہیں، بلکہ تاریخ کے بنتے ہوئے مراحل میں پہچانی جاتی ہیں۔ ان کے یہاں خاموشی کمزوری نہیں بلکہ وقار ہے، استقامت جمود نہیں بلکہ شعوری انتخاب، اور قیادت اقتدار نہیں بلکہ امانت ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت کی عمر، صحت اور قوتِ عمل میں برکت عطا فرمائے، ان کے ہاتھوں جاری اس علمی و فلاحی سفر کو مزید ثمرآور بنائے، ان کی نگرانی میں پروان چڑھنے والے اداروں کو ملت کے لیے نفعِ عام کا مستقل ذریعہ بنائے، اور ان کی خدمات کو دنیا میں اثر اور آخرت میں نجات کا سبب قرار دے۔ آمین۔

قاری ممتاز احمد جامعی

بانی و ناظم — جامعہ اشاعت العلوم، سمستی پور

جنرل سکریٹری — الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ، سمستی پور (بہار)

ای میل: majaamai@gmail.com