بتھان/سمستی پور:علماء انبیاء کے وارث ہیں.علماء کرام نبی صلی الله علیہ وسلم کے فکر کو اوڑھنے والے اور اسی فکر کو لے کر شہر شہر قریہ قریہ پھرنے والے ہیں.آج کی ان کی ہی گراں قدر خدمات کی بدولت ہی عالم میں اسلام کی تعلیمات پھل پھول رہا ہے.اگر واقعی عالم میں امن و امان قائم رکھنا ہے تو علماء کرام کی رفاقت کو ان کی صحبت کو اختیار کریں.یہ باتیں مفتی اختر امام عادل قاسمی نے وفاق العلماء بہار کے پانچویں اجلاس میں مدرسہ خیر العلوم بردونی,بتھان ,سمستی پور میں علماء سے خطاب میں کہیں.انہوں نے کہا کہ علماء کا اختلاف بھی رحمت ہے.لیکن اگر علماء نظری اختلافات کے باوجود امت کے مفاد میں مفاد کا مظاہرہ کریں تو یہ رحمت کبری ہے.علماء کو اپنے مقام کی معرفت ہونی چاہیئے اور ہر چھوٹی چھوٹی بات پر مقابلہ کی صورت .ہیں پیدا کرنی چاہئے.انہوں نے کہا کہ ہم علماء کرام خدائی خدمت گار اور الله کے مزدور ہیں.دنیا میں کوئک شریف انسان اپنے مزدور کی اجرت نہیں مارتا بلکہ وقت پر اسے پوری مزدوری دیتا ہے,الله اپنے مزدوروں اور کارکنوں کو بھوکا کیسے رکھے گا.موجودہ دور کے پیش نظر الله پر یقین اور توکل کی ضرورت ہے.امت کو جوڑ کو چلنے کی فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے.آپسی اختلافات کو بھلا کر امت مسلمہ کے نہض پر ایک ہونے پر ہی دنیا س آخرت میں کامیابی ہے.مفتی عادل قاسمی نے مدارس ملت کا قدیم اثاثہ ہے اس لئے اساتذہ اور عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کی بقا اور ترقی کے لئے فکر مند رہیں.اساتذہ مدرسہ پر وقت دیں اور عوام اپنے نو نہالوں کو مدرسہ بھیجیں.اس باہمی اتحاد سے ہی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں.قاضی شریعت سمستی پور مفتی طفیل احمد رحمانی نے اس موقع پر جھوٹے مقدمات ,جہیزاور طلاق پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلمانوں کے اندر موجودہ دور میں سب سے مہلک اور کینسر جیسی بیماری کا وائرس جہیز کی شکل میں بہت ہی تیزی کے ساتھ پھل پھول رہا ہے.اس مہلک اور امت کو بر باد کر نے والی بیماری میں امت کا ہر طبقہ برق رفتاری سے ملوث ہو رہا ہے.جس جہیز کو لعنت و ملامت سمجھا گیا .آج لڑکے کے فریقین بڑے ہی فخریہ انداز میں اس لعنت بھری شئے کو حاصل کرتے ہیں اور سماج معاشرے میں اس خرافات کے حاصل کے ذریعہ رعب دبدبہ بنانے کوفخر سمجھتے ہیں ..سن لیں وہ والدین جو جہیز اور نقدی کو اپنے لئے. باعث فخر ؓجھتے ہیں کل قیامت کے دن یہی عذاب کا ذریعہ بنیں گا.لوگوں شادیاں سنت کے مطابق کیا کرو.جو شادی سنت کے مطابق ہوتی ہے نسلوں تک الله پاک خیر وبرکات ڈال دیتے ہیں.اس کے بر عکس جس شادی میں سنت کو بالائے طاق رکھ کر دنیا کے لہب و لعیب اور غلط رسم و رواج کے ساتھ مکمل ہو تی ہے تو سات نسلوں تک وہ کنبہ الله کے عنایت اور خصوصی برکات سے محروم ہو جاتا ہے.لوگوں شادی کو سادہ کرو.اس جہیز اور نقدی کے پھیر میں کتنی بیٹی کنواری گھروں بیٹھ کر اپنی قسمت اور اپنے رہنما پر آنسو بہا رہی ہیں.نوجوانوں تم عہد کرو .نا جہیز لیں گے اور نہ ہی دیں.یہاں پر سرپرستوں کو آگے آنا ہوگا .تب ہی ہم اس جہیز جیسے .ناسور بیماری سے بچ سکتے ہیں.جامعہ اشاعت العلوم کرہوا ,کلیان پور کے ناظم و الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفئیر ٹرسٹ کے سکریٹر ی قاری ممتاز احمد جامعی نے اس موقع پر کہا کہ علاقے کی خوش نصیبی ہے کہ یہاں علماء ماضی کا احتساب کرکے مستقبل کا لائحہ عمل بنانے کے لئے سنجیدہ ہیں.موجودہ دور کہ سب سے اشد ضرورت بس یہی ہے کہ ہم مسلمانان خاص کر علماء کرام امت کے موجودہ مسائل کے پیش نظرآپسی اختلافات کو ذاتی ہو یا عومی اسے بھلا دیں .امت کے مسائل کے حل کی فکر میں سر جوڑ کر بیٹیھں.جس کی الله رب کائنات کے فضل سے شروعات ہو چکی ہے.مولانا رضی احمد قاسمی ,قاری عبد المجید,مولانا شہاب الدین قاسمی ,مولانا نثار احمد قاسمی,مولانا عبد الجبار قاسمی,مولانا شاکر حسین قاسمی,مولانا شمس الہدی قاسمی,سبکدوش فوجی و سیاست داں عارف رضا نے بھی ملک کے موجودہ حالات اور علماء کرام کی ذمہ داریوں پر تفصیل سےبحث کی اور کئی مسائل پر غور وفکر کر اس کے حل کی تجویز پیش کی.مولانا جسیم الدین قاسمی نے دوسری نشست میں وفاق علماء کے قیام کی اہمیت و افادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی. صدارت کے فرائض مفتی اختر امام عادل نے بحسن و خوبی انجام دیا.اجلاس کا آغاز حافظ بدیع الزماں کے تلاوت کلام پاک سے ہوا.نعت و منقبت کا گلدستہ مولانا نجم الہدی قاسمی نے پیش کیا.خطبہ استقبالیہ کنوینر اجلاس مفتی محمد اقبال قاسمی نے پیش کیا.مولانا امان الله ندوی نے وفاق العلماء کے قیام کا پس منظر اور کارنامے کے موضوع پر رپورٹ پیش کی.سکریٹری رپورٹ مفتی شمیم احمد قاسمی نے پیش کی.مولانا خالد سیف الله خالد قاسمی, مولانا حسین احمد قاسمی,مولانا منت الله قاسمی نے بھی اپنے خطبات سے سامعین کو مستفیض کیا.اس موقع پر شریعت و سنت کے مطابق ایک نکاح بھی پڑھایا گیا.وفاق علماء کی اگلی میٹنگ 9/نومبر مدرسہ ہدایت الاسلام اوجان ,سمستی پور میں منعقد ہونے کے اعلان کے بعد دعا کے بعد مجلس کا اختتام ہوا.اس موقع پر ضلع اور بیرون ضلع کے درجنوں علماء شریک ہوئے.