جمعہ، 29 ستمبر، 2017

الامداد ٹرسٹ 28 ستمبر کلیانپور سمستی پور

  28 ستمبر کلیانپور سمستی پور 

الامدادایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے درجنوں افراد کی مالی تعاون 
ہر انسان کے ذمے انکی طاقت وبساط کے مطابق مخلوق کی خدمت ضروری ھے اور ہر انسان کی ذمہ داری ھیکہ وہ اپنے قول وفیل سے مخلوق خدا کی خدمت ودلبستگی کرے اور اسکے لیئے کارخیرکاجذبہ رکھے اور اسے ہر بھلائ کی راہ سے باخبر کرے اور تمام برائیوں سے بچانے کی کوشش کرے یہ باتیں الامدادایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری وناظم جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور قاری ممتاز احمد جامعی نے ٹرسٹ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقہ کے درجنوں افراد کے درمیان مالی تعاون کی تقسیم کے موقع پر کہیں انہوں نے کہاکہ اللہ نے مصیبت زدہ لوگوں کی امداد زیادہ سے زیادہ کرنےکی عوام الناس کو تلقین کی اسی مقصد کے پیش نظر ٹرسٹ کا قیام سمستی پور ضلع ہیڈکواٹر سے بیس 20 کیلومیٹر شمال کی جانب کلیانپور حلقہ کے کرھوا گاوءں میں 2009 ء کو ریاست کے مشہورومعروف علماءکرام کے مشورہ اور مددسے عمل میں آیا جنمین قابل ذکر اسم گرامی حضرت مولانا مفتی ثناءالھدی قاسمی صاحب نائب ناظم امارت شریعہ پٹنہ حضرت مولانا افتخار حسین مدنی صاحب نائب صدر ملی فاونڈیشن دہلی حضرت مولانا ابوقمر قاسمی مدھوبنی مولانا انورحسین سیتامڑھی مولانا زین العابدین قاسمی بیگوسرائے وغیرہ ھیں
یہی وجہ ھیکہ یہ ٹرسٹ پسماندہ طبقہ کے اندر دینی ماحول قائم کرنے کیلئے علاقہ میں دینی مکاتب قائم کررھےھین دین سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ناگہانی آفات کے موقع پر امداد کرنے جیسے فلاحی کاموں میں مشغول ومصروف بے اس سال بہار کے اکثر اضلاع میں سیلاب نے قیامت برپاکیاھے جس وجہ کر علاقہ کے غریب عوام نفسانفسی میں گھرے ھوئے ہیں اس غم کو ہلکاکرنے کیلئے ٹرسٹ نے فکر کی اور صوبہ گجرات کے مشہور عالم دین وسرپرست اعلی جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور جناب حضرت مولانا یوسف قاضی صاحب مدظلہ سے درخواست کی جسے حضرت موصوف نے قبول فرمایا اوراپنی اور اپنے خاندان بانگی فیملی کی طرف سے تعاون فرمایا اللہ تعالی حضرت کو صحت وعافیت عطافرمائے ہم سب انکے اور انکے تمام خویش واقارب کیلئے دعاگو اور شکر گزار ھیں اس موقع پر علاقہ کے کئی مشہور عوامی نمائندے وسماجی ورکر موجود تھے باالخصوص مولانا احسان قاسمی مولانا انصرالاسلام نعمانی امام چکمہسی جناب ابوبکر عرف صوفی و سمیع احمد عرف سنجو چکمہسی ماسٹر امتیاز مولانا فیروز قاسمی جناب مستقیم احمد صاحب وغیرہ ان حضرات نے ٹرسٹ وجامعہ کے بانی قاری ممتاز احمد جامعی کی فکرولگن اور کام کی ستائش کی کے پریشان مفلوک الحال لوگوں کی بروقت تعاون کیا جن میں حافظ محمد یحی بوچی ارریہ  مفتی محمد قمر توحید سمستی پور مولانا یاسین شنکرپور مدھوبنی محمد توقیر صلحا سمستی پور محمد شرف الدین منکولی            سمستی پور وغیرہ                                                                  

منگل، 25 جولائی، 2017

وفاق العلماء سمستی پور

بتھان/سمستی پور:علماء انبیاء کے وارث ہیں.علماء کرام نبی صلی الله  علیہ وسلم کے فکر کو اوڑھنے والے اور اسی فکر کو لے کر شہر شہر قریہ قریہ پھرنے والے ہیں.آج کی ان کی ہی گراں قدر خدمات کی بدولت ہی عالم میں اسلام کی تعلیمات پھل پھول رہا ہے.اگر واقعی عالم میں امن و امان قائم رکھنا ہے تو علماء کرام کی رفاقت کو ان کی صحبت کو اختیار کریں.یہ باتیں  مفتی اختر امام عادل قاسمی نے وفاق العلماء بہار کے پانچویں اجلاس میں مدرسہ خیر العلوم بردونی,بتھان ,سمستی پور میں علماء سے خطاب میں کہیں.انہوں نے کہا کہ علماء کا اختلاف بھی رحمت ہے.لیکن اگر علماء نظری اختلافات کے باوجود امت کے مفاد میں مفاد کا مظاہرہ کریں تو یہ رحمت کبری ہے.علماء کو اپنے مقام کی معرفت ہونی چاہیئے اور ہر چھوٹی چھوٹی بات پر مقابلہ کی صورت .ہیں پیدا کرنی چاہئے.انہوں نے کہا کہ ہم علماء کرام خدائی خدمت گار اور الله  کے مزدور ہیں.دنیا میں کوئک شریف انسان اپنے مزدور کی اجرت نہیں مارتا بلکہ وقت پر اسے پوری مزدوری دیتا ہے,الله  اپنے مزدوروں اور کارکنوں کو بھوکا کیسے رکھے گا.موجودہ دور کے پیش نظر الله  پر یقین اور توکل کی ضرورت ہے.امت کو جوڑ کو چلنے کی فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے.آپسی اختلافات کو بھلا کر امت مسلمہ کے نہض پر ایک ہونے پر ہی دنیا س آخرت میں کامیابی ہے.مفتی عادل قاسمی نے مدارس ملت کا قدیم اثاثہ ہے اس لئے اساتذہ اور عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کی بقا اور ترقی کے لئے فکر مند رہیں.اساتذہ مدرسہ پر وقت دیں اور عوام اپنے نو نہالوں کو مدرسہ بھیجیں.اس باہمی اتحاد سے ہی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں.قاضی شریعت سمستی پور مفتی طفیل احمد رحمانی نے اس موقع پر جھوٹے مقدمات ,جہیزاور طلاق پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلمانوں کے اندر موجودہ دور میں سب سے مہلک اور کینسر جیسی بیماری کا وائرس جہیز کی شکل میں بہت ہی تیزی کے ساتھ پھل پھول رہا ہے.اس مہلک اور امت کو بر باد کر نے والی بیماری میں امت کا ہر طبقہ برق رفتاری سے ملوث ہو رہا ہے.جس جہیز کو لعنت و ملامت سمجھا گیا .آج لڑکے کے فریقین بڑے ہی فخریہ انداز میں  اس لعنت بھری شئے کو حاصل کرتے ہیں  اور سماج معاشرے میں اس خرافات کے حاصل کے ذریعہ رعب دبدبہ بنانے کوفخر سمجھتے ہیں ..سن لیں وہ والدین جو جہیز اور نقدی کو اپنے لئے.  باعث فخر ؓجھتے ہیں کل قیامت کے دن یہی عذاب کا ذریعہ بنیں گا.لوگوں شادیاں سنت کے مطابق کیا کرو.جو شادی سنت کے مطابق ہوتی ہے نسلوں تک الله  پاک خیر وبرکات ڈال دیتے ہیں.اس کے بر عکس جس شادی میں سنت کو بالائے طاق رکھ کر دنیا کے لہب و لعیب اور غلط رسم و رواج کے ساتھ مکمل ہو تی ہے تو سات نسلوں تک وہ کنبہ الله  کے عنایت اور خصوصی برکات سے محروم ہو جاتا ہے.لوگوں شادی کو سادہ کرو.اس جہیز اور نقدی کے پھیر میں کتنی بیٹی کنواری گھروں  بیٹھ کر اپنی قسمت اور اپنے رہنما پر آنسو بہا رہی ہیں.نوجوانوں تم عہد کرو .نا جہیز لیں گے اور نہ ہی دیں.یہاں پر سرپرستوں کو آگے آنا ہوگا .تب ہی ہم اس جہیز جیسے .ناسور بیماری سے بچ سکتے ہیں.جامعہ اشاعت العلوم کرہوا ,کلیان پور کے ناظم و الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفئیر ٹرسٹ کے سکریٹر ی قاری ممتاز احمد جامعی نے اس موقع پر کہا کہ علاقے کی خوش نصیبی ہے کہ یہاں علماء ماضی کا احتساب کرکے مستقبل کا لائحہ عمل بنانے کے لئے سنجیدہ ہیں.موجودہ دور کہ سب سے اشد ضرورت بس یہی ہے کہ ہم مسلمانان خاص کر علماء کرام امت کے موجودہ مسائل کے پیش نظرآپسی اختلافات کو ذاتی ہو یا عومی اسے بھلا دیں .امت کے مسائل کے حل کی فکر میں سر جوڑ کر بیٹیھں.جس کی الله  رب کائنات کے فضل سے شروعات ہو چکی ہے.مولانا رضی احمد قاسمی ,قاری عبد المجید,مولانا شہاب الدین قاسمی ,مولانا نثار احمد قاسمی,مولانا عبد الجبار قاسمی,مولانا شاکر حسین قاسمی,مولانا شمس الہدی قاسمی,سبکدوش فوجی و سیاست داں عارف رضا نے بھی ملک کے موجودہ حالات اور علماء کرام کی ذمہ داریوں پر تفصیل سےبحث کی اور کئی مسائل پر غور وفکر کر اس کے حل کی تجویز پیش کی.مولانا جسیم الدین قاسمی نے دوسری نشست میں وفاق علماء کے قیام کی اہمیت و افادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی. صدارت کے فرائض مفتی اختر امام عادل نے بحسن و خوبی انجام دیا.اجلاس کا آغاز حافظ بدیع الزماں کے تلاوت کلام پاک سے  ہوا.نعت و منقبت کا گلدستہ مولانا نجم الہدی قاسمی نے پیش کیا.خطبہ استقبالیہ کنوینر اجلاس  مفتی محمد اقبال قاسمی نے پیش کیا.مولانا امان الله   ندوی نے وفاق العلماء کے قیام کا پس منظر اور کارنامے کے موضوع پر رپورٹ پیش کی.سکریٹری رپورٹ مفتی شمیم احمد قاسمی نے پیش کی.مولانا خالد سیف الله   خالد قاسمی, مولانا حسین احمد قاسمی,مولانا منت الله   قاسمی نے بھی اپنے خطبات سے سامعین کو مستفیض کیا.اس موقع پر شریعت و سنت کے مطابق ایک نکاح بھی پڑھایا گیا.وفاق علماء کی اگلی میٹنگ 9/نومبر مدرسہ ہدایت الاسلام اوجان ,سمستی پور میں منعقد ہونے کے اعلان کے بعد دعا کے بعد مجلس کا اختتام ہوا.اس موقع پر ضلع اور بیرون ضلع کے درجنوں علماء شریک ہوئے.